امرعظیم کا سرسری جائزہ

March 12, 2018
" شمارہ -٧ "مزاحمتی ادب مضامین

امرعظیم کا سرسری جائزہ

تحریر: سہیل احمدصدیقی

محترم طاہرحسین طاہر ؔ سلطانی نے اردو میں حمدگوئی، حمدنگاری اور تحقیق و تدوین کی ایک ایسی تحریک شروع کی ہے جس کی محض تحسین یا وقتی تقلید ہی کافی نہیں، بلکہ ، کام اتنا اور اس نہج پر ہوچکا ہے کہ تنقیدی جائزے کی بھی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔طاہرؔ سلطانی کی کتب اور جرائد ، تحقیق کی دعوت عام کرتے ہیں ۔اگر فرداًفرداًمختصر جائزہ بھی لوں تو طوالت یقینی ہے۔ کوشش کرتاہوں کہ محض خوشہ چینی کرتے ہوئے گاہے گاہے تأثرات رقم کردوں۔

ابتداء کرتا ہوں طاہرؔ سلطانی کے شاندارکارنامے ’’اردو حمد کا ارتقاء ‘‘ (سن اشاعت ۲۰۰۴ء)سے جسے اُس کی افادیت کے پیش نظر ، بقول تنویرپھولؔ ، پی ایچ ڈی کی اعزازی سند دی جاسکتی ہے۔خاکسار نے بہت پہلے یہ تجویز پیش کی تھی کہ اس قحط الّرجال میں جب پی ایچ ڈی کے مقالے اور انھیں جانچنے والے بعض نگراں خود نظرثانی کے محتاج ہیں تو ایسے میں زیادہ موزوں یہ ہے کہ طاہرؔ سلطانی کی تحقیق ، ترتیب وتدوین نیز شاعری پر پی ایچ ڈی کرایا جائے۔بحمداللہ افضالہ شاہین (اسلام آباد)نے ’پاکستان میں اردوحمد کا ارتقاء ‘ اور سعدیہ جعفر(جامعہ پنجاب، لاہور)نے ’اردو میں حمدومناجات ‘ کے موضوع پر پی ایچ ڈی کا مقالہ تحریر کیا ہے جب کہ جامعہ کراچی کے استاد ڈاکٹر سہیل شفیق نے طاہرؔ سلطانی کے حریدے ’جہانِ حمد‘ کے تمام (۱۹)شماروں کا اشاریہ مکمل کرنے کے بعد انھی کے دوسرے جریدے ’ارمغانِ حمد‘کے ایک سو پچیس (۱۲۵)شماروں کا اشاریہ بھی مرتب کرنا شروع کیا جو تکمیل کے قریب ہے۔

’’اردو حمد کا ارتقاء ‘‘میں عنوانات کی فہرست اس موضوع کی مبادیا ت کااحاطہ کرنے کو کافی ہے ، مگر میری رائے میں اصناف کا جائزہ بہت سرسری ہے، آیندہ کسی اشاعت میں ہرصنف کے نمایاں اسماء پر کچھ مواد بڑھانا قارئین کے لیے مفید ہوگا۔پروفیسر منظر اؔ یوبی کا جائزہ اچھا ہے ، پھر اس کے بعدکسی تحسینی نثرونظم کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔طاہرؔ بھائی نے ایک شعر یوں لکھا ہے:

ع: اے عدم ؔ مجھ سے کہہ رہا ہے کوئی

توکسی سے ریا کی بات نہ کر !

راقم نے یہ شعر یوں سنا تھا: ؂ اے عدمؔ سب گناہ کر لیکن

دوستوں سے رِیا کی بات نہ کر!

میرے پاس کلامِ عدمؔ کا کوئی نسخہ نہیں، بہرحال حوالے کا طالب ہوں۔

کتاب کا آغاز قرآن کریم میں مذکور حمدیہ آیات مع تراجم سے ہوتا ہے۔اس اہم ابتدائیہ کے بعدفضائل اور پھر ’’اردوحمد کا فروغ‘‘جیسا مختصر جائزہ شامل کتاب ہے۔ایک جگہ طاہرؔ سلطانی نے لکھا کہ اردو میں سب سے پہلے حمدلکھنے کا اعزاز فخرالدین نطامی کو حاصل ہوا۔اردوکی پہلی مثنوی ’’کدم راؤ(نہ کہ قدم راؤ)۔پدم راؤ‘‘سن ۱۴۲۱ء سے ۱۴۳۵ء کے درمیانی عرصے میں لکھی گئی.....یہ بہت بڑا سہوہے جو طاہرؔ بھائی کے علاوہ ڈاکٹر یحیٰ نشیط جیسے معتبر محقق و ناقد سے بھی ہوا(’اردومیں حمد ومناجات‘)۔اردو کے قدیم ترین صاحبِ تصنیف بزرگ حضرت شیخ شرف الدین احمدالمعروف مخدومؔ بہاری (جولائی ۱۲۶۳ء مطابق ۶۶۱ھ تا جنوری ۱۳۸۱ء مطابق ۷۷۲ھ) تھے ۔ اُن کے کلام میں بہت سے ہندوی (قدیم اردو) دوہے محفوظ ہیں جن کے موضوعات ، تصوف کے علاوہ عام دل چسپی کے مضامین بشمول طبی نسخے وغیرہ ہیں۔(’بہار میں اردو کے زبان وادب کا ارتقاء۔۱۸۵۷ء تک از ڈاکٹر اخترؔ اورینوی)۔حضرت مخدوم ؔ بہاری کا تخلص شرفؔ تھا، اُن کی نثرمیں تین کتب اورنظم میں بہت سا منتشر کلام خصوصاً دوہروں(دوہوں) پرمشتمل ہے ۔ایک نسبتاً آسان دوہا نقل کرتا ہوں:

شرفؔ حرفِ مایل کہیں درد کچھو نہ بَسائے

گرد چھوئیں دربار کی سو درددورہوجائے

’’اردو حمد کا ارتقاء ‘‘ میں اردو کے کلاسیکی شعراء کی حمد نگاری ایک اوراہم باب ہے۔ یہ دِقّت طلب نگارش، طاہر سلطانی کی افتادِ طبع کو خوب ظاہر کرتی ہے۔ اس کتاب میں شامل تذکرے کے حوالے سے ، داغؔ دہلوی کی بابت ایک ضمنی اضافہ کرتا چلوں۔ وہ ذوقؔ کے علاوہ بہادرشاہ ظفرؔ کے اصلاح یافتہ بھی تھے۔طاہرؔ بھائی نے اسی عنوان کے تحت جدید عہد کے شعراء کا نمونہ کلام بھی پیش کیا ، جب کہ یہاں تقسیم ہوتی تو بہتر تھا۔ بعض سخنوروں کا سنِ وفات درج نہیں کیا گیا۔یا۔بعض اِس کتاب کی اشاعت کے بعدفوت ہوئے، اس بابت آیندہ ایڈیشن میں اضافہ ناگزیر ہے۔ اسمائے شعراء: صائمؔ چشتی، اقبال ؔ صفی پوری، حیدرگردیزی، وحیدہ نسیم .....نیز شیداؔ جبل پوری کے بارے میں یہ اہم نکتہ رہ گیا کہ وہ اقبال حیدر(معروف شاعر، ہائیکو نگار) کے والد گرامی تھے۔

’’عصرِ حاضر کے ممتاز نعت گویانِ اردو کی حمد نگاری‘‘ میں تابش ؔ دہلوی ، احمد ندیم قاسمی ، حنیف اسعدیؔ ، ابوالخیر کشفی ، حیرت ؔ الہ آبادی ، شوکت الہ آبادی، شفیق بریلوی اور سرشار صدیقی کے سنینِ وفات کا اندراج اَب ناگزیرہے۔ سرشار صدیقی اور امینؔ نقوی کے تذکرے مکرر ہیں، سرشارؔ صاحب کو دومرتبہ سہواً صدیقی نسب لکھا گیا....وہ خود دنیائے ادب کے مدیر اَوج کمال کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کرچکے ہیں کہ صدیقی نسبت محض عقیت کی بناء پر لکھتے ہیں، نسباً صدیقی نہیں!

طاہر سلطانی کی کتب بینی کی عادت گویا خصلتِ شریفہ ہے اور وہ دس ہزار کتب جمع کرکے آج بجا طورپربہت سے اُدَباء و شعراء سے اس لحاظ سے بہترہیں کہ محض شاعری نہیں فرماتے ، زودنویسی کے ساتھ ساتھ ، مطالعہ جاری رکھتے ہیں۔میں اُن کی اس خواہش کی تائید کرتا ہوں کہ انھیں حمد ونعت ریسرچ سینٹر کے قیام کے لیے رفاہی پلاٹ دیاجائے۔اہلِ خیر اور صاحبِ ثروت شعراء آگے آئیں اور اس کارِ خیر کے فروغ میں ساتھ دیں۔( ایک طویل وقفے کے بعد،اس تحریر کو دوبارہ مرتب کرتے ہوئے، مجھ پر یہ انکشاف ہوا کہ ایک صاحب نے اس عظیم مشن کے لیے اپنا پلاٹ طاہرسلطانی کو ہدیہ کردیا تھا، مگر سرکاری حرام خوروں نے اتنے روڑے اٹکائے کہ معاملہ آگے نہ بڑھ سکا)۔

نعت گو شاعر طاہر سلطانی کا پہلا تعارف مجموعہ نعت ’مدینے کی مہک‘ تھا جو ۱۹۸۹ء میں شایع ہوا...پھر تحقیق کا سلسلہ دراز ہوا تو طاہر سلطانی کی منفرد کتاب ’اذانِ دیر‘ ۱۹۹۷ء میں منصہ شہود پر آئی جس میں غیرمسلم شعراء کا حمدیہ کلام مع کوائف پیش کیا گیا۔ اس سے قبل ’ارمغان نعت‘ ازشفیق بریلوی اور نقوش ’رسول نمبر‘ جلد دہم میں غیرمسلموں کا نعتیہ کلام شامل تھا، مگر مستقل کتاب کی شکل میں حمد کے حوالے سے یہ پہلا کام تھا، جس کی تقلید نوراحمدمیرٹھی مرحوم نے (طاہر سلطانی کی بھرپور مدد کے طفیل) کی۔دیگر اہل ذوق بھی تحقیق کی سعی فرمائیں تو یہ باب اردو کے علاوہ دیگرزبانوں تک وسیع ہوسکتاہے۔ (ہندوستان میں بھی کسی صاحب کا کا م اس حوالے سے مذکورہے ،مگر اس وقت ذہن کے نہاں خانے میں گم ہے)۔

طاہر سلطانی کی کتاب ’اذانِ دیر‘ میں اننچاس شعراء کا کلام نیز متعدد دیگر کے متفرق ابیات مع کوائف شامل ہیں۔متعددمشاہیر سخن کے علاوہ کئی گم نام بھی حمد خواں نظر آتے ہیں اور ربِ کائنات کی صفتِ رحمانی (کہ وہ غیرمسلم وکافرومشرک کو بھی نوازتا ہے) کا برملا اعتراف کیاجاتا ہے۔ کتاب کی خوبی سے کسی کو مَفَر نہیں ہوسکتا، البتہ اس کی متن خوانی[Proofreading]بہت ناقص کی گئی ہے۔جوشؔ ملسیانی کا نام جابجا غلط ہوا، رشمی پٹیالوی کا سن پیدائش ۱۹۷ء درج ہے..اس طرح بہت سی اغلاط راہ پاگئی ہیں۔صفحہ نمبر ۷۱پر فہرست کے عین مطابق اسی شاعر کا نام رِشی درج ہے، جب کہ صفحہ نمبر ۱۷۳ پر رشمی...اس طرح کی اغلاط آیندہ اشاعت میں درست کی جاسکتی ہیں۔

’گلشن حمد‘ کے ذریعے طاہر سلطانی نے ستّر(۷۰)غیرمسلم شعراء کا تذکرہ مع حمدیہ کلام پیش کرکے تحقیق کا در وَا کیا ۔اس فہرست میں کئی نام ’اذان دیر‘ سے ماخوذہیں اور بہت سے نئے۔ اس بھرپور کتاب کا حصہ دوم ابھی منتظر اشاعت ہے، لہٰذاکافی گنجائش ہے اضافوں کی، نیزتصحیحِ اغلاط کی...سرِ دست کچھ اضافے تجویز کرتا ہوں:

۱۔قمرؔ جلال آبادی(اصل نام غیرمذکور)۔۱۹۱۷ء تا ۲۰۰۳ء (بمبئی)

نمونہ کلام: دینا خوشی سے جو دے دے اے ربّ عالم کیا مانگوں

رحمت سے زیادہ کیا مانگوں اور بخشش سے کم کیا مانگوں

۔۔

پِیری کی آمد آمد ہے ، توبہ کی گھٹائیں چھائی ہیں

یادوں کی بہاریں کیا مانگوں، وعدوں کا موسم کیا مانگوں

۔۔

تو لاکھ خزانوں کا مالک، میرا چھوٹا سا دامن ہے

دل ہی دل میں شرمندہ ہوں ، ساگر سے شبنم کیا مانگوں

۲۔آزادؔ گلاٹی

نمونہ کلام: کوئی سمجھے تو ایک بات کہوں

عشق توفیق ہے، گناہ نہیں

۳۔ڈاکٹر وِدّیا ساگر آنندؔ

نمونہ کلام: ’’ بعنوان اردو‘‘

بہتر نہیں اس سے کوئی دنیا میں زباں۔ اللہ کی بھیجی ہوئی اک دولت ہے

داتا نے جو عزت دی ، وہ بس ہے مجھے۔اردو نے جوشہرت دی ، وہ بس ہے مجھے

محتاج نہیں ہوں میں کسی کا بھی یہاں۔قسمت نے جو دولت دی ، وہ بس ہے مجھے

۴۔آزادؔ عظیم آبادی، بھِوانی پرشاد(تلمیذ شادؔ عظیم آبادی)۔۱۸۷۵ء تا ۱۹۳۵ء

نمونہ کلام : کیوں کریں سجدہ بتوں کا بے سبب، جب ہمیں اللہ ہی سے کام ہے

(مصرع اولیٰ میں لفظ ’کو‘ کی بجائے ’کا‘ خودشاعر نے رقم کیا)

۵۔عاجزؔ گیاوی، منشی میوالال(تلمیذشادؔ عظیم آبادی): ۱۸۸۷ء۔دورعروج۔ صوفی مشرب۔مجموعہ ہائے کلام : ’کلید گنجینہ توحید‘ (۱۹۲۷ء) اور’سِرّ توحید‘(۱۹۳۰ء)... نمونہ کلام: ؂ عالم غیب سے عاجزؔ یہی آتی ہے صدا کچھ نہیں ہے کہیں مجھ واحد مطلق کے سوا

۶۔عارفؔ عظیم آبادی، شیو نرائن چودھری(تلمیذ شادؔ عظیم آبادی): ۱۸۸۰ء تا (اندازاً) ۱۹۶۰ء۔تصوف میں ہمہ اوست کے قائل

نمونہ کلام: ؂ ازل سے لائے جو مَستی تھے، اُس کی خونہ گئی جوتھی خمیر کے اندروہ رنگ و بو نہ گئی

میں روکے اشکو ں سے خود اپنے ہولیاطاہر حریم دل میں تِری یاد بے وضونہ گئی

۷۔عطاؔ عظیم آبادی، رائے اسیری پرشاد(تلمیذ شادؔ عظیم آبادی): ۱۸۵۵ء تا ۱۹۲۵ء۔صوفی مشرب

نمونہ کلام: ؂ کَس مَپُرسی کے زمانے میں خدا یا دآیا آخرش کام مِرے آئی یہ غربت میری

۸۔مَست ؔ گیاوی، بابو نندکشورلال(تلمیذ شادؔ عظیم آبادی): ۱۸۵۰ء(اندازاً) تا ۱۹۰۵ء

نمونہ کلام: ؂ واہ! خالق نے دیا کیاآپ کو نورِ نظر خوش کلام و خوش بیاں، شیریں زباں، شیریں سخن

(بحوالہ تلامذہ شادؔ عظیم آبادی از سید نعمت اللہ ۔ مطبوعہ جون ۲۰۰۴ء)

۹۔رائے سنگھ عاقل (سوداؔ کے دوست): سنین غیر مذکور۔تعلق : پنجاب

نمونہ کلام: ؂ نہ بس اپنے سے کیا اُس کو مَیں رخصت عاقلؔ

جب میرا بس نہ چلا، تب مَیں خدا کو سونپا

(بحوالہ پنجاب کے قدیم اردو شعراء از خورشید احمد خان یوسفی۔مطبوعہ ۱۹۹۲ء)

۱۰۔شورؔ ، جارج پیش: پ۔۱۸۲۳ء بمقام کوئل ، علی گڑھ ۔ سن وفات غیرمذکور۔

فرینچ نژاد عیسائی ، اسلامی طرز معاشرت کا دل دادہ، والدہ جرمن نژاد اور مشہور اردوشاعر فراسوکین کی دُختر۔ چھَے (۶)دواوین، ایک مثنوی اور بیاض یادگارِ شورؔ ۔مشورہ سخن از رحیم بیگ میرٹھی و مُشیر دہلوی۔داغؔ کی جانب سے لقب: ’’مالکِ سخن‘‘

قطعہ: کعبے میں تو صدق و صفا کو پایا

بُت خانے میں ناز وادا کو پایا

حاصل نہ ہوا کہیں سے دل کا مقصد

جب خود ہی ڈھونڈ ا تو خدا کو پایا

۱۱۔موزوںؔ ، مہاراجہ رام نرائن: نواب سراج الدولہ کے مصاحب۔مشہور زمانہ شعر ؂ دِوانہ (دیوانہ) مرگیا ......کے خالق

نمونہ کلام: بھولی نہیں ہے مجھ کو بتوں کی اداہنوز دل کے نگیں پہ نقش ہے نام خدا ہنوز

۱۲۔کنورؔ ، راجہ اپوربوکرشنابہادر: ۱۸۰۷ء تا ۱۸۶۸ء۔والد اور دادا قادرالکلام سخنور۔دواردو دواوین اور بہت سا علمی کام۔تصوف کے شائق۔غزل اور رباعی میں خاص کر ملکہ حاصل تھا۔تعلق : کلکتہ

حمدرب جلیل: کروں حمد طاقت مجھے ہے کہاں بڑا سب سے ہے وہ خدائے مہرباں

ہوئے اُس کی قدرت سے سب آشکار زمین و زماں اور ہفت آسماں

ستارے ، قمر اور تابندہ طُور کیا اِک کرشمے سے اُس نے عیاں

سبھی نیست نابود آخر کو ہیں تنزل نہیں اُس کو ہے جا وداں

۱۳۔دیبؔ ، دیناناتھ: اواخر انیسویں صدی کے ماہر اردو ، فارسی ، سنسکرت و انگریزی۔مصنف، مؤلف ، مترجم وشاعر۔تعلق: کلکتہ

مناجات: جہاں پَروَرا ہے تُورب کریم عجیب وعلیم و رَؤف و رحیم

یہ ہے تجھ سے یارب مِری التجا کہ تیرا ثنا ء خواں رہوں مَیں سدا

زباں کو رہے ذکر سے تیرے کام رہے تیری ہی یاد ، دل میں مدام

مجھے اپنی رحمت سے کرشاد کام بخوبی ہو شایع یہ میرا کلام

تِرے ہاتھ ہے سب سیاہ سفید نہ کرنا تو نَومید کو ناامید

.........(جواہر التعلیم کے آغاز میں مندرج.........

}کلکتے کی ادبی داستانیں از ڈاکٹر وفاؔ راشدی۔مطبوعہ ۱۹۹۹ء{

’گلشن حمد‘ کی بعض اغلاط کا ذکرہوجائے۔بھگوان داس برقؔ کا سن پیدائش سہوِ کتابت سے ۱۸۸۱ء کی بجائے دومرتبہ ۱۹۸۱ء درج ہوا۔سن وفات درکار۔جوشؔ ملسیانی کا صرف سن پیدائش درج ہے، وفات کا سن تلاش کرکے شامل کرنا لازم۔جگت موہن لال رواںؔ کی ولدیت سہواًجگت موہن لال ہی درج ہے۔کنور مہندر(نہ کہ مہیندر)سنگھ بیدی سحرؔ کی وفات ہوچکی، سن درکار۔عرش ملسیانیؔ کا سن وفا ت (۱۹۷۹ء۔بحوالہ نقوش رسول نمبر جلد دہم)) غیرمذکور.....دوباتیں برائے اضافہ:

تلوک چند محرومؔ رباعی کے لیے بھی معروف ہوئے۔منشی بنواری لال شعلہؔ کا سن ولادت سہ ماہی اسباق، پونہ (حوالہ سابق) میں ۱۸۴۲ء اور سن وفات ۱۹۰۳ء درج ہے، تحقیق مزید ہوسکتی ہے۔

طاہرؔ سلطانی کی بیش بہا کتب میں بہ ذیل تذکرہ ،’حریم ناز میں صدائے اللہ اکبر‘ (سن اشاعت ۲۰۰۰ء)، ’گلشن حمد‘(۲۰۰۵ء)، ’خوشبوؤں کا سفر(۲۰۰۷ء) اور نعت کی بہاریں(۲۰۱۲ء) شامل ہیں۔وہ حمد کے انتخاب ، خزینہ حمد(۱۹۹۶ء) اور انتخاب مناجات (۲۰۰۳ء)کے علاوہ صلی اللہ علیہ وسلم (۲۰۰۴ء)، سلام بحضور خیرالانام ﷺ(۲۰۰۷ء)، ذکر آمد مصطفی ﷺ(۲۰۰۷ء) اور نعت رحمت (۲۰۱۳ء)جیسے وقیع انتخابات نعت بھی مرتب کرکے شایع کرچکے ہیں۔

نعت رحمت اس وقت تک شایع ہونے والے انتخابات نعت میں کئی اعتبار سے ممتاز ہے۔ اردو کے ۴۸۶ متوفیٰ شعراء کی ۶۲۷نعت، حروف تہجی کی ترتیب سے شامل کتاب ہیں، جن میں بعض اسماء غیرمعروف یا کم مشہور بھی ہیں۔ اس وقیع کتاب کی حاشیہ نگاری بھی جداگانہ اہمیت کی حامل ہوسکتی ہے۔

--------------------

سہیل احمد صدیقی

اصلی وقلمی نام یکساں۔۔۔کسی زمانے میں بعض فرضی نام ایک آدھ باراستعمال کیے تخلص: سہیل اور انجم مطبوعہ کتب کی تعداد: چھے مطبوعہ وآن لائن (اردو، انگریزی) تحریروں کی تعداد: سات سوسے زاید (بشمول صحافتی) زیرتالیف،تکمیل کتب: پندرہ مجموعہ کلام:  خوش کن ہے پت جھڑ-ہائیکوشاعری: سن اشاعت دوہزارچھے۔۔۔۔آن لائن سن دوہزارآٹھ (دنیابھرمیں اس ضمن میں اولین) امریکاسے شایع ہونے والے تین جہازی قامت کے انگریزی عالمی انتخاب شاعری نیزبرطانیہ سے شایع ہونے والے انگریزی عالمی ہائیکوانتخاب میں شامل واحد اردوشاعر

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form