نظمیں : علی محمد فرشی

March 28, 2021
دیدبان شمارہ ۱۳ مابعد کرونا ادب نظمیں

علی محمد فرشی

ضرورت کا خدا

کیا محبت کا ترجمہ

کسی دوسری زبان میں کیا جاسکتا ہے؟

سورج مکھی نے پوچھا

کوئی مجھے کنول میں ترجمہ کر سکتا ہے؟

چڑیا بولی

پہاڑ کو آسمان میں کیسے تبدیل کیا جا سکتا ہے!

شاعر نے تائید کی

سچ کہتے ہو،خوشبو کی طرح سچ!

سچ کو بھی،کسی زبان میں ترجمہ نہیں کیا جا سکتا

بلکہ محبت اور صداقت کو

کسی زبان میں ترجمے کی ضروت ہی نہیں ہوتی!

محبت اور صداقت

کسی ضرورت کے تحت ایجاد نہیں ہوئیں

جیسے ہم ضرورت کے وقت

کسی مشکل گھڑی میں

جب ہماری ماں، بیٹا یا ہم خود

’’آئی سی یو‘‘ میں ہوں

توخدا کو ایجاد کرلیتے ہیں

یعنی یاد کرنے لگتے ہیں

اور جیسے ہی مشکل کی موت واقع ہوتی ہے

اُس کی تدفین سے پہلے ہی

ہم خدا کوبھول جاتے ہیں

یا سنبھال کر رکھ لیتے ہیں

آئندہ کسی مشکل گھڑی کے لیے!

2

ہنسی کی موت

جب ہم ایک دوسرے میں چھپے ہوتے

تو،کوئی ہمیں ڈھونڈ نہ پاتا

کتنا مزا آتاتھا

اُس کھیل میں تمھیں

جسے ہم دونوں نے مل کر ایجاد کر لیا تھا

اپنے اندر چھپ کر سوجانے کی عادت سے

جب دیر تک آنکھ مچولی کھیلنے کے بعد

ہم گھر جاتے

تو کسی کو پتا بھی نہ چلتا

کہ ہم وہ نہیں ہیں

البتہ تمھاری ہنسی کودبانے کے لیے

مجھے اپنا سانس روکنا پڑتا

جس دن ہم

ہوا پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف

جلوس میں شرکت کے لیے

آزادی چوک پہنچے تو

وہاں لاکھوں کی تعداد میں

مسلح وردی پوش جمع تھے

ہمارا ایک آدمی بھی گھر سے نہیں نکلا!

میں نے حیرت کا اظہار کیا

لیکن عین اُسی وقت

تمھاری نظر ایک ناتواں سپاہی پر جا پڑی

جو اپنی مشین گن کے بوجھ سے

کبڑا ہوا جارہا تھا

تمھاری ہنسی کا فوارہ پھوٹ پڑا

میں تمھاری گدگدی

روکنے کی کوشش کر رہا تھا کہ

کبڑے سپاہی نے فائر کھول دیا

یاد نہیں زیادہ گولیاں کسے لگی تھیں

لیکن ہم دونوں کی سانسیں

ایک ساتھ ختم ہوئیں

پتا نہیں

ہواکی قلت سے کتنے لوگ مرے

اور کتنے گولیوں کی آواز سے

علی محمد فرشی

علی محمد فرشی 3 دسمبر1955 کو راولپنڈی سے ملحقہ چونترہ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے اپنے ادبی سفر کا آغاز 1973 میں افسانہ نگاری سے کیا۔ پھر شاعری میں غزل کے راستے نظم کی طرف آگئے۔ ان کی نظموں کا پہلا مجموعہ "تیز ہوا میں جنگل مجھے بلاتا ہے" 1995 میں شائع ہوا جسے اُس برس کا پروین شاکر خوشبو ایوارڈ بھی ملا۔ اُن کی طویل نظم پر محیط کتاب "علینہ" کو حسنِ قلم ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ 1983 میں انھوں نے اردو میں ماہیا نگاری کی تحریک کا احیا کیا، ان کے اردو ماہیوں کی کتاب "دکھ لال پرندہ ہے" نے دو نسلوں کو متا ثر کیا ہے۔ ان کی پیروی میں 400 سے زائد شعرا اس صنف میں طبع آزمائی کرچکے ہیں لیکن انھوں خود کو ماہیے تک محدود نہیں رکھا اور نظم کے بڑے میدان میں اپنے تخلیقی جوہر کو شناخت کا ذریعہ بنایا۔فرشی صاحب کی نظم ہزاروں نظموں کے انبار میں بھی آسانی سے پہچانی جا سکتی ہے۔ وہ نہ صرف صاحبِ اُسلوب شاعر ہیں بلکہ صاحبِ فکر بھی ہیں، اس پہلو سے بھی وہ اپنی اور اپنے عہد کی خاص پہچان بناتے ہیں۔ ان کے شعری مجموعوں کی تعداد 7 ہے جب کہ آٹھویں کتاب "ضیا جالندھری شخصیت اور فن" تحقیقی و تنقیدی حوالہ رکھتی ہے۔ گزشتہ سال سے وہ ایک اور طویل نظم "مشینہ" کے عنوان سے لکھنے میں مصروف ہیں جس کے 5 کینٹوزشائع ہوکر قارئین و ناقدین سے بے پناہ پذیرائی حاصل کرچکے ہیں۔ علی محمد فرشی کی مختلف ادبی جہات پر ملک کی معروف یونیورسٹیوں میں ایم فل لیول کا ایک اور ایم اے لیول کے 3 تحقیقی مقالہ جات لکھے جا چکے ہیں۔نظم کی تنقید میں بھی فرشی صاحب خاص مقام رکھتے ہیں۔آپ مؤقر ادبی جریدے "سمبل" کے مدیر بھی ہیں۔

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form