نظمیں۔۔۔حفیظ تبسم

January 12, 2019
"دیدبان شمارہ 9 "مزاحمتی ادبنثری نظمشاعری

نظمیں۔۔۔حفیظ تبسم

اُسے کوئی پھول پسند نہیں

وہ پھول نہیں بھیجتا

ہمیں کیسے معلوم ہو

اُسے کس رنگ کے پھول پسند ہیں

اور پھولوں کے سالانہ میلے میں

دوستوں کو کیسے بتائیں

کون سا پھول محبت کی علامت ہے

مختلف مذاہب میں مرگ کے لیے

الگ پھول ہیں

مہذب قومیں

الگ پھولوں کا درس دیتی ہیں

اُسے کچھ دیر سوچ لینا چاہیے

شاید وہ پھول نہیں بھیجتا کہ

اُسے محبت کی قبر پر اُگنے والے

پودے کے راز معلوم نہیں

اور یہ خود غرضی کا اعلان نامہ ہے

.................

سفر نامے کا دیباچہ

تاریخ کے آغاز سے کچھ پہلے

انسان نے تنہائی سے تنگ آکر

چار دیواری کا خوف اُتار پھینکا

اُس نے پتوں کا لبا س ایجاد کیا

اور حفاظت کے لیے نیزہ بھی

جب سفر کی سوچ پیدا ہوئی

نقشہ ایجاد کر لیا گیا

جس میں منزل کا کوئی نشان نہیں تھا

جب دور دراز کے سفر پر چلنے کا خواب نازل ہوا

جوتے کی دریا فت پہلے ہوئی

یا پھر سواری کی

ابتدائی تاریخ خاموش ہے

پانی کے لیے مشکیزہ ایجا د ہوا

اور سفری سامان کے لیے گھٹڑی

جس کے خدو خال آج سے ملتے جلتے ہیں

گھٹڑی میں سب سے پہلے نقشہ رکھا گیا

اور بوڑھوں کی چند نصیحتیں بھی

اور تنہائی کے پھیلتے خوف نے

سات براعظم دریافت کرلیے

.....................

بارش بادل کی قید کاٹتی ہے

بارش کے دوران

ہم جھونپڑی بنا لیتے ہیں

ہمیں نہیں معلوم؟

جمعرات کے بادل کتنے روز برستے ہیں

اور ایک دن کی روٹیاں مانگ کر ہڑپ کرجاتے ہیں

ہمارے بچے پانی میں چھم چھم کھیلتے

لطف اندوز ہوتے ہیں

کاغذ کی کشتی میں مکوڑے بٹھاکر

سیاحت کے خواب میں گُم

ہوا کے ہاتھ میں چپو تھما دیتے ہیں

ہماری عورتیں اداسی سے نجات کے لیے

باتوں کا نقشہ بناتی ہیں

جس میں خوابوں کے شہر آباد ہیں

بارش نہیں تھمتی

اور ہمیں نہیں معلوم؟

بارش روکنے کی تدبیر کیا ہے

بچے بتاتے ہیں

بادل دریا سے پانی لیتے ہیں

دریا کے نام خط لکھنا چاہیے

عورتیں کہتی ہیں

بارش محل کی شہزادیوں کا خواب ہے

شہزادیاں بارش میں کپڑے پہنے نہاتی ہیں

ہمیں محل کی زنجیر ہلانی چاہیے

ہم بدستور خاموش ہیں

اس لیے کہ

نئی تہذیب گھٹنوں کے بل رینگتی قریب آ پہنچی ہے

اور ہمیں سوچ بگڑنے سے پہلے

اگلے جنگل کا رخ کرنا چاہیے

دھوپ سے خالی دنوں میں

ابھی برف نہیں پگھلی

ابھی راستے بھی بند ہیں

ابھی آبشاروں کے پہلو میں پیڑ سوئے ہوئے ہیں

ابھی گیت محبتوں کے گاتی ہوائیں

شرابوں کی مہک

اور بُلبلوں کی چہک لیے

وادیوں سے دور

نیلگوں دائروں میں رقص کرتی ہیں

ابھی برف نہیں پگھلی

ابھی بارشوں کے موسم میں کچھ دیر باقی ہے

ابھی عورتوں کے پیٹ امیدوں سے خالی ہیں

ابھی کھیتوں میں دھان پکنے کی خوشبو نہیں پھیلی

ابھی لڑکیوں کے کان میں

سنہری بُندے پہننے کا خواب نہیں اترا

ابھی تتلیاں کچے آنگن کی منڈیروں پر

محوِ خواب ہیں

ابھی دور تک اونچی نیچی پگڈنڈی

شام کے دھوئیں سے باتیں کرتی ہے

اور میں تیری محبت کے آخری کنارے پر ٹہلتا جاتا ہوں

کہ آگے راستے بھی بند ہیں

ابھی برف نہیں پگھلی

...........................

کائنات کا آخری دکھ

خدا کے گھر میں نقب لگاکر

روٹیاں چرانے والے

جب فٹ پاتھ پر بیٹھ کر کھانے لگے

کئی دن سے بھوکے کتوں نے شور مچاکر

پہرے داروں کو آگاہ کر دیا

وہ تین تکونی بارگاہ میں پیش کئے گئے

تو انصاف کی اونچی مسند پر

تسبیح کے دانوں نے دستک دی

جو مسمار شہر سے برآمد ہوئے

اور سستے داموں خریدے گئے فتووں کا عکس

ایک دائرے میں

روحانی مسرت سے جھومنے لگا

سوچ کے سناٹے میں بیان کیا گیا

کائنات کا آخری دکھ

مگر خاموشی کے ساتھ طے کردی گئی

شہر کے وسطی چوک میں شورمچاتی

موت کے جشن کی تاریخ

اور پتھروں کی بارش کے ڈر سے

ڈسٹ بن میں پھینک دیاگیا

بھوک کا دستخط شدہ خط بھی

پھر خداکے نام کی تختی دیکھ کر گھنٹی بجانے والوں نے

کٹہرے کو کئی بار چوما

اور اندھیرے کے آگے سجدہ ریز ہوگئے

.................................

گناہ گار شاعر کی بے گناہ نظمیں

کل میری دو نظمیں بازار گئیں

(جو جڑواں بہنیں تھیں)

مگر واپس نہیں لوٹیں

اِن دنوں کرفیو کے باعث

کھلے عام گھومنا ممنوع تھا

لیکن میں نے دن کی رفتار سے تیز بھاگتے ہوئے

شہر کا چکر کاٹا

رات کے سائے کے ڈر سے

مسجدوں میں اعلان کروائے گئے

مگر دہشت کے بستر میں دبکے لوگ

کچھ نہیں جانتے

کس کی پھٹی ایڑیوں سے رستا خون

لکیریں کھینچ رہاہے

آخر افسردگی سے دیوار میں لگا ٹی وی آن کیا

” سپر مارکیٹ دھماکے سے اڑا دی گئی “

میں بھاگتا جائے وقوعہ پہنچامگر

پانی سے موت کے نشان

گٹر میں بہائے جا چکے تھے

اب بے یقینی کے سگریٹ پھونکتا

قبروں کے پاس بیٹھاہوں

جہاں بم دھماکے میں مری روحیں دفن ہیں

مگر میری نظموں کی قبر کون سی ہے

کہ مٹی کے چہرے سے پہچان ممکن نہیں

اور میں

مرنے سے پہلے کتبہ لگانا چا ہتاہوں

” جہاں گنہگار شاعر کی بے گناہ نظمیں دفن ہیں“

................................

Death anvarsary of bomb blast

وہ سب رورہے تھے

یادگار پر پھول چڑھا کر

اور فریم میں لگی تصویروں کے چہرے

سیاہ حاشیے سے

پسند کا پھول چومنے سے قاصر تھے

بوڑھے چہرے نے

ساتھ کی تصویر کو کہنی مارتے کہا

اتنے آنسو کہاں سے آئے

ہمارے دور میں ایسی دوکانیں نہیں تھیں

”خاموش رہو“

تقریب کے بعد بتاو¿ں گی

چھوٹے بچے نے

ساتھ کے فریم میں بیٹھے بچے سے کہا

اتنے کھلونے کہاں سے آئے

ہمارے قصبے میں ایسی دوکانیں نہیں تھیں

”خاموش رہو“

ہمیں پہچان لیا جائے گا

تقریب کے احتتام پر

تصویریں عجائب گھر واپس لوٹیں

پھول اور کھلونے

انتظامیہ کے گھروں میں

حاشیے میں نیند جھولتی تصویریں

کئی ہفتے تبصرہ کرتی رہیں

وہ کون لوگ تھے

جو آنسو بہانے کے مقابلے میں شریک ہوئے

پرندے بے وقوف نہیں ہوتے

گمنام جزیرہ ہے

اور تنہا آدمی

جس کے چار اطراف

پرندے نت نئی آوازیں نکال رہے ہیں

وہ یاد کرتا ہے

فاختہ کے قدیم گیت

اور عقاب کی درندگی کا مرثیہ

جب جنگل اور انسان

رشتے میں بھائی لگتے تھے

اور ایک ہی رنگ کے کپڑے پہنتے تھے

وہ قدیم روایت کے احساس تلے

جماہی لیتا ہے

اور تاریخ دہرانے کے لیے

پرندوں کے قبیلے میں شمولیت کی درخواست دیتا ہے

درخواست

جنگل کے دل میں محفوظ ہے

اور پرندوں کا اجلاس جاری

شاید انہیں ہاد ہے

” شکاری کسے کہتے ہیں“

تعاقب میں چلتے سائے

شہر کے تعلق سے شکایت کیے جانے کا ایک جواز ہے

جیسا کہ ہوتا ہے

گھر سے شراب خانے کے کاو¿نٹر تک

ایک سایہ ہے تعاقب میں

جس نے لگارکھی ہیں میری آنکھیں

میرے گہرے نیلے ہونٹ

اور بغیر شہد کے چھتے جیسے بال

وہ چلتا ہے دھیمی رفتار سے

جیسے کہ میں

اور دائیں بوٹ کی ایڑی سے

ہر 15 منٹ کے بعد سگریٹ مسلتا ہے

مگر وہ میں نہیں ہوں

وہ رکتا ہے اور سوچتا ہے

دائیں بائیں نظریں گھماتے ہوئے

صدر دروازے کے پاس بیٹھ جاتا ہے

سینما گھر کے سامنے

آخری شو کے بعد میک اپ زدہ لڑکیاں

اسے نام سے پکارنے کی کوشش کرتی ہیں

اور وہ گھٹنوں پر سر رکھے خاموش ہے

پچھلے دو گھنٹوں سے

ہمیشہ کی طرح گنتا ہے

جیب میں پڑے سکے

مگر وہ میں نہیں ہوں

وہ بھاری قدموں سے اٹھتا ہے اور چلتا ہے

فٹ پاتھ کے کنارے

نیند کے انتظار میں بیٹھے کتے بھونکنے لگتے ہیں

وہ آخرکار لیتا ہے ہاتھ میں پتھر

محض دکھانے کے لیے

اور گلی نمبر 16 کے مکان نمبر 2 کے سامنے رک جاتا ہے

مگر وہ میں نہیں ہوں

پھر کون میرے تعاقب میں ہے

صبح سے شام،رات تک

مجھے شہر کے رجسٹر میں شکایت درج کرنی چاہیے

.......................................

جنگ سے ذرا پہلے لکھی گئی نظم

مون سون سے پہلے

پانی کی تقسیم پر

زمین کے بڑے خداو¿ں نے اپنے اجلاس کا آغاز

گالیوں کی طویل فہرست سے کیا

جو جنگ کے دنوں میں ایجاد ہوئیں

امن پسند راہب جنگل میں چھپ گئے

اور بدھا کے مجسمے پر بیٹھے پرندے

اداس گیت گاتے گاتے

پتھروںمیں تبدیل ہوگئے

جنگ کے لیے

نقارہ بجاکر اعلان کیا گیا

مائیں دیر تک بچوں کی گنتی پوری کرتی رہیں

اور بوڑھے باپ

سانسوں کے تاوان میں اناج کی بوریاں اٹھا لائے

اور دروازے غیر معینہ مدت کے لیے

دیواروں میں تبدیل ہوئے

گورگنوں نے قبر کی کھدائی کا معاوضہ

دوگنا کردیا

لوگ مرتے رہے

یہ اندازہ لگانا مشکل ہوا کہ

چالیس روزہ آرام دہ قبر کس کے حصے میں آئے

جنگ کوئی نمایاں کھیل نہیں

جو جاری رہے

بہت دن تک

سو آخر جنگ ختم ہوجاتی ہے

ذرا سستانے کے لیے

البتہ جنگ کی کہانی

ایک نسل سے

دوسری نسل تک پہنچ جاتی ہے

صلح نامے میں درج ہے

روحیں

پانی کے خواب میں سفر کررہی تھیں

جب زمین سے رخصت ہوئیں

وہ پانی۔۔۔۔۔۔

جس کے لیے جنگ ہوئی

مون سون سے پہلے

گناہ میں آئے ہوئے لوگ

قحط سالی کے دنوں میں

بارش کے نام پر خیرات کرکے

طویل ترین دعا مانگی

جو تہوار کے دن کے لیے موزوں تھی

خدا نے سنی

(وہ کچھ دنوں سے براہ راست سُن رہاتھا)

محض اتفاق تھا

بارش برسی

تالاب یکدم سخی ہوگئے

اور پھر وحشی

پانی کے ریلے

آبادی سے لڑکیوں کے جہیز میں رکھے خواب

اور چرواہوں کی بھیڑیں بہا لے گئے

پرندوں کی چیخیں سن کر

پیڑ خودکشی کرنے لگے

کشتیاں لوٹ نہ سکیں

اونچے ٹیلے کے کنارے آباد لوگ

ایک دوسرے کے کان میں ازان دینے لگے

بارش برستی رہی

خدا کے کان پھر بند ہوگئے

...........................................

توصیف احمد ملک ایک نوجوان افسانہ نگار اور علم دوست انسان ہیں .آپ کا تعلق .....پنجاب جھیلم  سے ہے  اور آپ انٹیرئیر ڈیزاینر ہیں . آجکل آبھا  میں مقیم ہیں -

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form