نعت

حضرت نور محمد عاجز

جہالت کے اندھیروں کو جلانے کے لیے آئے

جہاں سے بحرِظلمت کو مِٹانے کے لیے آئے

عرب کے ریگزاروں میں محمد ابنِ عبداللہ

غلامی کی زنجیریں خود کٹانے کے لیے آئے

بتوں کی اکثریت سے خُدا کو بھول بیٹھے تھے

خُدا کی شان دنیا کو دکھانے کے لیے آئے

میرے مولا ! محمد ؐمصطفےٰ کی شان کیا کہنا

مسلمان کے لیے کیا وہ زمانے کے لیے آئے

ہوئے ہیں منتظر جس کی نگاہِ ناز کے عیسٰی

وہی ختم الرسل ؐ دیدار دینے کے لیے آئے

میں ہوں نورِ محمدؐ عاشقِ محبوبِ ربانی

میرے مولاؐ میری سیرت بنانے کے لیے آئے

حضرت نور محمد عاجز

نور محمد عاجز ۴/اپریل ۰۵۹۱ میں اکھوڑی ، ضلع اٹک میں پیدا ہوئے۔ آپ کا پیشہ معلمی تھا۔ ۶۹۹۱میں ریٹائرڈ ہوئے۔آپ حضرت بشیر شاہ راہی کے خلیفہ مجاز تھے۔ آپ نے پنجابی اور اردو میں صوفیانہ شاعری کی۔ آپ کے چار بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ڈاکٹر جمیل حیات آپ کے بیٹے ہیں جو معروف افسانہ نگار ہیں۔مخلوقِ خدا کی خدمت آپ کی اور آپ کے مرشد پاک کی خاص خوبی تھی۔ کوئی سائل آپ کے در سے خالی نہیں لوٹا۔ آپ کا انتقال ۹۲/نومبر ۹۰۰۲ کو عید الاضحی کے دوسرے دن ہوا۔ آپ اکھوڑی میں دفن ہوئے جہاں نومبر کے عید الاضحی کے بعد ان کا عرس منایا جاتا ہے۔

Related Posts

No items found.

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form