نام میرا ہے گل بادشاہ

March 23, 2018
" شمارہ -٧ "مزاحمتی ادب شاعریملٹی میڈیا

نام میرا ہے گل بادشاہ

عمر میری ہے تیرہ برس

اور کہانی

میری عمر کی طرح سے منتشر منتشر

مختصر مختصر

میری بے نام بے چہرہ ماں

بے دوا مر گئی

باپ نے اس کو برقعے میں دفنا دیا

اس کو ڈر تھا کہ منکر نکیر

میری اماں کا چہرہ نہ دیکھیں

ویسے زندہ تھی، جب بھی وہ مدفون تھی

باپ کا نام زر تاج گل

عمر بتیس برس

وہ مجاہد شہادت کا طالب راہ حق کا مسافر ہوا

اور جام شہادت بھی اس نے

اپنے بھائی کے ہاتھوں پیا

جو شمالی مجاہد تھا

اور پنج وقتہ نمازی بھی تھا

مسئلہ اس شہادت کا پیچیدہ ہے

اس کو بہتر یہی ہے یہیں چھوڑ دیں

اب بہرحال بابا تو جنت میں ہے

اس کے ہاتھوں میں جام طہور

اس کی بانہوں میں حور و قصور

میری تقدیر میں بم دھماکے دھواں

پگھلتی ہوئی یہ زمین

بکھرتا ہوا آسماں

بعد از مرگ وہ زندہ ہے

زندگی مجھ سے شرمندہ ہے

کل سر شام دشمن نے آتے ہوئے

بم کے ہم راہ برسا دیے

مجھ پہ کچھ پیلے تھیلے

جن سے مجھ کو ملے

گول روٹی کے ٹکڑے

ایک مکھن کی ٹکیا

ایک شربت کی بوتل

مربے کا ڈبا

اس کے بدلے میں وہ لے گئے

میرے بھائی کا دست مشقت

جس میں منت کا ڈورا بندھا تھا

میری چھوٹی بہن کا وہ پاؤں

جس سے رنگ حنا پھوٹتا تھا

لوگ کہتے ہیں یہ امن کی جنگ ہے

امن کی جنگ میں حملہ آور

صرف بچوں کو بے دست و پا چھوڑتے ہیں

ان کو بھوکا نہیں چھوڑتے

آخر انسانیت بھی کوئی چیز ہے

میں دہکتے پہاڑوں میں تنہا

اپنے ترکے کی بندوق تھامے کھڑا ہوں

تماشائے اہل کرم دیکھتا تھا

تماشائے اہل کرم دیکھتا ہوں

زہرا نگاہ

زہرہ نگاہ‬

An Urdu poet and scriptwriter from Pakistan. She was one of two female poets to gain prominence in the 1950s when the scene was dominated by men.[5] She has written several television drama serials. She has also received various awards including Pride of Performance in recognition of her literary works in 2006.

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form