ہارے ہوئے میچ کی جیت

January 9, 2019
"دیدبان شمارہ 9 "مزاحمتی ادبافسانہ افسانہ

دیدبان شمارہ 9

ہارے ہوئے میچ کی جیت

منیر احمد فردوس

E-Mail ID: mafirdows@yahoo.co.in

ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں کے ہمراہ سٹیڈیم میں قدم رکھتے ہی وہ ایک پل کے لئے تو دنگ رہ گیا۔ اتنا خوبصورت فٹ بال سٹیڈیم اس نے آج تک نہیں دیکھا تھا۔ چاروں طرف رکھی رنگ برنگی منقش کرسیوں سے ایسا منظر تخلیق کیا گیا تھا کہ یوں لگتا تھا جیسے سٹیڈیم لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا ہے۔ مختلف رنگوں کے شیشوں والے کیبن اور دودھیا قمقموں کی لہراتی روشنیوں میں گیلریاں دور سے ہیروں کی مانند چمکتی نظر آتیں۔ وی آئی پی اینکلوژرز پر تو آنکھیں ہی نہیںٹک پاتی تھیں جن کے ماتھے پر رنگ بدلتی دوڑتی ہوئی روشنیاں ایک الگ ہی منظر پیش کر رہی تھیں اور ہر طرف لگی ہوئی قدِ آدم سکرینیں سٹیڈیم کے چپے چپے کی اتنی بڑی بڑی ویڈیوز دکھا رہی تھیں کہ دیکھنے والا حیرت کی بارشوں میںبھیگ جائے۔

اس نے اوپر نگاہ ڈالی تو جگنوؤں کی طرح جگمگ کرتی چھت دیکھ کر اس کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ یہ پہلا اِن ڈور فٹ بال سٹیڈیم تھا جس کی چھت درمیان سے شق ہو کر دو حصوں میں تقسیم ہو جاتی اور اوپر سے نیلگوںآسمان جھانکنے لگتا تھا۔ جدید ترین سٹیڈیم کا بیرونی منظر بھی کسی عجوبے سے کم نہ تھا کہ دور سے یوں لگتاجیسے سڑک کے بیچوں بیچ ایک بڑی سی فٹبال پڑی ہو۔ وہ ایک مایہ ناز کھلاڑی تھا اور دنیا کے سبھی ملکوں میں کھیل چکا تھا مگر ایسا خوبصورت سٹیڈیم اس نے کہیں نہیں دیکھا تھا۔

وہ بطورِ کپتان اپنی ٹیم کے ساتھ اس نئے فٹ بال سٹیڈیم میں ہونے والا پہلا میچ کھیلنے آیا تھا اور اِس وقت ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں کے ساتھ مل کر پریکٹس کرنے میں مصروف تھا۔ اُسے اِس بات پر فخر محسوس ہو رہا تھا کہ اتنے شاندار اور جدید ترین سٹیڈیم کے افتتاحی میچ کے لئے ان کی ٹیم کا انتخاب کیا گیا تھا۔ وہ ہر صورت یہ میچ جیت کر اپنے لوگوں کے چہروں پر ایک تاریخی خوشی لکھنے کا خواہشمند تھا۔

ٹیم کے فزیو اور کوچ کی مدد سے شام تک پریکٹس کے دو تین سیشن چلتے رہے۔ اس نے اپنے ساتھی کھلاڑیوں سے مل کر وِننگ تیکنیک کو مزید مؤثر بنانے کے لئے انتھک محنت کرتے ہوئے خوب پریکٹس کی۔ اپنی ٹیم کی کڑی محنت پر اس کا یقین مزید پختہ ہو گیا کہ مضبوط حریف کو شکست کے جال میںبآسانی پھنسایا جا سکتا ہے۔

رات کو کھلاڑیوں اور ٹیم انتظامیہ کے ساتھ کھانا کھانے کے بعد وہ اپنے کمرے میں آ گیا۔ سونے سے پہلے حسبِ معمول اس نے ٹی وی لگا لیا۔ اپنے پسندیدہ سپورٹس چینل پرایک پرانے فٹ بال میچ کی جھلکیاں دیکھنے کے بعد وہ ریموٹ کا بٹن دباتا چلا گیا ۔ چینل تیزی کے ساتھ سرکتے جا رہے تھے کہ اچانک اس کی انگلیاں جم سی گئیں۔کسی چینل پر اس نئے سٹیڈیم کے بارے میں ایک رپورٹ دکھائی جا رہی تھی، جہاں اس نے کل افتتاحی میچ کھیلنا تھا۔ جگمگاتے اور انوکھے سٹیڈیم کو ٹی وی سکرین پر دیکھ کر اس کی دلچسپی بڑھ گئی اور وہ نظریں گاڑے رپورٹ دیکھنے لگا۔ منفرد سہولتوں سے آراستہ سٹیڈیم کے مختلف جادوئی مناظر نے اُسے مزید حیران کر دیا۔

"جی ناظرینüüüآپ نے اِس جدید ترین فٹبال گرائونڈ کے حیران کردینے والے مختلف حصے دیکھے جہاں کل پہلا میچ کھیل کر ایک تاریخ رقم کی جا رہی ہے۔ یقیناً اِس پر بہت خرچ کیا گیا ہے۔ ساری دنیا کی نظریں اس چمکتے دمکتے گرائونڈ پر لگی ہوئی ہیں اور اِسے دیکھ کر دنیا حیران ہو رہی ہے مگراِس چکا چوند میںکوئی نہیں جانتا یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے، چمکتا ہوا رخ۔اور اِس کے دوسرے رخ سے دنیا والے مکمل طور پر بے خبر ہیںمگر اِس کا دوسرا رخ ہم آپ کو دکھائیں گے بھی اور بتائیں گے بھی ۔

ناظرینüüü! اتنا جدید سٹیڈیم دیکھنے کے بعد کوئی بھی یقین نہیں کرے گا کہ جس جگہ پر یہ شاندار فٹ بال گراؤنڈ تعمیر کیا گیا ہے وہ پہلے کس کی ملکیت تھی اورمالکان اِس وقت کس حال میں ہیں؟ آئیے اِس روشن تصویر کا دوسرا رخ ہم آپ کو دکھاتے ہیں۔ "

حجاب اوڑھے پروگرام کی میزبان نے کہا اور اس کے بعد اچانک سٹیڈیم کی جگہ ایک عجیب سا منظر سکرین پر جھلملانے لگا۔

وہ کوئی خیمہ بستی تھی جہاں حدِ نگاہ تک خیمے ہی خیمے نصب تھے جو موسلا دھار بارش میں بری طرح سے بھیگ رہے تھے۔ خیموں کے اندر کے دل خراش منظر دیکھ کر وہ بے چینی سے پہلو بدل کر اٹھ بیٹھا۔ سردی سے ٹھٹھرے ہوئے معصوم بچے اپنی ماؤں کے سینوں سے چمٹے ہوئے تھے اور بوڑھے جوان مرد عورتیں کمبلوں چادروں میں دبکے رِستے ہوئے خیموں میں بے یارو مدد گار پڑے سردی کا مقابلہ کر رہے تھے جن کے اترے ہوئے چہروں پر دکھوں کی بارش ہو رہی تھی۔

وہ یہ المناک منظر دیکھ کر تڑپ اٹھا اور جلدی سے موبائل پر اپنے سبھی ساتھیوں کو میسج کر کے رپورٹ دیکھنے کو کہہ دیا۔ یہ خیمے نہیں بلکہ زمین کے سینے پر اگی ہوئی وہ المناک کہانیاں تھیں جن کے سسکتے کرداروں سے دنیا بے خبر تھی۔ خیموں کے اندر دکھوں کے انبار لگے ہوئے تھے۔ کہیں سوکھے سڑے وجود بھوک کی خوراک بنے ہوئے تھے تو کہیں جھانکتی ہوئی موت کے سامنے لاغر بیمار جسموں کو ڈرپیں لگی ہوئی تھیں۔ کسی خیمے میں چپکے سے آنسو بہاتی ویران آنکھیں تھیں تو کہیں کسی لاش کے گرد بین کرتے ہوئے بے بس و لاچار لوگ تھے۔ یہ مناظر دیکھ کر وہ ایک دکھ بھری بے چینی میں مبتلا ہو گیا۔

"جی ناظرینüüü! آپ نے دیکھا ان نہتے اور بے گھر لوگوں کو جو اُس جگہ کے مالک ہیں جہاں اِس وقت دنیا کا جدید ترین سٹیڈیم کھڑا کر کے اس کے کرتا دھرتا خود کو تہذیب یافتہ قوم کہتے نہیں تھکتے۔مگر دنیا خاموش ہے اور وہ خاموش ہی رہے گی کیونکہ خیموں میں سسکتے بلکتے ان مظلوم لوگوں کو اِس حال میں پہنچانے والی وہی نام نہاد مہذب قوم ہے جن کے حکمران دنیا میں امن کے نام پر بارود بو رہے ہیں ۔ مگر افسوس کہ دنیا ان کے مکروفریب کے جال میں جکڑی ہوئی ہے اور وہ صرف وہی دیکھتی ہے جو اسے دکھایا جاتا ہے ، اس لئے اِن بے سہارا لوگوں سے ان کی زمین، ان کی ماں دھرتی چھین کر اورانہیں اس ابتر حالت میں قید کرنے کے باوجودہر طرف سکھ چین کے ڈھنڈورے پیٹے جا رہے ہیں مگر سچ ہم جانتے ہیں اور ہم یہ کڑوا سچ کل عالم میں پھیلا کر رہیں گے ۔ ہم سبھی قوموں کی ہمدردی حاصل کر کے ان مظلوموں کی آواز دنیا کے کونے کونے میں پہنچائیں گے تاکہ انہیں انصاف مل سکے۔

ناظرینüüü!ابھی تک آپ نے تصویر کا صرف ایک پہلو دیکھا ہے، اِس کے بہت سے پہلو دکھانا ابھی باقی ہیں ، جن سے آپ پوری طرح واقف نہیں ہیں گے۔"میزبان نے بارش سے بچنے کے لئے بڑی سی کالی چھتری تھامے مائیک ہونٹوں سے لگاتے ہوئے کہا جو رِستے ہوئے خیموں کے آگے ہی کھڑی تھی۔ اس کے بعد خیمہ بستی معدوم ہونے لگے اور اس کی جگہ ایک اور منظر سکرین پر جاگ اٹھا۔

وہ قریبی ملک کا ایک بہت بڑا سرحدی علاقہ تھا جہاں ایک پورا شہرآباد تھا۔ ہر طرف چھوٹی بڑی عمارتیں گنجان آبادی کا اعلان کر رہی تھیں۔لوگ مختلف بینر اٹھائے نعرہ بازی کر رہے تھے جن میں مرد ،عورتیں، بچے، نوجوان لڑکے لڑکیاں،معصوم بچیاں اور بوڑھے تک شامل تھے۔ سڑک پر ٹینکوں ،فوجی ٹرکوںاور بکتر بند گاڑیوں کی لائنیں لگی ہوئی تھیں اور مکینوں کو علاقہ چھوڑنے کی بار بار تنبیہہ کی جا رہی تھی مگر وہ کسی بھی اعلان کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں پر پتھراؤ کر رہے تھے۔جوں جوں اعلانات میں سختی آتی جا رہی تھی ، پتھراؤ کی شدت میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا تھا ۔ اس کے بعد ایک اعلان فضا میں لہرایا اوراگلے ہی لمحے ٹرکوں سے سبز وردیوں میں ملبوس تازہ دم فورس اتری اوراحتجاج کرتے ہجوم پر اندھا دھند لاٹھی چارج کر دیا ۔

وہ سکرین پر نظریں جمائے یہ المناک مناظر دیکھنے میں پوری طرح منہمک تھااور اس کے چہرے کے رنگ بدل رہے تھے۔

لاٹھی چارج کی زد میں آئے بچوں بوڑھوں جوانوں نے بھرپور مزاحمت شروع کر دی جنہیں گھونسوں لاتوں اور ڈنڈوں سے مارتے ہوئے گریبانوں سے پکڑ پکڑ کر گھسیٹا جانے لگا جن میں مرد عورت کی تمیز نہیں کی گئی اور ہر طرف گونجتی چیخ و پکار نے علاقے کو میدانِ جنگ میں بدل دیا۔ جب مزاحمت زور پکڑ گئی تو اچانک ان نہتے لوگوں پر فائر کھول دیا گیا اور پلک جھپکتے میں کئی وجود خون میں لت پت گرتے چلے گئے۔ اس کے بعد تڑ تڑ کی آوازوں اور دلدوز انسانی چیخوں سے پورا علاقہ لرزگیا ۔

وہ یہ سب دیکھ کر کانپ اٹھا۔ منظر ایک بار پھر بدل گیا اور اب پورا علاقہ کالے دھوئیں کی لپیٹ میں آ چکا تھا۔ ٹوٹی پھوٹی اور اجڑی ہوئی عمارتوں میں آگ کے شعلے بلند ہو رہے تھے۔ ہر طرف عمارتیں ملبہ بن کر بکھری ہوئی تھیں۔ گلی کوچوں میں اڑتے گردو غبار کے بادلوں میں معصوم بچوں مردوں اور عورتوں کی چیری پھاڑی ہوئی بے گوروکفن لاشیں پڑی تھیں۔ دیواروں میں چھید ہی چھید تھے۔ فضاؤں میں تیرتے جنگی جہاز چاروں طرف میزائل برساتے ادھر سے ادھر آ جا رہے تھے۔ پورا علاقہ دھوئیں کی سیاہ چادر اوڑھ چکا تھا اور اس گاڑھے دھوئیں نے نہتے بے قصور لوگوں پر موت برسانے والوں کے اصل چہرے چھپا دیئے تھے۔

سکرین نے ایک اور منظر اُگلا۔ پورا علاقہ اجڑ چکا تھا۔بچے کھچے رہائشی اپنی جانیں بچاتے ہوئے وہاں سے جا چکے تھے۔ ویران گلیاں ادھڑی ہوئی عمارتوں کے ملبے سے بھری پڑی تھیں اور بڑی بڑی کرینوں کی مدد سے ملبہ ہٹایا جا رہا تھا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہاںجدید مشینیں آ کھڑی ہوئیں۔ بنیادیں کھودی جانے لگیں اور تعمیرومرمت کا کام شروع ہو گیا۔ دن رات کی کوششوں سے دنیا نے دیکھا کہ ایک اجڑے ہوئے خطے پر فٹبال کی شکل والا دنیا کا جدید ترین فٹبال سٹیڈیم بن گیا جو اپنے اندر چمک دمک لئے نہ جانے کتنی لاشوں پر کھڑا لوگوں میں حیرتیں بانٹ رہا تھا۔

خونی رپورٹ کب کی ختم ہو چکی تھی اور وہ ٹی وی بند کر کے افسردگی میںلپٹا اپنے بستر پر دراز ہو چکا تھا مگر اس کے اندر ہر طرف کالے دھوئیں کے بڑے بڑے ٹکڑے تیرتے پھر رہے تھے۔

****

سٹیڈیم میں لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر سما چکا تھا۔ چاروں جانب خوش و خرم دمکتے ہوئے چہروں کی بہار تھی اور ایک شورشرابے کا طوفان اٹھ رہا تھا۔ منچلوں کے گروپ گالوں پر اپنے ملک کا جھنڈا بنوائے جوش و خروش میں پرندوں کی طرح سے چہک رہے تھے۔ کہیں بینڈ بجائے جا رہے تھے، کہیں سیٹیاں بج رہی تھیں اور کہیں موسیقی کے ساتھ گانے گونج رہے تھے۔ گول سٹیڈیم میں ہر طرف میزبان ملک کے جھنڈے ہی جھنڈے لہرا رہے تھے۔ جھلملاتی ہوئی بڑی بڑی سکرینوں پرگرائونڈ کے مختلف حصوں کی فوٹیج دکھا کر پوری دنیا کو امن محبت کا پیغام دیا جا رہا تھا۔

جوش سے لبا لب بھرے لوگ میچ شروع ہونے کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔ میزبان ٹیم پہنچی ہوئی تھی اور مہمان کھلاڑیوں کا استقبال کرنے کی تیاریاں تقریباً مکمل کی جا چکی تھیں ۔شائقین مہمان ٹیم کے گرائونڈ میں داخل ہونے کا شدت سے انتظار کر رہے تھے مگروہ ابھی تک نہیں پہنچے تھے ۔ وقت گزر رہا تھا اور لوگوں کی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔یہاں تک کہ میچ شروع ہونے کا مقررہ وقت بھی ہو گیا مگر مہمان کھلاڑی ابھی تک نہیں پہنچے تھے۔میزبان ٹیم ، اس کی انتظامیہ اور گرائونڈ انتظامیہ کے چہروں سے پریشانی ٹپکنے لگی تھی، لوگوں کی بے چینی بھی اب آہستہ آہستہ پریشانی میں تبدیل ہو رہی تھی کہ جانے مہمان ٹیم کہاں رہ گئی؟ میچ شروع ہونے کا وقت گزر کر اُس سے آدھا گھنٹہ اوپر ہو چکا تھا اور سب کی نظریں عین اس جگہ پرگڑی ہوئی تھیں جہاں سے کھلاڑیوں نے سٹیڈیم میں داخل ہونا تھا مگر ان کا دور دور تک کوئی پتہ نہیں تھا ۔ شائقین نے آپس میں چہ میگوئیاں شروع کر دیں۔میزبان ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے تعجب کا اظہار کر رہے تھے۔ انتظامیہ نے جب ہوٹل سے رابطہ کیا تو پتہ چلا کہ ٹیم وہاں سے کب کی روانہ ہو چکی ہے مگر کسی کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ ابھی تک پہنچی کیوں نہیں؟

پورا گرائونڈ تذبذب کی زد میں آیا ہوا تھا کہ اچانک تمام سکرینیں ایک ساتھ جھمکیں اور ہر طرف ایئرپورٹ کا ایک جیسا منظر بیدار ہو گیا۔نشستوں پر بیٹھے لوگوں کی حیرت زدہ نظریں سکرینوں پر جم سی گئیں جہاں مہمان ٹیم کے کھلاڑی اپنے اپنے بیگ اٹھائے ایئرپورٹ پر کھڑے نظر آ رہے تھے اور میڈیا والوں نے انہیں گھیرا ہوا تھا۔دفعتاً کپتان کا چہرہ بڑی بڑی سکرینوں پر ابھرا جو کسی نیوز چینل کے نمائندہ سے بات کر رہا تھا۔ اس کی آواز پورے سٹیڈیم میں گونج رہی تھی۔

"میں جانتا ہوں کہ لوگ ہمارے فیصلے سے خوش نہیں ہوں گے اور انہیں مایوسی ہو گی مگر یہ تمام کھلاڑیوں اور ٹیم مینجمنٹ کا فیصلہ ہے کہ ہم ایسے گراؤنڈ پر ہرگز میچ نہیں کھیل سکتے جو معصوم بچوں بوڑھوں اور عورتوں کی لاشوں پر بنایا گیا ہو ۔ ہم انہیں اپنے بوٹوں سے کچل کچل کر ان کی مزید بے حرمتی نہیں کر سکتے۔ہم امن کے لئے کھیلنے آئے تھے مگر اب ہم امن کے لئے ہی احتجاج کرتے ہوئے یہ میچ چھوڑ کر واپس اپنے ملک جا رہے ہیں۔ اگر سپورٹس ہمیں انسانیت نہیں سکھا سکتی تو پھر اس کھیل کا کوئی فائدہ نہیں۔ امید ہے لوگ ہمیں معاف کر دیں گے۔"

کپتان کی گونجتی آواز خاموش ہوئی تو سٹیڈیم میں موجود سبھی چہرے ایک دم سے رات میں تبدیل ہو گئے اور ہر طرف یوں سناٹا چھا گیا جیسے وہ سٹیڈیم نہیں قبرستان ہو۔

منیر احمد فردوس

منیر احمد فردوس کا تعلق ڈیرہ اسمعیل خان سے ہے۔ بنیادی طور پر افسانہ نار ہین۔ نثری نظمین بھی لکھتے ہین۔ ان کے دو افسانوی مجموعے منظر عام پر ا چکے ہیں۔

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form