میرا قصورکیا تھا؟

نصرت شمسی

             

بہن بھائیوں میں میرا چوتھا نمبر تھا۔مجھ سے بڑے دو بھائی پھر ایک بہن اور پھر میں پیدا ہوا۔جب میں تین سال کا تھا تب مجھے گڑیوں سے کھیلنا بہت اچھا لگا کرتا تھا۔میں آپی کے ساتھ گھنٹوں کھیلا کرتا حالانکہ یہ بات مجھے تو یاد نہیں ہاں اماں کے منھ سے ضرور سنی تھی۔پانچ برس کا ہوتے ہوتے بھی میرا یہی شغل رہا اور یہیں سے میری یاد داشت کا سفر بھی شروع ہوتا ہے۔جب میں پانچ برس کا تھا تو اماں نے میرا جنم دن منانے کا ارادہ کیا اس طرح کے چھوٹے موٹے پروگرام گھر میں ہوتے رہتے تھے۔اس نے میرے تمام ہم عمر ساتھیوں،پڑوسیوں اور قریبی رشتے داروں کو مدعو کیاتھا۔ مجھے اچھی طرح وہ دن یاد ہے اماں اور بڑے بھائیوں نے مل کر کیسے گھر کو اچھا خاصا سجالیا تھا۔

اماں بہت اچھا کیک بنایا کرتی تھیں وہ بھی کوکر میں سو ابا کے کہنے پر کیک انھوں نے خود ہی بنا لیا تھا۔شام آتے گھر میں کافی رونق محسوس ہونے لگی تھی۔ روز جلنے والی لائٹیں بھی آج زیادہ چمک دار ہوگئی تھیں۔کہیں موم بتی تو کہیں قمقمے جگمگا رہے تھے۔اماں نے دالان میں میزڈال کر اس کے پیچھے کی دیواریں رنگ برنگے غباروں  اور رنگین جھالروں سے خوب سجایا رکھی تھیں۔ان کے جہیز اور بری کے تمام جگمگاتے دوپٹے دیوار پر الگ الگ انداز میں لٹک رہے تھے۔پوری میز کو سفید جھالروں والے میز پوش سے ڈھک کر درمیان میں کیک کٹنے کا پورا انتظام اماں نے کر رکھا تھا۔اماں نے پانچ سال کی عمرمیں اپنے ہر بچے کا جنم دن منایا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ایک بار بچپن میں اور ایک بار جوانی میں اپنا جنم دن اس طرح منایا جانا چاہئے کہ تا عمر یاد رہے اور اسی سوچ کے سبب آج میرا نمبر تھا۔

ابا اماں اور سب بہن بھائی سجے سجائے مہمانوں سے خوش گھپپوں میں مصروف تھے۔ابا کاحکم تھا کہ کیک مغرب کی نماز کے بعد کٹے گا۔میں جسے اماں نے سب سے پہلے نہلا دھلا کر تیار کر دیا تھا کمرے میں بیٹھا تھا۔ہر آنے والا میرے پاس آتا مجھے پیار کرتا اور تحفہ دے کر چلا جاتاسب خوش تھے لیکن میں اتنا خوش نہیں تھا جتنا مجھے ہونا چاہیے تھا۔اس کی کیا وجہ تھی یہ میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔میرا دل اندر سے کچھ اور چاہ رہا تھا اور ایک بے چینی میرے اندر موجزن تھی۔اسی درمیان اللہ اکبر کی صدا نے سب کو اپنی طرف کھینچ لیا۔کچھ لوگ اٹھ گئے،کچھ چلے گئے اور کچھ لوگ صوفوں بیٹھے رہے۔میں اپنی جگہ سے اٹھا کمرے میں چلا گیا۔تھوڑی دیر بعد باہر پھر ہنگامہ جاگ اٹھا،ہنسی،قہقہے اور رنگ و بو کا جیسے سیلاب آگیا۔سب مجھے آوازیں دے رہے تھے اور میں کمرہ بند کیے اندر بیٹھا تھا۔اماں نے دروزہ بجا کر باہر آنے کو کہا اور بہت سی آوازوں نے میرا نام پکارنا شروع کر دیا تب میں نے اپنے قدم دروازے کی جانب بڑھا دیے۔دروازہ کھلا تو سب میرے منتظر تھے۔میں ہلکے ہلکے چلتا ہوا اماں کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔اماں نے مجھے دیکھا کیا تو ہاتھ سے مجھے آگے کیا،جیسے ہی سب کی نظر مجھ پر پڑی لگا محفل میں سب کو سانپ سونگھ گیا،اماں نے حیران نظروں سے مجھے دیکھا اور غصہ بھرے سخت ہاتھوں سے مجھے گھسیٹا اور ایک زوردار تھپڑ میرے سرخ گالوں پر رسید کرتے ہوئے مجھ سے پوچھا۔

”یہ کیا کیا؟“

 ”کیا کیا؟“میرے معصوم چکراتے سر سے آواز آئی۔

محفل پر جو سناٹا چھایا ہوا تھا وہ ایک دم ہی ہنسی اور قہقہوں میں تبدیل ہو گیا۔میں نے بڑہی معصومیت سے ابا کی طرف دیکھا مگر ابا کی آگ اگلتی آنکھوں نے مجھے آنکھیں بند کرنے پر مجبور کر دیا۔اب میرے چاروں طرف مضحکہ خیز ہنسی اور جملے بازی تھی

میری سمجھ میں آرہا تھا کہ میں نے ایسا کیاکردیا۔میں نے صرف اپنی پسند کے کپڑے ہی تو پہنے تھے۔مجھے آپی کے سجے سجائے کپڑے اور ان کی مختلف قسم کی سجاوٹ والی چیزیں بہت اچھی لگا کرتی تھیں۔میرا گناہ صرف یہی تھا کہ میں نے نماز کے وقفے میں اماں کے پہنائے کپڑے اتار کر آپی کی الماری کی چیزوں سے خود کو سجا لیا تھا۔آپی کی سرخ رنگ کی بڑے سے گھیر والی سنہری بیل لگی فراک جو پہن کر بہت پھول جایا کرتی تھی بہت اچھی لگا کرتی تھی۔میں نے اس کی میچنگ کی پنیں،ہیر بینڈ،چوڑیاں اورخوب گہری لپ اسٹک بھی لگائی تھی۔

”کیوں پہنے ہیں یہ کپڑے؟“

اماں نے غصے سے پھر مجھے جھنجھوڑا۔

”اماں! یہ سب مجھے بہت اچھے لگتے ہیں۔“

اماں کچھ اور کہنا چاہتی تھیں کہ ابا نے فوراً ان کا ہاتھ دبا دیا اور بات سنبھالنے میں ہی عافیت سمجھی اور خوش مزاجی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گویا ہوئے۔

”چلو……چلو،بچہ ہے کوئی بات نہیں۔آؤ کیک کٹواؤ۔“

میرے دھڑکتے دل کو ذرا تسلی ہوئی اور یوں وہ گرم ماحول ذرا سازگار ہوا اور میرا جنم دن منایا جانے لگا۔کیک کٹنے کے بعد اماں نے مجھے نہلا کر وہی شام والے کپڑے پہنا دیئے۔اس دن کی تصویروں میں میں کہیں لڑکی تو کہیں لڑکا نظر آتا ہوں۔میں نے جب جب ان تصویروں کو دیکھا مجھے اپنا والا روپ زیادہ اچھا لگا۔پارتی کے بعد اماں اور ابا دونوں نے میری پھر سے کلاس لی اور ابا نے سخت ہدایت دی کہ امنہ اس پر نظر رکھو، آج اس نے ایسی حرکت کیوں کی؟“

کچھ وقت کے بعد میرا ایڈمیشن قریب کے ایک اسکول میں کرا دیا گیا جہاں لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہی پڑھتے تھے۔میری دوستی لڑکیوں سے زیادہ ہو گئی اور یہ کوئی معیوب بات بھی نہ تھی۔لیکن میرے اندر کچھ تبدیلیاں آنے لگیں جسے میں بھی محسوس کرنے لگا تھا۔سب سے پہلی تبدیلی میری بولی میں آئی۔ میں خود کو مونث کی طرح استعمال کرتا۔عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ میری دلچسپی لڑکیوں والی چیزوں میں بڑھتی چلی جا رہی تھی۔جس کے بارے میں میرے معصوم دماغ میں نہ کوئی سوال اٹھتا اور نہ مجھے کوئی پریشانی ہوتی۔مجھے لگتا تھا کہ یہی سب مجھے اچھا لگتا ہے تو اس میں حرج ہی کیا ہے؟لیکن اماں اور ابا اکثر مجھے ڈانٹتے اور ٹوکتے رہتے۔ان کی گہری نظر مجھ پر رہنے لگی تھی۔

میں اکثر موقع ملتے ہی آپی کی چیزوں سے خود کو سجاتا سنوارتا اور گھنٹوں کھیلتا رہتا۔اماں کے دیکھنے سے پہلے ہی سب کچھ صاف کرکے باہر آجاتا لیکن اماں پونچھی ہوئی لپ اسٹک اور میک اپ دیکھ کر مجھ پر بہت غصہ کیا کرتیں اور پھر انھوں کمرہ بند کرکے مجھے اپنے پاس سلانا شروع کر دیا۔اسی ڈانٹ پھٹکار کے درمیان میں سات سال کا ہو گیا۔اب میرا سن شعور اتنا بڑھ گیا تھا کہ میں ضد کر کے اپنی بات منوانا چاہتا تھا۔اماں سے رو رو کر کہتا کہ آپی کی طرح مجھے بھی لڑکیوں والی چیزیں لا کر دو۔ادھر رفتہ رفتہ اسکول کی لڑکیوں کے گھروں سے شکایتیں آنا شروع ہو گئیں جو اماں کے کانوں تک پہنچنے لگیں تھیں اور میں لڑکی لڑکی کی صدائیں اپنے لیے ہر طرف سے سننے لگا۔ادھر گھر میں بھی میری دلچسپی اماں کے لاکھ منع کرنے کے باوجود لڑکیوں کی چیزوں میں بڑھتی ہی جا رہی تھی۔اماں جتنا منع کرتیں میں اتنا ہی آپی اور اماں کی چیزوں سے خود کو سجاتا سنوارتا رہتا۔

میری بڑھتی ہوئی شکایتوں کے مد نظر ایک دن ابا نے میرے تمام راستے بند کر دئے اور اعلان کردیا کہ میں اب اسکول نہیں جاؤں گا۔میں بہت رویا چلایا مگر سب بے سود!میرے لیے سخت ہدایات جاری ہو گئیں کہ مستقل ایک کمرے میں رکھا جائے اور کسی آئے گئے کے سامنے نہ آنے دیا جائے۔بس گھر میں ہی رہے۔کوئی پوچھے تو کہہ دیا جائے کہ طبیعت خراب ہے۔زندگی مجھ پر اس قدر تنگ کر دی گئی۔وہ بھی میرا قصور بتائے بغیر۔میں ایک سات سال کا چھوٹا بچہ اور یہ سختیاں،یہ بیزاری،میرا کچا ذہن یہ سمجھ ہی نہیں پا رہا تھا کہ ہ ایسا کیا ہو گیا ہے؟میں نے ایسا کیا کردیا جو مجھے اتنی سخت سزا دی جا رہی ہے۔بس اتنی سی تو بات ہے کہ مجھے لڑکیوں کی چیزیں پسند ہیں۔ان کی چوڑیاں،لپ اسٹک،پا زیب،ساڑی یہ سب پسند ہے تو کیا ہوا؟ بھیا بھی تو اپنی پسند کے کپڑے اماں کے ساتھ جا کر لاتے ہیں۔انھیں تو کوئی کچھ نہیں کہتا اگر میں کبھی دروازے پر اماں کی طرح دوپٹہ اوڑھ کر چلا جاتا ہوں تو سب اتنا ناراض کیوں ہوتے ہیں؟اماں مجھے خونخوار نظروں سے کیوں دیکھتی ہیں؟اور اس کے جانے کے بعد اماں سختی سے کہا کرتیں:

”نہیں جاؤگے دروازے پر تم!بس اپنے کمرے میں رہا کرو۔“

میں لال آنسو بہاتا اپنے کمرے میں چلا آتا۔کچھ دیر روتا پھر گھر کی ہی چھپائی آپی اور اماں کی چیزوں سے خود کو سجانے میں لگ کر گھنٹوں خود کے ساتھ کھیلتا رہتا۔ دونوں بڑے بھائی میری الگ پسند ہونے کے سبب مجھ سے دور آپس میں کھیلتے اور مگن رہتے۔اس طرح میں اپنے بھائیوں سے دور ہوتا چلا گیا اگر میں کبھی ان کے ساتھ کھیلنے چلا بھی جاتا تو وہ مجھ پر خوب ہنستے اور کھیل بگاڑ کر چلے جاتے۔اس وقت میرا ننھا سا دل کس قدر دکھا کرتا اس غم کو شاید ہی محسوس کوئی کر سکتا ہے۔میرا ان سے خون کا رشتہ تھا۔میرے سگے بھائی تھے۔میں ان کے ساتھ وقت گزارنا،کھیلنا،ان کے ساتھ مل کر کھانا پینا چاہتا تھا مگر……صرف آپی تھیں جنھیں اس بات کا خیال تھا وہ میرے ساتھ کھیلا بھی کرتیں اور کافی وقت بھی گزار لیا کرتیں مگر جب اماں انھیں دیکھ لیا کرتیں تو ڈانٹ کر کمرے میں بھگا دیتیں اور میرا دروازہ بند کرکے یہ کہہ کر چلی جاتیں کہ کھیلتے رہو اپنے آپ۔ جب تک تم ٹھیک حرکتیں نہیں کروگے تب تک تمہاری یہی سزا ہے۔

سزا……؟مجھے سزا کیوں؟میں کبھی روتے روتے اور کبھی دروازہ بجا بجا کر ان سے پوچھتا رہتا پھر زمین پر پڑ کر سو جاتا اور کبھی اپنی دنیا میں جا کر سکون حاصل کر لیتا۔میری چال ڈھال،اٹھنے بیٹھنے،چلنے پھرنے میں اس قدر نسوانیت آتی جا رہی تھی کہ گھر کے لوگ اب مجھے برداشت نہیں کر پا رہے تھے۔گھر والوں کے اس روپے نے مجھے ضدی،ہٹ دھرم بنا دیا تھا۔ابا کی نظروں میں میرے لیے بے زادی ہی بیزاری ہوتی۔ان کا شفقت بھرا ہاتھ کبھی میرے جسم کو نصیب ہوا ہو مجھے یاد نہیں۔اماں بھی بس میرے کھانے پینے کے وقت مجھے کھانا دینے آتیں تو نظر آجاتیں۔میں اب دسترخوان سے بھی دور ہوتا جا رہا تھا۔گھر والوں کا یہ نارواں سلوک میرے دل میں خنجر کی طرح چبھنے لگا  تھا۔ابا نے کئی مرتبہ اماں کو کچھ دوائیں اور تعویذ بھی دیئے کہ مجھ پر استعمال کر لیں اور اماں نے کیں بھی لیکن سب لا حاصل ہی رہا۔

اب میں دس سال کا ہو چکا تھا گھر والوں سے رابطہ ٹوٹے تو عرصہ گزر گیا تھا۔گھر والوں اور بھائی بہنوں کی ہنسی کی آوازیں میرے کانوں کو اندھیرے کمرے میں رلا دیا کرتیں،میں اپنے کانوں پہ ہاتھ رکھ لیتا اور کمرہ بند کرکے اپنی پسند کی دنیا میں یوں محو ہو جاتا کہ پھر پوری کائنات بھی شور مچائے تو مجھے سنائی نہ دے۔

گزرتے وقت کے ساتھ میرے اپنوں کا ساتھ میرے لیے بیگانہ بنتا چلاجارہا تھااور تنہائی میری رشتے دار بنتی جا رہی تھی۔اب میں پندرہ سال کا ہو گیا تھا۔عزیز رشتے دار میرے بارے میں پوچھتے تو امی طبیعت خراب ہے کہہ کر ٹال دیا کرتیں۔کوئی آجاتا تو اماں بیچ میں اٹھ کر میرے پاس آتیں اور مجھے سختی سے ہدایت دیتیں کہ سلیقے سے باہر آکر سلام کرکے واپس اپنے کمرے میں آجانا۔ میں اماں سے بہت محبت کرتا تھا اور کیوں نہ کرتا؟میں ان کا حکم بجا لاتا اور اس طرح گھر والوں کا بھرم بنائے رکھتا۔میں پڑھے لکھے گھر کا پہلا جاہل بچہ بنتا جا رہا تھا۔جس سے صرف اپنا نام ہی لکھنا آتا تھا اور کچھ ٹوٹا پھوٹا سمجھ لیا کرتا۔اسکول گیا ہی کتنا تھا؟ابتداء میں قرآن پڑھنے مدرسہ بھی جاتا تھا مگر ابھرنے والی نسوانیت نے مجھے وہاں سے بھی دور کردیا کیونکہ وہ لڑکوں کا مدرسہ تھا۔ آپی کا بڑا کرم تھا  مجھ پر۔جب بھی موقع ملتا وہ میرے کمرے میں آجاتیں اور مجھے نماز۔دعا اور کچھ لکھنا پڑھنا سکھا دیا کرتیں۔بہت سمجھایا کرتی کہ مجھے لڑکا بن کر رہنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔تب میں ان سے پوچھتا کہ آپی میں ایسا کیوں ہوں؟لیکن اس ٹیڑھے سوال کا جواب ان کے پاس بھی نہیں تھا۔آپی بڑے پیار سے میرے گلے میں ہاتھ ڈال کر بڑے پیار سے ”میرا پیارا بھیا“کہتیں اور پیار کرتیں تب میں ان سے کہتا کہ میں ان کی بہن ہوں بھائی نہیں۔

میں نے اپنے لیے گھر والوں کی نظر میں نٖفرت اور بے زاری دیکھی تھی۔ دونوں بھائی اکثر مجھے لگتا میرا مذاق اڑا رہے ہوں اور ابا کی نظریں ……جیسے کہتے ہوں کمبخت تو ہماری ہی قسمت میں کیوں تھا؟اماں بھی اکثر انھیں جذبات سے آشنا لگتیں،بس ایک میری آپی تھیں جو جن کی نظروں میں میں نے اپنے لیے بے پناہ محبت اور تڑپ دیکھی تھی۔وہ چپکے چپکے میرے لیے بہت کچھ کیا کرتیں۔

ابا کا حکم تھا کہ کسی بھی طرح یہ خبر گھر سے باہر نہ نکلے کہ مجھ میں یہ کمی ہے۔سارے خاندان کیا شہر بھر میں ناک کٹ جائے گی۔اٹھنا بیٹھنا مشکل ہو جائے گا۔

ایک دن جب میں کھانے کی پلیٹ رکھنے میز تک گیا تب ابا کی کھسر پھسر میں نے اپنے کانوں سے سنیں۔وہ اماں کو سمجھا رہے تھے کہ اب ایسا کیا کرو کہ جو کوئی بھی گھر میں آئے اور اس کے بارے میں پوچھے تو کہہ دینا کہ بیمار رہنے لگا ہے ڈاکٹرز نے آرام کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ابا کی یہ زہر بھری آواز اور چاقو کی نوک بنے الفاظ میرے دل میں اس طرح پیوست ہوئے کہ میرے بدن میں رعشہ پیدا ہو گیا اور پلیٹ میرے ہاتھ سے گر کر میرے دل کی طرح چکنا چور ہو گئی۔سب نے مجھے دیکھا لیکن کسی نے مجھے سنبھالنے کی ضرورت محسوس نہ کی۔آپی تھوڑی بے چین ہوئیں لیکن ابا کی خشمگیں نگاہوں نے ان کے بدن جما دیے۔میں ……اور میرا چہرہ اس وقت واقعی کسی مہلک مرض میں مبتلا مریض سے زیادہ پیلا لگ رہا تھا اور بدن اس سے بھی زیادہ کمزور۔

چند لمحے گزرنے کے بعدمیں تھر تھر کانپتے پیروں سے اپنے کمرے میں آیا اور دروازہ  بند کرکے پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔یہ وہ لوگ تھے جن سے میرا خونی تعلق تھا۔باپ بچوں کے لیے ایک سایہ دار درخت جو سائے کے ساتھ ساتھ پھل بھی دیتا رہتا ہے۔دھوپ کی سختی سہتا ہے اور بچوں کو اپنی چھاؤں میں رکھ کر بھی خوش رہتا ہے۔وہی باپ اپنی اولاد کو مہلک مرض میں مبتلا بتا کر مطمئن تھا۔اس کے دل میں  میرے لیے کوئی احساس نہ تھا۔ماں جو بچے کو دنیا کا ہر دکھ سہہ کر سکھ دیتی ہے۔اس کی ایک مسکان کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرکے بھی خوش رہتی ہے وہ ماں آج میرے لیے اجنبیوں سے زیادہ اجنبی بلکہ دشمنوں کی حیثیت رکھتی تھی۔سب کچھ سن کر بھی نہ تڑپی۔جب ماں اور باپ ہی بے چین نہ تھے تو بھائیوں سے کیا گلہ۔میں اس گھر میں اس دن اجنبی ہو گیا تھا۔اجنبی بھی نہیں اجنبی کے ساتھ تو حسن سلوک کیا جاتا ہے۔دشمن تھا جیسے میں ان سب کے لیے۔

اس واقعے کے بعد میرا کمرے سے نکلنا جیسے ختم سا ہو گیا تھا۔باہر جانے کی کوئی وجہ بھی نہ ہوتی۔برش سے لے کر سونے تک میری چند ضروریات تھیں جو کمرے میں ہی موجود تھیں۔کھانا دروازہ بجا کر اماں رکھ جایا کرتیں۔بس آپی موقع دیکھ کر کبھی کبھی مجھے سینے سے لگانے آجایا کرتیں اور اپنی بہت سی چیزیں مجھے دے جایا کرتیں۔کبھی نیل پالش،کبھی پنیں اور کبھی کچھ اور۔شاید انھیں احساس تھا کہ میری زندگی میں جو تھوڑی سی خوشی بچی ہے وہ یہی سب سامان ہے۔میں ان بیکار چیزوں میں اپنی زندگی کی خوشیاں تلاش کرتا اور خوشی محسوس کرنے کی کوشش کرتا۔

عمر کے ساتھ ساتھ میری نسوانیت بھی بڑھتی جا رہی تھی جس پر روک لگانا میرے اختیار میں نہیں تھا۔اکثر مجھے اپنا مردانہ جسم بہت برا لگتا۔میں گھنٹوں اسے دیکھ کر سوچتا کہ اس کا کیا کچھ کیا جا سکتا ہے؟میں خدا سے بھی اکثر شاکی ہوجاتا کہ اس نے میرے لیے کیا زندگی چنی۔ جسم مردانہ اور خواہشات زنانہ،آخر میں کون سی زندگی جینے کے قابل رہا؟مرد ہوتے ہوئے بھی مرد نہیں اور صرف خواہشات سے کوئی عورت بن نہیں سکتا تھا۔جو بھی تھا جیسا بھی تھا ایک نارمل زندگی گزارنے کا تو حق دار تھا۔گھر والوں کی محبت اور ان کا ساتھ،میری تعلیم و تربیت،معاشرے کی ضرورت،لوگوں کے ساتھ اور دوستوں کی ضرورت اور خواہشات پوری کرنے کی تمنا مجھے بھی تو تھی۔

عمر سترہ سال کی ہونے لگی۔گھر میں سب سے چھوٹا تھااب میں بھی جوان تھا۔مجھ سے بڑے تو اب بہت بڑے ہو چکے تھے۔ اب ان کی زندگی میں دوسری خوشیاں دستک دینے لگی تھیں۔آپی جوان ہو کر بہت خوبصورت ہو گئی تھیں۔میں نے کئی بار گھر میں اجنبی خواتین کو آتے جاتے دیکھا تھا۔ایک نیا احساس پیدا ہوا تھا کہ  اب گھر میں آپی کی شادی ہوگی۔اس تصور نے مجھے بہت خوش کردیا تھا۔ میں اس لمحے بھول گیا تھا کہ گھر میں میری حیثیت کیا ہے؟مہمانوں کی آمدورفت نے ایک دن آپی کو پرایا کر ہی دیا۔یہ خبر مجھے آپی نے ہی دی تھی۔اس دن وہ بہت روئی تھیں۔

”میرے بھیا! اب میں تجھ سے کیسے ملا کروں گی؟تیرا کیا ہوگا؟“

صدمہ میں تو میں بھی بہت تھا۔پھر انھیں تسلی دی کہ اب میں بہت بڑا ہو گیا ہوں،مجھے اس ماحول کی عادت ہو گئی ہے۔اب مجھے کسی کی ضرورت نہیں ہے۔بس آپی رخصت ہونے سے پہلے اپنا سب سامان مجھے دے کر جانا،وہی آپ کی یاد اور میری زندگی کا سہارا ہوگا۔اس دن آپی نے مجھے چپکے سے ایک اینڈرائڈموبائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ اب اس سے اپنا دل بہلا لیا کرو۔وہ موبائل میری زندگی میں بڑی تبدیلی لایا۔رفتہ رفتہ آپی نے مجھے نیٹ چلانا بھی سکھا دیا تھا۔یہ میری زندگی میں بڑی خوش آئند تبدیلی تھی۔ اب میں ایک نئے نام سے فریبی دنیا میں جینے لگا تھا او ران خواہشات کی تکمیل تلاش کرنے لگا تھا جو قدرت نے میرے اندر نہ جانے کیوں بھر دی تھیں مگر اس درد کے باوجود بھی میری زندگی میں بہت بڑا خلا تھا۔اپنوں سے دوری کا،محبت کی تشنگی تھی،آرزؤں کا قتل تھا اور اپنے وجود کے لیے بے زار نظروں کو جھیل کر زندہ رہنے کی مجبوری تھی۔کئی بار خیال آیا کہ خود کشی کرلوں۔ایک بار ارادہ کر بھی لیا مگر اسی دن ابا کی باتیں سن لیں۔وہ امی سے کہہ رہے تھے کہ مجھے ڈر ہے ہمارے گھر کی اس مصیبت کا پتہ اگر میری بچی کے سسرال والوں کو چل گیا تو اس کی ڈولی کیسے اٹھے گی؟

میرے پختہ ارادے میں آپی کی محبت نے درار ڈال دی۔میرے لیے سارے گھر والے غیر اہم ہوسکتے تھے مگر آپی نہیں،ان میں میری جان بستی تھی۔ابا کی یہ بات میرے دل کو لگ گئی اور میں نے خود کو ختم کرنے کا ارادہ ختم کر دیا۔ میں انھیں خوش دیکھنا چاہتا تھا۔میں اچھی طرح محسوس کر سکتا تھا کہ زندگی کو لے کر ان کی کیا تمنائیں ہوں گی۔کیسے کیسے سنہرے سپنے ان کی آنکھوں میں تیرتے ہوں گے۔ان کی پلک پلک خواہشات کیا ہوں گی؟محسوس کیسے نہ کرتا آخر میں بھی تو اندر سے لڑکی ہی تھا۔آپی کی زندگی کی خاطر تو میں زہر بھی پی سکتا تھا اور یہ زندگی زہر سے کم بھی نہ تھی۔

گھر کے ہنگامے بڑھتے چلے گئے اور میری تنہائیاں بھی۔پہلے آپی کی منگنی ہوئی۔منگنی……کتنا خوش تھا میں کہ اس موقعے پر تو گھر والے مجھے قید سے رہائی کی  اجازت دیں گے۔ آخر ان کے پاس اور چارہ بھی کیا ہے؟میں دل ہی دل میں آپی کی منگنی کے خواب دیکھ رہا تھا اور میں نے خود کو بھی کسی نہ کسی طرح منا ہی لیا تھا کہ اس دن مجھے آپی کی خوشی کے لیے خود کو مرد ہی بنائے رکھنا ہے مگر ہائے رے میرے اپنوں کی کرم فرمائیاں ……سوچ کر بھی گھن آتی ہے۔کیسی محبت تھی ان اپنوں کی میرے لیے؟منگنی والی صبح اماں میرے کمرے میں آئیں اور مجھے کافی کا مگ تھما گئیں کہ آج گھر میں مہمانوں کے ناشتے کے لیے بنائی ہے تم بھی پی لو۔اماں کا قدرے نرم لہجہ میرے اندر امید کے پھول کھلا گیا۔چند منٹ اماں بیٹھی رہیں اور آس پاس کی چیزیں سمیٹتی رہیں۔ میں نے کافی پی لی تو مگ لے کر چلی گئیں۔

میری آنکھ کھلی تو میں نے گھر میں سناٹا محسوس کیا۔گھبرا کر اٹھا، لائٹ جلائی اور دروازے تک آیا۔گھر میں اتنا سناٹاکیوں ……؟آج تو آپی کی منگنی ہے؟بے چینی سے دیوار پر لگی گھڑی کو دیکھا تو اف……اتنا بڑا ظلم……اتنا بڑا دھوکہ……اماں مجھے نفرت ہوگئی تم سے آج……اماں تم اتنی شاطر نکلوگی۔میرے سامنے کافی کا مگ گھوم گیا جس میں مجھے اماں کا خلوص نظر آیا تھا۔میرے پاس غصہ اتارنے کو تھا ہی کیا سوائے چار دیواری کے۔میں نے کمرے کی دیوار سے اپنا سر پھوڑ لیا۔اس دن آنکھوں نے آنسو نہیں خون بہایا تھا۔خود سے نفرت اس دن اور بڑھ گئی اور فوراً ہی جان دینے کا خیال دل میں اتر آیا۔ایک لمحے تو دل چاہا کہ گھر کو آگ لگا دوں اور اس آگ میں مجھ سمیت سب جل کر مرجائیں لیکن آپی کی بے لوث محبت ہر بار میرے پاؤں میں بیڑیاں ڈال دیتی۔ تمام گھر والوں سے بے پناہ نفرت کے باوجود کہیں نہ کہیں میں ان سے محبت کرتا تھا۔شاید خون کا رشتہ ہونے کے سبب،مگر آپی اگر آپی مجھ سے خود کہیں کہ لے یہ چاقو اور کاٹ ڈال اپنی گردن تو میں اف تک نہ کرتا اور خود کو ہلاک کر دیتا۔

اس رات میں چپکے سے کمرہ کھول کر آپی کے کمرے میں گیا۔آپی بے خبر سو رہی تھیں۔ان کے ہاتھ پیر خوبصورت مہندی سے سجے بہت حسین لگ رہے تھے۔ چہرے پر سادگی کے باوجود بہت حسن اور چمک تھی۔صوفے پر ان کے دن میں پہنے کپڑے پڑے تھے،میں نے چند لمحے آپی کو تکا اور پھر ان کے عروسی لباس کی طرف بڑھ گیا۔ پنک کلر کے خوبصورت کام والا غرارہ،بھاری بیل لگا دوپٹہ اور میچنگ کی جیولری، بہت دیر تک میں اس سامان کو دیکھتا رہا اور اس پر ہاتھ پھیرتا رہا پھر آپی کا موبائل اٹھا کر دن بھر کی ہنگامہ آرائی کو دیکھنے لگا۔کتنی پیاری لگ رہی تھیں آپی دلہن بنی،ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ آپی کو اٹھاؤں یا واپس چلا جاؤں کہ آپی خود ہی جاگ گئیں۔مجھے دیکھ کر پہلے حیران ہوئیں پھر گلے لگا کر خوب روئیں۔ہم دونوں ہی خوب روئے۔پھر آپی نے مجھ سے وہ کام کرنے کو کہا جس کی آرزو میں کہیں اپنے اندر دفن کر چکا تھا۔چاہنے کے باوجود بھی میں کبھی وہ کام کر نہیں سکتا تھا مگر تمنا شدید تر تھی۔آپی نے کمرہ بند کیا اور مجھ سے کہا کہ چلو میں تمہیں دلہن بناتی ہوں۔آپی کے الفاظ سن کر میں ان کے قدموں سے لپٹ گیا اور اس دن رو رو کر میں نے پوچھا کہ آپی مجھے بتاؤ کے میں آدھا مرد اور آدھا عورت کیوں ہوں؟اس کا حل کیا ہے؟میں کیسے زندگی جیوں؟کیا کروں؟اب تو تم بھی چلی جاؤگی پھر تو یہ گھر میرے لیے قید با مشقت ہو جائے گا۔کیا ہوگا میرا؟مجھے بتاؤ سب نا رمل ہیں تو پھر میں ایسا کیوں ہوں؟ہم دونوں پھر رو دیئے لیکن آپی نے جلدی سے میرا ذہن تبدیل کر دیا کہ وقت کم ہے صبح ہو جائے گی تو سب جاگ جائیں گے۔چلو جلدی کرو۔آپی نے کمرہ بند کیا اور مجھے غسل خانے میں دھکیل دیا۔

وہ رات میری زندگی کی یاد گار اور حسین رات تھی اگر کہیں زندگی میں خوشی محسوس ہوئی تو بس اسی پل جس پل آپی نے مجھے پورا سجا سنوار کر آئینہ دکھایا تھا۔آپی کے سارے زیور،غرارہ سوٹ اور میک اپ سے آراستہ میں ایک دلہن بناکھڑا تھا اور خود کودیکھ کر حیران بھی تھا کہ کتنا پیارا لگ رہا تھا۔اگر قدرت نے مجھے جسمانی طور پر عورت بنایا ہوتا تو یہ رنگ روپ یہ سولہ سنگھارمیری بھی قسمت ہوتا۔میں بھی کسی کے کاندھے پر سر رکھ کر اپنے حسن کی تعریف سنتا اور شرما کر نظریں جھکا لیتا۔اس رات ہم دونوں نے بہت سارے فوٹو کھینچے پھر ناشتہ کیا اور فجر ہونے سے پہلے میں اپنے کمرے میں واپس آ کر قید ہوگیا۔

آپی نے مجھے وہ خوشی دی تھی جو میرے جینے کا سہارا بن گئی۔جب بھی میرے دل میں تمنائیں انگڑائیاں لیتیں،خواہشات سر ابھارتیں میں وہ فوٹو دیکھ کر خوش ہو جاتا اور پھر اپنے پاس جمع سامان سے کچھ ٹوٹی پھوٹی آرزؤئیں پوری کرنے کی کوشش کرتا۔

میں نے اماں سے ایک بار بھی یہ نہ پوچھا کہ انھوں نے میرے ساتھ اتنا بڑا دھوکہ کیوں کیا؟ ہاں لیکن شادی پر میرے ساتھ کیا ہوگا یہ مجھے اچھی طرح سمجھ میں آگیا تھا۔چند ماہ بعد ہی توآپی کی شادی طے ہوئی تھی اور اس شادی پر ہی بھیا کی منگنی بھی ہونا تھی۔مجھے تو یہ تمام خبریں دینا بھی کوئی ضروری نہیں سمجھتا تھابس آپی ہی تھیں جو سب کچھ بتاتی رہتی تھیں۔

گھر میں شادی کی تیاریاں شروع ہو چکی تھیں اور ان ہی دنوں میری طبیعت مضمحل سی رہنے لگی۔کھانا کھاتا تو الٹی سی ہو جاتی۔دل تھا کہ ہر وقت کمزوری سی محسوس کرنے لگا تھا۔جیسے جیسے گھر میں ہنگامے بڑھتے جا رہے تھے ویسے ویسے میری طبیعت میں گراوٹ آتی جا رہی تھی۔زیادہ تر وقت اب سونے میں ہی گزرنے لگا تھا۔مجھے کیا ہونے لگا ہے یہ مجھے خود پتہ نہیں چل رہا تھاکسی اور کوکون سی میری فکر تھی جبکہ میں کمرے میں قید ہی سہی آپی کی تیاریاں دیکھ دیکھ کر ہی خوش ہوناچاہتا تھا۔ کسی رات سب کے سونے کے بعد آپی آتیں او رچپکے چپکے مجھے اپنی تیاریاں دکھاتیں مگر چاہنے کے باوجود بھی میں پوری طرح خوش نہیں ہو پاتا۔ایک خمار تھا مجھ پر جو ہر وقت سوار رہتا۔میری آنکھوں کے نیچے حلقے پڑتے جا رہے تھے اور دل کی دھڑکنیں بے ترتیب رہنے لگی تھیں۔میں اپنی حالت بتا کر آپی کو بھی دکھی کرنا نہیں چاہتا تھا لیکن میرے ساتھ وہ بھی حیران تھیں کہ مجھے ہوا کیا ہے؟

ایک رات آپی میرے لیے کھانا لے کر آئیں،میں کھانا کھانے لگا اور وہ مجھ سے باتیں کرنے لگیں۔اچانک میری نظر سالن میں پڑی سفید گولی پر پڑی جس کو دیکھ کر میری چھٹی حس نے مجھے بتا دیا کہ میرے ساتھ کیا ہورہاہے؟بد قسمتی سے اس وقت وہ گولی پوری طرح گھل نہیں پائی،میں نے گولی ہاتھ میں دبائی اسی وقت میرے سینے میں تیز درد اٹھا اور پھر مجھے پتہ نہیں کیا ہوا؟

آنکھ کھلی تو خود کو اسپتال میں پایا۔ دو دن پہلے آپی کی شادی تھی اف…… میرے محسنوں کی یہ مثالی محبت میری آنکھوں نے پھر خون کی ندیاں بہا دیں۔اس دن میں نے مصمم ارادہ کر لیا کہ اب میں اس گھر میں واپس نہیں جاؤں گا۔آپی کی شادی ہو گئی اب سارا کھیل ختم۔

میں نے اپنی خدمت گزار نرس سے التجا کی کہ وہ مجھے ایک ڈائری اور پین لادے تاکہ میں اماں سے پوچھ سکوں۔سینے میں شدید درد محسوس ہو رہا ہے۔میں نے ڈائری نکالی اورشاید یہ آخری صفحہ لکھنے بیٹھ گیا۔

”اماں اب نیند کی گولیاں میں خود اپنے ہاتھ سے کھانے لگا ہوں کیونکہ اماں میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں۔میں تمہیں قاتل نہیں بنا سکتا۔لو تمہارا کام میں خود آسان کیے دیتا ہوں تمہارا بھرم بھی رہ جائے گا اور کام بھی ہو جائے گا۔میں تم سے کچھ کہنا نہیں چاہتا کچھ پوچھنا نہیں چاہتا……بس اتنا بتادو کہ میرا قصور کیا تھا……؟“

نصرت شمسی

افسانہ نگار

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form