مصطفیٰ ارباب کی نظمیں

August 4, 2018
دیدبان شمارہ ۸،مزاحمتی ادبنثری نظم

مصطفیٰ ارباب کی نظمیں

بگولا

****

میں

ایک بگولے میں رہتا ہوں

مجھے نہیں معلوم

میں اس کے اندر کیسےآ گیا

بہت تیز گھومتا ہے یہ

ایک پل بھی نہیں رکتا

تنہا کر دیتا ہے

یہ بگولا

کسی کو بلا بھی نہیں سکتے

اس بگولے کے اندر

ایک چکر میں رہتے ہوئے

کچھ بھی معلوم نہیں ہوتا

پتا ہی نہیں چلتا

بگولا خوشی کا ہے یا غم کا

ایک طرف ہو جاؤ

میں

تمھارے قریب سے گزر رہا ہوں

(مصطفٰی ارباب)

۔۔۔۔

ایک اور آدمی

*******

ہم

ایک جہنم میں رہتے ہیں

نہ جانے کہاں سے

آگ

لہراتی ہوئی آتی ہے

حدت سے

ہمارے بدن جھلسنے لگتے ہیں

تپش

ہماری سانسوں میں شامل ہوگئی ہے

میں سلگنے سے بچنے کے لیے

ایک آدمی کی آڑ میں ہو جاتا ہوں

وہ

مجھ سے پہلے سُلگے گا

میں

اضافی لمحے ملنے پر

اس کا شکریہ ادا کرتا ہوں

اور بھول جاتا ہوں

ایک اور آدمی

میری آڑ میں کھڑا ہوا ہے

(مصطفٰی ارباب)

۔۔۔۔

آنکھیں

*******

آنکھیں

دیکھنے کے لیے ہوتی ہیں

مگر مجھے

دو آنکھیں

دیکھنے کو نہیں ملیں

مجھے

آنکھیں ملی ہیں

آنسوؤں کو سنبھالنے کے لیے

مجھے

کچھ دکھائی نہیں دیتا

میں

ہر وقت اپنے آنسوؤں کو

سنبھالتا رہتا ہوں

بہت احتیاط کرنی پڑتی ہے

آنسوؤں کی دیکھ بھال میں

ذرا سی غلطی سے

آنسو

دوسری آنکھوں تک پہنچ جاتے ہیں

(مصطفٰی ارباب)

۔۔۔۔

بیان

*****

میں نے

کبھی نہیں ناپا

بات کی بلندی کو

دانش نے

مجھے جہالت سے روشناس کرا دیا

کسی بھی مقابلے میں

میرا نام نہیں ہوتا

میں ایک وسوسے کی طرح

زندگی کے آس پاس رہتا ہوں

مجھ سے بیان ہی نہیں ہوتی

ایک دل کی داستان

میں نے

محبت سے سیکھ لیا ہے

ناکام کیسے ہوتے ہیں

( مصطفٰی ارباب )

۔۔۔۔

زبان

******

مُجھے

صرف نفرت کی زبان آتی ہے

نفرت کالُغت نویس بن کر

میں اپنی زبان بُھول چُکا ہوں

محبت میری ماں بولی تھی

مگر زندہ رہنے کے لیے

مجھے نفرت کی زبان سیکھنی پڑی

میں ایک لڑکی کو

تلاش کر رہا ہوں

وہ مجھے

محبت کی متروک زبان سکھا دے گی

ایک لڑکی

اپنی ماں بولی کبھی نہیں بُھولتی

( مصطفٰی ارباب )

۔۔۔۔۔

دہکتی ہوئی یاد

***********

دہکتی ہوئی یاد

میرے بدن سے ٹکراتی ہے

اُس کالمس

مجھے پاگل سا بنا دیتا ہے

میں چیخ پڑتا ہوں

گوشت جلنے کی بُو

فضا میں پھیلنے لگتی ہے

میرے آنسوؤں میں

ایک چھناکے کے ساتھ

دہکتی ہوئی یاد

سرد ہونے لگتی ہے

میں

آس پاس کے منظر نامے کو دیکھتا ہوں

جو بدلا ہوا ہوتا ہے

میں سرد پڑنے والی یاد کو

بھٹی میں رکھتا ہوں

اَور دوبارہ

دھونکنی چلانے لگتا ہوں

مصطفی ارباب

تعارف:

مصطفٰی ارباب  1967 میں ضلع سانگھڑ سندھ کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے ۔ سندھ یونی ورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا۔ آج کل میر پورخاص میں قیام ہے اور اردو ادب کے استاد ہیں۔

لکھنے کا آغاز 1984 میں افسانہ نگاری سے کیا،پھر شاعری کی طرف متوجہ ہوئے۔1999 میں نظموں کی کتاب "خواب اور آدمی"شائع ہوئی۔ نئی کتاب "پا شکستہ نظمیں"زیرِ ترتیب ہے۔

اردو کے علاوہ سندھی میں بھی لکھتے ہیں۔ سندھی کے مترجم کے طور پر بھی شناخت رکھتے ہیں۔پاک و ہند کے معروف جرائد میں تخلیقات شائع ہوتی رہی ہیں۔

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form