لوہے کو لوہا ہے کاٹتا

March 23, 2021
دیدبان شمارہ ۱۳ مابعد کرونا ادب نظمیں

دیدبان شمارہ ١٣

نظم  :  لوہے کو لوہا ہے کاٹتا                    

راجہ یوسف

تم نے زمین کے سخت سینے پہ

خون پسینہ بہا کر ہل چلایا

کھاد ڈالا، بیج ڈالا

مناجات کی خدا سے رحمت کی

آسمان نے رحمت بھی برسائی

پر تم یہ بھول گئے

بیچ تو ڈالا، مگر دھتورے کا

آسمانی خدا نے

ذرا جو فرصت میں

اک نگاہ زمین پر ڈالی

فضا تھی زہرلی

زہریلے تھے انسان

زہر بھری تھی بولی

خدا حیران ہوا

کیا یہ واقعی ہے وہی دنیا

یہ نفرت زدہ چہرے کیسے ہیں

کون ہیں یہ

کہاں سے کس سیارے سے آئے ہیں

اس نے تو محبت اخوت بھائی چارے

مٹی میں گوندھ کر بنائے انساں سارے

ایک حسیں گلشن تھا لگایا

کہاں ہے وہ گلشن

کہاں ہے وہ حسن و جمال وہ دلکشی

کہاں ہے وہ رنگ و بو وہ روشنی

کہاں گیے وہ سارے پھول

یہاں تو چاروں اور

دھتورے ہی دھتورے اگے ہیں

کیا خدا سے ہی ہوئی کوئی بھول

سوچنے لگا فکر میں ڈوبا خدا

لوہے کو لوہا ہے کاٹتا

یہ جو وائرس ہیں نفرت کے

ختم ہوگا ایک اور وائرس سے

کہا خدا نے کرونا سے

صاف کرو یہ آلودہ پیکر

ختم کرو یہ وحشی چہرے

قہر خداوندی جو جوش میں ہے آئی

اب مشکل میں ہو تم بھی

مشکل میں ہیں ہم بھی

راجہ یوسف انچی ڈورہ

 کی پیدائش کشمیر کے ضلع اسلام آباد(اننت ناگ) میں ہوئی۔یہ افسانہ نویس، ڈرامہ نگاراور شاعرہیں .انہوں نے

تھیٹر آرٹسٹ کے طور پر 1986سےا سٹیج اداکاری شروع کی ۔ ساتھ ساتھ ا سٹیج کے لئے ڈرامے بھی لکھتے رہے ،ان کا  افسانوی مجموعہ ’’کاغذی پیرہن‘‘ 1988 میں شائع ہوا ۔ ادبی رسالہ کے مدیرِ معاون  اور اخبار کے جز وقتی ایڈیٹر رہے ۔  ٹیلی ویژن کے لئے درجنوں سکرپٹ لکھا ، سیریل اورڈرامے لکھے۔۔۔ خاص موضوع تواریخ ہے ۔ سیاسی، سماجی اور تواریخی موضوعات پر درجنوں پروگرامز لکھے اور کئی ڈاکومنٹری فلمیں اور  ٹی وی سیریلز بنایا .’’آرٹ اینڈ کلچر‘‘ایواڑ 1999 میں ملا .’’ اِن فوِ ٹل ایواڑ ‘‘ INFOTEL AWARD ۔ سے 2015 میں فکشن اور ڈرامہ کے لئے نوازا گیا ۔ایک کشمیری  کتاب ’’ ویتھ ‘‘( کاشرِ تواریخک تمثیل۔ 2017 )  بھی ہے اور" بند کھڑکی کا کرب" افسانوی مجموعہ زیرِ ترتیب ہے

rajayousuf72@gmail.com

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form