کشمیری شاعرات کی احتجاجی شاعری

January 12, 2019
"دیدبان شمارہ 9 "مزاحمتی ادبمضامین


کشمیری شاعرات کی احتجاجی شاعری

نسترن احسن فتیحی،علی گڑھ

کشمیر ایک کثیر الثقافت ریاست ہے ، اس میں اگرایک جانب کشمیری ، گوجری، پہاڑی ، شینا ، بالتی، سمیت کئی زبانیں بولنے والے موجود ہیں ، تو دوسری جانب یہاں مختلف مذاہب کے درمیان موجود ہم اہنگی اس بات کی دلیل ہے کہ کثیر تہذیبی ہونے کے باوجود کشمیریت ایک انفرادی مرکزی دھارا ہے جس کے ساتھ کم وبیش سبھی لوگ جڑے ہوئے ہیں۔

گزشتہ پانچ دہائیوں کے دوران، کشمیر  ایک ایسی صورت حال کی گرفت میں ہے جہاں تشدد اور احتجاج کا غلبہ ہے۔ گزشتہ  پانچ چھ دہائیوں کے دوران کشمیر کے احتجاج کی سیاست نے زور پکڑا ہے اور اسکی وجہ وادی کے آلام و مصائب ہیں۔جس میں کرفیو، بند،تنائو،بنیادی حقوق کی پامالی ،آزادئی اظہار پر قدغن جیسی صورت حال کارفرما ہے۔اور ان صورت حال کا بدترین اثر عام اور خاص کے ساتھ عورتوںاوربچوں پر بہت زیادہ ہوا ہے ،شاید اسی لئے احتجاج کی سیاست میں خواتین کی شمولیت نظر آتی۔ ?جموں اور کشمیر کے روائتی معاشرے میں ان کا مساوی مقام نہیں ہے ۔اس کے باوجود کشمیری خواتین نے ہمیشہ بنیادی انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کیلئے جدوجہد کی ہے اور ایک بہتر معاشرے کیلئے ہمیشہ اپنی آواز بلند کی ہے تاکہ کشمیری معاشرے میں وہ ایک مفید بہتر کردار ادا کر سکیں۔

کشمیر کی  احتجاجی سیاست میں خواتین کی جوق در جوق شمولیت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ کشمیر کی خواتین  انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کیلئے ہمیشہ کوشاں رہتی ہیں۔ وہ عام آدمی کو بھی اسکا حق دلوانے کے لئے کوشاں ہیں۔

یہ مقالہ کشمیر کی موجودہ صورت حال میں کشمیری خواتین کےادبی کردار کو تلاش کرنے کی سعی کرتا ہے. تاکہ ہم یہ دیکھ سکیں کہ جو کچھ ہو رہا ہے اس میں کشمیری خواتین کا کردار غیر فعال تماش بیں کا ہے یا وہ اس سیاسی صورت حال میں مزاحمت کی آواز بن کر ابھرتی ہیں۔ کشمیر کی سیاسی صورت حال کا جائزہ یہ واضح کرتا ہے کہ کشمیری  خواتین مزاحمت کا ایک بہت اہم حصہ ہیں۔ کشمیر کی متنازعہ صورت حال کے پیشِ نظر ریاست کے مختلف حصوں میں بسنے والی خواتین زندگی کی بنیادی سہولیات سے ہی محروم ہیں ، ایک طرف وہ شدید ذہنی اور نفسیاتی دباؤ جسمانی اور جنسی تشدد کا شکار ہیں تو دوسری طرف سہولیات کی عدم فراہمی ، قبائلی سماجی نظام اور فرسودہ روایات کے زیرِ اثر خواتین ترقی کے عمل میںہر جگہ اس طرح سے شامل نہیں ہو سکی ہیں جس طرح انہیں شامل ہونا چاہیے۔ کشمیر کی خواتین ظلم و جبر کا شکار بنتی رہی ہیں جس کا بنیادی مقصد دہشت پیدا کرنا اور " احتجاج" کی روح کو توڑنا ہے۔ اور اس کے لیے اکثر خواتین کوجنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے. یہ ظلم و جبر کا وہ طریقہ کار ہے جہاں حوصلہ پست کرنے کے لیے اغوا اور عصمت دری کی حکمت عملی اپنائی جاتی ہے۔ کشمیر میں جنسی استحصال کے بارے میں ہر گفتگو میں متعدد  پہلو شامل ہوتے ہیں. عورت کی جسمانی  استحصال  میں جنسی استحصال کے علاوہ، عصمت دری کے سماجی اور ثقافتی اثرات موجود  ہوتے ہیں. عصمت دری خواتین کی پوری زندگی کو  stigmatize کرتی ہے اور یہ ذاتی زخم سے  زیادہ سماجی زخم بن جاتا ہے. دنیا کی کسی بھی علاقے کی طرح کشمیر میں بھی عصمت دری شرم اور تحقیر کا موضوع ہے۔ عصمت دری کی شکار  عورت  اپنوں سے بھی استرداد اور عدم قبولیت کا شکار ہو جاتی ہے اور اس طرح عصمت دری کی شکار عورت کی تکلیبف کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔  پچھلے کچھ سالوں میں کشمیر میں خواتین تشدد کا بْری طرح سے شکار ہوئی ہیں۔ جنسی تشدد کی شکار خواتین کی زندگی کو جہنم زار بنا دیا گیا ہے۔

اِس طرح کے خدشات کی حقیقت کو ایک اخبار نے تسلیم کرتے ہوئے حال ہی لکھا ہے۔ ’’اِس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پچھلے بیس سال سے کشمیری خواتین سرکاری اور دیگر غیر ریاستی مشتبہ عناصر کی ناانصافیوں اور انسانیت سوز جرائم کے خلاف جدوجہد میں ہر اول دستوں کا رول ادا کر رہی ہیں۔ (اِمپیکٹ آف کنفلکٹ آن چلڈرن اینڈ وومنزاِن کشمیر، 2005 ) ریپ کی شکار اور جنگی بیواؤں کی بڑی تعداد کو زبردست دباؤ کا سامنا ہے اور وہ خودکشی کی طرف مائل ہو رہی ہیں۔ (ایضاً) اپنے مردوں کی عدم موجودگی میں یہ خواتین سرکاری اہلکاروں اور سیکورٹی عملے کی زیادتیوں اور حریصانہ نظروں کا مقابلہ کرتی رہی ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ کشمیری خواتین قدامت پسندانہ سماجی پابندیوں میں رہتے ہوئے جنسی استحصال سے متعلق حقائق پر کھلے عام بات نہیں کرپاتی ہیں۔ اِس موضوع پر حقیقت بیانی کرنے سے متاثرہ خواتین کو اپنا رتبہ مجروح ہوجانے کا ڈر لگا رہتا ہے اور انسانی ہمدردیوں سے بھی محروم ہوجاتی ہیں۔ خواتین کی آبرو ریزی اور بے حرمتی واقعات کے اعداد وشمار دستیاب نہیں ہیں، کیونکہ کشمیری سماج میں اِس طرح کے تشدد کی خبرکو ہوا ملنے سے پہلے ہی دفن کر دیا جاتا ہے۔شاید اسی لئے ان شاعرات کے یہاں اس پہلو پر بہت کم اور اشارے کنایوں میں اظہار ملتا ہے۔

یہ وقت کہرام میں

کون لایا ہے مجھ کو

میں تو دھنک کے رنگ میں

رنگ رہی تھی

یہ گلال غم کی ہولی

کون کھیل گیا

نیلے آسمانوں میں

رنگ برنگی تتلیوں کے پر

کون قتل کر رہا ہے

سبزہ زاروںمیں

کتر کے ریشم

ریت کون بچھا رہا ہے

دیوان  خانوں میں

وہ جو بھی ہیں

ہیں تو گناہگاروں میں

ـّ۔۔۔۔ شبنم عشائی

 ریاست جموں کشمیر کی خواتین،علم ، عقل ، شعور اور قابلیت کے لحاظ سے کسی طور بھی باقی دنیا کی خواتین سے کم نہیں ہیں خواتین کی تعلیم یافتہ صف میں شامل بعض خواتین ایسی ہیں، جنھوں نے نہ صرف اردو ادب و شاعری پر اپنی فکر کے انمنٹ نقوش چھوڑے  ہیں بلکہ اپنے بنیادی حقوق اور ساتھ ہی انسانی حقوق کے لیے عملی جدوجہد کا آغاز کیا ہے۔ کشمیر میں معاصر نسائی ادب(نثر ونظم)کے حوالے سے چند نام لینا چاہونگی۔۔ زنفر کھوکر،رخسانہ جبیں،ترنم ریاض،شبنم عشائی،عابدہ احمد،پروین راجہ،سیدہ نسرین نقاش،نصرت چودھری،نکہت فاروق نظر،شفیقہ پروین ،نصرت رشید،اطہر ضیاء ۔ عالیہ مسعود،رخشندہ رشید، صاحبہ شہریار،روبینہ میر ، دیبا نظیر،رابعہ ولی ، رفعت حجازی،نسیم شفائی وغیرہ موجودہ صورت حال کی ترجمانی کرتی نظر آرہی ہیں۔ وقت کی کمی کے باعث اس مقالے میںصرف شاعری کے حوالے سے بات کی گئی ہے۔

کشمیر کی شاعرات نے اپنے  احتجاج کو معاشرے تک پہنچانے کے لیے شاعری کو اپنا وسیلہ اظہار بنایا... اس میدان میں خواتین شاعرات نے اتنی ترقی کی کہ ہم ان کی شاعری کو کشمیری معاشرے کی سماجی، اقتصادی، تہذیبی، ثقافتی اور سیاسی جہتوں پر اثرانداز ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ اس بات کو بھی خوش آئند علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے کہ ٹی وی، اخبارات، ریڈیو اور فلم وغیرہ نے اس کے اثرات قبول کیے ہیں ا ور خواتین کے امیج کو بہتر طور پر عوام تک پہنچانے میں نمایاں کردار عطا کیا ہے۔ آج یہاں جشن نسائی ادب کا اہتمام بھی اس بات کی دلیل بن رہا ہے۔                                                                                        

نسائی ادب کے حوالے سے کشمیری شاعرات کی شاعری ایک نئے طرز احساس کی جانب سفر کرتی نظر آتی ہے جس میں عورت کے اپنے وجود کا بھرپور احساس نمایاں ہے۔ ان شاعرات کی عورت دوسروں کے وجود کا سایہ نہیں بلکہ مکمل شخصیت کے طور پر ابھرتی ہے۔انہوں نے روایتی رویوں سے کنارہ کشی کی اور ایک نئی فضا میں سانس لینے کی کوشش کی۔وہ بدلتے ہوئے دور کے تضادات اور تقاضوں کا واضح ادراک رکھتی ہیں۔ان کی تخلیقات گہرے سماجی شعور کی آئینہ دار ہیں۔ تب ہی وہ اپنے حالات سے نالاں ہو کر یہ کہنے پر مجبور ہو جاتی ہیں ۔

ہم بچوں کو خواب نہیں دیتے

ان کی آنکھیں پھوڑ دیتے ہیں ۔

           شبنم عشائی

کشمیری شاعرات کو مزاحمتی ادب کے حوالے سے بھی نمایا ں مقام حاصل ہے۔ان کی مزاحمتی شاعری کی کئی جہتیں ہیں۔ کشمیری شاعرات نے ایسے موضوعات پر لکھا ہے جو بہت تلخ  ہیں۔  عام خواتین ان پر سوچتی  ہیں مگر اظہار  سے گریز کرتی ہیں۔ کیونکہ پدر سری معاشرے میں خواتین کو خون خرابے اور فساد کی جڑ لکھا جاتا رہا ہے اور ایسا مال غنیمت سمجھا گیا ہے جس کی چھینا جھپٹی فساد کا سبب بن گئی ہے۔مگر یہ کبھی نہیں دیکھاگیا کہ وہ بھی انسان ہے، اس کی بھی سوچ اور ذہن ہے وہ کوئی اثاثہ نہیں ہے جسے تقسیم کر دیا جائے یا تحفہ میں دے دیا جائے۔ کشمیری نسائی ادب میں ایسی سوچ کا اظہار بڑی شدت سے کیا گیا ہے۔ کشمیری نسائی ادب ایک ایسے روئیے کی طرف بھر پور احتجاج ہے جو صدیوں سے عام رہا ہے۔عورت کا جسم ادیب،شاعر،مصور، مجسمہ ساز سب کا موضوع رہا۔جب کہ عورت کا ذہن اگر موضوع بنا تو مزاح کے ساتھ۔ اس طرح عورت صرف تفریح اور تزئین و آرائش کی شے بن کر رہ گئی۔ کشمیری شاعرات کی شاعری میں  اس رویے کی طرف شدید رد عمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کشمیر کے دلکش نظاروں کے درمیان دہایئوں سے بارود، خون ، کرفیو اور تشدد  کے جو رنگ شامل ہوئے ہیں ان کا اظہار انکی شاعری میں نظر آتا ہے۔کشمیر کی خوبصورتی کے ساتھ یہاں کے گھٹن زدہ ماحول کو سمجھنا ان کی شاعری کے ذریعے ممکن ہو پاتا ہے۔

شبنم عشائی

۱۔چالیسواں دن ہے کرفیو کا

اب وادی ہی میں نافذ نہیں

کرفیو تیرتا ہے

لہو میں میرے

چاند کے ساتھ ساتھ

بن جاتا ہے باطن کی آنکھ

لے لیتا ہےاپنے دست رس میں

میرے دن اور رات

جاگتے خیال اور سارے خواب

بے چینی کے تلاطم میں

بے بسی کے تصادم میں

جسم چھوڑ دیتا ہے

چاند کا ہاتھ

کرفیو کی کائنات میںخاموشی کا سناٹا

آنسو بن کے ٹپکتا ہے

۲۔میرے ناخن مت کاٹنا

مدافعت کے لئے

ایک ہتھیار تو ضروری ہے۔

۳۔خوشبو  ہوں

کہاں چھپ جاؤں

بارود کا غبار مجھے سونگھ رہا ہے

۴۔موسم کا مزاج بدل رہا ہے

خوشنما بادل چھٹ گئے ہیں

خنک ہوائیں زہریلی ہو گئی ہیں

گل لالہ کے رنگ

ہولناک لگ رہے ہیں

موسموں کی اس سازش میں

سب تلاطم پہنے بہ رہے ہیں

تصادم کے پانیوں میں

پانیوں کا مزاج کس کے دست رس میں ہے

کس سے پوچھیں کدھر کو جائیں

درد کی اس وادی میں

ہمدردی کا کہیں کوئی خیمہ نظر نہیں آتا

جگہ جگہ سیاسی اکھاڑے لگے ہوئے ہیں

نس نس میں بیگانگی جم رہی ہے

ذرہ ذرہ مسمار تڑپ رہا ہے

لمحہ لمحہ کرفیو میں تپ رہا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔

ترنم ریاض

۱۔مخالف ساعتوں میں تجھ کو ہمدم کون رکھے گا

میری وادی تیرے زخموں پہ مرحم کون رکھے گا۔

۲۔کہیں کوئی نہیں

یہ کس نے بوئی چنگاریاں تیری زمینوں میں

یہ کس نے آگ سی سلگائی ہے معصوم سینوں میں

کوئی ویران موسم آبسا بارہ مہینوں میں

کہ جیسے ہو نہ تاثیریں  ہی اب جھکتی جبینوں میں

کسی نے باغباں بن کر جلایا مرغزاروں کو

کسی نے سائباں بن کر اجاڑا ہے بہاروں کو

خزاں نے دیکھ ڈالا گھر ترے سب لالہ زاروں کا

نشاط و چشمہ شاہی،ڈل ،ولر کا شالماروں کا

ترے جھرنے ،پہاڑوں،ندیوں کا آبشاروں کا

سکوں کے ہر خزانے پر ہے پہرا شاہماروں کا

سبھی تیری زمیں پر چاہتے ہیں آسماں اپنا

جڑوں کو گھن لگا کر ٹہنیوں پر آشیاں اپنا

تیری ہر آبجو میں سم قاتل کیوں ملایا ہے

ترے سب گلشنوں کو کس نے گورستاں بنایا ہے

یہ بلبل کے سریلے گیت کو کس نے ڈرایا ہے

دھنک رنگ آسماں پر یہ دھواں کیوں آن چھایا ہے

تیری عظمت کے قائل شاہوں کی ہر یاد روتی ہے

ہزاروں سال کی تاریخ شرمندہ سی ہوتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔

نسرین نقاش

۱۔ فنا کے تیر ہوا کے پروں میں رکھے ہیں

کہ ہم گھروں کی جگہ مقبروں میں رکھے ہیں

ہمرے پائوں سے لپٹا ہے خواہشوں کا سفر

ہمارے سر ہیں کہ بس خنجروں میں رکھے ہیں

ہمارے عہد کا انجام دیکھئے کیا ہو

ہم آئینے ہیں مگر پتھروں میں رکھے ہیں

اے زندگی نہ گزرنا ہماری گلیوں سے

ابھی ہمارے جنازے گھروں میں رکھے ہیں

جواز کیا دیں عدالت کو بے گناہی کا

ہمارے فیصلے دانشوروں میں رکھے ہیں

ہمارے سر پہ حقائق کی دھوپ ہے نسرین

حسین خواب تو بس چادروں میں رکھے ہیں

۔۔۔۔۔

نکہت فاروق نظر

۱۔میرے شہر کا آسماں

حیران ہے

اس نے کیا نہ دیکھا

جسم کے ٹکڑے

سناٹوں کی گرج

ریت پر بکھرے گیسو

پہاڑ کے دامن میں زخم خوردہ صورتیں

خون کے آبشار

میرے شہر کا آسماں حیراں ہے

۲۔بتا اے شہر کے حاکم

تمہارا قد ہے بالا تر

یا یہ بونوں کی بستی ہے

تمہیں حاصل ہے گویائی

یا یہ گونگوں کی نگری ہے

تم ہی بس آنکھ والے ہو

یا یہ ہے شہر نا بینا

تمہارا حق چمکتے تاج کی جگمگاہٹ پر

ہمارا نام لکھا ہے بیلٹ گن کی سیاہی پر

تیری عزت بھی شہرت بھی تیری زلفوں پہ پہرے بھی

ہم ہی ہم بے امانوں کے تراشے جاتے ہیں گیسو

کہاں کوئی عدالت کوئی منصف کوئی چارہ گر

تمہارے واسطے حاکم کہاں قانون بنتے ہیں

لہو آلود دامن تک ترے کس کی رسائی ہے۔

یہاں ہر شاخ پر منقار زیرپر پرندے ہیں

کبھی ہو وقت تو سننا  ذرا کیا کیا یہ کہتے ہیں

انہیں یاد آتا ہے شہر سبا اور ملکئہ بلقیس

۳۔ میرے محافظ میرے ساتھ چلو

سفر طویل ہے اور بھیڑیوں کی بستی ہے

مجھے یقین ہے تمہیں دیکھ  کے یہ سب کے سب

ڈر جائینگے

چھپ جائینگے

کیوںکہ تم ان کے سردار ہو ۔

۔۔۔۔۔۔

نصرت آرا چودھری

۱۔جو بھی چہرے ہیں خون سے تر ہیں

ہر طرف غم زدہ سے پیکر ہیں

میرے سینے میں ایسے خنجر ہیں

روز محشر سے کیا ڈرتے ہو

میرے آنگن میں سارے محشر ہیں

۲۔جیون کے موسم کو کیسے روپ بدلتے دیکھا

ہنستے ہوئے بادل سے میں نے خون برستے دیکھا

دولت کے انبار پر بیٹھے لوگوں پر ہم رحم کریں

خوشیوں کے ایک لمحے کو دن رات ترستے دیکھا ہے۔

عورت کی توہین کا منظر نصرت کیسے بھولوں میں ۔

بن کے  دلہن ہر اک کو سیج پر لٹتے دیکھا ہے۔

حد درجہ بدعتیں ہیں  اندھیرے ہیں راستے

رسمیں عبادتیں ہیں اندھیرے ہیں راستے

دھرتی کے اس سورگ کا میں ذکر کیا کروں

مظلوم صورتیں ہیں اندھیرے ہیں راستے

اس سے زیادہ کچھ نہیں اس عہد کی شناخت

چہروں پہ نفرتیں ہیں اندھیرے ہیں راستے

دامن بچا کے  ان سے  نکلنا محال ہے

ہر سو کثافتیں ہیں اندھیرے ہیں راستے

شمعیں جلا کے پیار کی نصرت جی اب چلو

دل کی کدورتیں ہیں اندھیرے ہیں راستے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

پروین راجہ

عذاب جھیل رہا ہے ہر بشر کیسے

سماعتوں کا یہ گریہ ہو مختصر کیسے

یہ کس کے ہاتھ نے مسمار کر دیا ہمیں

سوال گونج رہے ہیں شجر شجر کیسے

چہار سمت دھویں کی ہے اک لکیر کھنچی

ہو ان کی قید سے آزاد کوئی سر کیسے

یہ ڈھونڈھتے ہو تم کسے لہو کی جھیلوں میں

پکارتے ہیں تمہیں دیکھ چشم تر کیسے

اچھالتے ہیں مری سمت تپتی ریت سبھی

یہ ریگزار ہےمیں کہ دوں کاشمر کیسے

رخشندہ رشید

۱۔ان وحشت ناک شعلوں سے

ساری مسکراہٹیں بھسم ہوگئیں

میں تاریک سناٹے میں

سنتی رہی

کانپ رہی تھی

سوالات کی صدائے بازگشت

کمرے کی

دیواروں سے ٹکراتی

میری آنکھ

کب لگ جائیگی۔

۲۔ سیاہ سانپ جیسے

زہریلے

کالے بھنورے کے چھونے سے

دیکھتے دیکھتے

اس کا گلابی چہرہ زرد ہوا

ایک مجسمہ بن کر

کھڑی دیکھ رہی تھی!

خاموش آوازوں میں

جکڑی ہوئی

زندہ لاش جیسی

رخشندہ رشید(صدف شعری مجموعہ)

نگہت صاحبہ

۱۔ہم نے گھر بنانے کے لئے

نامراد چکر میں

تیلیاں بچائیں

انگلیاں جلائیں

۔۔۔۔

کشمیری شاعرات نے واضح طور پر استحصال تشدد، آبرو ریزی، کے خلاف  نسائی شعور کی نشاندہی کی اور اسے متعارف کرانے میں ایک مؤثر کردار ادا کیا۔انہوں نے نہ صرف اس رجحان کو تخلیقی شکل دی ہے بلکہ پورے شعورو ادراک کے ساتھ اپنی شاعری میں ان سماجی رویوں پر احتجاج کیا ہے جن کا شکار خواتین ہیں

موسم کا مزاج  بدل رہا ہے

خوشنما بادل چھٹ گئےہیں

خنک ہوائیں  زہریلی ہو گئیں

گل  لالہ کے رنگ

ہولناک لگ رہے ہیں

موسموں کی اس سازش میں

سب تلا طم پہنے بہہ  رہے ہیں

 ان تفصیلات سے یہ بات  واضح ہو جاتی ہے کہ کشمیری شاعرات نامساعد حالات میں باقی دنیا کی خواتین کی طرح ایسے اقدامات میں حصہ لے رہی ہیں جو بلا شبہ قابل فخر ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم خواتین کو مرکزی دھارے میں لاتے ہوئے، ان کی عزت نفس اور احترام کی ضمانت کے ساتھ ان کی صلاحیتوں کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں سیاسی ، سماجی، معاشرتی اور معاشی ترقی کا حصہ بنائیں۔


#(This paper was presented in the conference organized by Academy of Art, Culture and Languages Srinagar held on- 26th - 27th september 2018 )



ڈاکٹر نسترن احسن فتیحی

Dr.Nastaran Ahsan Fatihi  is an Indian Urdu  fiction writer and social activist. Her notable literary works include Novel" Lift"، and  "Eco Feminism،AsriTanisi Afsana .

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form