دُنیائے دِل بسا دو

حضرت نور محمد عاجز ؔ

برقِ نظر گِرا دو

اِک آگ سی لگا دو

جادو سا اِک جگا دو

پردہ سااِک اُٹھادو

جلوہ ذرہ دِکھا دو

نغمہ کوئی سُنا دو

بے خود مجھے بنا دو

فرقِ دوئی مٹا دو۔۔۔۔۔۔۔دُنیائے دل بسا دو

کُھلتا نہیں کہ کیا ہو؟

بجلی ہو یا ہوا ہو

مخلوق ہو یا خدا ہو

غمزہ ہو یا ادا ہو

یا دردِ لا دو ا ہو

یا درد کی صدا ہو

کیا ہو ؟یہ بتا دو۔۔۔۔۔۔۔دُنیائے دل بسا دو

تم روحِ انجمن ہو

عشوہ ہو ، بانکپن ہو

سینے میں اِک چبھن ہو

ضوبار وضو فگن ہو

گلشن میں نغمہ زن ہو

دل سے میرے قریں ہو

نازک ہو نازنیں ہو

ہر لمحہ دل نشیں ہو

آرامِ جان و تن ہو

تم سرو ہو سمن ہو

قلبِ نظر بڑھا دو۔۔۔۔۔۔۔دُنیائے دل بسا دو

سچ ہے کہ تم جواں ہو

اُلفت کی داستاں ہو

مخفی نہیں عیاں ہو

مہکا ہوا سماں ہو

تم میری جانِ جاں ہو

آواز دو کہاں ہو ؟

کیوں مجھ سے بدگماں ہو

روئے حسیں دِکھا دو۔۔۔۔۔۔۔دُنیائے دل بسادو

جانِ بہار بن کر

دل کا قرار بن کر

اِ ک گلزار بن کر

گُل کا نکھار بن کر

پہلوئے یار بن کر

مے کا خمار بن کر

راہی ؔکا پیار بن کر

ہر فاصلہ مِٹا دو ۔۔۔۔۔۔۔۔دُنیائے دل بسا دو

مانا کہ تم کہیں ہو

کہتا ہے دل یہیں ہو

جامِ شراب ہو تم

مست شباب ہو تم

جرم و ثواب ہو تم

اُلفت کا باب ہو تم

ساز و ربا ب ہو تم

شیریں سا خواب ہو تم

یکسر سراب ہو تم

جلوہ کبھی دِکھا دو

نغمہ کوئی سُنا دو۔۔۔۔۔۔۔۔دُنیائے دل بسا دو

نور محمد بھٹی

نام ۔ نور محمد بھٹی

ولدیت۔حیات محمد

تاریخ پیدائش۔چار اپریل 1950

تعلیم ایم اے بی ایڈ

پیشہ درس و تدریس

حضرت لال شہباز قلندر رح کے سلسلے کے ایک بزرگ حضرت بشیر احمد شاہ کے مرید اور خلیفہ مجاز تھے۔ان کا مزار اچھرہ لاہور میں ہے

عید الاضحی کے دوسرے دن 29 نومبر 2009 کو وفات پائ۔چار بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔

پنجابی اور اردو میں صوفیانہ شاعری کی

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form