محبت کے چالیس اصول

August 9, 2018
دیدبان شمارہ ۸،مزاحمتی ادبتراجمتراجم

دیدبان ٨:

فورٹی رولز اوف لو کی تیسری قسط

تخلیق : ایلف شفق ترجمہ : نعیم اشرف

اتالیق

بغداد ، 26جنوری 1243

اس درسگاہ کاحصہ بننے کیلئے جتنا صبر درکار تھا ، شاید اتنا صبر شمس تبریزی کے پاس موجود نہیں تھا۔مگر اس کے باوجودجانے کیسے نو ماہ گزر چکے ہیں اور وہ ابھی تک ہمارے ساتھ موجود ہے ۔آغاز کے دنوں میں تو مجھے یوں لگتا تھا کہ وہ کبھی بھی وہ اپنا سازہ سامان باندھے گا اور یہاں سے نکل جائے گا۔اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ وہ باترتیب زند گی سے خار کھاتا تھا۔میں دیکھ سکتاتھا کہ یکساں اوقات میں روزانہ سونا ،جاگنا ،کھانا،پینا اسے کس قدر اوازار کیے رکھتا تھا۔وہ تنہا پنچھی کی مانند اڑنا پسند کرتا تھا ،آوارہ اور آزاد۔مجھے کئی دفع گمان ہوا کہ وہ قریب ہی دور جانے کیلئے آیاتھا۔بہرحال ، جتنا وہ تنہائی پسند تھا، اس سے کئی زیادہ وہ اپنے ساتھی کو تلاش کرنے کا خواہاں تھا۔شمس کو پختہ یقین تھا کہ ایک نہ ایک دن وہ میں اس خبر کے ساتھ ضرور آؤں گا، جس کا اسے شدت سے انتظار ہے اور اسے ضرور بتاؤں گا کہ اس نے کس راہ کی طرف جانا ہے ، کسی کو تلاش کرنا ہے۔اسی یقین کے ساتھ وہ یہاں پر موجود تھا۔ان نومہینوں میں نے اسے بہت قریب سے دیکھا تھا۔ میں اس بات پہ حیران ہوتا تھا کہ وقت اس کیلئے کسی مختلف ڈگر پر چلتاتھا۔میری درسگاہ کہ درویش جو چیزیں سیکھنے میں کئی مہینے اور بعض اوقات سال لگاتے تھے وہ اس نے کئی دنوں میں ، اگر دنوں میں نہیں تو ہفتوں میں سیکھ لی تھیں۔اسے ہر نئی چیز کے متعلق جاننے کا تجسس ہوتا۔۔ جو غیر معمولی چیز دیکھتا وہ اس جاننے میں جت جاتا،یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ وہ قدرت کے معجزوں کو بہت گہرائی سے دیکھتاتھا، اور اس میں وہ تھا بھی ماہر ۔

بعض اوقات میں اسے باغ میں مکڑی کے جالے کی تعریف کرتے ہوئے یارات کو کھلنے والے پھولوں پر شبنم کے قطرے کی تعریف کرتے ہوئے پاتا۔کتابوں اور مصحف سے زیادہ اسے کیڑوں، جانوروں اور پودوں میں دلچسپی ہے۔جب میں نے سوچنا شروع کرتا کہ اسے کتابیں پڑھنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، تب ہی میں اسے ایک بہت پرانی کتاب میں گھسا ہوا پاتا ۔۔ اس کے بعد ایک ایسا وقت بھی جب اسے کئی ہفتے گزر جاتے اوروہ کتابوں کی طرف منہ بھی نہ کرتا۔

جب میں نے اس سے اس متعلق دریافت کیا تو اس کا کہنا تھا کہہ ہر کسی کو اپنی عقل کومطمئن رکھنا چاہیے اور اتنی احتیاط کر نی چاہیے کہ اسے ضائع نہ کریں۔یہ اس کے اصولوں میں سے ایک تھا۔

’’عقل اوردل دو مختلف چیزیں ہیں۔ عقل انسان کو کسی نہ کسی بندھن میں باہم مربوط کیے رکھتی ہے،اس میں کسی خطرے اور داؤ کی گنجائش نہیں ہوتی ہے ۔ جب کہ عشق کیا ہے ؟ اس کے تو قد م قدم پر خطرات اور داؤ ہیں،عقل سکھاتی ہے کہ اپنے آپ کو محفوظ رکھو ، اور ہر وقت نصیحت کو تیار رہتی ہے اور سکھاتی ہے کہ حد سے نہ گزرو۔ جب کہ عشق سکھاتا ہے کہ کبھی کسی بات کا برا نہ مانو، اور بے دھڑک ہو کر فیصلہ کرو۔عقل کہتی ہے کہ اپنے آپ کو کبھی ٹوٹنے نہ دو جب کہ عشق تو کہتا ہے کہ ٹوٹ کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجاؤ۔اسی طرح خزانے بھی تو ویرانوں میں ہی ملتے ہیں جب کہ ٹوٹے ہوئے دل میں کئی خزانے مدفن ہوتے ہیں‘‘

جیسے جیسے میں اسے جانتا گیا میں نے اس کی جرات مند ی اور گستاخی کو سراہنا شروع کردیا۔اس کی حاضر جوابی اور خالص پن بے نظیر تھا۔اگر وہ کسی ایک چیز کیلئے ایک نقطے پر آٹھہرتا تو میں اپنے درویشوں کو سکھایا تھا، بلکہ انہیں حکم دے رکھا تھا کہ جیسے ہی وہ کچھ دیکھیں تو اس پر خاموش رہیں اور معا ف کر دیں ۔میں نے انہیں کہا تھا کہ دوسروں کی غلطیوں کا برا نہ مانا کرو۔شمس ، تاہم کسی غلطی کو نظر انداز نہ کرتا تھا۔ جب بھی وہ کوئی غلط کام ہوتے ہوئے دیکھتا ، وہ اس کے متعلق کچھ بھی کہے دیتا تھا،وہ ادھر ادھر کی باتیں کہنے اور سننے سے گریزاں تھا۔اس کی ایمانداری لوگو ں کوچبھتی تھی تاہم وہ لوگوں کو غصہ کرنے پر اکساتاتھا اور دیکھنا چاہتاتھا کہ لوگ غصے میں کیا کیا الفاظ نکالتے ہیں۔

اس کے لئے آسان کام کرنا بہت مشکل تھے ۔ وہ کسی کام کو زیادہ دیر تلک اپنے ساتھ وابستہ نہیں رکھتا تھا، اگر کوئی کام بھی ایک لمبے عرصے تک جاری رہتا وہ اس میں اپنی دلچسپی کھوئے دیتاتھا ۔جب یہ روز کا معمول بنتے تو وہ مایوس ہوجاتا بالکل ایسے ہی جیسے کسی چیتے کو پنجرے میں مقفل کردیا گیا ہو۔ وہ اگر بات چیت میں دلچسپی کھو دیتا تو وہاں سے اٹھ جاتا ، اگر وہ کسی سے غیر مناسب بات سنتا تو وہاں سے منہ موڑ لیتا، وہ اپنا وقت دل لگی اور مسرتوں میں برباد نہیں کرتا تھا۔

جو چیزیں کسی سکون ، سکھ ،خوشی اور حفاظت ،جو کسی بھی انسان کی آنکھوں کا تارا ہوسکتی ہیں، ان سب چیزوں کی اس کی نظر میں کوئی قدر وقیمت نہیں تھی ، شاہد وہ انہیں کچھ بھی نہ سمجھتا تھا۔

جب وہ الفاظ سے اپنا ناطہ توڑتا تو ایسے کرتا کہ وہ کئی کئی دنوں کچھ نہ بولتا تھا،

یہ بھی اس کے اصولوں میں سے ایک تھا،

’’دنیا کے زیادہ تر مسائل زبان سے نکلے ہوئے غلط الفاظ اور سادہ سی غلط فہمیوں کے باعث درپش آتے ہیں ۔اسی لئے لفظوں کے ظاہری معنی پر کبھی بھی نہ جاؤ ،جب آپ محبت کی دنیا میں قدم رکھتے ہیں ،تو زبان بے معنی سی شے ہو جاتی ہے ، جو چیز زبان کے ذریعے بیان نہ کیا جاسکے اسے صرف خامشی کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے‘‘۔

ایک وقت آیا جب میں اس کی خیر کے متعلق بہت زیادہ فکر مند رہنے لگا۔اپنے ا ندر کئی گہرائی میں کبھی کبھی سوچا کرتا کہ کوئی انسان جو خطروں سے لڑنے کا عادی ہو وہ کبھی بھی اپنے

آپ کو کسی سنگین خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

اس آخری دن ،ہم سب کی تقدیریں صرف اور صرف خدا کے ہاتھ میں ہی ہوں گی،صرف وہ ہی بتا سکتا ہے کہ کب اور کیسے کوئی اس دنیا کو چھوڑے گا۔اپنی طرف سے میں نے شمس کو روکنے کی بھرپور کوشش کی۔جتنا میں کر سکتا تھا اتنا میں نے کیا،میں نے اسے سمجھانے کی بھرپور کوشش کی ، میں چاہتا تھا کہ اس کی زندگی بہت زیادہ پرسکون ہوجائے ، اسی لئے میں نے اسے زندگی کا دوسرا رخ بھی بتایا۔پھر سردیوں کا موسم آیا اور سردیا ں اپنے ساتھ ایک قاصد بھی لائیں جس کے پاس ایک خط تھا ۔اس ٹکڑے نے ہر چیز تبدیل کردی۔

-----------------------

خط 66-70

قیصری سے بغداد ، فروری 1243

بسمہ اللہ الرحمن الرحیم

میرے معزز بھائی بابا زمان ،

خدا کی رحمتوں کا نزول ہمہ وقت آپ پر رہے ، اور آپ امن و سلامتی میں رہیں۔

ہمیں ملے ہوئے کافی عرصے بیت چکا ہے ، تاہم مجھے کامل یقین ہے کہ میرا خط دیکھ کر آپ کو بہت خوشی ہو گی ۔میں نے آپ کی درسگاہ جو کہ بغداد کے مضافات میں قائم ہے اس کے متعلق بہت سی حیران کب باتیں سن رکھی ہیں ۔آپ درویشوں کو حکمت اور خدا کی محبت سکھا کر نیکی کا کام سر انجام دے رہے ہیں ۔میں آپ کوئی بات بتانا چاہتا ہوں ، جو کہ کافی عرصے سے میرے دماغ میں ہے ،اس لئے میں یہ خط راز دارانہ طور پر تحریر کر رہا ہوں ۔مجھے اجازت دیں کے میں اپنی رودادشروع سے بیان کروں تاکہ آپ کو سمجھنے میں آسانی ہو۔

جیسا کہ آپ جا نتے ہیں کہ مرحوم سلطان کیقبادایک عظیم انسان تھے جنہوں نے مشکل ترین حالات میں اپنی قیادت کے جوہردکھائے ۔ان کا خواب تھاکہ ایسا شہرتخلیق ہو جہاں پر شاعر،دست کار اور فلسفہ دان آباد ہوں، جوکہ یہاں پر سکون سے اپنے کام جاری رکھیں۔ان کا خواب جنہیں بہت سے لوگ ٹوٹا ہوا کہتے تھے ، چکنا چور ہوگیا جب ہر طرف تباہی وبربادی اور جنگ و دل کی صورت حال پھیل گئی ۔خاص طور پر تب جب صلیبی اور منگلول کی آرمی دونوں طرف سے حملہ آور ہوئیں۔ہم نے یہ سب کچھ دیکھا ، مسلمان ، عیسائی کو مار رہا تھا ۔ عیسائی مسلمان کو مسلمان ، مسلما ن کو اور عیسائی، عیسائی کو ۔اس وقت ہر جگہ فرقے جھگڑ رہے تھے ، قبا ئل بھی سینگھ پھنسابیٹھے تھے ، یہاں تک کہ بھائی بھی بھائی کی جان کے در پے تھا۔کیقباد ایک عظیم قائد تھے ، انہوں نے عظیم سیلاب کے بعد قونیہ کے شہر کی اپنی امنگوں کی تکمیل کے لئے چنا۔

آج کل ، قونیہ میں ایک عالم رہتے ہیں جن کا نام شاید آپ نے سن رکھا ہو یا نہیں۔ان کا نام مولانا جلال ادین رومی تھاتاہم زیادہ تر لوگ انہیں رومی کے نام سے پکارتے ہیں۔

مجھے اس سے مل کر بہت خوشی ہوئی ،محض یہ ہی نہیں میں اس کے اس کے ساتھ علم بھی حاصل کررہا ہوں۔پہلے میں اس کے استاد کے طور پر اس کے ساتھ تھا، اور اسے استاد کے طور پر تعلیم دی۔ بعدازاں میں نے رومی کے والد کی وفات کے بعد اس کے سرپرست کے طور پربھی کردار ادا کیا۔ وقت نے ایسا پاسا پلٹا کہ میں اس کا شاگرد بن گیا،جی ہاں ! میں علم کے حصول کے لئے اپنے ہی شاگرد کا طلب گار بن گیا۔وہ بہت قابل اور دوراندیش ہے۔ دراصل ہوا کچھ یوں تھا کہ اسے سکھاتے سکھاتے یہ مقام بھی آیا جب میرے پاس اس کو سکھانے کیلئے کچھ باقی نہ تھا ، پھر ہوا کچھ یوں کہ میں نے اس سے سیکھنے کاآغاز کیا۔نہ صرف وہ بلکہ اس کے والد بھی ایک اعلیٰ پائے کے عالم دین تھے ۔ رومی میں ایک خاصیت ہے جو بہت کم علمائے دین کے پاس ہوتی ہے ، وہ مذہب کے سخت چھال کو توڑ ڈالنے اور اس کے اندر موجود قیمتی پتھر، جو عالم گیر اور ابدی ہو، اس کو تلاش کرنے کی اہلیت رکھتا تھا۔

میں آپ کو یہ بتانا چایتا ہوں کہ یہ سب باتیں جو میں آپ کو اس انسان کے متعلق بتا رہاہوں ،وہ میری اس کے متعلق ذاتی رائے نہیں ہے ۔ جب رومی ایک عظیم صوفی ، دوا ساز اور خوشبو ساز فریدالدین عطار سے ایک خوان آدمی کی طور پر ملاتب عطا ر نے اس کے متعلق انکشاف کیا تھا کہ یہ شخص اپنے دل میں محبت کیلئے دروازہ کھولے گااور صوفیوں کے دلوں میں محبت کی مزید آگ بھڑکانے کا باعث بنے گا۔

اسی طرح جب ابن عربی ، جو کہ ایک منفرد ، فلاسفر ،لکھاری ،اور صوفی ہیں ، انہوں نے ایک دن اسے اپنے والد کے پیچھے چلتے ہوئے دیکھا تو کہا کیا بات ہے ، شان قدرت، ایک سمندر نہر کی پیروی کررہاہے ۔بے شک خدا کی عظمت میں کوئی شک نہیں ہے ۔محض چوبیس سال کی چھوٹی سی عمر میں ہی وہ ایک روحانی راہنمابن گیا تھا۔آج تیرہ سال بعد قونیہ میں لوگ اسے ایک مثال نمونہ تصور کرتے ہیں اور ہر جمعے لوگ جوق در جوق ا ن کے مذہبی خطبات سننے کیلئے بے قرار ہوتے ہیں۔وہ ریاضی ، تاریخ ،علم الہیات ،کیمیا ء اور ریاضی میں ماہر ہیں ۔ اس کے کم و بیش دس ہزار سے زائد پیروکار ہیں۔اس کے پیروکار اس کا ہر لفظ نہایت اختیاط سے سنتے ہیں اور اسے ایک ایسے چراغ کی مانند تصور کرتے ہیں جو پر اعتماد ہیں کہ اگر وہ دنیا کی تاریخ میں ایک نا م حاصل نہیں کرے گا توکم از کم اسلام کی تاریخ میں ایک اپناعظیم نام ضرورپیدا کرے گا۔

میرے لئے رومی ہمیشہ سے ایک بیٹے کی طرح تھا اور رہے گا۔ میں نے اس کے مرحوم والد سے وعدہ کیا تھا کہ میں ہمیشہ اس پر نظر رکھوں گااب میں اتنا بوڑھا ہو چکا ہوں کہ مجھے معلوم ہے کہ میں اپنی زندگی کے آخری مراحل میں داخل ہوچکا ہوں۔تاہم اس دنیا سے جانے سے قبل میں اس بات کا اطمینان کرنا چاہتا ہوں کہ آیا اس کی صحبت درست ہے یا نہیں۔

آپ اسے ایک مشہور ، جانے مانے اور کامیاب انسان کے طور پر دیکھ سکتے ہیں ، تاہم اس میں کوئی شک نہیں کیونکہ وہ ان سب خصوصیات کا حامل بھی ہے۔ تاہم رومی مجھ سے بہت مرتبہ کہہ چکا ہے کہ وہ خود کو اندرونی طور پر نامکمل محسوس کرتا ہے، اسے لگتا ہے کہ اس کا اندرغیر مطمئن اورویران ہے ۔ایک خالی پن اور اندھیرا جو نہ تو اس کے پیروکار رفع کرسکتے ہیں اور نہ ہی اس کا خاندان ۔

ایک مرتبہ میں نے اسے بتایا کہ تم خام ہو تم ابھی اس حد تک خالص نہیں ہوئے کہ، تمہیں جلائے جاسکو بھی نہیں جا سکتا۔

اس کا پیالہ کنارے تک بھر چکاتھا ، اور اب وہ وقت آن پہنچا تھا کہ وہ اپنی روح کا دروازہ کھولے اور اس سے محبت کے پانی کی روانی کا آغاز کرے ۔اس نے مجھ سے پوچھا کہ یہ کس طرح ممکن ہے تو میں نے اسے کہا کہ اسے ایک ساتھی کی ضرورت ہے ، جو تمہاری ہی راہ کا ساتھی ہو ،میں نے اسے یاد دلایا کہ قرآن بھی تو یہی کہتا ہے ’’کہ مومن ایک دوسرے کا آئینہ ہیں‘‘

بحرحال کچھ عرصے تک یہ موضوع نظرانداز ہی رہا ، اور اس کے بعد کبھی زیر بحث نہیں لایا گیا۔تاہم ایک دن جب میں نے قونیہ چھوڑا اس دن رومی نے مجھ سے اپنا خواب کا تذکرہ کیا جس کے متعلق وہ بہت پریشان تھا۔

اس نے دیکھا کہ وہ دوردراز علاقے میں کسی کو تلاش کی غرض سے گھوم رہا تھا، وہ ایک مصروف شہر تھا، جہاں ہر طرف ہلچل تھی۔وہاں پر عربی الفاظ استعمال ہوتے تھے، یقیناًوہاں کے باشندے عربی زبان بولتے تھے۔سورج اپنے غروب ہونے کا دلکش نظارہ پیش کررہاتھا ،شہتوت کے درخت اور ریشم کے کیڑے اپنے اپنے خول میں اپنے باہر آنے کا شدت سے انتظار کر رہے تھے ۔

تب اس نے اپنے آپ کو اپنے گھر کے صحن میں بیٹھے ہوئے دیکھا ، اس کے ہاتھ میں چراغ تھا جو کہ جل رہا تھا، اور وہ رو رہاتھا۔

ظاہری طور پر اس کے خواب کے ساتھ ایسی کوئی نشانی وابستہ نہیں تھی جو اس کے خواب کا مطلب بتا سکتی تھی ۔کچھ بھی تو نہ تھا اس خواب میں جو مجھے جانا پہچانا معلوم ہوتا پھر ایک دن مجھے تحفے کے طور ر ریشم کے کپڑے کا رومال وصول ہوا ، اس سے مجھے آپ کے طریقت سے وابستہ کچھ بہت حیران کن اور اچھی باتیں یاد آئیں۔ مجھے سمجھ آگیا کہ جو چیزیں رومی اپنے خواب میں دیکھا رہا تھا وہ ضرور آپ کے درویش خانے اور اس کے مضافات کی تھی ۔میں سمجھ گیا کہ میرے رومی کا ساتھی ضرور آپ کی چھت کے نیچے ہوگا ، جسے سوچ کر مجھے بہت حیرانی محسوس ہوئی ۔یہی وجہ تھی کہ میں آپ کو خط لکھ رہا ہوں۔میں نہیں جانتا کہ آیا اس قسم کا شخص آپ کی درسگاہ کاحصہ ہے بھی یا نہیں ، تاہم میں یہ فیصلہ آپ کے حوالے کرتا ہوں کہ اس درویش کو اس کے متعلق آگاہ کریں ، جو تقدیر کا لکھا اس کا انتظار کررہا ہے ۔

ہمیں چاہیے کہ دو دریاؤں کے راستے یکجا کرنے میں مدد دیں اور انہیں ایک عشق حقیقی کا سمند ر بننے دیں۔اگر ہم اللہ کے دودوستوں کے ملن میں مدد کریں تو میرے لئے یہ بہت اعزاز کی بات ہو گی ۔

تاہم ایک بات میں اور آپ سے کرتا چلوں کہ ، اس میں کوئی شک نہیں کہ رومی ایک نہایت معزز اور عظیم شخصیت ہیں۔ وہ سبھی کی نظر میں ایک قابل احترام ہستی ہیں تاہم آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ ایسا ناممکن ہے کہ اس پر تنقید کرنے والے موجود نہ ہوں۔ایک بات مزید کہتا چلوں کے شاید رومی کی ایک ساتھی کہ تلاش شاید اس کے خاندان والوں اور قریبی رشتہ داروں کو نہ بھائے۔ایک ایسا شخص جسے لوگوں کی طرف سے بہت محبت ملے جب کہ دوسری طرف وہ کھلے عام کسی کی محبت میں گرفتار ہو۔ تو وہ یہ عمل اس شخص کے لئے جس سے اس کے جذبات وابستہ ہوں تو اسے کے لئے لوگوں کے دلوں میں نفرت نہیں تو وہ کم از کم حسد ضرور ڈال سکتا ہے ۔مختصراً یہ کہ ایک رومی کا ساتھی کسی نہ کسی سنگین مصیبت میں مبتلا ہو سکتا ہے ۔دوسرے الفاظ میں جو شخص شاید آپ قونیہ بھیجیں شاید وہ دوبارہ کبھی واپس نہ آسکے۔اسی لئے میں چاہتا ہوں کہ اس سے قبل کہ آپ رومی کے ساتھی کویہ خط پڑھائیں۔ میں آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں کہ اس پورے معاملے پر ایک طائرانہ نگاہ ضرور ڈالیں کیونکہ میں نے آپ کو ایک مشکل میں ڈال دیا ہے لہٰذا میں یہ آپ سے معذرت چاہتا ہوں۔لیکن ہم دونوں ہی اس بات پہ یقین رکھتے ہیں کہ خدا کسی کو اس کی برداشت ے زیادہ مصیبت میں نہیں ڈالتا۔میں آپ کے جواب کا بے صبری سے انتظار کروں گا۔ اور اس بات پر یقین رکھیں کہ نتیجہ جو بھی نکلے آپ کو درست فیصلہ کرنا ہوگا۔ آپ کو درست اقدام اٹھانا ہوں گے۔

خدادکرے کہ آپ اور آپ کے درویشوں کے دلوں میں ایمان کی کبھی کمی نہ ہونے دے ۔

سید برہان الدین

-------------------------

شمس

بغداد ، 18 دسمبر 1243

معلق برف اور برف سے چھپی سڑکوں سے ہوتا ہوا ایک پیغام رساں دوردراز کے علاقوں سے آیا ۔ اس نے بتایا تھاکہ وہ قیصر ی سے آیا تھا ،جس کے باعث درویشوں میں جستجو کی ایک لہر دوڑ گئی۔کیونکہ وہ جانتے تھے کہ قاصد بہت ہی کم آیا کرتے تھے ، جس طرح’’ امسال گرمیوں میں میٹھے انگور‘‘۔ایک قاصداس طرح کی سخت سردی اور برف باری میں یقینابہت اہم پیام کے ساتھ ہی آسکتا تھا۔اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ یا توکوئی خوفنا ک حادثہ پیش آیا تھا یا پھر کوئی بہت خوفناک حادثہ پیش آنے والا تھا۔

معاملہ چاہے جو بھی تھا،ا س قاصد کے یہاں آنے کے باعث درویشوں میں مختلف طرح سے چہ میگوئیاں شروع ہو گئی تھی، ہر کوئی وہاں پر اس قاصد کے خط کے متعلق پریشان تھاجو کہ اتالیق کو دیا گیا تھا،تاہم کوئی بھی یہ پیش گوئی نہیں کر سکتا تھا کہ اس میں آیا ایسا کیا تھا ۔

۔۔۔

اس تما م عرصے کہ دوران مجھے خط سے متعلق کوئی تجسس محسوس نہیں ہوا، جس نے مجھے اس بات پر مجبور کیا ہو کہ میں بابا زمان کا اس بات کو جانچنے کے لئے جائزہ لے سکوں۔کہیں دل کے اندر، کسی گوشے میں مجھے یہ معلوم تھا کہ اس خط کی کہیں نہ کہیں مجھ سے ضرور وابستگی ہو گی، کس طرح سے یہ مجھے معلو م نہیں تھا۔میں نے اپنے راتیں اس پروردگار کی عبادت میں صرف کیے ، اور اس کے ننانوے ناموں سے مدد مانگی ، ہر نام سے میں ایک ہی مطلب نکلتا تھا ، الجبار ، کہ اس کے ہوتے ہوئے ۔۔۔اس کی چا ہ کہ بغیر کچھ ہونا ناممکن ہے ۔

ا ن دنوں میں جب ہرکوئی اس خط کے متعلق بدگمانیوں میں مصروف تھا، میں نے باغ میں قدرت کا قریب سے مشاہدہ کیا، ان دنوں قدرت برف کی چادر کے تلے آرام کر رہی تھی ۔وہ دن آگاہی جس کا سب کو انتظار تھا۔ باورچی خانے سے ایک گھنٹی کی آواز آئی جو کہ سب کو مرکزی کمرے کی جانب اکٹھا کرنے کیلئے لگائی گئی تھی ۔اس دن اس خانقاہ کے مرکزی کمرے میں وہاں کا ہر درویش داخل ہوا، چاہے وہ کوئی شاگرد تھا یا کوئی بڑا درویش ، سب ہی وہاں پر ایک بڑا دائرہ بنا کر بیٹھ گئے ، اور اتالیق اس دائرے کے بالکل درمیان میں براجمان تھے ۔ان کے ہونٹ انتہائی ترتیب سے سکیڑے ہوئے تھے اور اس کی آنکھوں پر پانی کی ہلکی سی تہہ بھی تھی ۔

بسم اللہ ، آپ سب حیران ہوئے ہوں گے کہ آیامیں نے آپ سب کو یہاں کیوں جمع کیا ہے ۔ دراصل میں آپ سب کو اس خط کے متعلق آگاہ کرنا چاہتا ہوں جومیں نے وصول کیا تھا۔

یہ خط کس نے دیا ، یہ کہاں سے آیا ؟ اس سے آپ سب کو ئی غرض نہیں ہونی چاہیے ،آپ کیلئے محض اس بات سے آگاہ ہونا ضروری ہے کہ اس بات نے میری تمام تر توجہ اپنی جانب مبذول کرلی ہے ۔بابا زمان نے تھوڑا وقفہ دیا اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگے۔ان کا چہرہ کچھ ہی دنوں میں زرد اور تھکاہوا دکھائی دینے لگا تھا، یوں محسوس ہورہا تھا کہ وہ کچھ ہی دنوں میں وہ کمزور اور عمررسیدہ ہوگئے ہیں ۔ تاہم جب انہوں نے دوبارہ بولنے کا آغاز کیا تو اس کی آواز میں قدرے تازگی ، جذبہ اور خود اعتمادی کا جذبہ دیکھنے لائق تھا۔بہت دوردراز علاقے میں ایک اعلیٰ پایہ کے مذہبی عالم دین رہتے ہیں۔جو الفاظ پہ تو کمان رکھتے ہیں ، تاہم استعاروں سے کوسوں دو رہیں، دوسرے الفاظ میں وہ ایک شاعر نہیں ہیں۔ان کے چاہنے والوں کی تعداد کم نہیں، سینکڑوں افراد ان کا گن گاتے ہیں اور ان سے محبت کرتے ہیں اس کے برعکس بذات خود ایک عاشق نہیں ہیں۔ ان وجوہات کی بناء پر جس سے آپ یا میں ناواقف ہیں۔مجھے یہ بتا یا گیا ہے کہ ہماری درسگاہ میں سے ہوئی نہ کوئی ایک جائے گا اور اس کا ساتھی بنے گا۔

اس کے یہ الفاظ سن کھے مجھے یوں محسوس ہوا کہ میرا دل یکدم سے کسی نے سینے میں ہی مڑور کر تنگ کردیا ہو۔

میں نے آہستگی سے ایک گہرا سانس لیا،بہت ہی آہستگی سے۔۔میں ایک اصول کو یاد کیے بناء نہیں رہ سکتا تھا۔

’’تنہائی اور خلوت یکسر مختلف چیزیں ہیں۔جب کوئی انسان تنہا ہوتا ہے تو اس کے لئے یہ بہت آسان ہوتاہے کہ وہ اپنے آپ کوصراط مستقیم پر محسوس کرے ۔لیکن خلوت یہی ہے کہ آدمی اکیلا ہوتے ہوئے بھی اکیلا نہ ہو،تاہم ہمارے لئے یہ یہ بہترین ہے کہ اپنے ساتھ کے لئے ایک ایسے شخص کا انتخاب کیا جائے جو ہمارا آئینہ ہو ۔۔ بالکل ہماری مانند ایک پتلا۔

ایک بات ہمیشہ یاد رکھو کہ تم ہمیشہ دوسرے انسان کے دل میں اپناعکس تلاش کرسکتے ہو ۔ تمہاری شخصیت میں خدا کے جس جلوے کا ظہور ہورہاہے ، وہ تم کسی دوسرے انسان کے دل میں ہی لاش کرسکتے ہو۔

اتالیق نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا،’’ میں نے تم سب کو یہاں یہ پوچھنے کیلئے بلایا ہے کہ کیا تم میں سے کوئی ایسا ہے جو اس روحانی سفر کا آغاز کرنے کا خواہاں ہے۔میں اپنے تئیں کسی کو اس کام کیلئے مقرر کر سکتا تھا ، تاہم یہ کام ایسا نہیں ہے جو کسی کے کہنے پر کیا جائے۔یہ محض محبت اور محبت کے نام پر سر انجام دیا جاسکتا ہے ، وگرنہ اس کو کوئی انجام نہیں دے سکتا ہے ۔

ایک نوجوان درویش کی کچھ بولنے کی اجازت چاہی ،یہ عالم کون ہے اتالیق ؟

’’میں یہ نام صرف اس شخص کو بتاؤں گا جو کہ وہاں جانے کو تیار ہو گا۔

یہ سنتے ہی بہت سے درویشوں نے اپنے پاتھ کھڑے کیے ، وہ وہاں کیلئے پرجوش اور بے تاب تھے ۔وہ کل نو امیدوار تھے ،جن کے بعد میں نے بھی ہاتھ کھڑا کیا۔ یوں امیدواروں کی تعداددس ہو گئی۔بابا زمان نے ہمیں ہاتھ کے اشارے سے رکنے کو کہا ۔’’وہاں جانے کی حامی بھرنے سے قبل آپ سب کو میری مکمل بات سننا ہو گی ۔یہ سفر کئی مشکلات اور نہ ختم ہونے والی پریشانیوں کا پیغام لے کر آئے گاور ہاں ۔۔۔ سب سے اہم پہلویہ کہ اس شخص کے واپس آنے کی کوئی یقینی نہیں ہوگی ۔یہ سنتے ہی جیسے سب کو سانپ سونگھ گیا،جس کے بعد تمام ہاتھ نیچے ہو گئے ، جب کہ میرا ہاتھ یوں ہی کھڑا رہا۔

بابا زمان میری طرف غور سیتب تک ٹکٹکی باندھ کردیکھتا رہاجب تک ہم دونوں کی نظریں نہ ملیں،اور انہوں نے نظریں چڑا لیں۔ جہاں تک میرا خیال ہے وہ شروع سے ہی جانتا تھا کہ میں ہی وہ شخص ہوں گا جو وہاں جانا چاہتا ہوگا۔

شمش تبریزی۔۔ اتالیق نے کچھ ٹھہرتے ہوئے، وقفہ دے کر بولا، جیسے میرے نام نے اس کے منہ میں ایک کڑواہٹ بھر دی ہو۔ ’’میں تمہارے جذبات کی قدر کرتا ہوں تاہم تم ابھی اس درسگاہ کا باقاعدہ حصہ نہیں بنے۔

تو آخر اس میں برائی ہی کیا ہے؟مجھے اس میں کوئی عیب نظر نہیں آتا ۔میں نے کہا۔

اتالیق نے کافی دیر تک خاموشی اختیار کیے رکھی ، یوں لگ رہا تھا کہ وہ کسی گہری سوچ میں مبتلا تھا۔ اس کے بعد توقعات کے برعکس وہ اٹھ کھڑا ہوا اور جاتے ہوئے آخری الفاظ یوں کہے ’’ اس موضوع پرہم کچھ عرصے تک گفتگو نہیں کریں گے،جب بہارکا دوبارہ آغاز ہوگا تو اس بارے میں تب بات کی جائیگی ۔

یہ بات سن کہ تو جیسے میرا دل بغاوت پر اتر آیاتھا۔ وہ جانتا تھا نہ کہ میں بغداد اسی مقصد کے تحت آیا تھا۔پر یہ کیا۔۔بابازمان میری منزل کی راہ میں ایک بہت بڑی رکاوٹ بن چکا تھا۔کیوں سردار کیوں ؟؟آپ ایسا کیوں کرنا چاہتے ہیں ۔۔ جب کہ میں اسی وقت اس جگہ جانا چاہتا ہوں ۔ مجھے اس عالم کا نام بتاؤ۔۔ مجھے اس شہر کا نام بتاؤ۔۔ مجھے اس جگہ جانا ہے ،مجھے اور کچھ نہیں سننا۔۔۔ میں چلایا۔

تاہم اتالیق پر تو جیسے غصہ سوار ہوگیاتھا۔۔۔ اس کی آواز دو ٹوک اور غصیلی تھی ۔ میں نے اسے اتنے غصے میں کبھی نہیں دیکھاتھا۔’’ہمارے پاس بات کرنے کیلئے اب کچھ باقی نہیں رہا ہے ، ہماری ملاقات کا اختتام ہوئے جاتا ہے ‘‘

یہ سردیوں کا طویل موسم تھا ۔۔ بہت ہی لمبا اور ظالم ۔۔۔باغ ، برف کی چادر سے ڈھک چکا تھا۔میرے لب تو جیسے سردی سے جم گئے تھے یا بولنا بھول گئے تھے ۔ تین مہینوں میں تک میں نے چپ ہی سادھ لی تھی۔ہر روز میں باغ میں چہل قدمی کرتا ۔۔۔ میں ہر ٹہنی کو دیکھتا ۔۔ ہر پودے کے ساتھ اٹھکیلیاں کرتا ۔۔مگر برف تو ایسی تھی کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتی تھی ۔کہیں سے بھی تو بہار کے آثار نظر نہیں آتے تھے ۔۔آخر وہ میری آنکھوں کا نورکیوں نہیں بن رہی تھی ۔اس انتظار کے باوجود،جتنا میں باہر سے مایوس نظر آتا تھا، اندر سے اتنانہیں تھا۔میں اندر سے مطمئن تھا۔ان تمام حالات میں میرے دماغ میں ایک اصول تھا،

’’آپ کی زندگی میں چاہے کچھ بھی ہو، چاہے چیزیں کتنی ہی مشکل ہوں۔۔ حالات کتنے ہی تنگ نظر آئیں ۔۔ کبھی بھی مایوسی کو اپنے قریب بھٹکنے نہ دیں ۔جب تمام دروازے بند ہوتے نظر آتے ہیں تو خدا ایک نیا دروازہ کھول دیتا ہے ۔۔صرف اور صرف تمہارے لئے۔ اس ہستی کے شکر گزار رہو۔۔ کیونکہ تشکر تب ہی آسان ہوتا ہے جب آپ کو لگے کہ سب کچھ ٹھیک ہے ۔ایک صوفی ان تمام چیزوں کے لئے شکر گزار ہوتا ہے جو اسے عنایت کی گئیں ہوتی ہیں ۔وہ ان چیزوں کیلئے بھی شکر گزار رہتا ہے جو اسے نہیں دی گئی ہوں۔

آخر کار ایک حسین د ن کی صبح ، میں نے ایک روشن رنگ کا پھول دیکھا۔وہ اتنا ہی خوشنما تھا جنتا کہ ایک گانا ۔۔ ہاں میری امید کا دیا۔۔ برف کا سینہ چیڑ کر باہر آیا تھا۔مجھے ایک جھاڑی نظر آئی جس پر چھوٹے چھوٹے پھول کھلے ہوئے تھے۔

یہ دیکھ کر تو جیسے میرے اندر کوئی اور ہی خوشی کے راستے کھل گئے۔ میں درسگاہ کی طرف بھاگا گیا۔مجھے لال بالوں والاشاگرد دیکھائی دیا۔۔ اسے دیکھتے ہی میں اس کے گلے خوشی سے لگ گیا، وہ شاگرد جو مجھے ہر وقت کھویا کھویا چپ چپ دیکھنے کا عادی تھا، وہ مجھے حیرانی سے دیکھنے لگا۔

خوش ہو جاؤ لڑکے ۔۔ کیا تم نے بہار کی خوشبو فضاؤں میں محسو س نہیں کی؟

وہ دن کیاگزرا، تمام دنوں برقی رفتار سے ایک کے بعد دوسرے آنے لگے اور دن تیزی سے بدلنے لگے ۔ برف پانی میں تبدیل ہو کر تحلیل ہونے لگی ۔۔ خوبصورت پھول ہر جگہ نظر آنے لگے ۔ چڑیوں نے بھی چہچہانا شروع کردیا۔ہر طرف بہاروں کی خوشبو نے فضا کو گھیر لیا۔پھر وہ دن آہی گیا جس کا انتظار میں نے برف سے پانی نکلنے تک کیا تھا۔وہی تانبے کی گھنٹی بجی اورہم سب کو اندر بلایا گیا۔ سب اس عالم کا نام جاننے کیلئے سب بے قرار تھے جو اسلام کے متعلق ہر چھوٹی سے چھوٹی بات کے متعلق آگاہ تھا ۔۔ وہ دنیا کے کئی علوم سے واقفیت رکھتا تھا۔۔ وہ نہیں جانتا تھا تو ایک لفظ محبت ۔

اتالیق نے اپنا پچھلا سوال پھر دہرایاتاہم اس مرتبہ کسی نے ہاتھ کھڑا نہیں کیا۔بلاشبہ میں دیکھ سکتا ہوں کہ شمس ہی وہ واحد درویش ہے جو وہاں جانے کیلئے بے قرار ہے ، اس کی اواز ہوا کے جھونکے کی مانند تیز اور پتلی ہو رہی تھی ۔تاہم مجھے فیصلہ لیتے ہوئے مزید کچھ وقت درکار ہوگا۔۔جس کا دورانیہ خزاں سے بہار کا ہو گا۔

یہ سن کر تو جیسے میرا کلیجہ منہ کو آنے لگا۔میرا سر چکرانے لگا۔ یہ کیا؟؟ اس چیز کیلئے تو میں نے تین مہینے کا طویل انتظار کیا تھا۔۔یہ مجھے کیا کہا جارہا ہے کہ مجھے مزید انتظار کرناپڑے گا؟

کیا مجھے چھے مہینے مزیدانتظار کرناتھا،۔۔ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا تھا۔۔ مجھے اپنی سماعتوں پر یقین نہ آیا۔ میں نے احتجاج کرنا شروع کیا ، میں نے شکایت کی۔۔ میں نے بھیک مانگی کہ مجھے اس شہر اور عالم کا نام بتایا جائے تاہم مجھے ایک مرتبہ پھرانکا منہ تکناپڑا۔

تاہم اس مرتبہ میں جانتا تھا کہ یہ انتظار بہت آسان ہو گا ۔ اب کی بار میں انتظار کرنے کی سکت رکھتا تھا، اگرچہ وہ میرے لئے بہت تکلیف دہ تھا ۔سردیوں سے بہار تک کے انتظار کے بعد ،میں اپنی اند رکی تپش کو ٹھنڈا ہونے کیلئے بہار سے خزاں سے بہار تک کا طویل انتظار کرنا تھا ۔بابازمان کا اس مرتبہ کا انکار میرے دل و دماغ پہ خاطر خواہ کوئی برااثر نہیں ڈال سکا ۔اگر کوئی چیز میرے جذبات بڑھا سکتی ہے تو میرے اندر مزید مستقل مزاجی بھی لا سکتی ہے ۔ اسی طرح میرا ایک اصول بھی ہے ۔

’’صبراس چیز کا نام نہیں کے انسان بے بس ہو کر برداشت کے تکلیف دہ عمل سے گزرتا ہے ، بلکہ صبر اس چیز کا نا م ہے کہ انسان اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہوئے اپنی نظریں انجام پر مرکوز رکھے ۔ صبر کیا ہے ؟ کانٹوں کے بجائے پھول نظرآنا بھی تو صبر ہے ۔آپ رات کا ندھیرا دیکھتے ہیں تو آپ کو دن کی روشنی دکھائی دیتی ے ۔بے صبر ی آخر کیا ہے ؟انسان اتنی کوتاہی میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ وہ معاملے کے انجام پر نظریں محیط کر ہی نہیں سکتا ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ پہلی رات کے ننھے چاند کو مکمل ہونے کیلئے یقیناًایک طویل وقت درکار ہوتا ہے‘‘

کافی دنوں بعد بہار میں وہ تانبے کی گھنٹی پھر بجی اور میر ے لئے بلاوا آیا ۔میں آہستہ سے اور نہایت پر اعتماد ہو کر وہاں گیا ۔میں اس یقین اور اعتماد کے ساتھ اندر داخل ہوا کہ شاید چیزیں اب تبدیل ہونا شروع ہو جائیں گی ۔۔۔ زندگی میں ایک سکون آئے گا۔اس مرتبہ تو اتالیق بھی پہلے کے مقابلے زرد اور کمزور دکھائی دے رہا تھا ۔ وہ اس حد تک کمزور کبھی نہیں لگا تھا ۔یوں لگ رہاتھا کہ وہ اپنے جسم کی تما م تر توانائی صرف کر چکا ہے ۔بہر حال ان کے دریافت کرنے پر جب اس بار میں نے ہاتھ کھڑا کیا تو نہ ہی اس نے انکار کیا اور نہ ہی اس نے منہ موڑا بلکہ اس مرتبہ اس نے مجھے ہاں کا اشارہ دیا۔

؂’’ٹھیک ہے شمس ، اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس سفر کیلئے اگر کوئی جذبات رکھتا ہے تو وہ صرف اور صرف تم ہو ۔کل صبح تم اپنے سفر پر ہوگے ، انشاء اللہ ۔

میں نے اتالیق کے ہاتھ پر پیار دیا ۔آخر کار میں کافی عرصے بعد اپنے ساتھ سے ملنے جا رہا ہوں۔

بابازمان میری طرف دیکھ کرگرم جوشی سے مسکرایا اور وہ اس وقت کافی گہری سوچ میں مبتلاتھا۔وہ مجھے بھیجتے ہوئے اسی طرح سے مسکرایا تھا جس طرح ایک باپ اپنے بیٹے کو بمقام جنگ بھیجتے ہوئے مسکراتا ہے ۔بعد ازاں اس نے ایک خاکی رنگ کا لفا فہ نکالا، جسے اس نے میرے ہاتھ میں تھما دیا اور خاموشی سے کمرے سے باہر چلا گیا ۔بعد ازاں ہر کوئی کمرے سے چلا گیا ۔میں کمرے میں گیا اور وہاں پر میں نے اس کمرے کی تنہائی میں وہ لفافہ کھولا ، جس کے اندردو معلومات انتہائی خوبصورت لکھائی میں تحریر تھیں۔شہر کا نام اور عالم کانام۔

ظاہری طور پر یوں معلوم ہو رہاتھا کہ مجھے کسی رومی سے قونیہ میں ملاقات کرنا تھی ۔

میرے دل کی دھڑکنیں تھم گئیں ۔میں نے یہ نام پہلے کبھی نہیں سن تھا ۔یہ ایک مشہور عالم دین ہوسکتا تھا جن سب کو میں جانتا تھا ۔تاہم میرے لئے یہ ایک پراسرار چیز تھا ۔ میں نے باری باری اس کے نام کو بولنا شروع کیا ۔ ’’ر ‘‘ سے مضبوط، قابل فہم اور طاقت ور ،’’و‘‘ سے مخملی ، ’’م ‘‘ سے پر اعتماد اورنڈراور ’’ی‘‘ سے ایک پر اسرار شے جوتاحال عقل کی سرحدوں کو چھو نہیں سکی۔

ان الفاظ کو یکجا کرنے کے بعد نے اس کے نام کو باربار اپنے اندرونی سکون کے لئے دہراتا گیا۔ اتنا دہرایا کہ وہ میری زبان پر پگھل گیا ، بالکل ایک میٹھی سی چیز کی مانند اور پھر وہ پانی ، روٹی یادودھ کی مانند جانا پہچاناسا لگنے لگا۔

-------------

عیلی ٰ 76 to 79

نارتھ ایمپٹن 22 مئی2008

اپنے سفیدمخمل کے کمبل تلے عیلی ٰ لیٹی ہوئی تھی ۔ اس وقت اس وہ گلے کے دردکے باعث کراہ رہی تھی ۔اس وقت وہ اتنی تکلیف میں تھی کہ اس میں کوئی کام کرنے کی سکت باقی نہ رہی تھی ۔اس رات عیلیٰ کافی دریر تک جاگی رہی اور اس شراب بھی کافی مقدارمیں پی تھی ،یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ وہ حد سے زیادہ پی چکی تھی، جو کہ اب اپنی قیمت چکا رہی تھی ۔اس حالت کے باوجود بھی وہ ناشتہ بنانے کی غرض سے نیچے باورچی خانے کی جانب گئی ۔ ناشتہ تیار کرنے کے بعد وہ کھانے کی میزپر اپنے خاوند اور بچوں کے ہمراء بیٹھ گئی ۔اس وقت اس کے جڑواں بچے اپنے سکول میں موجود بہترین گاڑیوں کا ذکر رہے تھے ۔ عیلیٰ کی بھرپور کوشش تھی کہ وہ اپنے آپ کو یوں ظاہر کرے جس طرح وہ ان کی گفتگو میں بہت زیادہ دلچسپی لے رہی ہے ۔تاہم اس وقت وہ صرف اور صرف یہ چاہتی تھی کہ سب کام چھوڑ دے اوراپنے بسترکی ہو رہے ۔

ایک دم عور لی اپنی ماں کی جانب متوجہ ہوا، اورکچھ دریافت کرنے کی سی آواز میں مخاطب ہوا۔’’عیوی نے مجھے بتایا ہے کہ ہماری بہن اب کبھی بھی گھر نہیںآئے گی ۔ کیا میں درست کہہ رہا ہوں ماما ؟۔اس وقت اس کی آواز میں کچھ اس طرح کی مہک آرہی تھی کہ گویا عیلی ٰ نام کی عورت کوئی ملزم تھی یا مجرم۔

نہیں بالکل نہیں !یہ بالکل غلط ہے ، تمہاری بہن ضرور آئے گی ۔میرے اور تمہاری بہن کے درمیان ایک چھوٹی موٹی لڑائی ہوئی تھی ۔ہاں نا! تم یہ بھی تو جانتے ہو کہ تمہاری بہن اور میں ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے ہیں۔عیلیٰ نے جواب دیا۔

’’کہا میں نے یہ درست سن رکھا ہے کہ آپ نے سکوٹ کو فون کیا اور اسے حکم دیا کہ وہ ہماری بہن کو چھوڑ دے ۔عیوی نے ایک معنی خیزمسکراہٹ سے دریافت کیا،جیسے وہ اس گفتگو سے محظوظ ہو رہا ہو۔عیلی ٰ نے اسی لمحے اپنے خاوند کی جانب گہری نظروں سے دیکھا ،جیسے وہ اس سے کچھ پوچھنا چا رہی تھی۔اس کے ردعمل کے طور پر ڈیوڈ نے اپنی ابرو اٹھائی اور ہاتھوں کو اس طرح کا اشارہ دیاکہ گویا وہ اس بات کا ذمے دارنہیں تھا جواس کے بچے کر رہے تھے، یعنی وہ یہ کہنا چاہ رہاتھا کہ اس نے اپنے بچوں کو نہیں بتایا کہ ان کی ماں نے یہ فون کیا تھا۔

اپنی عادت کے تحت ۔۔ ’’عیلیٰ نے اپنی آواز کو قدرے حاکمانہ لہجے میں تبدیل کردیا ، جس طرح وہ عام حا لات میں بچوں کو کوئی تنبیہہ کرتے ہوئے کیا کرتی تھی ۔’’یہ بالکل درست نہیں ہے ،ہاں !میں نے سکوٹ سے فون پر بات ضرورکی تھی تاہم میں نے اسے یہ نہیں کہا کہ وہ تمہاری بہن کو چھوڑ دے میں نے محض یہ کہ کہاتھا کہ شادی میں اتنی جلدی نہ کرے ‘‘

اس کی بات ختم ہوتے ہی عورلی نے کچھ اعلانیہ انداز میں کہا،کہ وہ کبھی شادی نہیں کرے گی۔

’’ہاں اس دنیا میں بھلا کون سا ایسا مرد ہو سکتا ہے جو تم سے شادی کرنا چاہے گا۔عیوی نے یکدم اسے چڑانے کے لئے کہا۔ اپنے بچوں کی باتیں سنتے ہوئے نجانے کیوں عیلیٰ کے چہرے پرایک عجیب سی ان چاہی سی پریشان کن مسکر اہٹ نے اپنی حکمرانی قائم کرلی۔پتا نہیں کیوں اس کے چہرے پر یہ بل دکھائی دے رہے تھے، جنہوں نے اس کے لبوں کے گرد کی جلد کے خدوخال تبدیل کردیے تھے ۔جب وہ انہیں دروازے تک چھوڑنے گئی تواس نے دل ہی دل میں خواہش کی کہ ان سب کا دن بہترین گزرے ۔

جب وہ میز پر دوبارہ بیٹھی تو جس مشکل نے اس کے چہرے کا احاطہ کیا ہوا تھا وہ اب ختم ہوچکی تھی ،جس کا اس نے بہت شکر ادا کیا ۔اس نے یہ اپنے آپ کو روٹھ جانے سے انجام دیا، یعنی کے اس کے چہرے پر مسکراہٹ کی جگہ ایک خفگی نے لے لی تھی ۔

اس نے ایک نگاہ اپنے باورچی خانے پر ڈالی ، اس وقت اس کا باورچی خانہ ایک عجیب سا نظارہ پیش کررہاتھا ، یوں محسوس ہورہا تھا کہ گویا باورچی خانے پرکچھ دیر پہلے چوہوں کی فوج نے حملہ کیا ہو ،وہاں پر اناج کے گندے پیالے موجود تھے ، جن میں بچا کچھاسالن موجود تھا ، وہاں پرضائع کئے گئے انڈے موجود تھے ، چولہا اس قدر گندا تھا کہ یوں محسوس ہورہا تھا کہ اسے صدیوں سے صاف نہیں کیا گیا تھا۔اسی وقت اس کا ساتھی اسپرٹ اپنے پاؤں بے چینی سے زمین پر رگڑ رہا تھا ، اسے پتا چل گیاتھاکہ وہ باہر جانے کے لئے بے تاب ہے ۔ اس وقت عیلیٰ میں اتنی سکت نہ تھی کہ وہ باہر جاسکے ،مگر بھر بھی اس نے دو کپ کافی اور ملٹی وٹامن کا جوس پیا جس سے اسے اتنی ظاقت ملی تھی کہ وہ اسے باہر کچھ منٹوں کے لئے سیر کو لے جا سکے ۔

جب عیلی ٰ باغ میں واپس آئی تو اس نے جوابی مشین میں سے لال رنگ کی روشنی کو نکلتے ہوئے دیکھا ۔عیلیٰ نے اس کا بٹن دبایا، اس وقت اسے جینٹ کی آوازسن کر بہت خوشی ہوئی ۔۔ ماما ! آپ سن رہی ہیں؟ مجھے لگتا ہے نہیں ۔۔ یہ پھر آپ فون اٹھا سکتی ہیں ؟وہ چنچل آواز میں گویا ہوئی ۔چلیں ٹھیک ہے ، میں اس وقت اتنے غصے میں تھی کہ میں زندگی میں دوبارہ آپ کا چہرہ دیکھنا بھی نہیں چاہتی تھی ، تاہم اب میں بالکل ٹھیک ہوں ،اب میں اپنا دماغ ٹھنڈا کر چکی ہوں۔تاہم آپ نے جو کیا وہ سراسر غلط ہے ،سکوٹ کو فون کرنے کا فیصلہ ایک غلط اقدام تھا،مگر میں سمجھ سکتی ہوں کہ آپ نے ایسا کیوں کیا ۔سنئے ، آپ کو ہرسو ، ہر جا ، ہر فیصلے میں میری نگرانی کی قطعی ضرورت نہیں ہے ۔میں کوئی نو رسیدہ بچی نہیں ہوں جسے انکیوبیٹر میں رکھنے کی ضرورت ہے ۔میرے متعلق زیادہ سوچنا بند کریں اور مجھے ضرورت سے زیادہ تحفظ مہیا کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔

مجھے وہ کرنے دیں جو میں کرنا چاہتی ہوں۔۔ کیا میں درست کہہ رہی ہوں؟اس کی اس بات سے عیلیٰ کی آنکھوں میں اس وقت آنسو آگئے ؟ ماضی کی یادوں نے عیلی ٰ کی سوچوں کا محاسبہ کردیا۔اسے بے اختیاروہ وقت یادآیا جب جینٹ دنیامیں آئی تھی ۔ہاں ۔۔ اس کی جلد کتنی لال تھی ،اوروہ اداس بھی تو دکھائی دے رہی تھی ۔اس کی چھوٹی چھوٹی انگلیوں پر جھریاں تھیں اور وہ نظربھی نہیں آرہی تھیں۔اس کے پھیپھڑے سانس لینے کی مشین کے ساتھ جڑے ہوئے تھے ۔

ماما! ایک بات اور ۔۔۔جینٹ نے اس کو یوں مخاطب کیا جیسے اس نے کچھ سوچنے، سمجھنے کے بعد ’’میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں ‘‘اس بات پر عیلی ٰنے ایک گہری سانس خارج کی ۔اس کادماغ عزیز ذہارہ اس میل کی جانب متوجہ ہوگیا ، جس میں اس نے درخت کا ذکر کیا تھا جس پر ہزاروں لوگ اٹوٹ امید سے دعائیں مانگتے ہیں۔ ہاں آخر کار اس درخت نے اس کی خواہش پوری کر ڈالی ، زیادہ نہیں تو صرف دعا کا پہلا حصہ تو تکمیل پا ہی چکا تھا ، جو کہ جینٹ نے فون کرکے مکمل کیاتھا،اب یہ عیلیٰ پر منحصر تھا کہ وہ اس کا دوسرا حصہ مکمل کرتی ۔اس نے اپنی بیٹی کے فون پر کال کی ، جو کہ کیمپس لائیبریری کی طرف جارہی تھی ۔مجھے تمہارا پیغام موصول ہو چکا ہے میری پیاری بچی ۔ میں تم سے معافی مانگنا چاہتی ہوں ، اس کیلئے جو میں نے کیا۔اس جملے کے بعد وہاں پر ایک مکمل خاموشی چھا گئی ۔۔

’’کوئی بات نہیں ماما‘‘۔۔نہیں ایسا نہیں ہے ۔۔ مجھے تمہارے جذبات کی قدر کرنی چاہیے ، کیا جو کچھ ہوا ہے ہم اس کو بھول سکتے ہیں ؟ جینٹ نے کہا ۔۔اس نے کچھ یوں کہا جیسے کہ وہ خود ایک ماں ہوتی ہے اور عیلیٰ اس کی باغی اور ناراض بیٹی ۔۔

ہاں ، ضرور بیٹا۔۔

اگلی بات کرتے ہوئے جینٹ نے اپنی آواز کو کچھ یوں تبدیل کیا جیسے وہ رازدارانہ انداز میں کوئی سرگوشی کر رہی ہو۔۔جیسا کہ وہ اس متعلق خوفزدہ ہے جو وہ کہنا چاہتی تھی۔۔’’جو بات آپ نے اس دن کہی تھی میں وہ ۔۔ میں اس کے متعلق پریشان ہوں ‘‘ آپ نے کہا تھا کہ آپ۔۔۔ آپ ناخوش ہیں ۔۔ کہا ایسا ہے ؟ آپ واقعے ہی ناخوش ہیں؟

نہیں بالکل نہیں ۔۔ایسا بھلا کیسے ہو سکتا ہے؟ میں تین بچوں کی پرورش کر تی آئی ہوں اور کر رہی ہوں ، ایسا تو ناممکن ہے ۔میں کس طرح ناخوش ہو سکتی ہوں ؟؟تاہم یوں لگ رہا تھا کہ جینٹ اپنی ماں کے اس تفصیلی جواب سے مکمل طور متفق نہیں ہوئی تھی۔’’میرا مطلب ہے آپ پاپا کے ساتھ ناخوش ہیں؟

عیلیٰ نہیں جانتی تھی اس بات کا کیا جواب دینا ہے ۔۔ اگر وہ کوئی جوب دے سکتی تھی تو وہ محض سچ تھا ۔۔ وہ سچ کے سوا کچھ بول بھی تو نہیں سکتی تھی ۔

نہیں! بالکل نہیں ۔۔عیلیٰ نے جواب دیا ۔۔’’تمہارے والد اور میں کافی عرصے سے شادی کے بندھن میں جڑے ہوئے ہیں اور اتنے سالوں تک باہم ایک دوسرے سے محبت کے بندھن میں گرفتار رہنا کسی قدر مشکل ہے ‘‘میں سمجھ سکتی ہوں۔۔جینٹ نے کہا۔۔اور عیلیٰ نے جو کہا اس کے متعلق اسے عجیب و غریب خیالات آرہے تھے ۔جیسے ہی عیلی ٰ نے فون بند کیا اس نے اپنے ذہن اور دماغ کو مجبور کیا کہ وہ محبت کیلئے کوئی نرم گوشہ تلاش کریں ۔عیلیٰ اس وقت اپنی اس راکنگ کرسی پہ آرام دہ اور پرسون سی حالت میں بیٹھ گئی ۔اس نے سوچا کہ جتنی وہ مشکلات سے گزری ہے ، جتنے اسے زخم ملے ہیں کیا وہ کبھی دوبارہ محبت کرنے کی سنگین غلطی کرسکتی ہے ؟نہیں ۔۔محبت تومحض ان کی راہوں کا پھول بنتی جو اس گول دنیا میں اس کو تلاش کرنے کیلئے مارے مارے پھرتے ہیں ۔البتہ کچھ لوگ اسی دنیا میں بستے ہیں جو صدیوں قبل اس لفظ کو اپنے زبان تک سے بھلا چکے ہیں؟جو کئی عرصہ قبل ہی اس کی تلاش کو ختم کرچکے ہوں؟

اس روز رات ڈھلنے سے قبل عیلیٰ نے ذہارا کو اس میل کا جواب دیا۔

محترم عزیز

’’آ پ کی مہربانی اور محبت بھرے جواب کابہت شکریہ ۔آپ نے مجھے میرے خاندانی جھگڑوں سے کامیابی سے نکلنے میں مد د دی ہے۔میں نے اور میری بیٹی اس غلط فہمی کو ختم کر کے آگے بڑھ چکے ہیں ۔۔ جسے آپ نے احتراماًاس چیز کا نام دیا ہے ۔آپ ایک چیز کے متعلق باکل درست تھے ۔میں دراصل دو چیزوں کے متعلق لڑکھڑاہٹ کا شکار ہو ۔۔۔’’غصیلی طبیعت اور غیر مزاحمتی رویہ‘‘۔یہ درست ہے میں اپنے جن کو چاہتی ہوں ان کی زندگیوں میں دخل اندازی کیے بغیر نہیں رہ سکتی ہوں اورجب وہ کچھ غلط کرتے ہیں تو میں انہیں منع کیے بغیر نہیں رہ سکتی ہوں ۔’’باسانی سر تسلیم خم کرنے کے متعلق میں یہ کہنا چاہتی ہوں، میں کبھی بھی ز ندگی میں آسانی سے کسی کی بات نہیں مانی اور کسی کے آگے ہتھیار نہیں ڈالے ۔ایمانداری کے ساتھ میں ایک بات کہنا چاہتی ہوں کہ میرے اندر ایسا کچھ بھی نہیں ہے جو کسی صوفی کے پاس ہونا چاہیے ۔تاہم میرے پاس آپ کو دینے کے لئے کچھ ہے ۔۔ جیسے حیران کن طور پر ،جینٹ اور میرے درمیان معاملات آسانی سے طے پا گئے ہیں جب سے میں نے اس کی زندگی میں دخل اندازی بند کرنے کا فیصلہ کیا ۔جس کےلئے میں آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں۔۔میں بھی، آپ کیلئے دعا کروں گی۔تاہم خدا کے دروازے پر دستک دے ہوئے مجھے طویل عرصہ گزر چکاہے۔۔ اسی لئے مجھے اب یہ نہیں معلوم کہ کیا وہ اسی جگہ موجود ہے؟اوہ۔۔میں تو آپ کی کہانی میں موجود اس سرائے کے مالک کی طرح بول رہی ہوں۔نہیں نہیں۔۔۔فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔۔ میں ابھی اتنی بھی بری نہیں ہوئی۔۔ ابھی تک نہیں۔۔ تاحا ل نہیں۔۔

تارتھ ایمپٹن میں آپ کی دوست

عیلی

Naeem Ashraf

A mechanical engineer by profession Naeem Ashraf retired from Army as a Colonel. Besides earning a master’s in Business Management he acquired BSc (Honors) in War Studies Leadership and Management. Since four decades Ashraf has been a keen reader of philosophy, fiction and poetry. After his retirement Ashraf started writing book reviews, articles and essays in national dailies. His flair for writing lead him to choose a comparatively hard path of fiction translation. His translated short stories book: Trespass was published by Sang e Meel Publications – Lahore in 2016. His second book; an anthology of short stories written by contemporary writers from Pakistan is in pipeline. He also has to his credit Urdu translation of Elif Shafak’s famous novel The Forty Rules of Love.He lives in Rawalpindi - Pakistan.

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form