ماچس

راستے سے اٹھائی ہوئی

خالی ماچس کی ڈبیا پر

شعر دیکھ کر حیرت ہوئی

نہ جانے دیا سلائی جلانے

والے نے اسے پڑھا تھا کہ نہیں

شاید نہیں ورنہ اسے اٹھا کر

کسی اونچی منڈیر پہ رکھتا

اس پہ لفظ محبت بھی لکھا تھا

اور شاید پڑھ بھی لیا ہو لیکن

اسے محبت پہ اعتبار نہ تھا

خدا جانے اس نے کبھی محبت

کی ہی نہ ہو اور

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ

اس نے عبادت کی جگہ صرف

محبت ہی کی ہو

اور وہ خالی ماچس کی

ڈبیا کی طرح راستے میں

پھینک دی گئی ہو!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سارااحمد

سارا احمد

سارا احمد نے فیس بک  کے فورمز سے افسانہ نگاری کا آغاز کیا- اس کے بعد پاکستان کے مختلف ادبی جرائد میں افسانے شائع ہوئے ان کا تعلق لاہور سے ہے-  ایم - بی- بی- ایس فائنل ائیر کی طالبہ ہیں

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form