مُجاور/سندھی کہانی

January 12, 2019
"دیدبان شمارہ 9 "مزاحمتی ادبافسانہ تراجم

مُجاور

تخلیق : حسن منصور

(ترجمہ: شاہد حنائی (کویت

اسے شہر کی روشناں اچھی لگتی تھیں ۔ وہ ےہاں بہت خوش تھی جب اس کے خےرخواہوں نے خبردار کےا کہ شہر پر خطر ہو چکا ہے اور اس کی زندگی کے لیے خطرات بڑھ چکے ہےں ۔ تو وہ ششدر رہ گئی اسے گمان تک نہ تھا کہ اس کی زندگی خطرات سے کےوں دوچار ہے ۔وہ تو بس اپنی اےک عزےز ترےن شے کھو بےٹھی تھی اور اسی کی تلاش مےں مصروف تھی۔ گم شدہ شے جو اس سے ان جانے مےں چھن گئی تھی وہ اس شے کی تلاش مےں تھی ۔عےن اسی وقت محافظوں نے اسے بتاےا کہ اس کی زندگی خطرے مےں ہے اور اس کی زندگی ملک و قوم کے لیے انتہائی قےمتی ہے۔ اسے اپنی عزےر ترےن شے کی تلاش تھی اور وہ چاہتی تھی کہ وہ اس وقت تک شہر نہ چھوڑے جب تک وہ مطلوبہ شے کو پا نہ لے۔ اےک روز چند محافظ اس کے پاس آئے ان مےں وہ بھی شامل تھا جس پر اسے شک تھا کہ اس نے ہی اس کی عزےز ترےن شے چھےنی ہے۔ اےک محافظ آگے بڑھتے ہوئے بولا ، ’’ےہ شہر آپ کے واسطے خطرناک ہو گےا ہے۔ ہم آپ کو کسی محفوظ مقام پر منتقل کرنا چاہتے ہےں ۔ ‘‘

وہ خاموش، چپ سادھے ان کو تکتی رہی۔ پھر وہ محافظ جس نے اس کی عزےز ترےن شے چھےنی تھی اس کے سامنے آکر بولا ، ’’ےہ ضروری ہے کہ آپ کو شہر کے بڑھتے ہوئے خطرات سے محفوظ رکھا جائے۔‘‘ وہ دانت بھےنچتے ہوئے انہےں گھورتی رہی، محافظ کہنے لگا ، ’’آپ کی زندگی قوم کے لیے نہاےت اہم ہے اور ہم چاہتے ہےںکہ ےہ قوم کے عظےم تر مفاد مےں محفوظ رہے۔ ‘‘

وہ محافظ کو دےکھتی رہی اس کی آنکھےں بولےں، ’’جو چےز تم نے چرائی ہے وہ مےرے واسطے نہاےت بےش قےمت تھی۔ ‘‘

وہی محافظ کہنے لگا، ’’آپ قوم کا سرماےہ ہےں۔ہماری خواہش ہے کہ قوم اس سرمائے سے محروم نہ ہو۔ ‘‘

اس نے دل مےں سرگوشی کی، ’’ مَےں سرماےہ ہو ں اور تم سرماےہ دار ! ‘‘ اس کی آنکھوں مےں سوالےہ نشانوں کے انبار تھے وہ محافظ کو تکتی رہی۔

’’ ہم آپ کو کسی محفوظ مقام پر لے جانا چاہتے ہےں ۔‘‘ محافظ نے کہا۔

’’ مَےں اپنی اےک عزےز ترےن شے کی تلاش مےں ہوں ۔‘‘ اس کے ہونٹ پہلی دفعہ بولے۔

محافظ کے ہونٹوں پر پراسرار مسکراہٹ عود کر آئی، ’’ مَےں اپنی عزےز ترےن شے کی تلاش مےں ہوں جو مجھ سے مےری بے خبری مےں چھےن لی گئی ہے۔ ‘‘ اس نے اپنا مدعا پھر دہراےا۔ اس نے غصےلی نگاہوں سے محافظوں کو دےکھا جو اےک دوسرے کی طرف دےکھ کر مسکرا رہے تھے۔ اسے محسوس ہوا کہ محافظ اس کی بات سمجھتے ہوئے بھی نہےں سمجھ رہے ۔

’’کےامَےں انکار کر سکتی ہوں ۔‘‘ اس نے محافظوں کی آنکھوں مےںجھانکا، ’’کےا مجھے ےہ حق حاصل ہے کہ مَیں نہےں کہوں اور وہ مان لےں ۔‘‘

’’آپ کو پتا ہے اگر کہےں سب سے زےادہ شہری آزادی کا تصور ہے تو ہمارا ملک ہے۔ ‘‘ پہلے محافظ نے کہا۔

’’بلا شبہ !‘‘دوسرے محافظ نے تائےد کی، ’’ کوئی شک ! خدا کا شکر ہے کہ ہم دنےا کے سب سے زےادہ آزاد شہری کی حےثےت مےں پےدا ہوئے ہےں ۔ہمےں ہر گز فراموش نہےں کرنا چاہیے کہ ہمےں آزادی کی نعمت دلانے کی خاطر ہمارے اکابرےن نے کتنی لازوال قربانےاں دی ہےں۔ ‘‘

قربانی کا لفظ سنتے ہی جانے کےوں وہ چونک پڑی۔

محافظ نے مزےد کہا ،’’ا ورہماری ےہ بے مثال آزادی اس وقت تک برقرار ہے جب تک ہمےںقوم کا عظےم تر مفاد ہر چےز سے زےادہ مقدم ہے۔ ‘‘

’’کےا مَےں انکار کر سکتی ہوں ؟‘‘ اس نے پھر جاننا چاہا

’’جی ہاں ! بالکل! کےوں نہےں۔ ‘‘ محافظ نے مژدہ سناےا،’’آپ ضرور انکار کر سکتی ہےں لےکن قوم کے ان دشمنوں سے جو ہمارے عظےم تر مفادات کے خلاف ہےں ۔ ‘‘

’’قوم کے عظےم تر مفادات کی مخالفت کرنا گویاقوم کے دےگر افراد کی آزادی سے کھےلنا ہے اور ےقینا آپ ایسا نہیں کرےں گی۔ ‘‘

’’ مَےں اپنی اےک عزےز ترےن گم شدہ شے کی تلاش مےںہوں ۔ ‘‘

’’آپ کو ہماری عظےم قےادت پر اےمان لانا چاہیے اور ےہ ےقےن رکھنا چاہیے کہ وہ آپ کی شے ڈھونڈ نکالنے مےں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھے گی ۔‘‘

اس کی آنکھےں مکڑی کا جال بن گئیں۔ وہ بولی ، ’’ مَےں نہےں سمجھتی کہ مےری زندگی کو کوئی خطرہ درپےش ہے۔ ‘‘

’’ ےہ آ پ نہےں سمجھ سکتےں۔ ‘‘ محافظ نے وضاحت کی، ’’ لےکن ہم اےساسمجھتے ہےں اور آپ کو ہم پر اعتماد کرنا چاہیے۔‘‘

وہ چپ ہو گئی اور پھر کئی روز خاموشی اوڑھے رہی ۔وہ جان ہی نہےں پائی کس طرح وہ شہر سے اےک غار مےں آپہنچی تھی۔ کئی دن گذر گئے وہ اسی غار مےں تھی جس مےں کوئی درےچہ تھا نہ کوئی روشن دان دکھائی دےتا تھا ۔ آمد ورفت کے لیے اےک دروازہ تھا جو اکثر بند رہتا اور باہر ہر وقت وہی محافظ موجود رہتے ۔ غار کے اندر بلب کی روشنی اور ائر کنڈےشنر کی ٹھنڈک تھی ۔ نرم و گداز قالےن اور اےک عدد ٹےلی وےژ ن بھی تھا۔ جس پر ہمےشہ بڑے گائےکوں کے ملی نغمے سنائی اور دکھائی دےتے۔ ٹےلی وےژن کا کوئی بٹن نہےں تھا اور رےموٹ محافظوں کے پاس رہتا ۔ٹےلی وےژن ہمےشہ آن ہی رہتا۔آج جب اےک محافظ مےوہ جات اور ناشتے سے بھری ٹرے لے کر آےا۔ اس نے پوچھا ، ’’ کےا ےہ ٹےلی وےژن بند نہےں ہو سکتا ؟‘‘ محافظ نے چونک کر اسے دےکھا اور کہنے لگا، ’’آپ کو دل مےںقومی ولولہ پےدا کرنے والے ےہ گلوکار پسند نہےں ہےں ؟ ‘‘

وہ بوکھلا کر بولی، ’’ پسند ہےں۔‘‘

’’ پھر سنتے رہیے نا۔‘‘

’’ مَےں کچھ سوچنا چاہتی ہوں۔ ‘‘

’’ آپ فکر کےوں کرتی ہےں؟ ہم ہےں نا سوچ بچار کے لیے۔"

محافظ ٹرے رکھ کر چلا گےا وہ ٹرے کو دےکھتی رہی اور کافی دےر اپنی گم شدہ شے کی بابت غور کرتی رہی ۔ پھر وہ اچانک اٹھی اور ٹرے ٹےلی وےژن کی سکرےن پر دے ماری ۔ سکرےن اےک دھماکے کے ساتھ چکنا چور ہو گئی۔ سکرےن کے رےزے اور ٹرے مےں پڑے خوردونوش کے لوازما ت کمرے مےں بکھر گئے ۔ بند دروازے کے باہر دوڑتے قدموں کی آوازےں سنائی دےں۔ کچھ ہی دےر مےں دھڑسے دروازہ کھل گےا۔ چار محافظ اندر گھس آئے۔ انہوں نے ٹوٹا ہوا ٹےلی وےژن اور بکھری ہوئی اشےا دےکھ کر اسے گھورا ۔وہ پلنگ پر سمٹی بےٹھی تھی اور سہمی سہمی نظروں سے دےکھ رہی تھی۔ اےک محافظ اس کے رو برو کھڑا ہو کر پوچھنے لگا ، ’’آپ نے اس قدر قےمتی ٹےلی وےژ ن توڑ ڈالا ! آخر کےوں ؟‘‘

’’اس مےں کوئی بٹن نہےں ہے جس سے آف کےا جا سکے۔‘‘

’’لےکن آپ اسے آف کےوں کرنا چاہتی ہےں ؟ اتنے بڑے بڑے گلوکاروں کو سننا کےوں نہےں چاہتیں ؟‘‘

’’ مَےں کچھ سوچنا چاہتی ہوں ۔‘‘

’’ےہ کام آپ کا نہےںہے اس کے لیے ہمارے پاس کافی لوگ موجود ہےں ۔‘‘

دوسرا محافظ جس پر اسے شک تھا کہ اس نے اس کی عزےز ترےن شے چرائی ہے۔ وہ اس کے سامنے آکر کہنے لگا، ’’آپ کی اس حرکت سے محسوس ہوتا ہے کہ آپ کو مُلک کا عظےم تر مفاد عزےز نہےں ہے ۔‘‘ وہ دانت بھےنچے اسے دےکھتی رہی ۔

’’ ہم نے آ پ کی زندگی بچا کر اتنی آرام دہ جگہ پر رکھا مگر آپ نے ہمارے اعتماد کو ٹھےس پہنچائی ہے۔‘‘

پھر اسے پتا ہی نہےں چلا کہ اس کے ساتھ کےا ہوا۔ اسے کچھ خبر نہےں تھی کہ کتنا وقت اپنے آپ سے بے خبر رہی اور کہاں رہی ؟ جب اسے ہوش آےا تو اس نے خود کو ہڈےوں کی شکل مےں قبر مےں موجود پاےا ۔ اسے گمان گزرا کہ اس کا دکھائی دےنے والا وجود قبر پر پڑی منوں مٹی سے باہر نکل سکتا ہے۔ وہ ہڈےاں قبر مےں چھوڑ کر باہر نکلی تو اس کی چےخ نکل گئی ۔

اس نے دےکھا کہ وہی محافظ جس نے اس کی عزےز ترےن شے چھےن لی تھی۔ وہی اس کے مقبرے کا مجاور بنا بےٹھا ہے ۔

شاہد حنائی

کویت میں مقیم شاہد حنائی پاکستان کے صف اول کے مترجم ہیں۔ ان کی بارہ کتب شائع ہو چکی ہیں اکادمی ادبیات پاکستان سے بہترین مترجم کے ایوارڈ سمیت کئی بڑے ایوارڈ حاصل کر چکے ہیں مگر ادبی تقریبات سے عموماً دور رہتے ہیں۔

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form