نظم : دو باغی

May 22, 2020
دیدبان شمارہ 11 نظمیں

نظم : دو باغی

شاعر : سعید الدین

پریڈ سے نکلا ہوا ادمی

بے ترتیب پیر مارتا ہوا

پیچھے رہ گیا

دُھن بدستور جاری ہے

اور اس دُھن پر

پریڈ میں شامل

سب ایک ساتھ پیر مارتے

ایک ساتھ قدم اُٹھاتے ہیں

دُھن بدستور جاری ہے

پریڈ سے نکلا ہوا آدمی

ایک انہماک کے ساتھ

بے ترتیب پیر مارنے میں مگن ہے

دُھن دھیمی ہو گئی ہے

یا دُور بجنے لگی ہے

پریڈ والے پریڈ کر رہے ہیں

اور پریڈ سے باہر آدمی

ایک یقین کے ساتھ

کسی ترتیب میں حرکت کر رہا ہے

یا شاید پریڈ کر رہا ہے

شاید کسی اور دُھن پر

جو اس کے اندر بج رہی ہے

پریڈکے لوگ شایداب اپنی دُھن نہیں سُن رہے ہیں

اُن کے پیروں کی ترتیب بدل گئی ہے

یا اُن کے پریڈ کی دُھن بند ہو گئی ہے

سب اُلٹے سیدھے پاؤں مار رہے ہیں

پریڈ سے نکلا ہوا ادمی

پریڈ کر رہا ہے

ایک اور آدمی دُھن سُننے لگتا ہے

دو آدمی پریڈ کر رہے ہیں

دوسرا میں ہوں

سعید الدین

-------------

سعید الدین


نظم دو باغی کے خالق شاعر سعید الدین کے بارے میں تنویر قاضی کے الفاظ
'''سرمایہ داری نظام میں نظم بھی ایک کماڈٹی ہے۔بلکہ یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ نظموں کا ایک باقاعدہ کاروبار ہے۔جینئن شاعر اپنا سامان اوٹ میں رکھے ہوئے ہیں۔ سیناریو میں نظمیں سستے داموں بِک رہی ہیں۔منڈی کی بھیڑ اور حروف کی بھرمار میں سعید الدین اپنی جگہ خود بناتا ہوا ایک نمایاں نام ہے۔جہاں خام مال لیئے شورو غوغا کرتے پھرتے شاعر اپنا بھاؤ کہیں بہتر لگوانے کی فکر میں ہیں ، وہاں سعید الدین اپنی ذات کو پیچھے رکھ کر اپنی نظم کے توسط سے آدرش کا پلُو پکڑے نظر آتے ہیں۔ ان کی نظموں کے بھیتر مزاحمت کا عنصر جا گزین ہے جسے آنکھین محسوس کرتی ہیں آہستگی سے دلوں پر بھی اُترتا ہے۔نظم ''دو باغی'' میں اپنے اندر ہوتی جنگ اور سٹیٹس کو کے خلاف لڑائی صاف نظر آتی ہے۔۔ نظم کی ایک لائن دیکھئے۔۔''' سب اُلٹے سیدھے پاؤں مار رہے ہیں'''اطراف مین پھیلی شدید بے ترتیبی کی جانب اشارہ ہے۔ انڈو پاک کے معتبر شاعر یقین رکھتے ہیں کہ اُن کے پہلے نظموں کے مجموعے ''رات'' کی یہ نظم گلوبل ویلیج کے کسی بھی ادبی فورم پر بہت اعتماد سے پیش کی جا سکتی ہے۔۔،

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form