محترمہ صدیقہ بیگم کی چند یادیں۔۔۔ چند باتیں

April 3, 2020
دیدبان شمارہ 11Life and Worksیاد رفتگاں

دیدبان شمارہ ١١

ادب ِ لطیف کی پرچارک اور عظیم  خاتون    

محترمہ صدیقہ بیگم  کی چند یادیں۔۔۔ چند باتیں

(یکم۔ جنوری  1937) …………………….(15.دسمبر۔ 2019)

تحریر: سید ظفر معین بَلے

عظیم  خاتون  اور ادب نوازشخصیت محترمہ صدیقہ بیگم کی زندگی کا آفتاب بھی ہمیشہ کیلئے ڈوب گیا اور پوری ادبی دنیا کی فضاؤں میں اندھیرا چھاگیاہے۔

اِک دھوپ تھی جو ساتھ گئی آفتاب کے

ان کے ساتھ میری بہت سی یادیں وابستہ ہیں۔بہت سا وقت ان کے ساتھ گزرا،اتنی باتیں ہیں، جنہیں میں کسی ایک مضمون میں سمیٹنابھی چاہوں تو نہیں سمیٹ سکتا۔وہ ہمارے گھرانے کی ایک ہردلعزیز فرد تھیں اور میں ان کی فیملی کاایک حصہ۔انہوں نے مجھے ہمیشہ اپنے بچوں کی طرح سمجھا،جانا اور چاہا اور میں نے بھی ان کا ہمیشہ اپنی ماں کی طرح احترام کیا۔میں انہیں پیار سے امّی بھی کہہ دیا کرتا تھا،تو ان کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل جایا کرتی تھی۔ اب بھی ان کا مسکراتا ہوا چہرہ میری آنکھوں کے سامنے ہے۔

امی سے ایک میرا ہی کیا؟ پوری”فخرالدین بلے فیملی" کا رشتہ قلبی بھی تھا،  اور روحانی بھی،  جذباتی بھی تھا  اور علمی وادبی بھی، سچی بات یہ ہے کہ  وہ  ہم سب کیلئے حد درجہ تعظیم و تکریم  کے لائق تھیں۔برادرمحترم  توصیف احمد خان۔ثویلہ باجی، بیا باجی اور ان کے بچوں  کے سر  سے ہی یہ سایہ ء  رحمت نہیں اٹھا،میری پوری  فیملی کے سر سے بھی آسمان اُٹھ گیا ہے،اور لگتا ہے ہم بھی کڑی دھوپ میں آکھڑے ہوئے ہیں۔کچھ  اخبارات و رسائل کے مدیران کااصرار ہے کہ میں  صدیقہ بیگم کی یادوں کے حوالے سے کچھ لکھوں۔ قلم اٹھا تا ہوں تو ہاتھ لرزنے لگتے ہیں۔ آنکھیں اشکبار ہوجاتی ہیں۔ کیا لکھوں؟اور کیسے لکھوں؟میری ماں مجھے چھوڑ کر عدم آباد جاچکی ہیں۔ایک ایسی دنیا میں،جہاں سے کبھی کوئی واپس نہیں آتا۔وہ بھی واپس نہیں آئیں گی لیکن مجھے ایسا کیوں محسوس ہورہاہے کہ وہ یہیں کہیں میرے آس پاس موجودہیں۔ ان کی شخصیت کے رنگ مجھے  اپنے ارد گرد پھیلے ہوئے محسوس ہورہے ہیں۔وہ اگر زندہ ہیں تو فضائیں اداس کیوں ہیں؟ شہر سائیں سائیں کیوں کررہا ہے؟  

میں تو ان کی زندگی میں بھی ان پر کئی مضامین لکھ چکاہوں، ایک عنوان یاد آرہا ہے۔”صدیقہ بیگم۔۔۔اتنی بری نہیں ہیں،جتنی اچھی ہیں“ پھر آج میرے حواس ساتھ کیوں نہیں دے رہے؟کیا میں اپنی چالیس برسوں پر محیط یادوں کو قرطاس و قلم کے سپرد نہیں کر پاؤں گا؟ کیا میں اپنے جذبات کو الفاظ کاجامہ نہیں پہناپاؤں گا؟کیا میں واقعی اپنی امی کو جانے پر بھی محبت اورعقیدت کاخراج پیش نہیں کرسکتا؟ یہ احساس ہی میرے لئے بڑا تکلیف دہ ہے مگر کیا کروں؟

گفتار کے اسلوب پہ قابو نہیں رہتا

جب روح کے اندرمتلاطم ہوں خیالات

محترمہ صدیقہ بیگم  چوہدری برکت علی مرحوم کی بڑی لاڈلی بیٹی تھیں اورانہیں ادب و صحافت کاذوق و شوق بھی ورثے میں ملاتھا۔جسے انہوں نے محنت اور جانفشانی کے ساتھ جلابخشی۔ جو دِیا ایک ادبی مجلے ادب ِ لطیف کی شکل میں چوہدری برکت علی مرحوم نے روشن کیا تھا، اسے محترمہ صدیقہ بیگم  نے اپنے جیتے جی نہ صرف یہ کہ بجھنے نہیں دیا،بلکہ اس میں نئی روح پھونک دی۔ یہ وہی ادبی جریدہ ہے،جس نے جنوبی ایشیا میں ترقی پسند تحریک کو ایک مضبوط پلیٹ فارم بخشا، ترقی پسند تحریک کاترجمان بن کر منصہ ء ادب پر جلوہ گر ہوا اور اس تحریک کو بام ِ عروج تک پہنچانے میں تاریخ ساز کردار اداکیا۔

پاک و ہند کے بڑے بڑے ادیبوں اور شاعروں نے مختلف وقتوں میں ادب ِ لطیف کی ادارت کی ذمے داریاں سنبھالیں۔میرزا ادیب نے سترہ برس تک اس جریدے کی ادارت کی۔ساحرلدھیانوی معاون مدیرکی حیثیت  سے دو تین ماہ تک اس سے وابستہ رہے۔مدیران  ِادب لطیف کی فہرست  طویل ہے،لیکن  جو بڑے نام میرے لوح ِ ِ ذہن پر ابھرآئے ہیں، ان میں کنہیا لال کپور۔فیض احمد فیض۔احمد ندیم قاسمی (چاربرس)۔ انتظار حسین۔ کشور ناہید۔ مستنصر حسین تارڑ۔ مسعود اشعر۔ اظہرجاوید۔ناصرزیدی۔ غالب احمد۔ ذکا الرحمن۔ اور شاہد بخاری  شامل ہیں۔ نوید مرزا۔ ناصرزیدی ڈاکٹر ضیاا لحسن (خاص شمارے) بھی  اسی فہرست میں شامل ہیں،جنہیں بطور مدیر اس ادبی مجلے سے وابستگی کااعزاز حاصل رہا۔راقم الحروف سید ظفر معین بلے نے بھی دس برس تک اس جریدے کی ادارت کی۔ اس وابستگی کے دوران محترمہ صدیقہ بیگم کے جوہر بھی مجھ پر کھلے۔وہ  ادب ِلطیف کے ساتھ ساتھ ادب ِ عالیہ کی پرچارک تھیں۔مختلف زبانوں میں جو ادبی فن پارے تخلیق ہوتے،ان کی کوشش ہوتی تھی کہ ان کے تراجم کراکے انہیں ادب ِلطیف کی زینت بنادیاجائے۔انہی کوششوں کے نتیجے میں وہ ادبِ لطیف کو ادب کی اعلیٰ اقدار کاترجمان بنانے میں کامیاب ہوئیں۔اسی جریدے کی بنیاد پر بلاشبہ محترمہ صدیقہ بیگم نے کئی نسلوں کی فکری آبیاری کی۔ جوہرِ قابل کو دریافت کیااور نوجوانوں کی نگارشات کو اپنے جریدے میں جگہ دے کرانہیں دنیائے ادب میں متعارف کرایا۔اس پلیٹ فارم سے نام،مقام اور احترام کمانے والے آسمان ادب کے روشن ستارے بن کر جگمگائے۔

محترمہ صدیقہ بیگم چالیس برس سے زائد عرصے تک ادب ِ لطیف کی مدیر اعلی رہیں اور ان کے بڑے بھائی  محترم  افتخار چوہدری  نے پرنٹراور  پبشلر کی حیثیت سے طویل عرصے تک خدمات انجام دیں۔

محترمہ صدیقہ بیگم  ہمیشہ ہمارے دکھ سکھ میں شریک رہیں۔ میرے والد بزرگوار سیدفخرالدین بَلے مرحوم  ادبی محفلیں سجایا کرتے تھے اور ایک قافلہ تنظیم بھی انہوں نے اسی مقصدکے تحت بنارکھی تھی،اس قافلے کے پڑاؤ  بڑی باقاعدگی کے ساتھ ہمارے گھرمیں ہواکرتے تھے اور اہل ِ علم و ادب کے ساتھ ساتھ تخلیق کار مصور اور خطاط بھی بڑی تعداد میں شریک ِ محفل ہوا کرتے تھے۔محترمہ صدیقہ بیگم بھی بڑی باقاعدگی کے ساتھ قافلہ پڑاؤ میں شرکت کرتی تھیں۔ مجھے یاد ہے کہ ممتاز شاعر اور مدیر اقدار جناب شبنم رومانی کے اعزاز میں قافلے کے خصوصی پڑاؤکا اہتمام کیاگیاتو صدیقہ بیگم  شدید علالت کے باوجود شریک ہوئیں۔ ایک اور اہم بات یہ تھی کہ قافلے کے جتنے بھی  پڑاؤڈالے گئے، ان سب میں صدیقہ بیگم نے بھرپور انداز میں مگر میزبان کی حیثیت سے  شرکت کی، کیونکہ وہ تو تھیں ہی  ہمارے گھر کا فرد۔ میری یادداشتیں اس امر کی گواہ ہیں کہ اخترالایمان ہوں  یا  راجندر ملہوترہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر سید حامد ہوں یا آل احمد سرور، جوگندر پال ہوں یا پھر رام لعل جی، جون ایلیا ہوں یا جگن ناتھ آزاد جی، نشاط فاطمہ ہوں یا کہ عطیہ خلیل عرب،احمد ندیم قاسمی صاحب ہوں یا ڈاکٹر وزیر آغا صاحب، ڈاکٹر آغا سہیل صاحب ہوں یا کلیم عثمانی صاحب، حفیظ تائب صاحب ہوں  یا اشفاق احمد صاحب اور  بانو قدسیہ آپا، ڈاکٹر برہان الدین فاروقی علیگ ہوں یا پھر میرزا ادیب، طفیل ہوشیاپوری ہوں یا منیر نیازی،جاویدقریشی صاحب ہوں یا انکل  مرتضی برلاس صاحب،جاوید طفیل ہوں یا اصغر ندیم سید،ڈاکٹر وحید قریشی صاحب ہوں  یا ڈاکٹر گوپی چند نارنگ،الغرض جس بڑی ادبی شخصیت کے اعزازمیں میرے والد گرامی قبلہ سیدفخرالدین بلے نے گھرپر محفل سجائی،اس میں  محترمہ صدیقہ بیگم  پیش پیش رہیں۔وہ اپنی تمام مصروفیات کوترک کرکے بھی  ان محفلوں میں شریک ہواکرتی تھیں،قافلے کے صرف ایسے چند پڑاؤ تھے،جن میں وہ غیرملکی دوروں کے باعث نہیں آپائیں  اوراحباب نے ان کی کمی کو محسوس کیا۔ مجھے یاد ہے وطن واپسی پروہ اپنی غیرموجودگی میں سجنے والی محفلوں سے آگاہی ضرور حاصل کیا کرتی تھیں۔

ارشد لطیف بہت اچھے شاعر ہیں، برسوں سے دیار غیر میں مقیم ہیں لیکن دھرتی ماں کی محبت انہیں کھینچ لاتی ہے۔ ارشد لطیف آئے ہوئے تھے،ان کاقیام  بھی محترمہ  صدیقہ بیگم کے ہاں  تھا اور وہ شہر لاہور کے نمائندہ تخلیق کاروں سے ملاقات کے متمنی بھی تھے۔ اگلے  ہی روز یکم تاریخ تھی اور صدیقہ بیگم کو معلوم تھا کہ مینہ برسے یاآندھی آئے، بلے صاحب نے قافلے کے پڑاؤ کادِیا جلارکھا ہوگا،چنانچہ  وہ ارشد لطیف صاحب کواپنے ساتھ لے آئیں۔ نمائندہ  تخلیق کاروں کو کثیر تعداد میں دیکھ کر ارشد لطیف صاحب   واہ واہ کئے  بنا نہ رہ سکے  اور باربار یہ کہتے رہے کہ  صدیقہ آپا مجھے یہ کہہ کر ساتھ لائی تھیں  کہ آؤ چلو  میں تمہیں اپنے دوسرے گھر لے کر  چلتی ہوں۔ میرا یہ دوسرا گھر ”بلے ہاؤس“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وہاں آج احباب اکٹھے ہوں گے اور واقعی میں کسی اردو کانفرنس میں بھی چلا جاتا تو شاید میری تشنگی برقرار رہتی لیکن یہاں آکر تو مجھے لگ رہا ہے کہ پاکستان آنے کا مقصد پورا ہوگیا۔

دس بارہ برس پہلے کی  بات ہے جب امی کراچی آئیں۔ کئی ادیبوں اور شاعروں نے ان کے اعزاز میں ضیافتوں کااہتمام کیا۔ میں ان کے ساتھ ساتھ رہا،بلکہ انہوں نے اپنے تمام ادبی پروگراموں کو  میری مشاورت سے حتمی شکل دی۔ہر محفل میں انہوں نے مجھے ساتھ ساتھ رکھا۔ اپنا ایک پورا دن اپنے خاص ادبی دوستوں کے ساتھ گزارا۔میڈم فہمیدہ ریاض۔میڈم فردوس حیدر۔محترمہ زاہدہ حنا اور پروفیسر شمشاد صاحب کے ساتھ طویل  نشست  میں اہم ادبی موضوعات  اور تنقید کے جدید رجحانات زیر بحث آئے    اور بڑی سیر حاصل گفتگو رہی۔

زاہدہ حنا صاحبہ کی ذاتی  زندگی کاموضوع چھڑگیاتو صدیقہ بیگم نے فوراً ہی  یہ کہہ کر موضوع تبدیل کردیا کہ  یہاں اکٹھے ہونے کا مقصد زاہدہ حنا کے زخموں کو کریدنا نہیں ہے۔ پھر فہمیدہ ریاض گویا ہوئیں، صدیقہ تمہیں میں نے اپنی پریشانی کے دِنوں میں بہت پریشان کیے رکھا، کیا کرتی تم سے نہ کہتی  اور تم سے شیئر نہ کرتی تو کس سے دکھڑا روتی؟ تمہارے کندھے پر سر رکھ کر جتنا رو سکتی تھی اور جی ہلکا  کر سکتی تھی، کرلیتی تھی۔ یہ بھی خیال نہ کرتی کہ دن اور  رات کے ایسے پہر میں کہ جب تم خود میڈیسن لے کر آرام کرتی ہو۔میں تمھیں تنگ کرتی رہی۔یہ سب کچھ سن کر امی نے کہا اپنے کس لیے ہوتے ہیں؟ اللہ دشمن کو بھی اولاد کا دکھ نہ دے۔ تم نے بھی بہت ہمت سے کام لیا۔ اور یہ جو بیٹھا ہے تمہارے پہلو میں

ظفرمعین بلے۔اور اس کا سارا گھرانہ بھی اس حوالے سے اپنی مثال آپ ہے۔ خود فخرالدین بلے صاحب نے اور ظفر کی امی مہرافروز بلے نے کمال حوصلے اور تحمل سے اس قیامت کو برداشت کیا، جو اس گھرانے پر آنس معین کی المناک جوانمرگی کی صورت میں ٹوٹی۔ اور اس پر آنس معین کی کرب سے بھرپور اور لبریز شاعری جو اچھے خاصے مضبوط اعصاب کے انسان کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دے۔

اس بات پر  فہمیدہ ریاض صاحبہ نے بڑی اداسی کے ساتھ  آنس معین کایہ  شعر پڑھا

عجب انداز سے یہ گھر گرا ہے

مِرا ملبہ مِرے اوپر گرا ہے

محترمہ صدیقہ بیگم بولیں  مجھے آنس معین کا یہ شعرکبھی نہیں بھولتا

نہ تھی زمین میں وسعت مِری نظر جیسی

بدن تھکا بھی نہیں اور سفر تمام ہوا

اور کچھ اور اشعار بھی سنائے۔ فہمیدہ ریاض صاحبہ نے مجھ سے آنس معین کا مزید کلام سنانے کی فرمائش کی۔چنانچہ میں نے حکم کی تعمیل میں آنس معین کی کچھ نظمیں سنائیں۔۔ پھر موضوع بدل گیا۔ فردوس حیدر صاحبہ سے امی کا مکالمہ شروع ہوگیا، جو ان کی نجی زندگی اور معاملات کے حوالے سے تھا۔ فردوس حیدر نے اسی نشست میں مجھے مخاطب کرکے فرمائش کی کہ آپ اپنا کلام سنائیے اوراپنا کلام سنانے سے قبل  فہمیدہ ریاض کا کوئی کلام،جو آپ کو یاد ہو،سنا دیجے۔ میں نے  فہمیدہ ریاض صاحبہ کی خوبصورت  نظم چادر اور چار دیواری سنائی، جس سے محفل کا رنگ ہی بدل گیا۔پروفیسر شمشاد صاحب سے بھی ان کے تجربات پر بات ہوئی۔ان کے افسانوں کے تیور بھی موضوع گفتگو بنے رہے۔

دو روز بعد محترمہ فہمیدہ ریاض کے اعزاز میں رومی کے کلام کا منظوم ترجمہ کتابی شکل میں منظرعام پر آنے کے حوالے سے ڈیفنس میں (کسی کی اقامت گاہ پر، یاد نہیں کس کی اقامت گاہ پر شاید  معروف محقق و

شاعر جناب عقیل عباس جعفری صاحب کو یاد ہو کہ وہ بھی شرکائے تقریب میں شامل تھے) منعقد ہوئی تھی اور اس میں شرکت کرنے کیلیے فہمیدہ ریاض صاحبہ نے مجھے بطور خاص فون کرکے حکم دیا تھا کہ صدیقہ بیگم کو ہر صورت لے کر تقریب میں شرکت کروں۔چنانچہ میں اور صدیقہ بیگم دونوں پہنچے  اور پروقار تقریب میں  شرکت کے نتیجے میں ہمیں   بہت سی ادبی شخصیات  سے بالمشافہ ملاقات  کاموقع مل گیا،ان  یادوں  کوکسی اور مضمون کاحصہ بنایاجاسکتاہے۔

صدیقہ بیگم کے اسی دورہ کراچی  کے دوران ہی کا ایک اور دلچسپ اور یادگار واقعہ یاد آرہا ہے۔ کہیں سے حضرت مشتاق احمد یوسفی صاحب علیگ کو بھنک پڑ گئی کہ محترمہ صدیقہ بیگم آءِ ہوئی ہیں۔ اللہ جانے کیسے اور کس سے؟ انہوں نے مجھ سے رابطے کا نمبر حاصل کیا۔ ان کا جب فون آیا اور میں نے السلام علیکم کہہ کر فون ریسو کیا تو انہوں نے اپنے دھیمے لہجے میں فرمایا وعلیکم السلام۔کیا ہماری ظفر معین بلے صاحب سے بات ہوسکے گی؟ میں نے برجستہ عرض کیا جی میں ظفرمعین بلے ہی عرض کررہا ہوں۔ اس سے قبل کہ میں کچھ اور کہہ پاتا۔ دوسری طرف سے آوازآئی کہ مشتاق احمد یوسفی آپ سے مخاطب ہے۔ ہم نے سنا ہے کہ لاہور سے ماہنامہ ادب ِ  لطیف کی چیف ایڈیٹر صدیقہ بیگم کراچی تشریف لائی ہوئی ہیں اور میزبانی کا اعزاز آپ کو حاصل ہے۔ لہذا ہم نے مہمان کے بجائے براہ راست میزبان سے رابطہ کیا ہے۔ ہم صدیقہ بیگم صاحبہ سے ملاقات کے خواہشمند ہیں اور یہ آپ کی معاونت کے بنا ممکن بھی نہیں۔ آپ صدیقہ بیگم کو ہمارا سلام عرض کریں اور ہماری خواہش بھی اپنے الفاظ میں ان تک پہنچا دیں۔  میں نے بصد احترام عرض کیا ضرور ضرور لیکن۔۔۔۔ شام پانچ بجے تک ہماری تدریسی مصروفیات ہیں،اس کے بعد صدیقہ بیگم امی کی خدمت میں آپ کا سلام بھی اور آپ کا حکم پیش کردوں گا۔۔ ظفر صاحب آپ نے خواہش اور گزارش کو حکم میں تبدیل کردیا۔ چلیے۔ ہم آپ کے فون کے منتظر رہیں گے، شام چھ بجے کے بعد۔

شام کو ہم نے محترمہ  صدیقہ بیگم کو تمام ماجرا سنا ڈالا تو انہوں نے فرمایا کہ اپنے ہی موبائل سے  ان کا فون نمبر ملاؤ  اور میری بات کرادو۔ ہم نے بھی فوراً ہی یوسفی صاحب کا فون نمبر ملایا  اور بعد از سلام عرض کیا کہ آپ کا حکم صدیقہ بیگم تک  پہنچا دیا ہے اور وہ آپ سے بات کرنا چاہ رہی ہیں۔ یوسفی صاحب نے فرمایا جی جی ضرور بات کروائیے۔قریباً دس بارہ منٹ ان دونوں کی گفتگو ہوتی رہی۔ اس کے بعد صدیقہ بیگم  نے فرمایا منڈیا تیار رئیں کل زہرہ نگاہ کے گھر جانا ہے۔مشتاق احمد یوسفی صاحب کو بھی میں نے وہیں ملنے کے لیے بلوالیا ہے۔ کل شام ٹھیک سات بجے تک پہنچنا ہے وہاں۔ اگلے روز ہم التمش ڈینٹل ہاسپٹل کالج کے عقب میں گزری لین پر واقع  زہرا نگاہ آپا کی اقامت گاہ پر پہنچے۔ یوسفی صاحب  کے ساتھ  ایک خاتون ڈاکٹر عائشہ بھی آئی تھیں۔ کم و بیش ڈھائی تین گھنٹے تک مسلسل مختلف موضوعات زیر بحث آئے۔ یوسفی صاحب نے اپنے زمانہ طالب علمی کے حوالے سے مادر علمی علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے بہت سے واقعات سنائے اور فرمایا ظفرمعین بلے صاحب ہم آپ کے والد گرامی سیدفخرالدین بلے صاحب کو بھی اسی عہد علیگڑھ سے جانتے ہیں۔ مختار مسعود صاحب، علامہ غلام شبیر بخاری علیگ۔  انجم اعظمی علیگ۔ڈاکٹر برہان الدین فاروقی علیگ سے مراسم پچاس ساٹھ برسوں پر محیط ہیں۔مختارمسعود صاحب اور فخرالدین بلے علیگ تو مسلم اسٹوڈینٹس فیڈریشن کے عہدیداران میں سے تھے۔ یونیورسٹی کے میگزین کی مجلس ادارت سے بھی وابستہ تھے۔ یوسفی صاحب نے صدیقہ بیگم کی ادب لطیف اور حضرت چوہدری برکت علی کی بے مثل ادبی خدمات کو سراہتے ہوئے شاندار الفاظ میں خراج محبت  بھی پیش کیا اور فرمایا کہ  ادب لطیف نے ترقی پسند تحریک کو کامیابی اور کامرانی سے ہمکنار کرنے میں اہم اور تاریخی کردار ادا کیا بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ ترقی پسند تحریک کی کامیابی کا سہرا ادب لطیف اور چوہدری برکت علی کے سر ہے جبکہ چوہدری برکت علی کی وفات کے بعد بھی اس تحریک سے وابستہ مقتدر تخلیق کاروں کی نظر کا محور ادب لطیف اور اس کی مجلس ادارت رہی۔ صدیقہ بیگم نے کمال ہمت و جانفشانی سے اپنے والد اور

ادب لطیف کے مشن و مقصد کو جاری رکھا۔ نشست کے اختتام پرمحترمہ  صدیقہ بیگم نے قبلہ والد گرامی سیدفخرالدین بلے کا یہ شعر پڑھا اور اپنی نشست سے اٹھ کھڑی ہوئیں

الفاظ و صوت و رنگ و نگارش کی شکل میں

زندہ ہیں لوگ آج بھی مرنے کے باوجود

فوٹو سیشن بھی ہوا لیکن  میزبان محفل زہرا نگاہ آپا نے اس میں شامل ہونے سے ہی  یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ  یوسفی صاحب نے فون پر اپنی پسند اور پرہیز کے تین چار کھانے بتا کر کہا تھا کہ میں  تو گزارہ کرلوں گا،صدیقہ بیگم ہیں آپ کی اور ہماری خاص مہمان، ان کے بارے میں آپ خود سوچ لیجے گا۔ لہذاکچن سے جس برے حال میں آج میں نکلی ہوں تو یہ حلیہ ایسا ہرگز  نہیں ہے کہ کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا جائے۔

لاہور کی بات ہے،جی او آر تھری  شادمان  میں ہمارے گھر پر بریج کی ٹیبل سجی ہوئی تھی،میرے والد سیدفخرالدین بلے، انکل مرتضی برلاس،بہترین چیسٹ اسپیشلسٹ ڈاکٹر یحیی فاروقی، افتخارایلی اور دیگر احباب بریج کھیلنے میں مشغول تھے کہ  قبلہ والد گرامی سیدفخرالدین بلے کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی۔انکل مرتضیٰ برلاس کے ہاتھ پاؤں ہی پھول گئے۔ڈاکٹر یحیی فاروقی  کی کیفیت اس سے مختلف نہ تھی۔ خیر سے رات گزری بلکہ قیامت بن کر گزری۔دوسرے روز ڈاکٹر برہان الدین فاروقی علیگ۔ میرزا ادیب صاحب۔ ظفر علی راجا صاحب  اور حضرت احمد ندیم قاسمی صاحب کے ہمراہ منصورہ احمد صاحبہ اور محترمہ افضل توصیف صاحبہ سیدفخرالدین بلے کی عیادت کیلیے پہنچے ہوئے تھے۔ شاید احمد ندیم قاسمی صاحب کو ڈاکٹر یحیی فاروقی صاحب کے توسط سے والدگرمی کی علالت کی خبر پہنچی تھی۔ ہمارے دوست اور بھائی سلطان ارشدالقادری صاحب(اللہ ان کو غریق رحمت کرے)  عظیم نعت گو شاعر حضرت حفیظ تائب کو اپنی جیپ میں لیکر آئے تھے۔ دروازے کی گھنٹی بجنے پر میں نے باہر جا کر دیکھا تو

محترمہ صدیقہ بیگم بھی کھڑی تھیں۔ میں نے بصد احترام سلام عرض کیا اور تعجب سے پوچھا کہ آپ کو کب سے دستک دینے یا گھنٹی بجانے کی ضرورت محسوس ہونے لگی۔ صدیقہ بیگم نے اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔ پچھے مڑ کے ویکھ حفیظ تائب پائی آئے نے تیرے سجن بیلی سلطان ارشدالقادری دی گڈی وچ۔ اوہناں نوں ویکھ اوہناں نے اپنے جوتے گڈی وچ ای لا دتے نے

میں کیاوی پائی ٹھنڈ اے تے ٹھنڈ چڑھدی وی پیراں توں  اے۔  تے تسی تے ننگے پیر ای ٹری آندے او۔حضرت حفیظ تائب صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں کہا صدیقہ آپاجی ہم سادات کے گھر میں جوتے پہن کر کیسے داخل ہوسکتے ہیں اور سیدفخرالدین بلے شاہ صاحب سے ہمیں حد درجہ عقیدت بھی ہے اورانسیت اور محبت بھی اور آپ کو اندازہ ہے کہ ہمارے  قلب و نظر میں ان کے لیے کس قدر تکریم و تعظیم ہے۔خیر احترام  تو آپ بھی بہت کرتی ہیں سادات کا بھی، صاحبان علم کا بھی اور ہمیں اندازہ ہے کہ آپ اور بلے شاہ صاحب کا گھرانہ الگ نہیں۔ آپ کی ادبی خدمات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ آپ جیسی ہستیوں کے دم سے تو ادب کی دنیا آباد ہے اور یہ کہتے کہتے حفیظ تائب صاحب صدیقہ بیگم  کے اور قریب آن پہنچے تھے انہوں نے شفقت بھرے انداز میں دعائیں دیتے ہوئے صدیقہ بیگم کے سرپر ہاتھ رکھا اور عظیم باپ کی عظیم بیٹی ہم نالائقوں کی لائق فائق بہن جیتی رہیں۔

محترمہ صدیقہ بیگم کا حلقہ احباب بہت وسیع تھا۔ لیکن واصف علی واصف۔ ڈاکٹر برہان الدین فاروقی علیگ۔ ممتاز مفتی جی، بانو آپا۔ اشفاق احمد صاحب۔ سیدفخرالدین بلے۔ اور اللہ سلامت رکھے بابایحیی سے ان کو خاص قربت رہی اور شاید نہیں بلکہ یقینا“ انہی صحبتوں کا نتیجہ اور اثر تھا کہ ان کا مزاج درویشانہ تھا اور فکر متصوفانہ۔محترمہ صدیقہ بیگم متعدد بار اشفاق احمد صاحب کے اور ایک دو مرتبہ قبلہ والد صاحب سیدفخرالدین بلے کے ہمراہ بابا جی نروالے کے آستانے پر بھی گئیں۔ یہ ایک جداگانہ موضوع ہے اس پر تفصیلی بات آئندہ کسی اور تحریر میں ہوگی۔

مجھے ایک اور عجیب سا واقعہ یاد آرہا ہے۔ایک دن جب صدیقہ بیگم تشریف لائیں تو ان کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ ایک مرتبہ چائے پی چکی تھیں لیکن تھوڑی ہی دیر بعد وہ  ہماری والدہ سے مخاطب ہوئیں، مہرافروز میں ایک کپ اور چائے پینا چاہتی ہوں لیکن اس کے ساتھ کچھ کھاؤں گی بھی، ہماری والدہ مہرافروزبلے گویا ہوئیں کہ میں تو پہلے سے ہی کہہ رہی ہوں کھانا تیار ہے اور آپ کی پسند کاکھانا بنایا ہے۔ آپ اگر آج  نہ آتیں تو ظفرکے ہاتھ بھجواتی آپ کو۔ اس پر صدیقہ بیگم نے جواب دیا مہرافروز طبیعت ٹھیک محسوس نہیں ہو رہی۔ میرا دواخانہ میرے ساتھ ہے  لیکن کچھ ہلکا پھلکا سا کھا کر میڈیسن لینا چاہ رہی ہوں۔ہماری والدہ نے کہا ارے آپ مجھے پانچ منٹ کا وقت دیں،۔پانچ منٹ میں ہی ہماری پیاری ماما چائے اور اس کے ساتھ روغنی ٹکیاں (چھوٹی چھوٹی روٹیاں) لائیں اس کے ساتھ دو تین طرح کی چٹنیاں بھی تھیں۔ صدیقہ بیگم امی نے یہ سب دیکھ کر کہا مہرافروز آپ کو میری پسند کے ساتھ ساتھ میری کمزوری کا بھی بخوبی اندازہ ہے۔

(صدیقہ بیگم امی کوہماری والدہ  کے ہاتھ کی روغنی روٹیاں بہت پسندتھیں)۔

انہوں نے بہت شوق سے کھائیں۔ پھر چائے پی۔ تھوڑی دیر آرام کیا اور اس کے بعد ہماری والدہ سے کہا میں ظفر کو اپنے ساتھ لیے جارہی ہوں۔ مجھے نہیں اندازہ کہ میں ظفر کو کب تک واپس بھجواسکوں گی۔  آپ اس کی طرف سے فکرمند نہ ہوئیے گا۔ ہماری والدہ اپنے مخصوص انداز میں مسکرائیں اور فرمایا جب ظفر آپ کے ساتھ ہوتا ہے تو مجھے فکر نہیں ہوتی۔ البتہ میں سوچتی ہوں کہ آپ کی طبیعت بھی خراب ہوجاتی ہے اور ظفر آپ کو پریشان نہ کرتا ہو۔ صدیقہ بیگم نے جواب دیا کہ ظفر مجھے پریشان تو کرتا ہے کیونکہ ایسے حالات میں یعنی میری طبیعت کی خرابی میں ظفر۔ ظفر نہیں رہتا بلکہ ثویلہ اور بیا اور توصیف (یہ تینوں صدیقہ بیگم امی کے بچوں کے نام ہیں) کا روپ دھار لیتا ہے۔ اور بھول جاتا ہے کہ یہ خود مہر افروز اور میرے ہم دمہ(ہمدمہ مطلب سیدفخرالدین بلے) کا بچہ ہے۔ یہاں یہ وضاحت شاید بے محل نہ ہو کہ

صدیقہ بیگم بابا جانی قبلہ سیدفخرالدین بلے، احمد ندیم قاسمی صاحب اور ڈاکٹر وحیدقریشی کو اپنا ”ہم دمہ“ کہا کرتی تھیں کیونکہ یہ دونوں بھی ان کی طرح دمے کے مریض تھے۔

ماہنامہ ”ادب ِ لطیف“ کا کام ہم دونوں  (محترمہ صدیقہ بیگم اور میں)اکثر مل بانٹ کریا اکٹھے بیٹھ کر ہی کیا کرتے تھے۔ کبھی پروف ریڈنگ کرتے کرتے یا ڈمی تیار کرتے کرتے یا کاپی پیسٹنگ کرواتے کرواتے وقت کا اندازہ نہ ہوتا اور رات زیادہ ہوچکی ہوتی تو کبھی وہ ہمارے ہاں یا میں ان کے دولت خانے پر قیام کرلیاکرتا تھا۔اور بعض اوقت تو پہلے سے طے ہوجاتا تھا کہ مجھے ان کی طرف رکنا ہوگا یا وہ ہمارے ہاں قیام کریں گی۔

صدیقہ بیگم کو سانس اور دمے کی تکلیف کے باعث بہت احتیاط کرنی پڑتی تھی۔ موسم سرما کے آغاز سے پہلے ہی ان کی احتیاطی تدابیر کا آغاز ہوجاتا تھا،ان سے زیادہ ان کے بچے اس کا خیال رکھتے۔ ایک دن وہ اپنے گھر سے ہماری طرف آنے کے لیے روانہ ہوئیں تو ٹھیک تھیں،لیکن اللہ جانے راستے میں کہاں اور کیسے انہیں الرجی کا اٹیک ہوا اور ہمارے غریب خانے تک پہنچتے پہنچتے ان کو سانس لینے میں دشواری  محسوس ہونے لگی۔ انہوں نے آتے کے ساتھ ہی ہماری والدہ سے کہا  مہرافروز  میں تو اس وقت آپ کے ہاتھ کی چائے پینے آئی ہوں۔ ماما نے کہا ضرور صرف پانچ منٹ میں۔ چائے پی کر ان کی طبیعت بس تھوڑی ہی دیر کیلیے سنبھلی اور پھر انہوں نے کہا ظفر ثویلہ کی مجھ سے بات کروادو۔ میں نے فون ملاکرانہیں دے دیا۔انہوں نے ثویلہ باجی سے کہا کہ شاید میں آج رات یہیں رکوں گی۔میڈیسن لے آئی تھی۔ کام کی نوعیت پر منحصر ہے کہ کل کس وقت واپسی ہو۔محترمہ صدیقہ بیگم  اپنی ہرہر بات اپنے بچوں سے شیئر کرتی تھیں اور ان سے مشورے بھی لیا کرتی تھیں۔ یقیناوہ ایک اچھی ماں تھیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک بہت اچھی اور ہمدرد دوست اور مشیر بھی تھیں۔

ایک مرتبہ ایسا ہواکہ  اچانک طبیعت بگڑنے پر انہیں ایمرجنسی میں شیخ زید ہاسپٹل کے آئی سی یو میں ایڈمٹ کروانا پڑا۔ ہم ان کے ساتھ  رہے۔وہ تقریباًدس بارہ روز وہاں ایڈمٹ رہی ہونگی۔ دن بھر ہم اور رات بھر ان کے فرزند توصیف احمد خان ان کے ساتھ ہوتے۔ توصیف صاحب نے اپنا پاکٹیل دو ڈھائی کلو وزن کا  موٹا اور کالا موبائل  اور اس کا چارجر وہیں رکھ چھوڑا تھا،تاکہ حسب ضرورت  رابطہ کرسکیں۔ ایک دن صدیقہ بیگم نے اپنے بیٹے توصیف صاحب سے کہا تمہارے مزے ہیں، اگر ظفر نہ ہوتا تو تمہیں دن رات یہیں رہنا پڑتا۔ انہوں نے جواباً کہا کہ ہم ظفر صاحب کے شکرگزار ہیں، ہمیں ان کی وجہ سے آسانی اور سہولت ہے۔ صدیقہ بیگم نے کہا  آئندہ یہ بات نہ کہنا ظفرمعین  بلے برا مان جانتا ہے، جب میں تم میں اور ظفر میں کوئی فرق نہیں سمجھتی تو تمہیں بھی یہی سمجھنا چاہیے کہ جیسے تمہاری ذمہ داری ویسے ہی اس کی۔تھوڑی دیر بعد توصیف احمد خاں صاحب کو پھر شرارت سوجھی اور فرمانے لگے امی مجھے لگتا ہے کہ آپ جان بوجھ کر ہاسپٹل سے گھر نہیں جانا چاہتیں کیونکہ گھر جانے کے بعد یہاں جو آپ ظفرمعین صاحب کی والدہ کے ہاتھ کی بنائی ہوئی روغنی ٹکیاں یا روٹیاں اور اس کے ساتھ لہسن۔ پودینے کی چٹنیوں کے ناشتے کے مزے اڑا رہی ہیں۔یہ سلسلہ تو گھر جاتے ہی ختم ہوجائے گا۔جس پر محترمہ صدیقہ بیگم اپنے مخصوص انداز میں مسکرائیں اور کہا بیٹا یہ عیاشیاں میرے ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہونے اور رہنے کی وجہ سے نہیں،بلکہ میری دوست اور بہن مہرافرز بلے کی وجہ سے میرے معمولات میں شامل ہیں۔ جب میں گھر شفٹ ہوجاؤں گی تو آپ کا کیا ہوگا؟ اسپتال میں ایڈمٹ ہونے سے پہلے بھی میں اپنی بہن کے گھرجاکریہ مزے کرتی رہی ہوں۔

آسمانوں جیسی مائیں، ماؤں جیسے آسماں

ہم زمینوں کے لئے ہیں کیسے کیسے  آسماں

(فاضل جمیلی)

نامور صحافی، شاعر اور کراچی پریس کلب کے سابق صدر جناب فاضل جمیلی صاحب ہم سے ہمیشہ محبت و احترام سے ملتے  ہیں۔ہم 2000 میں کراچی منتقل  ہوئے تھے، 2004 میں والد گرامی سید فخرالدین بلے شاہ صاحب کی رحلت کے بعد تو جیسے زندگی ہی ختم ہوچکی تھی۔ 2005 میں صدیقہ بیگم کراچی آئیں تو آتے ہی رابطہ کیا۔ ان کا قیام میرے انسٹی ٹیوٹ سے زیادہ فاصلے پر بھی نہیں تھا۔ لیکن ان کی آمد کے ساتھ ہی دس روز کی رخصت لے لی تھی۔ وہیں فاضل جمیلی بھائی صاحب بھی صدیقہ بیگم سے ملنے آئے۔ ایک دو گھنٹے بیٹھے۔ صدیقہ بیگم نے فرمائش کرکے فاضل جمیلی صاحب سے ان کا تازہ کلام بھی سنا۔۔ مختلف موضوعات پر گفتگو کا سلسلہ جاری رہا۔فاضل جمیلی  صاحب نے رخصت ہونے کی اجازت چاہی تو صدیقہ بیگم نے کہا ضروری کام ہے تو بالکل جائیے، دوبارہ کب آنا ہوگا؟انہوں نے فرمایا ایک دو روز میں فون کرکے حاضر ہونگا۔ اور اتنا ضروری کام بھی نہیں ہے لیکن ایک شعری نشست ہے۔یہیں ڈیفنس میں، ان سے وعدہ کرلیا تھا، اجازت ہو تو جاؤں اور اگر اجازت نہ ہو تو ان سے معذرت کرلوں۔ امی نے کہا کہ وعدہ کرلیا تھا تو ضرور جاؤ لیکن ظفرمعین بلے کو بھی ساتھ لے کر جاؤ۔ جب سے فخرالدین بلے صاحب کی وفات ہوئی ہے، اس نے خود کو زندوں میں شمار کرنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ اور واپس جاتے ہوئے ظفر کو یہیں ڈراپ کر جانا۔ فاضل جمیلی صاحب ہمیں اپنے ساتھ  لے گئے۔ اللہ جانے کس کے گھر تھی وہ نشست۔ اس نشست کے میزبان سے ہمارا تعارف بھی کروایا تھا لیکن اس وقت کچھ ٹھیک سے یاد نہیں آرہا۔  وہیں ہماری پہلی مرتبہ جناب عقیل عباس جعفری صاحب۔ پروفیسر ڈاکٹر ذوالقرنین شاداب احسانی صاحب،میڈم ذکیہ غزل صاحبہ، اطہر شاہ خان صاحب اور دیگر احباب سے ملاقات ہوئی تھی۔اسی محفل میں یہ اعلان بھی کروادیا گیاکہ سیدفخرالدین بلے صاحب کے فرزند اور آنس معین کے بھائی بھی ہماری آج کی تقریب میں  اپنا کلام پیش کریں گے۔ شاداب احسانی صاحب، عقیل عباس

جعفری صاحب،محترمہ ذکیہ غزل صاحبہ،اطہرشاہ خاں صاحب اور دیگر بہت سے احباب نے ہمیں بہت پذیرائی بخشی اور اگلے روز جبیز ہوٹل میں منعقد ہونے والی ایک نشست میں بھی شرکت کیلیے بہت اصرارکرکے مدعو کیا۔ ان احباب سے وقت کے ساتھ ساتھ رشتہ مضبوط اور مستحکم ہوتاچلاگیا۔ بھائی فاضل جمیلی صاحب  زندگی کے جھمیلوں میں گھر کر رہ گئے۔ ملاقاتیں محدود ہوگئیں  لیکن دوستی اور محبت کارشتہ   اٹوٹ ہے۔اور شاید نہیں یقیناً محترمہ صدیقہ بیگم کی وجہ سے۔ ہم  میں ایک قدر مشترک یہ بھی ہے کہ ہم دونوں صدیقہ بیگم صاحبہ کوامی کہتے تھے،کہتے ہیں اور کہتے رہیں گے۔ نالائق اولاد بھی ماں کو اتنی ہی پیاری ہوتی ہے،جتنی لائق و تابعداراولاد۔ اس بات کا اندازہ مجھے اس وقت ہوا، جب اب سے قریباً  ڈیڑھ دوماہ قبل میں نے محسوس کیا کہ کسی نے مجھے واٹس گروپ میں شامل کیا ہے اور ہر دوچار گھنٹے بعد کوئی نہ کوئی میسج یا پک بھیجی جارہی ہے اور وہ بھی مجھ جیسے انسان کو کہ جسے کوئی دلچسپی نہیں کہ کون کیا کررہا ہے؟ اور کیا نہیں؟ جواباً میں نے پہلے تو خاموشی اختیار کیے رکھی، پھر ایک دو میسجز بھیجے کہ کون ہیں آپ؟ اور مجھے کیوں شامل کیا گیا ہے۔ایک فیملی گروپ میں؟۔ تو اس کاجواب بہت زبردست تھا اور اس جواب کے جواب میں، میں نے بیس پچیس مرتبہ تو سوری۔Sorry۔لکھ کربھیجا ہوگا۔ اب یہ بھی ملاحظہ فرمائیے کہ میرے دریافت کرے پر جواب کیا آیا تھا۔جواب آیا تھا۔”میں تینوں ایڈ کیتا ای۔ صدیقہ“

دوسرا جواب یہ تھا۔ یہ سب  کچھ  میں نے کیا ہے، صدیقہ۔  

objection    Any۔

میری کیا مجال کہ  کوئی اعتراض  کرسکتا ۔

آج فاضل جمیلی صاحب کے حوالے سے اعتراف کرتا ہوں کہ صدیقہ بیگم نے مستقبل قریب کے ایک ایک پل اور لمحہ بہ لمحہ باخبر رکھنے کے لئے  مجھے اس فیملی گروپ میں شامل فرمایاتھا۔ جبھی  تو صدیقہ بیگم امی کو ہاسپٹل شفٹ کرنے۔ دو ہفتے بعد آئی سی یو، سے گھر شفٹ کرنے +وائس میسجز + دیگر اطلاعات

اور۔15۔دسمبرکو نصف شب.دو بج کر پچپن منٹ  پر ثویلہ باجی کا پیغام ملا، جس نے مجھے ہلاکر رکھ دیا۔

میں سلام پیش کرتاہوں،اپنی امی صدیقہ بیگم کی دوراندیشی کو۔

آپ میری بے بسی دیکھئے کہ میں ان کے فیملی گروپ میں تو شامل ہوں،لیکن اب وہی نہیں ہیں۔ مجھے اتنا یقین ضرور ہے کہ وہ اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔

--------------

Zafar Moin Balley

Teacher ,Writer, Poet Journalist and The Host of of more than 200 Literary sittings under the banner of "Qafla_Para'o" arranged and organized under the supervision and the guidance of his father, Syed Fakhruddin Balley.

His articles, research papers, literary views and poetry [ghazal & nazm] are being published in local and international newspapers and magazines for the last 25 years. Also an autobiography is underway based on the companionship of legends of the literature world.

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form