نظمیں ۔۔ پرتپال سنگھ بیتاب

October 25, 2020
دیدبان شمارہ 12 مابعد کرونا نمبر نظمیں نظمیں

نظمیں ۔۔ پرتپال سنگھ بیتاب

نظم:آنے والے دنوں کے لئے

یہ الاو جلاکرجوبیٹھے ہیں ہم

یہ بھی سوچاکھی ہے کسی نے؟

لمحہ لمحہ یہ اٹھتا دھواں

آسماں پر اکٹھا  ہوتارہیگا یونہی

تو پھر ایک دن اس کی تہ

راستہ دھوپ کا روک لےگی

ہاتھ الاؤپہ رکھے ہوئے

آنے والے دنوں کے لئے ہم

اندھے سورج کا نوحہ پڑھیں گے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔  

نظم:رام کار  یا لکشمن ریکھا

میں نے تو موجود اور غیر موجود طاقتوں سے

اپنی حفاظت کرنے کے لئے

اپنے ارد گرد ایک رام کار کھینچی تھی لیکن

یہی رام کار میرے لئے لکشمن ریکھا بن چکی ہے

باہر میں نہیں نکلتا،اندر کوئ آتا نہیں

کٹا کٹا جدا جدا

اپنے ہی تضادات میں گھرا رہتا ہوں

کوئ یہ سمجھتا ہے کہ میں نے اس کی بڑی لکیر کو

چھوٹا کرنے کے لئے یہ لکیر کھینچی ہے

تو کوئ یہ سمجھتا ہے کہ میں نے

اس کی لکیر کے مقابلے میں

ایک نئ لکیر کھڑی کر دی ہے

اپنی روداد کسے سناؤں

باہر میں نہیں جا سکتا

بس یہی اک رام کار یا لکشمن ریکھا ہے

اور میں ہوں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔  

نظم: اکیسویں صدی

ہم جوپاش پاش ہیں

کسی مہیب غار کی تلاش میں ہیں گامزن

ہم جو پل صراط سے گزر گئے

تو یہ صدی تمام پیچ و تاب کو سمیٹ کر

سیہ سفید میں نمود پائے گی

اور ہم جو آتشیں سراب میں بھٹک گئے

تو دیکھنا یہ دھوپ

سات سلسلوں میں ٹوٹ پھوٹ جائے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پریتپال سنگھ بیتاب

توصیف احمد ملک ایک نوجوان افسانہ نگار اور علم دوست انسان ہیں .آپ کا تعلق .....پنجاب جھیلم  سے ہے  اور آپ انٹیرئیر ڈیزاینر ہیں . آجکل آبھا  میں مقیم ہیں -

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form