مائیکرو عُریانی کی اکنامکس

May 22, 2020
دیدبان شمارہ 11 نظمیں

مائیکرو عُریانی کی اکنامکس

شاعر : تنویر قاضی

مول کے

جادُو جگاتے زاوئیے

تول کے

پہلو دار کرشمے

تاک ہیں

قیمت لگانے میں

خوبصورتی کے مغرور

درختوں پر پھُدکتے

بدن کھُجاتے ، آسمان کی سمت پیٹھ کیے

کائیناتی بھید وں کے آگے بے بس

ندیدے پن کی آخری منزلوں میں

سِدھاے جانے پر

رقص بھی سیکھ لیا

پیش منظر کی صندلیں ریاکار ی اور

پُشت گھُماؤ کے عطر بیز ناچ پر

معاوضہ ملنے لگا

صراحی گردن کے نیچے کی گولائیاں

ناف ھمسائیگی کے کٹاؤ

تب زیادہ نمودار ھوئے

جب ریڑھ کی ھڈی کے کڑاکوں کے

مدھم شور میں

سیدھا پن مِل گیا

جسے صرف پرندوں نے

اپنی پرواز کے دوران

اینٹھن زدہ پروں میں محسوس کیا

خوابوں کی روئیدگی

جسموں کی شعلگی

بکاؤ ھو گئے

کنزیومر سوسائیٹی

بھاگ پڑی ، منڈی سجانے

پاگلوں کی طرح

گلوبل ولیج کے

میکرو سمبندھ میں

-----------

تنویر قاضی

تنویرقاضی کی پیدائش  11 ستمبر  1955کو ننکانہ صاحب میں ہوئی- تعلیم  ۔۔۔  ایم ۔ اے  ۔،۔ پنجابی ، ڈپلومہ ( انسیٹیوٹ آف بینکرز ین پاکستان)کرنے   کے بعد بینکر کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو نبھا تے ہوئے شاعری سے  بھی ناتہ نہیں توڑا .اس طرح ان کا شعری مجموعہ "جادو سبز ھواؤں کا 1998 میں آیا .ان کی پہلی  غزل "  پاکستانی ادب . کراچی  ، 1974 ..بیسویں صدی  ۔۔ دیلی انڈیا  ۔۔۔ 1974 اور پہلی  نظم ۔۔  وارث شاہ  ۔ملتان۔ (1974)میں شائع ہوئی 

Related Posts

No items found.

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form