اللہ میاں کا کارخانہ : احتجاج کی خاموش آواز

November 24, 2020
دیدبان شمارہ 12 مابعد کرونا نمبرتبصرہ تبصرہ

دیدبان شمارہ -12

اللہ میاں کا کارخانہ : احتجاج کی خاموش آواز

علی رفاد فتیحی

اردو فکشن میں ہونے والے تجربات نے باہم آمیزش سے ایسے بیانیہ کو جنم دیا جو ایک طرف  تجربات کا نچوڑ ہیں اور دوسری طرف نئے تجربات کے دَر بھی وا کرتے ہیں۔ دراصل لفظ بیانیہ، بیان کے تقریباً ہر تصور کا احاطہ کرتا ہے۔ بیان کے بغیر افسانہ وجود میں نہیں آتا لہٰذا بیانیہ محض واقعات کی منطقی ترتیب سے عبارت نہیں ہے بلکہ اس افسانویت  کا بھی  احاطہ کر تا  ہے جو راوی پیش کرتا ہے۔ اللہ میاں کا کارخانہ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ محسن خان روائتی اور جدید اسالیب کی آمیزش سے ایک ایسا اسلوب خلق کرتے ہیں جو ناول کے مزاج پر پورا اترتا ہے۔ اللہ میاں کا کارخانہ   بظاہر ایک سیدھی سادی  سی کہانی ہے، مگر اپنے درُوں ارد گرد کی زندگی میں بکھرے ہوئے بہت سے انسانی مسائل کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اس ناول کے لوکیل اور واقعات سے ہمیں جس طرزِ فکر اور بود و باش  سے متعارف کرایا جاتا ہے وہ کہیں سے بھی اکیسویں صدی کا نہیں لگتا۔  محسن خان کا بنیادی مسئلہ یہاں  کسی ایک معاشرے کی سہولیات کی فراہمی، یا اس معاشرے کی  پست درجے کی زندگی سے زیادہ اس  فکری پس ماندگی کی پیش کش  ہے جو اہلِ مذہب، اہلِ معیشت اور اہلِ سیاست کی باہمی گَٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے۔

یہ فکری پس ماندگی اور اس کے نتیجے میں ہونے والی انسانیت کی تذلیل اللہ میاں کا کارخانہ  کا مرکزہ ہے۔ یہ مرکزہ اللہ میاں کا کارخانہ  میں واضح تر اور قوی تر ہو کے نظر آتا ہے۔ ایک معصوم کم سن لڑکے جبران کی زبانی پیش کردہ واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ناول میں ہونے والے واقعات کا زمانہ اَسّی کی دَھائی اور اس کے کچھ قبل و بعد کا زمانہ ہے۔ یہ دور ہماری تاریخ میں ایک

eon

کی حیثیت کا حامل ہے۔ اس دَھائی میں اجتماعی شعائر اور طرزِ فکر میں ایسی بہت سی تبدیلیاں وقوع پذیر ہوئیں جن کے اثرات آج تک نہ صرف قائم ہیں، بَلکہ پہلے سے زیادہ شدید تر ہوتے جا رہے ہیں۔

اللہ میاں کا کارخانہ  کے  مرکزی کردار جبران  کے ذاتی مسائل کے پسِ منظر میں اجتماعی مسائل ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ ۔جبران نے اپنی زندگی میں جن جن مشکلات کو برداشت کیا وہ دراصل  اجتماعی مسائل  ہیں۔ اللہ میاں کے کارخانے میں جبران کی آزمائشی لمحات کو زندگی کی ایک تلخ حقیقت پر ختم کرکے محسن خان ناول کی دلچسپی کو برقرار رکھتے اورقاری پر ایک فکریہ لمحات کی دہشت طاری کرتے ہیں ۔

اس ناول کے اکثر کردار انفعالیت زدہ ہیں۔ ان کے ہاں کسی بھی قسم کے ارادے اور عمل کی قوت کا شدید ترین فقدان ہے۔ ان کے منفعل ہونے میں  نہ صرف جبرِ تقدیر اور نا دیدہ طاقتوں کی کارِ فرمائی نظر آتی ہے، بَلکہ ان دیدہ معاشرتی طاقتوں کا ہاتھ  بھی نظر آتا ہے جو طاقت کی رسہ کشی میں کم زور کا استحصال کرتی چلی آئی ہیں۔

کسی معاشرے کو کم زور کرنے کے لیے سب سے کار آمد حربہ اس میں موجود انسانی اقدار کو کم زور کرنا ہے۔ استحصال اور استعمار کی تہذیب اپنی من چاہی فصل اگانے کے لیے یہی زمین بنا کے تخم ریزی کرتی ہے۔ اللہ میاں کے کارخانے کا بنیادی مسئلہ دورِ جبر میں انسانی اقدار کا زوال اور اس کے نتیجے میں متشکل ہونے والا معاشرہ ہے، جو فرد سے اس کی شناخت تک چھین لیتا ہے۔

اس سارے عمل کے نتیجے میں معاشرہ بے سَمتی کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ بات استعماری طاقتوں کے حق میں جاتی ہے کیوں کہ کسی بھی معاشرے میں موجود مادی اقدار در اصل اپنے پاؤں انسانی اقدار پر ہی جماتے ہیں۔ انسانی اقدار کی کم زوری مادی اقدار اور وسائل کے ارتکاز میں آسانی پیدا کرتی ہے  اور معاشرے کو غیر مرئ اور نا قابل دید۱۔(انویزیبل) بنا دیتی ہے. کسی معاشرے کوناقابل دید ۲۔(انویزیبل)  بنانے کی استعماری سازش اس صارفی نظام کی دین ہے جہاں انسان اتنا مصروف ہوچکاہے کہ اس کے پا س سوچنے کا بھی وقت نہیں ہے ۔اس مصروف نظام زندگی کا فائدہ صارفی نظام کو پہونچتا ہے۔ گویا آج میڈیا اور صارفی نظام باہم  ایک ہیں اور ایک دوسرے کامکمل تعاون کررہے ہیں۔ صارفیت زدہ عہد میں اسکے اثرات سے محفوظ رہ پانا آسان نہیں ہوتا۔کیونکہ صارفی نظام جس منصوبہ اور پالیسی کے تحت اپنے اثرات مرتب کرتاہے وہ انسان کے دل و دماغ پر چھاجاتے ہیں۔یعنی ہر وقت انسان اس پالیسی کا ذہنی طورپر شکاررہتاہے ۔چاہتے ہوئے بھی ہم اسکے اثرات سے خود کو بچا نہیں پاتے کیونکہ وہ صارفی نظام ہماری تہذیب اور روزمرہ کی ضرورتوں پر مسلط ہوجاتاہے۔

’ اللہ میاں کا کارخانہ‘ کا مرکزی کردار کم سن جبران ہے۔ جواپنے طرز فکراور طرزِ بود و باش میں مسلم گھرانوں کے نچلے طبقے کے بچے سے مماثل  نطر آتا ہے۔ اس کے مسائل بھی وہی ہیں جو اَسّی کی دَھائی سے لے کر آج تک کے کسی قصباتی بچے کے ہو سکتے ہیں۔

اسی پسِ منظر میں کم سن جبران کا بیانیہ جنم لیتا ہے۔ در اصل کم سن جبران کی کہانی ہی اللہ میاں کا کارخانہ  کو انفرادی شناخت دیتی ہے۔ کم سن جبران ایک ایسا کردار ہے، جو ساری زندگی محرومیوں اور نا کامیوں کا شکار رہا ہے۔ ان محرومیوں اور نا کامیوں نے اس سے زندہ رہنے کی سکت اور جذبہ چھین لیا ہے۔ اس کی زندگی کے صرف دو سہارے ہیں: ایک اس کی بہن نصرت جو پورے ناول میں اپنی ذہانت کا ثبوت دیتی ہے  اور دوسرے  حافظ جی جسے پورے ناول میں جبران حافی جی کہتا ہے ۔

جبران اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی وجہ سے اپنے اندر کے اس آزاد خیالی کو سنبھالے رکھنے میں نا کام ہو جاتا ہے اور اس کی آزاد خیالی دم توڑنے لگتی ہے۔

"نصرت نے اس کو ابا کے ناراض ہونے اور اس کو دور کے مدرسہ میں بھیجنے کی بات بتائی تو وہ اپنے دل میں منصوبہ بناتا ہے ۔۔میں نے سوچا کہ اگر ابا نے دور کے کسی مدرسے میں بھیج دیا اور وہاں کے حافی جی مرکھنّے ہوئے تو میں مدرسہ چھوڑ کر بمبئی بھاگ جاؤں گا اور وہاں فلموں میں ہیرو بن جاؤں گا ۔"

                 اصل میں یہ ہیرو گیری ہی اس کا محبوب مشغلہ تھی "

اس کے یہ دونوں سہارے رفتہ رفتہ اس سے چھن جاتے ہیں اور اس کی زندگی بالآخر لایعنیت کا شکار ہو جاتی ہے۔ جبران اس ناول کا  بے سروپا ہیرو ۳۔(ایبسرڈ ہیرو) بنتا ہے۔ وہ ارادے اور عمل کی قوت سے عاری تو نہیں ہے لیکن کامیابی اس کے قدم نہیں چومتی۔ بظاہراس کا ایسا ہونا کسی نو آبادیاتی یا سامراجی طاقت، یا عالمی جنگ کی پیداوار نہیں، بَلکہ وہ معاشرتی نا ہمواری ہے جو صارفی نطام کی دین ہے۔ صارفی نظام  تیسری دنیا بالخصوص مشرقی معاشروں میں طاقت اور وسائل کے کچھ ہاتھوں میں ارتکاز کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ اللہ میاں کا کارخانہ   کےکردار ہمیں معاشرے کے پسِ پردہ موجود ان طاقتوں سے رُو شناس کرواتے ہیں جو معاشرے کی ساخت اور حرکت کو اپنے مطابق ڈھالتے ہیں۔ یہ طاقتیں مادی بھی ہیں، اور فکری بھی۔ سیاست دان اور مولوی بھی ہے اور سرمایہ دار بھی۔ یہ کردار استحصالی نظام کا حصہ ہیں جہاں تیسری دنیا کی آمریت، پھر اس دنیا کے اندر موجود پس ماندہ  معاشرے، پھر ان معاشروں میں بھی استعماری سازشوں کا ہدف ہونے  کے خوف کی وجہ سے اپنی مرضی سے زندہ رہنے کے حق سے محروم ہیں۔

ان کی یہ فکر  اور بڑھ جاتی ہے جب احمد کے پاپا نے  انہیں یہ اِطلاع دی کہ ولید کو پاکستانی خفیہ تنظیم آئی ۔ایس ۔آئی کا ایجنٹ ہونے کے جرم میں پکڑ لیا گیا ہے ۔ پولیس کے سوالات ،اور محلے بھر میں ہوئی بے عزتی سے وہ اس قدر پریشان ہو جاتی ہے کہ  اس کے اوپر ایک دہشت طاری ہو جاتی ہے ،وہ گھبرا جاتی ہے۔ ۔ جبران کے چچا مدد کرنے کے لئے آگے آتے ہیں  وہ ناہید کو یہ بتاتے ہیں کہ :

بڑی  مشکل سے ایک وکیل راضی ہوا ہے مگر اس شرط پر کہ ہر پیشی پر پچیس ہزار روپے لے گا ۔ہر پیشی میں تقریباً چالیس پینتالیس ہزار روپے خرچ ہو جائیں گے ۔‘‘

یہ سن کر اس کے پیروں کی زمین نکل جاتی ہے ۔وہ کہتی ہے :

     "یہاں تو کھانے کے لالے پڑے ہیں ۔اتنا پیسہ کہاں سے آئے گا ؟۔۔"

یہ استحصال بَہ راہِ راست نہیں، بَلکہ بالواسطہ ہوتا ہے۔  کسی فرد کو پاکستانی خفیہ تنظیم ۴۔(آئی ۔ایس ۔آئی) کا ایجنٹ بنانے کی کوشش کسی معاشرے کوناقابل دید ۵۔(انویزیبل)  بنانے کی استعماری سازش ہے۔  قصبوں میں استحصال فرد واحد یا محدود افراد کا استحقاق ہوتا ہے جب کہ شہر میں طاقت میں شراکت کے بَل پر بہت سے گروہ اس میں چھوٹے بڑے حصہ دار بن جاتے ہیں۔

اللہ میاں کا کارخانہ  کے بیانیے کی زِیریں رَو میں معاشرے کی موت کا نوحہ موجود ہے۔ یہ ایک ایسے معاشرے  کی موت کا نوحہ ہے جو  استعماری سازشوں کا شکار ہے ۔ ان سازشوں کا نتیجہ  آزاد خیالی کا زوال اور بالٓاخر موت ہوتا ہے۔ یہ موت معاشرے کی اجتماعی بے حسی پر منتج ہوتی ہے۔ اس بے حسی کا ایک ثمر انتہا پسندی ہوتا ہے۔

یہ کہانی آفاقی ہے۔  گجرات میں ولید پر چلنے والے مقدمے کی بِپتا ہمیں استحصالی نظامِ اور معاشرے کے دیگر کم زور پہلووں سے آشنا کرواتی ہے۔ گم صُم  ناہید بھی اسی کم زور معاشرے کے مجہول فطرت کردار ہے اور بیانیے کی کچھ ۶۔( فوکولائیزیشن) ان کی بھی ہے۔  ناول کے گنتی کے چند کرداروں کی مدد سے محسن خان نے   استعماری سازشوں کے شکار پورے معاشرے کو اندر باہر سے کھنگال کے رکھ دیا ہے، اور کردار بھی ایسے جو عام عوام سے روز مرّہ کے ہیں؛ جنھیں ہم اگر دیکھ بھی لیں تو ان کے بارے میں کچھ سوچنا پسند نہیں کرتے۔  اللہ میاں کا کارخانہ  کے تمام کردار زوال پذیر معاشرے اورسماج کی بھر پور عکاسی کرتے ہیں، کرداروں کی زبان ان کی فکر، سوچ، سمجھ، علمی لیاقت و صلاحیت اور سماجی حیثیت و حسب مراتب کی ہے۔ ناول کے سارے کردار  مسلم معاشرے کے جیتے جاگتے کردار ہیں جسے پڑھنے کے بعد قاری محسوس کرتا ہے کہ یہ سب کچھ ہمارے ارد گرد اور آس پاس ہی ہو رہا ہے۔ اس میں کرداروں کی سراپا نگاری سے گریز کیا گیا ہے۔ کرداروں کی شناخت ان کے اعمال و افکار سے قائم کی گئ ہے۔

اللہ میاں کا کارخانہ کا ساختیہ  ہمیں ۷۔)کمیونیکیشن) کی ایک اصطلاح  ثقافت  جیمنگ  ۸۔(کلچرل جیمنگ) کی یاد دلاتا ہے ۔ثقافت جیمنگ  مابعد جدیدیت کے فلسفیانہ اساس کا نتیجہ ہے جس کی خصوصیت معاشرتی تنقید اور جدیدیت سے متعلق چیزوں کے خلاف مزاحمت ہے۔  اس کا مقصد  صارفی نظام کی علامتوں اور معانی کو ختم کرنا اور میڈیا اور ذرائع تشہیرکے تسلط کا مقابلہ کرنا ہے۔ مزید یہ کہ ثقافت جیمنگ میڈیا کے ساز باز اور سازشوں پر تنقید کرتا ہے اور کارپوریٹ  کی دسترس پر سوال اٹھاتا ہے۔ یہ خبروں ، تفریحوں ، طرز زندگی ، اور انسانی سوچ کو روز مرہ صارفیت کی  قید سے آزاد کرتا ہے۔  اس کی تعبیر۹۔( شینن اور ویور)  کے ذریعہ مواصلاتی ماڈل میں شور کے تصور سے ملتی جلتی ہے۔ اس کا مقصد  صارفی نظام کی لفظیات کی سیاسی معنویت  میں ترمیم کرنا ہے  تاکہ لفظوں کے معنی کی تشکیل نو کی جا سکے۔  سیاست میں ثقافت جیمنگ کا رجحان میم ، میڈیا ہیکسینگ ، ہیکنگ اور ایڈبسٹر کی شکل میں پایا جاسکتا ہے۔ لہذا ثقافت جیمنگ ایک طرفہ معلومات کے بہاؤ پر روک لگانے کی کوشش ہے۔ ثقافت جیمنگ کا مقصد سرکاری پروپیگنڈے کے ساتھ کارپوریٹ ایجنڈوں کو بے نقاب کرنا ہے ، بلکہ عوام کو بیدار کرنا اور انہیں آگاہی دینے کے لئے علم فراہم کرنا ہے۔ یہ احتجاج کی وہ حکمت عملی ہے  جو  ذرائع ابلاغ کے منفی کردار کو ہدف بناتی ہے۔ اور نفرت اور فرقہ واریت  کی سوچ کو سبوتاژ کرتی ہے۔

اس پس منظر میں اگر ہم محسن خان کے ناول اللہ میاں کا کارخانہ پر نظر ڈالیں تو محسوس ہوتا ہے کہ اس ناول میں بھی احتجاج کی وہی صورت نظر آتی ہے جو بالعموم  ثقافت جیمنگ کی حکمت عملی ہے۔ یہ  احتجاج بَہ راہِ راست یا بالواسطہ ہوتا ہے۔ ایک ایسے صارفی دور میں جب میڈیا "لو جہاد" جیسی اصطلاحیں گڑھتا ہے اور ان اصطلاحوں کی مدد سے کسی مخصوص معاشرے کو ہدف بنانے کی کوشش کرتا ہے ۔  میڈیا تشہیر کی لہروں کے ساتھ، ہندوستان میں لو جہاد کے الزامات نے مختلف ہندو، سکھ اور عیسائی تنظیموں میں تشویش پیدا کردی ، جبکہ مسلم تنظیموں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۱۰۔ریوٹرزکے مطابق، یہ تصور بہت سے لوگوں کے لئے سیاسی تنازعات اور معاشرتی تشویش کا باعث بنا ہوا ہے، حالانکہ سنہ ۲۰۱۴ تک لو جہاد کے خیال کو ہندوستانی دھارے میں بڑے پیمانے پر ایک سازشی تھیوری سمجھا جاتا تھا۔ آج میڈیا کا کام حقیقت دکھانا نہیں ہے  بلکہ انسانی ذہن کو متاثر کرنا ہے ۔کیونکہ اگر میڈیا حقیقت دکھانے پر ذہن مرتکز کرتاہے تو  انسانی ذہن کو متاثر نہیں کر پا‎تا ہے۔ میڈیا اپنی اسی خصوصیت کے بنا پر محیرالعقول سا امیج بنا رہا ہے اور اپنی ثقافتی یلغار سے ساری دنیا کو متاثر کر رہا ہے۔ اس ثقافتی یلغار کے اس دور میں محسن خان کا یہ ناول ایک خاموش احتجاج کے طور پر سامنے آتا ہے کیونکہ اللہ میاں کا کارخانہ  میں بھی میڈیا کے غلبے کے  سازشی طریقوں کو بے نقاب کرنے کی کوشش واضح طور پر نظر آتی ہے۔

اللہ میاں کا کارخانہ  میں  ولید کا جماعت میں گجرات جانا  اور پاکستانی خفیہ تظیم آئی ۔ایس ۔آئی کے طور پر گرفتار ہو جانا کسی معاشرے کو انویزیبل بنانے کی سازش کو بے نقاب کرتا ہے۔ یہاں گجرات اور جماعت ایسا ساختیے ہیں جن کی معنویت کو صرف عمیق سطح پر پرکھا جا سکتا ہے۔ ان ساختیوں کے پس منظر میں  اللہ میاں کا کارخانہ   کی قرات ذہن کو ۱۱۔ کلچرل جیمنگ کے فلسفے کی طرف لے جاتی ہے۔ بعض ماہرین نے کلچر جامنگ کو گوریلا ابلاغ کی اصطلاح بھی دی ہے جس کا مقصد میڈیا کی سازشی فعالیت کی آنچ کو مدھم کرنا ہے۔

محسن خان ے اپنے فن سے حقیقی زندگی کا ایسا جمالیاتی اظہار کیا ہے جس نے مسائل کی تفہیم کو عام قاری کے لیے بھی بہت آسان کر دیا ہے۔ ادب کا مقصد ہی زندگی کو خالص انسانی آنکھ سے دکھانا ہے، کسی نظریے، عقیدے، مسلک یا تعصب کی چھاپ کے بَغیر، تا کِہ انسانی زندگی کے مسائل کو حِسّی اور فکری سطح پر دیکھا جا سکے۔

اس ناول میں بہت سی قابلِ ستائش باتیں ہیں جن میں سے ایک بات جو بہت اہم ہے وہ  ہیلی ڈے کا نظریہ ۱۲۔ کوہیزن    یعنی  جملوں کی ترتیب و تنظیم  ہے۔ جملوں کی ترتیب و تنظیم  کے مطابق ہی  الفاظ لائے جاتے ہیں۔ یعنی  ہیلی ڈے کے نزدیک صرف تحریری جملے ہی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ ان کے علاوہ تمام سیاقی و سباقی متعلقات و التزامات قاری کے پیش نظر کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔

محسن خان نے کفایتِ لفظی کے ساتھ ایک ایک لفظ کا انتخاب کیاہے اور جہاں بات دو الفاظ میں ہو رہی ہو وہاں تیسرا لفظ نہیں لکھتے، اور اسی طرح جہاں بات کہے بَغیر سمجھ آ رہی ہو وہاں وہ الفاظ ضائع کرتے ہی نہیں۔

ان کے فن کی پختگی کا ایک بڑا ثبوت یہ ہے کہ وہ ایک ہی واقعے کو جب کردار کی ۱۳۔ فوکولائیزیشن  بدل کے بتاتے ہیں تو سارا واقعہ نیا لگنے لگتا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے محسن خان نے یہ دکھایا ہے کہ روایتی پلاٹ میں ابھی بہت امکانات موجود ہیں جنھیں کشادہ نظری کے ساتھ دریافت کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

Invisible۔1,2,5

3-absurd hero

4-ISI

6,13-Focalisation

7-Communication

9-culture jamming

10-Reuters

8,11-Shanon and Weaver

12-Cohesion.

نوٹ:ویب سائیٹ کی کچھ تکنیکی دشواریوں کی وجہ سے بیچ بیچ میں انگریزی الفاظ کے استعمال کے باعث پاراگراف ٹوٹ اور بکھر رہے ہیں اور گڈمڈ ہو رہے ہیں اس لئے مضمون میں تبصرہ نگار نے جہاں انگریزی الفاظ کا استعمال کیا ہے۔ اسے نمبر کی ترتیب کے ساتھ نیچے، وضاحت کے لئے ڈال دیا گیا ہے ۔ تاکہ کسی کو سمجھنے میں دشواری نہ ہو اور پارا گراف کے ٹوٹنے بکھرنے کی وجہ سے مفہوم کی ترسیل میں فرق نہ پڑے ۔ اداریہ اس تکنیکی خرابی کے لئے معزرت خواہ ہے ۔

علی رفاد فتیحی

پروفیسر شعبۂ لسانیات ،علیگڑھ مسلم یونیورسٹی علیگڑھ انڈیا 

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form