نظم : اقبال فہیم جوزی

May 22, 2020
دیدبان شمارہ 11 نظمیں

نظم

اقبال فہیم جوزی

باقی رہ گئے تین

تفتیشی افسر

تین بہن بھائیوں کو دیکھا

جن کی آنکھیں خوف مرگ سے

ابلی پڑتی تھیں

گردن کے پٹھے اینٹھ گئے تھے

باطن کے اک تشنج سے

وہ ابھی ابھی چھوٹی بہن کی لاش

دفن کرکے

دعاءے مغفرت کے قورمہ نان سے

فارغ ہوئے تھے

سب سے بڑے نے دل چیرا

اور اک ننھی سی

جلی ہوئی گٹھلی سی دکھائی ۔ کہا

وہ میرے خیا لوں سے آگے دیکھتی تھی

اور یہ ہے نفرت کی سیاہی

منجھلی نے پائنچہ سرکایا

اور اپنی پنڈلی پہ ابھرا ہوا

اک سرخ ناسور دکھایا

وہ ہواؤں پہ رقص کی طرح چلتی

اور یہ ہے کالی بد دعا

چھوٹے نے ایک پتلا دکھایا

جس میں سوءیاں گڑی تھیں

وہ پیدا ہوتے ہی

میری محبت میں شریک ہو گئی تھی

اور یہ ہے کالا جادو

تفتیشی افسر نے رونے کی وجہ پوچھی

تو انہوں آنسو پونچھے اور کہا

وہ ہمیں بہت پیاری لگتی تھی

تفتیشی افسر نے سگرٹ کا اک لمبا کش لیا

اور نوٹ بک میں لکھا۔

خود کشی کا یہ کیس نا قابل ثبوت ہے ۔

اور غائب ہو گیا

تینوں نے مڑ کر اپنی ماں کے آنسوؤں کی طرف دیکھا

جو آب زم زم کی طرح گر رہے تھے ۔

------------------------------------

اقبال فہیم جوزی

اقبال فہیم جوزی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form