دیدبان شمارہ 10

نفرت کا رزمیہ

فہیم جوزی

خوشہ چیں تہذیبیں اپنے عروج کے مینار پر بسرام کرتی ہوئی،

نظریات اور وعدوں کے ڈھل مل قطب نما کے گرد گھومتی ہیں،

وطن پرستی اور انسان دوستی کا پرچار آئس کریم کے ذائقے کی طرح

لمحوں میں گھل جاتا ہے۔

ثقافتوں کے انبوہ میں دریدہ ہونٹوں کی تھرتھراہٹ کون سنتا ہے؟

مسائل روح کے غرفوں سے جھانکتے ہیں،

!اور گھٹے ہوئے سر ہر فقرے کے اختتام پر ایک ساتھ ہلتے ہیں

نہیں، کچھ بھی نہیں، الفاظ گولائیوں سے ڈھلکتے ہیں؛

آنچل سرکتا ہے آہستہ۔ آہستہ!

اور محکوم نظریات عنبریں وعدوں میں تحلیل ہوجاتے ہیں۔

!گھوڑوں اور مویشیوں کے شو میں چکاچوند اتنی ہے

لنگڑ ے نظریات جمنا سٹک کا کھیل دکھاتے ہیں،

دہشتیں سروں کا طواف کرتی ہیں،

متلیاں فرشوں پر بچھ گئی ہیں۔

روابط کے جال میں الجھی ہوئی کٹھ پتلیاں، ناچتی ہیں،

!ناچتی ہیں

نہیں، کچھ بھی نہیں، اس ناٹک میں بیوہ کا روپ میں نے دھارا ہے،

جو عروسہ بازار ہے

یتیم وہ ہے جس کے ان گنت باپوں کی توندیں،

لوری دینے کے لیے کھنکھناتی رہتی ہیں۔

بیوائوں اور یتیموں کے والی،

!مرادانگی کے جوہر زدہ گھٹے ہوئے سر

!!تیندوے کی چربی زدہ نیزہ انداز گولائیاں

مزدوروں کی انا ان کے جوتوں پر چہکتی ہے،

بھوک ذہن کی دہلیز سے پرے؛

!زخمی پرندوں کی پھڑپھڑاہٹ ان کی مرغوب موسیقی ہے

نظریات کے بہاو میں تقدیروں کا سنگھم بکھر جائے،

تو مسکراہٹیں لوٹ پوٹ ہوجاتی ہیں۔

جلسے کے بعد، چائے کی میزوں پر چمچوں کے شور میں،

شعری نغمگی، نظریات ہم آہنگی اور دروں بینی،

غبارِ رنگ کی طرح اڑتی پھرتی ہے؛

تاریخ کے المیے کیک کٹتے ہی اوجھل ہوجاتے ہیں؛

خون آشام رقابت مدّ مقابل کی چائے میں

چینی کی طرح گھل جاتی ہے۔

طواف کرتے ہوئے پرہول زلزلوں کی زد میں ہیں،

!چھتوں کی تقدیریں

پھیلائو میں سیلابوں کی پھنکار ہے

!اور تاج الٹائے جانے کی رسمیں زمین کے ہر مسام سے پھوٹ رہی ہیں

باطنی کشف کا عروج تہہ وبالا سلطنتوں پر گرج رہا ہے؛

نہیں، کچھ بھی نہیں، سیڑھیوں سے اُتر تے ہوئے آنچل

اپنی سینڈل کی چمک میں کچھ بھی نہیں دیکھتے!

بازاروں کے ہنگامے،

کمر، کولہوں اور سینے کی گڈمڈ نمائشیں،

!سیڑھیاں چڑھنے کی غیر متزلزل خواہشیں

چیچک زدہ الفاظ تہذیبوں کی مدح میں رطب اللسان،

!ٹپکتی ہوئی رال پونچھتے

رال کے سیلاب میں گم بیوائوں کی نا آسودہ خواہشیں

اور قیدیوں کی گھٹی گھٹی سی آرزئوئیں،

!کہ یتیموں کی رقت زدگی نوٹ بنانے کی مشین ہے

چہروں پر ملال کے نقاب چڑھا کر،

جس جیب میں ہاتھ ڈالو گے،

!خالی نہیں پائوگے

نظریات کی پیپ دلفریب وعدوں کی نالیوں میں بہتی ہے،

جتنے زور سے گلا پھلا کر بولوگے،

!اتنے ہی دور دیس کا ٹکٹ ملے گا

تمدنوں کے مراکز میں دل بستگی کا کشکول گھومتا ہے۔

پہیّوں کی چرچراہٹ میں، تاریخ کی

دہشتیں خون تھوکتی، تھک ہار کر بانہوں میں

جھول جائیں تو مقدر کا ستارہ گردش

سے نکل آئے۔

ہر کوئی گردش اتارنے کے لیے نظریات کی دھونی رماتا ہے

شرما نے کی کیا بات ہے، ایک دوسرے کے عیب ڈھانکنا،

!عین ثواب ہے

مابعد الطبعیات کی بساط پر بسرام کرتے ہوئے لوک داستانوں کے ہیرو،

! احساسِ کم تری کا خول بن گئے ہیں

گھوڑے کی ٹاپوں کا آہنگ، ہتھوڑے ٹھونکتا، بلند ہوتا ہوا صعودی ذائقہ

شریانوں میں ایک کسیلی سی سرسراہٹ چھوڑتا؛

تأسف کا دھواں؛ رقیق کیفیتوں کا دم توڑتا

الائو؛ وعدوں کی ٹوٹتی زنجیروں سے رستا

!!ملال آورزکام

نہیں، کچھ بھی نہیں، ہیرو پھر ہیرو ہے؛ زندہ وپائندہ باد

کے نعروں میں، واپس اپنی قبر میں

!سوجاتا ہے؛ ہیروئن گاگر چھلکاتی رہ جاتی ہے

مارو تھل کا عذاب پائینتی میں الجھا دم توڑتا ہے،

لوک گیتوں کی مالا گلے میں پھانسی کی طرح سجی ہوئی ہے،

ہیرو، ہیروئن رانجھے کی تقدیر کا ماتم کرکے حسرت سے ایک

دوسرے کو چومتے ہیں۔

متنازعہ خواہشیں پردہ سرکاتی ہیں۔

جدولوں پر خون ہے؛ اور مابعد الطبعیات کی کا فوری اگر بتیاں

پلیگ پھیلا نے لگی ہیں؛ پانی میں نسل کشی کے جراثیم

پرورش پارہے ہیں؛ لوک داستانوں کے ہیرو گٹار بجاتے ہیں،

کہ پیڑھیوں چڑھتی قحبگی ضمیر کے دھوئیں سے بے خواب دلدلوں

میں ڈوبنے لگے تو سہارا مل جائے،

تاریخ کی دہشتوں میں سرگرداں ہیرو،

عظیم ترین آدرشوں کے لیے موت کے ہم معنی؛

!احتساب کی چٹانوں کو پاش پاش کرتے

بارشیں عشق پہ نوحہ کناں کبھی نہ تھیں،

کہ حقائق کا طلوع ان جذبوں اور رابطوں سے ہے

!جن سے اوہام کے سلسلے کٹ جاتے ہیں

بادل برستے ہیں تو ماروتھل کا عذاب آنے والے عذابوں

کی بشارت دیتا ہے۔

ہاں، یہی کچھ ہے؛ رقص کا فلسفہ بے مقصد گردابوں میں

ناف اور ایڑھی کا الجھائو نہیں؛

’’بہ نوک خارمی رقصم‘‘ کی صدائیں ماروتھل اور چناب کی

لہروں سے ابھرتی ہیں

دساتیر پہ آویز کھوپڑیاں اور جموریتوں کے الاو میں جلتے

بال وپر؛ تہذیبوں کے سنگ میل! فراعنہ کا جاہ وجلال،

پر شکوہ تمکنت سے پارہ پارہ تمدنوں کی جدویس؛

سواریاں گزریں خیالوں کی تو بازار سونے ہوجائیں؛

ہر چورا ہا اک پھانسی گھاٹ ہے،

اور پارکوں میں شب رفتہ کی دُھواں دھار تقریروں کی بساند؛

علم وعرفان کی سمتیں کون متعین کرتا ہے؟

نیرو کی بانسری بج رہی ہے؛

سروں کا بہاو؛ بہاو۔ تمنائوں کی دریوزہ گری میں

ناچتے قدموں کی تھکن سے پارہ پارہ مزاج شہی؛

!گستاخ آنکھیں نکال دی جائیں

پھانسیاں دیتے دیتے ہاتھ شل ہوگئے؟

!بجلی کی ٹکٹکیاں درآمد کرو

!یہ ثقافت کا بہاو ہے

گھنٹوں چلتے گنجے سر تہذیبوں کا رزمیہ پڑھتے ہیں۔

حکومت بدلتی ہے، تو اسی رزمیے میں نئے ناموں

کا اضافہ کرتے ہیں؛ درباری وہیں ہیں؛

صرف دربار بدلتا ہے۔

سونے بازاروں کی مرثیہ خوانی، مایوسی، مرگِ انبوہ

دردر پہ شہیدوں کی تختیاں آویزاں؛

اور اس پر لفظوں کی کوڑھ کرلیاں امید افزا پیغاموں کی کتر نیں

!صفحوں پہ بکھیرتیں

فہیم جوزی

فہیم جوزی اردو نظم کا بہت بڑا نام ہیں۔ ان کا تعلق ساہیوال پاکستان سے ہے اور اسلام آباد میں مقیم ہیں۔

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form