حمد

نکہت فاروق نظر

سب ہے تیرا کرم سب ہے تیری عطا

ہم ہیں بندے تیرے تو ہمارا خدا

سب کی نظروں سے اوجھل ہے صورت تیری

تیرا پیکر نہ کوئی ہے صورت گری

اے خدا تو سراپا ہے اِک روشنی

پر نہاں ذرے ذرے میں چہرہ تیرا

سب ہے تیرا کرم سب ہے تیری عطا

ہم ہیں بندے تیرے تو ہمارا خدا

سب تہی دست در کے سوالی ہوئے

تیرے آگے جھکے جو مثالی ہوئے

اور ادنیٰ سے ادنیٰ بھی عالی ہوئے

پھر بھی تیرا خزانہ نہ خالی ہوا

سب ہے تیرا کرم سب ہے تیری عطا

ہم ہیں بندے تیرے تو ہمارا خدا

اے خدا آج رحمت کے دریا بہا

ریگزاروں میں مہکے گلستاں کھلا

ماہ و انجم کی صورت ہمیں دے ضیائ

اور عروج ِخرد کر ہمیں اب عطائ

سب ہے تیرا کرم سب ہے تیری عطا

ہم ہیں بندے تیرے تو ہمارا خدا

تیری حمد و ستائش کے یہ سلسلے

چل پڑے تیری رحمت کے پھر قافلے

اک نظر سے تیری دل ہوئے آئینے

اک اشارے سے درمغفرت کا کھلا

سب ہے تیرا کرم سب ہے تیری عطا

ہم ہیں بندے تیرے تو ہمارا خدا

بے ثمر ہیں شجر کوئی سایہ نہیں

چار اطراف کوئی بھی دریا نہیں

رہنما اب کوئی بھی ستارا نہیں

اب کرم یہ کرتے ہیں سب التجا

سب ہے تیرا کرم سب ہے تیری عطا

ہم ہیں بندے تیرے تو ہمارا خدا

کیسے آرام میں ہم ہوئے مبتلا

زندگی جیسے لگتی ہے کوئی سزا

دست گیری تو کر ہے میری التجا

تو ہی داتا ہے تو ہی حاجت روا

سب ہے تیرا کرم سب ہے تیری عطا

ہم ہیں بندے تیرے تو ہمارا خدا

خواہشیں سر سے اونچی ہوئی ہیں کہ بس

اور ہوس کی ہوائیں چلی ہیں کہ بس

نفرتیں دل میں گھر کر گئی ہیں کہ بس

اب کے موسم میں آدم کو انساں بنا

سب ہے تیرا کرم سب ہے تیری عطا

ہم ہیں بندے تیرے تو ہمارا خدا

...................

نکہت فاروق نظر


نکہت فاروق نظر

شاعرہ اور افسانہ نگار۔
پروفیسر گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن۔

افسانوی مجموعہ۔ قہر نیلے آسماں کا

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form