دیدبان شمارہ ١١

  مضمون :   ماہواری

 مصنفہ :  رابعہ الرَبّاء    

 آج ہم اس پہ بات کریں گے جس پہ ہم بات نہیں کرتے۔

آج ہم اس پہ بات کریں گے۔ جس پہ بات کر نے سے ہم جھجکتے ہیں۔شر ماتے ہیں یا گھبراتے ہیں۔

آج ہم اس ٹاپک پہ بات کر نے والے ہیں۔ جس کو ہم معیوب سمجھتے ہیں۔

کیا جس بات کو ہم معیوب سمجھتے ہیں وہ معیوب ہو تی بھی ہے یا نہیں؟

آج ہم اس کے معیوب ہو نے کو ختم کر نے کی کوشش کریں گے۔

اگر ایک چیز نئی زندگی کی علامت ہے تو معیوب کیسے ہو سکتی ہے؟

شاید ہم کسی سے کچھ چھپا نا چاہتے ہیں۔ مگر چھپاتے تو لوگ اپنے عیب ہیں۔ تو کیا یہ کو ئی عیب ہے؟ اگر ایسا کچھ بھی نہیں ہے تو ہم بات کیو ں نہیں کر تے؟شر ماتے کیوں ہیں؟ گھبراتے کیو ں ہیں؟

یہ بات ہم مل کر کریں گے۔ ہم آپ سے آپ کی زندگی کے ان خاص دنو ں کے بارے میں پو چھیں گے کہ ان کا آغاز کیسے اور کب ہوا؟ اور کس نے آپ کی مدد کی؟

ہال میں سناٹا تھا۔ جیسے کو ئی جن بھوت آ گیا ہو۔ سب لڑکیاں اور خواتین غور سے بات سن رہیں تھیں۔ اس سیشن کا سپیشل انتظام بھی اسی لئے کیا گیا کہ خواتین میں یہ شعو ربیدار ہو کہ ماہواری نہ تو کو ئی عیب ہے۔ نہ ہی اس پہ بات کر نا معیوب ہے۔ اور ہم کیو ں اپنی بچیوں کو اس وقت کے لئے تیار نہیں کرتے؟

عشرت نے ہال کا جائزہ لیتے ہو ئے دوسری لائین میں بیٹھی ایک بچی جو قریبا سترہ سال کی تھی سے کہا کہ آپ بتا ؤ کہ آ پ کو ماہواری کب آ ئی اور کس نے آپ کو اس حوالے سے بتایا۔

وہ جھجھکتے ہو ئے اٹھی کیو نکہ پہلے سیشنز لے چکی تھی اس لئے کچھ اعتما د تھا۔ پھر بھی سر جھکا کر بتانے لگی

”میں چھٹی جماعت میں پڑ ھتی تھی۔ اپنی ممانی کے ساتھ تنور پہ روٹیاں بنوا رہی تھی۔ اچانک میرے پیٹ میں درد ہوا۔ اور ایسے لگا جیسا میرا پیشاب نکل گیا ہے۔ مجھے کچھ سمجھ نہ آئی اور جا کر سو گئی۔ سو کر اٹھی تو امی نے دیکھ لیا کہ میری شلوارخون سے بھری ہو ئی ہے۔ وہ پریشان ہو گئیں۔ مجھے لگا کہ کچھ اچھا نہیں ہوا جو امی پریشان ہو گئیں ہیں۔ میں بھی بہت پریشان ہو گئی۔ امی نے کہا جاؤ عالمہ باجی کے پاس جاؤ۔ ان کو بتاؤ۔

عالمہ باجی ہمیں قرآن پاک پڑ ھاتیں تھیں۔ ان کے پاس گئی۔ انہو ں نے بتایا کہ آپ بڑ ی ہو گئی ہو۔ اس کے علاوہ کچھ نہیں بتایا۔

آہستہ آہستہ خود ہی کپڑا رکھنا سیکھا۔وہ بھی کبھی گر جا تا تھا۔ امی بھی اس حوالے سے کو ئی بات نہیں کر تیں تھیں۔ بلکہ مجھے بھی منع کر تیں تھیں کہ کسی کو نہیں بتا تا۔

کیو نکہ ہمارے ہاں لڑ کیاں جب بڑ ی ہو جاتی ہیں تو والدین پہ بوجھ سمجھی جاتی ہیں۔ وہ جلد از جلد ان کی شادی کر نا چاہتے ہیں۔ اس لئے لوگو ں سے چھپایا جاتا ہے کہ بیٹی بڑ ی ہو گئی ہے۔ لیکن بڑے ہو تے ہی مجھ پہ پا بندی لگ گئی کہ گھر سے باہر نہیں جانا۔ کھیل کود نہیں کر نا۔ بلکہ گھر داری پہ تو جہ دو۔ جو مجھے سخت ناگوار گزرتا تھا۔،،

سب خامشی سے اس کی بات سن رہے تھے اورسب کو معیوب لگ رہا تھا۔ اتنی ساری خواتین کے سامنے اتنے راز کی بات کر دی۔ کتنی بے حیا لڑ کی ہے۔ اس کی ما ں بھی بیٹھی سن رہی تھی۔ اس کو احساس ہوا کہ اگر میں نے تب اس کو یہ سب سیکھا دیا ہو تا تو آج وہ یہ بات نہ کرتی۔ لیکن فوراََہی اس کو خیال آیا کہ ہمارے یہا ں تو عالمہ باجی ہی سب کو بتاتی ہے۔

عشرت نے تیسری لائین میں ایک اور لڑ کی طرف اشارہ کر تے ہو ئے کہا اور آپ کو کس نے بتایا۔

عاصمہ اب بیس سال کی تھی۔ اس کی شادی بھی ہو چکی تھی اور طلاق بھی ہو چکی تھی۔دو بچے ہو چکے تھے۔ اس کے سب حجاب نے نقاب ہو چکے تھے۔ وہ اعتمادسے اٹھی اور دکھ بھرے لہجے میں بتانے لگی۔

”میں چوتھی جماعت میں تھی جب میری امی نے مجھے پہ سختی شروع کر دی ان کا خیال تھا کہ لڑ کی کو دبا کررکھنا چاہئے وہ تعبدار رہتی ہے۔ میں گلی میں لڑ کیو ں کے ساتھ کھیلا کر تی تھی۔ امی نے منع کر دیا۔ سکو ل جایا کر تی تھی، تو کھیلتی تھی۔ امی نے کہا سکول جاؤ مگر کھیلنا نہیں۔ سیدھا سکو ل جاؤ۔ وہا ں سے سیدھا گھر آؤ۔ کسی رشتہ دار کے گھر نہیں بھیجتیں تھیں۔ اور اگر کو ئی رشتہ دار گھر آ جاتا تو بیٹھک میں بیٹھتا اور وہیں سے واپس چلا جاتا۔ مجھے اجازت نہیں تھی کہ میں بیٹھک میں آ سکوں۔ اور رشتہ داروں میں بیٹھ کر یا پڑوسیوں میں بیٹھ کر امی بہت فخر سے کہتیں کہ میں نے اس کو کبھی کسی رشتہ دار کے گھر نہیں جانے دیا۔ نہ ہی رہنے دیا ہے۔

جب میں چھٹی جماعت میں تھی تب مجھے پہلی بار ماہواری ہو ئی۔اس دن میرا پیپر تھا۔ کپڑے بدلنے لگی تو شلوار پہ خون کے داغ تھے۔ میں پر یشان ہو گئی۔ امی کے پاس گئی ”امی مجھے پتا نہیں کیا ہو گیا ہے؟،، رونے لگی۔ امی کو تو جیسے چپ لگ گئی۔ مجھ یقین ہو گیا کہ مجھے کو ئی مودی مرض لگ گیا ہے۔ امی نے کہا بڑ ی بہن کے پاس جاؤ۔ باجی کے پاس گئی تو انہو ں نے مجھے تسلی دی اور کہا کہ کچھ نہیں ہوا۔ یہ سب لڑ کیو ں کے ساتھ ہو تا ہے۔ بس اب تم بڑ ی ہو گئی ہو بچی نہیں رہی۔ انہو ں نے ہی پیڈ رکھنے کا سلیقہ سکھایا۔

امی نے سختی اور زیادہ کر دی۔ کہ میرا دم گھٹنے لگا۔ مگر جس عزت کو وہ بچا رہیں تھیں۔ میرے شوہر نے اس کو سر عام نیلام کر دیا۔ بس میرا یہی سوال ہے کہ ساری عزت اس دھبوں والی شلوار میں ہے۔ یا میرا بھی کو ئی وجود ہے؟

وہ بیٹھ گئی اور آنسو اس کی گو د میں گرنے لگے۔ جس کو اس نے دوپٹے کا سہارا نہیں دیا۔

سب عورتیں گاؤں کی ہی تھیں، جانتی تھیں کہ اس پہ کیا کیا کچھ بیتی ہے۔

عشرت سے گلا صاف کر تے ہو ئے کہا

”اگرہم بھی اپنی بیٹیوں کو محبت نہیں دیں گے توکوئی بھی نہیں دے گا۔ عاصمہ کا سوال محبت ہے۔ اور اس کا جواب بھی محبت ہے۔ لیکن زندگی یہاں ختم نہیں ہو جاتی عاصمہ۔ابھی تمہیں نئی زندگی میں نیا قدم رکھنا ہے۔ مگر پہلے خود سے پیار کر نا ہے۔ وہ پیار تمہیں تمہارے دجود سے ملائے گا۔

پیچھے سے ایک لڑ کی اٹھی اور کہنے لگی میم میں بھی کچھ بتا نا چاہتی ہوں اس حوالے سے۔

عشرت نے سر ہلا کر اجازت دی

میں فرسٹ ائیر میں پڑ ھتی ہوں۔ اور جب مجھے پہلی بار ماہواری ہو ئی تو مجھے میری دادی نے دیکھا۔ اور کہا کسی کو بتا نا نہیں۔ کیو نکہ اس طرح لوگوں کو پتالگ جائے گا کہ اس گھر میں بچی جوان ہو گئی ہے۔ دادی نے امی کو بتایا۔ اور پھر امی نے مجھے پیڈ رکھنے کے حوالے سے بتایا۔ سینٹر آنے لگی تو یہا ں سے ان دنو ں کی خاص صفائی کا علم ہوا کہ چھ گھنٹے بعد پیڈ بد ل دینا چاہئے۔ بار بار ایک ہی کپڑا استعما ل نہیں کر نا چاہئے۔ اور جو کہتے ہیں کہ ان دنوں نہاتے نہیں۔تو ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ نہا سکتے ہیں بلکہ نہانے سے انسان صاف ستھرا ہو جاتا ہے۔ یہ کو ئی بھوت نہیں ہے جو ہمیں کھا جائے گا۔ ایک فطری خوبصورتی ہے جسے ہم نے بد صورتی بنا دیا ہے۔

تب سے اب تک میں اپنے اندر اس سوال کو حل نہیں کر سکی کہ ”لوگ کیوں کہیں گے کہ اس گھر میں بچی جوان ہو گئی ہے۔ بچیاں تو ہر گھر میں جوان ہو تی ہیں۔جوانی جرم ہے کیا؟جوانی خوف ہے کیا؟اور اگر خوف ہے تو خوف کیوں ہے؟،،

اب خواتین کی جھجھک کم ہو رہی تھی۔ سیشن کے شروع میں جو ہو کا عالم تھا۔ اب اس میں سنسناہٹ میں بدل گیا تھا۔ سوال ایک ذہین سے دوسروں میں منتقل ہو رہے تھے۔جواب خود بخود جگہ بنا رہے تھے۔ بد گمانی ختم ہو رہی تھی۔ ماحول نارمل ہو نے لگا تھا۔ با ت سننا اور کہنا آسان ہو رہا تھا۔ بس اتنی سی بات تھی۔ کہ بات کرنے سے بات ہو تی ہے۔اس سے پہلے تک وہ خوف ہو تا ہے۔ جو بد گمانی بھی بن سکتا ہے۔ معیوب بھی لگ سکتا ہے۔

اب لڑ کیا ں خود ہی اپنی بیتی بتا نیں لگیں

میں کشف ہوں۔میری بیٹی جب گیارہ سال کی ہو ئی تو ڈری ہو ئی میرے پاس آئی اس کی شلوار پہ خون کے دھبے تھے۔ وہ مجھ سے بھی ڈر رہی تھی۔ لیکن میں نے اس کو سمجھایا اس کو تسلی دی کہ اس کے ساتھ کچھ ایسا ویسا کچھ نہیں ہوا۔ یہ تو ہر لڑ کی کے ساتھ ہو تا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ بڑ ی ہو گئی ہے۔

اگر چہ ہمیں صفائی اور صحت کے حوالے سے وہ معلومات نہیں تھیں۔ جو ہمیں سینٹر آنے کے بعد حاصل ہو ئیں۔ یہ بات میں اس لئے بتا رہی ہو ں کہ ابھی تک جتنی بچیوں نے اپنی بات کی۔ ان کی مائیں پریشان ہو گئیں تھیں اور انہو ں نے بیٹیوں کو بھی پر یشان کر دیا۔ میں نے ایسا نہیں کیا۔

ثنا اٹھی اور بتانے لگی کہ ”میں دس سال کی تھی کہ اچانک رات کو میرے پیٹ میں بہت شدید درد اٹھا۔ میں نے اپنی بڑ ی بہن کو بتایا۔ مگر اس نے مجھے کہا سو جاؤ۔ ٹھیک ہو جائے گا۔ امی نے مجھے سوتے میں ہی کہیں دیکھ لیا تھا صبح اٹھی تو امی نے مجھے پیڈ رکھنے کا طریقہ بتایا اور بتایا کہ میں اب بچی نہیں رہی،،

ثروت بتانے لگی کہ ”میں گیارہ سال کی تھی۔اپنے گھر میں جھولا جھول رہی تھی ی۔ میری سہیلی میرے ساتھ کھیل رہی تھی۔ اس نے میری شلوار پہ خون کے دھبے دیکھے تو بتایا کہ مجھے ماہواری آ گئی ہے۔ اسی نے مجھے پیڈ رکھنے کا بتایا۔ مجھے تب تک ماہواری کے حوالے سے کچھ نہیں پتا تھا۔ میں اس سے پو چھتی رہتی تھی۔ اور وہ مجھے بتاتی تھی کہ یہ بڑے ہو نے کی نشانی ہوتی ہے۔

امی سے بات نہیں کر سکتی تھی۔وہ بات بات پہ ڈانٹیں تھیں۔ ہما رے ہا ں بڑ وں سے لڑ کیو ں کا بات کر نا معیوب سمجھا جاتا ہے۔

سینٹر آ نے لگی تو ایک دن یہا ں سینٹری پیڈز بنانے کا طریقہ بھی بتایا گیا۔ اب گاؤ ں میں نسیماں آپا ں وہ پیڈ بنا کر بیچتی ہیں۔ اس طرح ہمارا کام بھی آسان ہو گیا ہے اور ان کی روزی کا بھی ذریعہ بن گیا ہے،،

عشرت سب کی باتیں سنتی رہی۔ کچھ سوچتے ہو ئے بولی

ہم اس نتیجے پہ پہنچے ہیں کہ ہم اپنی بچیو ں کو اعتماد نہیں دیتے۔ ان کو احساس جرم و گنا ہ میں مبتلا کر کے، یہ چاہتے ہیں کہ وہ نارمل زندگی گزاریں۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ یہ احساس ان کے ساتھ عمر بھر سفر کر تا ہے اور وہ اپنی ازداجی زندگی بھی خراب کر بیٹھتی ہیں۔ جس کے لئے ہم ان کو پالتے ہیں۔کیو نکہ ابھی اس سے زیادہ تو ہم اپنی بیٹی کے لئے نہیں سوچ رہے ناں؟

کہ وہ ڈاکٹر بنے کی، وہ پائلٹ بنے گی، وہ افسر بنے گی۔ بس یہ سوچ رہے ہیں کہ وہ بیوی بنے گی۔ مگر اس طرح وہ بیوی بھی نہیں بن پاتی۔ وہ عمر بھر خوف زدہ ہی رہتی ہے۔

ہمیں اس کو اعتماد دینا ہے کہ نہ تو یہ کوئی بڑی بات ہے۔ نہ ہی اس سے اس کی زندگی پہ کو ئی اثرہوتا ہے۔ اگر کچھ ہو تا ہے تو اس کی قدر بڑھ جاتی ہے۔ اس لئے اس کی عزت بھی بڑ ھنی چاہئے۔ عزت اعتماد دیتی ہے۔ لیکن ہم اس سے عزت چھین کر اعتماد بھی چھین لیتے ہیں۔

جس نظام سے دنیا چل رہی ہے وہ کیسے گناہ یا گندا ہو سکتا ہے۔ یہ ہماری سوچ ہے جسے ہمیں بدلنا ہے۔

زندگی خود ہی بدل جائے گی

ہال میں ایک تا لی بجی اور آہستہ آہستہ ہال تا لیو ں سے گونج اٹھا۔

-----------------------

رابعہ الرَبّاء

رابعہ الرَبّاء کا تعلق لاہور سے ہے۔ وہ جی سی یونیورسٹی لاہور سے ادب کی تعلیم حاصل کیے ہیں۔ تانیثی اور تصوف دونوں حوالوں سے لکھنے کی شہرت رکھتی ہیں۔

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form