پہلی محبت کی کہانی

عینی علی

امریکہ کے نا جاپان کے

ہم تو ہیں دیوانے ملتان کے

جامنی ہونٹ سرائیکی بولیں

اور کانوں سے رس ٹپکے

آپ کو سن کر شاید عجیب لگے۔۔۔

مجھے دل کے ہسپتال میں داخل اس  جامنی ہونٹوں سے سرائیکی  بولنے والے سے پہلی محبت ہو گئی تھی!  

میں سوچتی ہوں کہ کوئی کسی کو اپنی پہلی محبت کا قصہ کیوں سناتا ہے؟

شاید اس لیے کہ پہلی محبت جوانی کی نووارد صبح کے سبزے پر ابھری وہ بلوری خنک اوس ہوتی ہے جس کا وجود زندگی کے سفر کے خوشگوار آغاز کا امین ہوتا ہے۔  آگے سفر کتنا ہی مہم جو، دشوار گزار، پر آشوب یا  باعث سکون ہو پہلی محبت کے لطیف احساسات اپنی ذات میں الوہی روشنی کے مقید و موجود رہنے کا پتہ دیتے رہتے ہیں۔

تب میں محض انیس سال کی تھی اور یہ بیسویں صدی کا آخری سال تھا جو  مجھ اور میرے خاندان پر نہایت بھاری گرز رہا تھا۔ بھلا یہ کوئی وقت ہوتا ہے پہلی محبت کے سامنے آنے کا؟  

اسی وقت لاہور جیل روڈ پر ایستادہ  پورے پنجاب کا واحد دل کا ہسپتال میری محبت کی کہانی کا سٹیج قرار پایا۔

میری امی محض انتالیس سال کی عمر میں دل کی نوے فیصد شریانیں بند ہونے پر آپریشن کی منتظر یہان پچھلے دو ہفتوں سے داخل تھیں۔ بڑی بیٹی ہونے کے ناتے میرا بہت سا وقت امی کے ساتھ ہسپتال میں گزرتا تھا۔ کبھی صبح اور کبھی رات کو رکنا،  دوائی لانا، پرہیزی  کھانا لانا لیجانا ، اسے گرم کر کے امی کو کھلانا آنے جانے والوںکی خاطر کرنا، چائے بنانا اور برتنوں کو صاف کر کے واپس لے جانا میری ذمہ داری تھی۔

پورے بنجاب کے مریضوں کا بوجھ اٹھاتی یہ سادی سی سفید عمارت اس پر بنی نیلی لائینوں اور دیوار پر ابھری جابجا تڑیڑوں کے ساتھ بوڑھی مدر ٹریسا کی مانند ہر دور درازسے آنے والے کے سر پر ہاتھ رکھتی تھی۔ یہاں مریضوں کا رش زیادہ ہونے کی وجہ سے داخل شدہ مریضوں کی ٹریٹمنٹ  کی کئی کئی  ہفتوں بعد باری آتی تھی۔ اس اثنا میں دوسرے شہروں سے آئے مریضوں کے لواحقین  نے برامدوں اور انتظار گاہوں میں رکھے بنچوں کو ہی گھروں جیسا ما حول دے رکھا تھا۔ دن میں صوفے اور رات کو بیڈ بننے والے یہ بنچ اپنے نیچے مکمل گھریلو ساز و سامان چھپائے بہت سے خاندانوں کی سفید پوشی کا بھرم رکھے ہویے تھے۔ ہم لاہور والے اس ضمن میں زرا بہتر تھے کہ دن میں ایک بار گھر جا کر تازہ دم ہو کر نیا ساز و سامان لا سکتے تھے۔ مذید براں پرائیویٹ رومز اور وارڈوں کے مشترکہ کچن میں چینی، پتی اور دودھ کی فراہمی بھی دھیرے دھیرے ہماری ذمہ داری بن چکی تھی جو عموما ماچس مانگنے جیسے بے ضرر مطالبے سے شروع ہوتی تھی۔

پہلی منزل پہ میری امی کے کمرے سے کچن میں کئی بار آنے جانے کے بیچ میں گویا ایک پورا جہان پڑتا تھا۔ بائیں ہاتھ پہ بڑی سی  کھڑکی سے ایمرجنسی کا پچھلا دروازہ دکھتا تھا جہاں سے مرنے والوں کی میتیں ایمبیولینس میں رکھ کر لواحقین کے ساتھ بھیجی جاتی تھیں۔ یہاں سے گزرتے ہوئے میں دانستہ اس کھڑکی سے باہر دیکھنے سے گریز کرتی تھی۔  اس کے بعد سی سی یو کا دروازہ تھا جہاں سے صرف بند آنکھوں والے مریضوں کے سٹریچر اندر جاتے دکھائی دیتے پروہ ٹھیک ہو کر باہر کہاں سے یا کب  جاتے تھے یہ کبھی معلوم نہ ہو سکا۔ اس کے بعد ایک طرف مردانہ اور ایک طرف زنانہ وارڈ اور نرسنگ سٹیشن تھا جس کے بعد راہداری دائیں طرف  آپریشن تھیٹر کی طرف مڑ جاتی تھی۔ یہاں شروع میں آپریشن تھیٹر کے باہر ایک بڑی انتطار گاہ تھی جہاں آپریٹ ہونے والے مریضوں کے ساتھ آئے خاندان کے افراد چہروں پہ یاس و امید اور ہاتھوں میں پنج سورتے اور تسبیحاں لیے سرگوشیوں میں منہ ہلاتے نظر آتے۔ یہ وہ وقت تھا کہ جب ہاتھوں میں موبائل اٹھانے اور ہسپتالوں، سکولوں اور عبادت گاہوں میں مسلح گارڈ بھرتی کرنے کی ضرورت ابھی پیش نہ آئی تھی ہاں جب  کبھی کبھی تھیٹر کے دروازے سے کوئی وارڈ بوائے یا نرس منہ نکال کر پوچھتی کہ  محمد مشتاق کے ساتھ کون ہے؟ تو سب ہی منہ اٹھا کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگ جاتے اور پھر محمد مشتاق کے ساتھ آیا کوئی تیزی سے آگے بڑھتا تو اس کو ایک جراحی ساز و سامان یا دوائوں کی پرچی تھما دی جاتی کہ یہ لے آو۔ مریض کی بابت پوچھنے پر وہی رٹا ڑٹایا جملہ کہا جاتا کہ بس جی دعا کریں  اور یوں انتظار گاہ میں بیٹھے سب لوگوں کے ہونٹ مزید زور زور سے ہلنے لگ جاتے۔

اکثرجب امی سے زیادہ لوگ ملنے آ جاتے تو میں اسی راہداری کے کونے پہ کھڑی ہو کر ان لوگوں کو دیکھا کرتی اور امی کے آپریشن والے دن یہاں خود کو بیٹھا محسوس کرتی اس دن بھی جب دور پار کے کوئی رشتہ دار بمعہ اہل و ایال امی کو پوچھنے آن وارد ہویے تو میں گھبرا کر باہر نکل کر نرسنگ سٹیشن پہ امی کی رپورٹوں کی بابت پوچھنے آن کھڑی ہوئی۔ نرسنگ سٹیشن پر اپنی مطلوبہ نرس سسٹرروزینہ کو نہ پا کر میں نے ادھر ادھر دیکھا تووہ ہنستی ہوئی مردانہ وارڈ سے نکل رہیں تھیں اور ان کے پیچھے پیچھے وہ تھا۔ "رب نواز جان چھوڑ میری ادھر لوگ اتنی تکلیف میں ہیں تجھے ٹی وی کی پڑی ہے ۔"

سسٹر روزینہ اس سے کہ رہیں تھیں۔

" اووو تے تسی میکو بولو پہلاں کہ اے ٹی وی کد ٹھیک کر سو؟ میڈاں بھوں ہرج ہوندا اے انگریزی دے پرچے دا۔" ( پہلے آپ مجھے یہ بتایئں کہ یہ ٹی وی کب ٹھیک کریں گی۔ میرا بہت حرج ہوتا ہے انگریزی کے پرچے کا؟)

شاید وہ وارڈ کے باہر بنی انتظار گاہ میں لگے ٹی وی کی بات کر رہا تھا۔ میں نے سوچا۔

وہ کوئی بایئس تیئس سال کا ہیرو ٹائپ نوجوان تھا جو پہلے پہل اس کو دیکھ کر لگا کہ اس نے بہت سا میک اپ کر رکھا ہے۔ گورا چٹا رنگ، پٹیاں جمے بال، آنکھوں کے نیچے سرخی مائل نیلے ڈورے لال سی آرین ناک اور سب سے عجیب بات اس کے کھٹے جامنی رنگ کے ہونٹ جو اس کے گلابی کرتے اور سفید شلوار کے حلیے کے ساتھ اس کے ہسپتال میں نہیں کسی شادی ہال میں کھڑا ہونے کا تاثر دے رہے تھے۔

" رب نواز جاؤ بستر پر لیٹو آرام کرو تم۔ میں کرتی ہوں ٹی وی کا کچھ "

سسٹر روزینہ نے اسےٹالتے ہوئے کہا۔

اسی اثنا میں اس کی نظر مجھ پر پڑی جو منہ کھولے بہت انہماک سے اسے دیکھ رہی تھی۔

میرے ذہن میں اس کی عمر، شکل اور بیماری کو دیکھ اورعجیب میٹھی سی زبان سن کر بننے والے سوالوں  کا کلیڈیوسکوپ رنگ برنگے نقشے بنا رہا تھا۔ میں نے زندگی میں اتنا دلچسپ کردار شاید پہلی مرتبہ دیکھا تھا۔

"ہک گل تے دسو با بے و ،ایڈا میں ڈھولا لگ ساں شہر دی  سونڑی چھویرمیکوں اینج تکی جاوندی آ ؟"

( ایک بات تو بتاو با با جی میں اتنا بانکا لگ رہا ہوں کہ شہر کی خوبصورت لڑکی مجھے ایسے دیکھ رہی ہے؟")

اس نے کرتے کے کڑہائی کیے گیے بین کو ہاتھ لگاتے ہوئے پاس سے آہستگی سے گزرتے بزرگ سے پوچھا جو شائد کچھ دن پہلے بائی پاس کروا کے اب وارڈ بوائے کے ساتھ کاریڈور میں چہل قدمی کو نکلے تھے۔

بزرگ کو شائد اس کی زبان نہ آتی تھی سو انہوں نے رک کر پہلے اس کو پھر مجھے دیکھا اوربغیر کوئی تاثر دیے آگے بڑھ گیے۔ سمجھ تو مجھے بھی کچھ خاص نہیں آئی تھی پر نرسوں اور وارڈ بوائے کے ہنستے چہرے دیکھ کر مجھے شرمندگی کا احساس ہوا اور میں تیز تیز چلتی ہوئی کمرے کی طرف جانے لگی۔

امی جسب معمول تیمارداروں میں گھری تھیں اور مجھے دیکھ کر جیسے آنکھوں آنکھوں میں کہنے لگیں کہ اب وہ آرام کرنا چاہتی ہیں۔ میں نےدروازے سے باہر سسٹر روزینہ کو جاتے دیکھا تو آواز دے کر بلایا کہ امی کو ایک مرتبہ دیکھ لیں۔ سسٹر روزینہ جن کی ڈیوٹی اکثر شام کی شفٹ میں ہوتی تھی میری امی کا بہت خیال رکھتی تھیں۔ میرا اشارہ پا کر اندر آئیں اور زور زور سے ملاقات کا وقت ختم ہونے کا اعلان کرنے لگیں ساتھ ساتھ بڑے ڈاکٹر صاحب کے راونڈ پر آنے کے ڈراوے نے تمام تیمارداروں کے ہسپتال میں کھانے کے وقت تک رکنے کے ارادوں پر اوس جما دی اور انہیں بادل نخواستہ جانے کی اجازت لیتے ہی بنی۔ انہیں خدا حافظ کہ کر میں دروازے سے واپس پلٹنے لگی تو سسٹر روزینہ نے کہا

" بی بی نہید کی فائل دے جائیں ڈاکٹر صاحب راونڈ پہ آنے والے ہیں ہم نے رپورٹیں لگانی ہیں۔"

میں فائل لے کر نرسنگ سٹیشن پہنچی تو وہی صاحب جنہیں صبح رب نواز کے نام سے پکارا گیا تھا ایک ادھیڑ عمر کی نہایت دبدبے والی خاتون ( جو کہ غالبا ان کی والدہ تھیں)  کے ساتھ سر جھکائے کھڑے ہیڈ نرس کی ڈانٹ کھا رہے تھے۔

" بی بی اس کو سمجھائیں، بیمار ہے یہ، اسے کہیں بستر پہ آرام کیا کرے اور طبی عملے سے تعاون کرے۔ سارا سارا دن برامدوں میں پھرتا اور انتظار گاہوں میں لگے ٹی وی کے چینل بدلتا رہتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب دیکھنے آتے ہیں تو  بیڈ پر اس کو نا موجود پا کر ہماری باز پرس کرتے ہیں۔"

خاتون سر جھکا کر سن رہیں تھیں اور رب نواز پھر سے ٹی وی کی طرف متوجہ ہو چکا تھا۔ مجھے دیکھ کر سسٹر روزینہ میری طرف متوجہ ہوئی اور ہیڈ نرس نے بھی اپنا لیکچر ختم کر کے ان کو جانے کا اشارہ کیا۔ میں نے فائل دیتے ہویے سسٹر روزینہ سے پوچھا۔

" کیا ہوا ہے اسے ؟"

"اس کے دل کی دیواریں پیدائشی جڑی ہوئیں ہیں۔ ڈاکٹر نے کہا جب کوئی کامپلیکیشن ہو تو لانا۔پچھلے چار سال سے جب سے یہ اٹھارہ سال کا ہے تب سے آ رہا ہے ہر سال سانس اکھڑنے پہ اور وہ بھی  بی اے کے امتحان کے دنوں میں۔ آ تا ہے ایڈمٹ ہوتا ہے  آپریشن کی تاریخ لیتا ہے پھر ضد کرتا ہے کہ واپس جانا ہے اور پھر دوا لے کر چلا جاتا ہے۔ دل کے پٹھوں کے صحیح کام نہ کرنے کی وجہ سے اس کے ہونٹوں ناخنوں اور آنکھوں کا رنگ جامنی پڑ گیا ہے۔ بڑے ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ اپریشن میں جتنی دیر ہو گی اتنا خطرہ زیادہ ہے پر یہ مانتا ہی نہیں ہے۔" سسٹر نے گویا کیس ہسٹری بیان کی۔

"مانتا نہیں ہے۔" میں نے حیرانی سے کہا۔

"ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ مریض کہے آپریشن نہیں کروانا اور آپ لوگ اسے جانے دیں۔؟" میں منمنائی

سسٹر روزینہ مجھے سنی ان سنی کر کے آگے بڑھ گیئں مگر ساتھ ہی بڑے سے وائپر سے صفائی کرتی آپا جی میرے سوال کا جواب دینے کے لیے پوچھا بیچ میں چھوڑ کر میرے قریب آئیں اور کہنے لگیں۔

"بی بی دلوں کے معاملے ایسے ہی ہوتے ہیں۔ آپ کی مرضی ہو منڈھنے کی تب ہی ڈاکٹر کتر بیونت کر پاتے ہیں۔"

لگتا ہے  آپا جی شاید پارٹ ٹائم میں درزن کام کرتی ہو گی۔ میں نے سوچا۔

میں محض مسکرا کر انہیں دیکھ کرصرف سر ہی ہلا سکی کیونکہ جادو کی جھپھی ابھی تک ایجاد نہیں ہوئی تھی۔

امی کے کمرے کی طرف واپس جاتے ہوئے نہ جانے میرے دل میں کیا آئی کہ نرسنگ سٹیشن کے باہر والی انتظار گاہ کی طرف چل دی۔ وہاں جا کر دیکھا کہ دیوار پر ایک چھوٹا سا ٹی وی لگا ہے جو خراب نہیں ہے اور اس پر بغیر آواز کے پی ٹی وی چل رہا ہے۔ ارد گرد کوئی ریموٹ کنٹرول بھی نہیں جو کہ دانستہ طور پر انتظار گاہوں میں نہیں رکھا جاتا تا کہ آواز سے ہسپتال کا ماحول ڈسٹرب نہ ہو۔ ہاں پرائیویٹ کمروں میں ٹی وی کے ساتھ ریموٹ ہوتا ہے جیسا کہ امی کے کمرے میں تھا۔

"ہیلو جی لیڈی فائل والی!"مجھے اپنے پیچھے سے آواز آئی

میں نے یک دم پیچھے مڑ کے دیکھا تو رب نواز اپنے جامنی باچھیں پھیلایے چارلی چپلن کے انداز میں کھڑا راج کپور کی شری 420 والی نقل اتار رہا تھا۔ میری ہنسی نکل گئی۔

"مائی نیم از رب نواز ولد حمید اللہ آئی ایم ٹونٹی تھری ایرز اولڈ آئی ایم فرام دی ملتان دی سٹی آف با با ز اینڈ مینگوز۔"

 وہ ایک ہی سانس میں بول گیا۔

اب میرے سے ہنسی روکنا مشکل ہو گیا۔

"مجھے اردو بولنا آتی ہی جناب۔" میں نے کہا

لو جی اے تے گوہ کو ملی گوہ جہیں او تے جہیں او

"جی کیا مطلب؟" مجھے بالکل سمجھ نا آیا

"مطلب آپ بھی بی اے فیل ہو؟ کوئی نہیں میں آپ کو انگریزی سکھا دوں گا۔" وہ واقعی خوش لگ رہا تھا۔

"جی نہیں جناب میں فرسٹ ڈویژن میں بی اے پاس کر چکی ہوں اور اب ایم اے کے پرچے دوں گی۔"

میں نے فخریہ انداز میں کہا۔

"سارااااا بی اے پاس کیا ہے آپ نے؟ " اس نے پوچھا

"کیا مطلب؟" میں نے کہا  

"مطلب انگریزی کا پرچہ بھی؟" پھر پوچھا گیا  

"ہاں جی" جواب ملا

"شاواسے لیڈی فائل والی شاواسے

مطلب کانگریجولیشن ہو آپ کو"  

"اسمارہ ۔۔۔ اسمارہ نام ہے میرا"

"جی جی اسمارہ بہت بہت کانگریجولیشن ہو آپ کو"

وہ بہت مرعوب نظر آ رہا تھا۔

اتنے میں پاس سے گزرتی سسٹر روزینہ کی نظر اس پہ پڑ گئی۔

"رب نواز چلو اپنے وارڈ میں ڈاکٹر صاحب کے راونڈ کا ٹائم ہو گیا ہے۔"

اوہ  ناؤ تو جی جانا پڑے گا۔۔۔ لو جی  اسمارہ جی:  

"Good evening from the newsroom till khabarnama at nine."

کہتا ہوا وہ سسٹر روزینہ کے سامنے سے گزرتا ہوا وارڈ کی طرف چلا گیا۔

اور میں اپنے حلق میں ہنسی کے چھوٹتے فوارے کے بہاؤ کو روکتی امی کے کمرے کی طرف بھاگی۔ کمرے میں جانے سے پہلے مجھے خیال آیا کہ یہ ہسپتال ہے اور میری امی سیریس کنڈیشن میں ہیں ایسے مجھے ہنستے دیکھیں گی تو کیا سوچیں گی۔ بس یہ سوچ کر کمرے کے باہر کچھ دیر رکی اور سوچا کہ سیریس کنڈیشن میں تو وہ بھی ہے لیکن زندگی سے کتنا بھرپور ہے۔ دل سے بے اختیار ہی امی کی صحت و سلامتی کے ساتھ ساتھ اس کی زندگی اور صحت کے لیے بھی دعا نکلی اور پھر جیسے میں مطمئن ہو کر امی کے کمرے میں داخل ہوئی۔

"اسمارہ کہاں رہ گئی تھیں۔ ڈاکٹر صاحب آنے والے ہیں راونڈ پہ۔ پوچھنا مجھے کب آپریٹ کریں گے؟ میرا اب دل نہیں لگ رہا یہاں بس جلدی سے ٹھیک ہو کر گھر جانا چاہتی ہوں۔" امی نے مجھ سے کہا

"جی امی جلد ہی انشا اللہ ۔ بہت سی دعائیں ہیں آپکے ساتھ اور ویسے بھی بیٹیوں کی ماوں کو کچھ نہیں ہوتا سمجھیں آپ۔"

میں نے ان کا ماتھا چوما تو ان کی آنکھوں سے انسو بہ نکلے۔

ہسپتال بھی عجیب جگہیں ہوتی ہیں۔ کہتے ہیں صدق دل سے اتنی دعائیں مسجدوں میں نہیں مانگی جاتیں جتنی ہسپتالوں میں مانگی جاتی ہیں۔ اور دل کا ہسپتال تو اور بھی عجیب جگہ ہے کہ یہاں کے مریضوں کو دیکھنے سے آپ کو ان کی صحت کی حالت کا پتا نہیں چلتا۔ ہایپرٹینشن کے مریض یہ سرخ و سفید ہٹے کٹے، او۔پی۔ ڈی کے سہمے ہویے سراسیمہ مگر کوئی ہائے توائے نہیں ڈالتا۔ دل کی شریانوں کے بند ہونے کے چا ک  و چوبند اور بولتے چالتے۔۔ چھوٹے چھوٹے معصوم بچے جو دل میں پیدائشی سوراخ لے کر پیدا ہوتے ہیں اور یہاں آنے کا مقصد بھی نہیں جانتے۔اور  ادھر ادھر ڈرپیں پکڑ کر چاک سینوں اور چری ٹانگوں سے وا ک کرتے، بائی پاس کروایے ہویے ادھیڑ عمر ۔۔۔ ہاں سب میں ایک بات مشترک ہے  انکی آنکھوں میں زندہ رہنے کی تڑپ اور اپنےبیمار  دلوں سے التجا کہ

" اے دل کہیں دھوکہ نہ دے جانا۔ ابھی تو بہت سے کام باقی ہیں جو کرنے ہیں بہت سی خواہشیں ہیں جن کو پورا کرنا ہے۔"

لیکن رب نواز!

وہ سب سے مختلف تھا۔ اس میں ایک یقین تھا زندہ رہنے کا کہ جیسے کسی فنکار میں ہوتا ہے اپنے فن کی داد پانے کا۔ جیسے  کوئی بادل جسے یقین ہو برسنے کا۔  

خیر میں اس کے بارے میں کیوں سوچ رہی ہوں میں نے سر کو جھٹکا۔

اگلے کچھ دنوں میں امی کے آپریشن کی ڈیٹ آ گئی اور میں تیمارداری کے ایک نئے دور میں داخل ہو گئ جہاں امی کے حقیقی دل کے ساتھ ساتھ ان کے مجازی دل یعنی کہ نفسیاتی دل کا خیال بھی رکھنا ضروری ہو گی تھا۔ جب ڈاکٹر اینجیوگرافی کے بعد بورڈ روم میں امی کی کنڈیشن اور ٹریٹمنٹ ڈسکس کر رہے تھے تو میں بھی ان کے ساتھ تھی۔ مجھے سمجھ تو کوئی خاص نہیں آ رہی تھی مگر دل کو ایک یقین ضرور تھا کہ میری امی ٹھیک ہو جائیں گی۔ میں پروجیکٹر کی سکرین پر اپنی امی کا ڈھڑکتا ہوا دل  دیکھ رہی تھی۔

ماں کا دل۔۔۔

 یہ ویسا بالکل نہیں تھا جیسا سرخ گلابوں والے کارڈوں پہ بنا ہوتا ہے یا درختوں پہ بنا ہوتا ہے۔ عجیب سا تھا یہ دل ایک ٹریکٹر چلاتے ہوئے کسان کی طرح کا ،یا کنویں پہ چلنے والے رہٹ جیسا، یا اخبار چھاپتی مشین جیسا- ڈاکٹر نہ جانے میڈیکل کی زبان میں کیا کیا کہ رہے تھے پر مجھے لگا وہ کہ رہے تھے کہ یہ دل دکھ گیا ہ،ے تھک گیا ہ،ے گھٹ گیا ہے۔ اسے کی نالیاں اب مزید زندگی کا  بوجھ اٹھانے سے انکاری ہیں۔ مگر یہ ماں کا دل ہے یہ زندہ رہنا چاہتا ہے اپنے بچوں کے لیے اپنے دل کے ان ٹکڑوں کے لیے جو اس کے ارد گرد اس کے مدار میں اس کی روشنی سے زندگی کشید کرتے  ہیں۔

   وہ دل جس میں اولاد کے لیے پیار بھرا ہوتا ہے۔ وہ دل جو دھڑکنا چھوڑ دے تو خداوند بھی موسی کو ہشیار کر دیتا ہے کہ اے موسی سنبھل! اب تیرے لیے دعا کرنے والی تیری ماں نہیں رہی۔

میرا ماں کا دل  میرے سامنے  دھڑک رہا تھا مجھ سے وہ باتیں کہ رہا تھا جو زبان سے نہیں کہی جاتیں۔ واہ ری سائینس تو بھی تو ایک صوفی ہی تو ہے۔ ایک بزرگ، ایک وسیلہ  جو ایک پل میں آنکھوں کے سامنے پڑے  کئی پردے اٹھا دیتی ہے۔ اور ڈاکٹر وہ  ابدال جو اتنا کچھ پڑھ سمجھ کر بھی معجزوں پر ایسے ہی یقین رکھتے ہیں جیسے مقدس قبروں کے مجاور صاحب قبر کے کشف پر۔

مجھے لگا میں کسی دربار میں بیٹھی ہوں اور قسمتوں کے فیصلوں  کا لنگر کھلا ہے بس ایک کوشش کا دھکا لگا کے دعا کے ہاتھ پھیلانا ہے اور وہ  مجھے خالی ہاتھ نہیں لوٹایے گا۔

پانچ میں سے تین ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ آپریشن کر کے جان بچنے کے چانسز زیادہ ہیں لیکن دو کہتے تھے کہ رسک بہت ہے- جتنی زندگی ہے اچھی گزر جانے دیں۔ اب فیصلہ ہم پر تھا۔ میں نے امی کے دل سے نظر ہٹا کر ان کی آنھوں میں جھانکا- وہ شکوہ کناہ، یا فکر مند آنکھیں نہیں تھیں وہ شکر گزار آنکھیں تھیں اور شکرگزاری معجزوں کے لیے مقناطیس ہی تو ہوتی ہے ۔بس ہم دونوں نے اکھٹے سر ہلایا اور ڈاکٹر کے اسسٹنٹ نے کانسینٹ فارم کا پرچہ ہمیں تھما کر سائین کرنے کو کہا۔ امی کے پیشنٹ کی لائن پر سائین کرنے کے بعد جب گارڈین کی باری آئی تو مجھے لگا جیسے میں اپنی ہی امی کے اڈاپشن پیپرز بھر رہی ہوں ۔ یقین جانیے اس دن میرے دل و دماغ میں ہی نہیں میری اپنی امی سے رشتے میں بھی ایک بہت بڑی تبدیلی آئی۔

بس اب اسی ہفتے میں آپریشن تھا- رب نواز سے پہلی ملاقات میرے ذہن سے نکل گئی۔ آپریشن والے دن پری آپ میں امی کی فائل دینے گئی تو نرسنگ سٹیشن پہ کچھ ہنگامہ سا پربا تھا۔ قریب جا کر معلوم ہوا رب نواز صاحب ڈسچارج ہونا چاہ رہا ہیں مگر ڈاکٹر اس کو آپریشن کے بغیر جانےنہیں دینا چاہتے ہیں۔ اس کی والدہ اور بہنیں رو رو کر اس کو سمجھانے کی کوشش کر رہی ہیں پر وہ بضد ہے کہ وہ بی اے کے پرچوں کی ڈیٹ آ گیئ ہے اور وہ بعد میں آپریشن کرائے گا۔ میرے دل میں نہ جانے کیا آئی کہ اس کے قریب جا کر کہا:

"بھئی انگریزی کے پرچے میں پاس ہونے کی خوشی بھی تو برداشت کرنی ہے۔ پہلے دل کی مرمت کروا لو پھر پاس بھی ہو جانا۔"

"مجھے تیاری بھی تو کرنی ہے۔" اس کےنرم ہوتے لہجے کو ارد گرد کھڑے سب لوگوں نے محسوس کیا۔

"تم آپریشن کروا لو تیاری میں کروا دوں گی۔"

اس کی امی اور بہن بھائیوں نے چونک کر مجھے دیکھا۔

" میں جانتی تھی انگریزی میں کہنے سے مان جائے گا۔Be brave Be a Man "تنگ نہیں کرو سب کو    

 جی"  I am Gentleman"

 "ٹھیک ہے کدھر ہے فارم لاو سائین کروں۔ وہ بولا  

  سسٹر روزینہ سمیت سب نے مجھے تشکر کی نظر سے دیکھا اور مجھے ڈاکٹرز روم سے ملنے والے روحانیت کے مقام پہ یقین سا ہونے لگا۔

"آج میری امی کا آپریشن ہے دعا کیجیے گا ۔"

میں نے بھی کسی نو دولتیے سیٹھ کی طرح اپنی اہمیت کیش کرانے کی کوشش کی۔

"جی ضرور!" سب یک زبان ہو کر بولے اور میں آگے بڑھ گئی۔

کمرے میں جا کر دیکھا تو امی ابو کا ہاتھ تھامے بیٹھیں تھیں اور  بہت حوصلے میں نظر آ رہی تھیں ۔ اور سچ بتاؤں وہ ہسپتال کے گاؤن میں بہت حسین معلوم ہو رہیں تھیں۔ میں نے ہر روز کی طرح سوچا یا اللہ میں اپنی امی کی طرح خوبصورت کیوں نہیں ہوں پھر میں نے اپنے ابو کا فکرمند چہرہ دیکھا تو سوچا چلو اپنے ابو کی طرح پریشانی میں بھی کسی کے کام آنے کی صلاحیت تو رکھتی ہوں نہ۔  

میں نے امی کا ہاتھ پکڑا اور انہیں کہا چلیں بس اب آپ نے جلدی سے ٹھیک ہو کر آنا ہے اور امی نے میرا ہاتھ دبا کر چہرے سے وہی تاثرات دیے جو رب نواز نے دیے تھے۔ نہ جانے کیوں میرے دل کو اطمینان سا ہو گیا کہ انشا للہ امی بھی ٹھیک ہو جائیں گی اور رب نواز بھی۔ امی کے تھیٹر میں جانے کے بعد ہم بھی تسبیحوں اور پنجسورتوں کے ساتھ انتظار گاہ میں آ بیٹھے اور دعائیوں کے قافلے میں شامل ہو گیے۔ تب میں یہ نہیں جانتی تھی کہ قسمت اختیار کا کھیل کہاں ہے۔ یہ تو سکہ اچھالنے کی طرح ہے جہاں سکے کا حصول تو آپ کے اختیار میں ہے پر اچھالنے کے دوراہے میں ایک ہی طرف کو چننا پڑتا ہے۔ دوسری طرف ہمیشہ ایک فسوں ہی رہتی ہے۔  

امی کا آپریشن خیریت سے ہو گیا مگر بصد احتیاط  ان کودو تین دن کے لیے  آئی سی یو میں شفٹ کر دیا گیا۔ آئی سی ہوں میں کسی اٹینڈنٹ کو سارا وقت رہنے کی اجازت تو تھی نہیں یوں زیادہ وقت باہر انتظار گاہ میں ہی بیٹھا رہنا پڑتا تھا۔ میرے امتحان ہونے والے تھے تو میں جب بھی آتی اپنی کتابیں ساتھ لے آتی اور بیٹھ کر پڑھتی رہتی۔ اسی دن رب نواز بھی کتابیں لیے مجھے میرا وعدہ یاد کروانے آ دھمکا۔

"ہیلو عمارہ جی! "

اسمارہ" میں نے کہا

"جی اسمارہ جی میرے سائین دیکھے تھے آپ نے اس دن فارم پہ ؟" وہ جامنی ناخنوں والی انگلیوں میں پین تھامے گویا ہوا

"جی کیا؟" میں گڑبڑائی

وہ ایک رجسٹر کھول کر میرے ساتھ بیٹھ گیا اور اس کے آخری صفحے پر اپنے سائین کر کے دکھانے لگا۔

"دیکھیں جی بڑی پریکٹس سے بنایے ہیں "

میں نے باد نخواستہ رجسٹر پر نظر ڈالی تو بلاشبہ وہ اردو میں کیے گیے سب سے خوبصورت دستخط تھے جو میں نے کبھی دیکھے تھے۔

رب کے" ر" کو کسی ماہر خطاط کی طرح ترنجی خط میں موڑ کر خفیف سی عمودیت میں باقی حروف نہایت خوبصورتی سے اندر بھرے گیے تھے۔ یوں لگتا تھا پانی پہ تیرتی کوئی کشتی بنائی گئی ہے اور نواز کا "ز" جیسے کشتی کے اوپر کھلے آسمان میں تیرتا کوئی پرندہ۔

"سمجھ آ رہی ہے اسمارہ جی ؟"

"یہ دیکھیں یہ رب اور یہ نواز۔۔۔ رب نواز"

وہ مجھے انہیں چپ چاپ گھورتا دیکھ کر گویا ہوا۔

"واہ! ایسے دستخط مجھے بھی سکھا دو گے ؟" میں نے بے اختیار ہو کر پوچھا

"پہلے آپ نے انگریزی سکھانے کا وعدہ کیا ہے۔"  

"ارے ہاں بتاو تمہارا آپریشن کب ہے ؟"

"اگلے ہفتے بدھ کے دن۔"

"آپ کی امی کیسی ہیں؟"

"بہتر ہیں لیکن ابھی خطرے سے باہر نہیں۔"

"خطرے سے تو کوئی بھی باہر نہیں۔ بس کسی کے ہونٹ جامنی ہو کر اشارہ کر دیتے ہیں اور کسی کا فشار خون خاموشی سے اپنا  کام کرتا جاتا ہے۔"

"بڑے دلچسپ ہیں آپ" میں نے کہا

"جی بالکل مگر میں انگریزی سیکھنے کب اور کہاں آوں؟"

وہ ایسے پوچھ رہا تھا جیسے وہ ہسپتال میں داخل کوئی مریض نہیں بلکہ کسی گرلز کالج کے باہر کھڑا کوئی نوجوان لڑکا ہے۔

"دیکھیں رب نواز آپ بیمار ہیں آرام کریں جب ٹھیک ہو جایئں گے تو ہم انگریزی بھی سیکھ لیں گے۔" میں نے کہا  

"ٹھیک تو میں ہو جاوں گا انشا اللہ پر آپ مجھ سے ملتی رہنا پلیز آپ کے کہنے پہ ہی تو دل کا انجن کھلوانے پہ راضی ہوا ہوں۔"

مجھے پھر ہنسی آ گئی -

دیکھیں جی میرے جیسے ہنسانے والے آپ کو پاکستان میں کیا دنیا کے کسی دل کے ہسپتال میں نہیں ملیں گے۔ ہم وسیب کے باسی ایسے ہی ہوتے ہیں ۔ ہنستے ہنستے جان بھی دے دیتے ہیں اور دل بھی۔ وہ کھڑا ہوا تو لگا جیسے اسے چکر سا آیا ہو۔  

"اچھا جاو آرام کرو کل ملتے ہیں صبح یہیں ۔"

مجھے لگا اسے سانس چڑھ رہا ہے۔

"تم ٹھیک تو ہو آؤ میں تمہیں تمہارے وارڈ تک چھوڑ آؤں؟"

میں گھبرا سی گئی۔

"جی آپ ٹھیک کہتی ہیں دل کو خوشی کی خبر سننے کے لیے بھی مضبوط تو ہونا چاہیے۔"

وہ میرے ساتھ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے بولا۔

اس کا وارڈ مردانہ تھا اس لیے  اس نے مجھے دروازے پہ ہی روک دیا میرا بیڈ نمبر دو ہے سامنے ہی۔۔۔ میں چلا جاتا ہوں۔

میں وہیں رک گئی۔ ایک عجیب سی کیفیت تھی میری  ۔۔۔

وہ زندگی سے بھرپور لڑکا اپنے کمزور دل سے لڑ رہا تھا۔ دل جس کے بننے میں کچھ نقص رہ گیا تھا۔ ایک نقص جس نے اس کو زندگی کے نئے ہی معنی سمجھا دیے تھے- وہ ہنستا تھا ہنساتا تھا اور اپنے اندر کی امید کو ارد گرد کے  لوگوں سے رابطہ رکھ کر پالتا رہتا تھا۔ میں خود ایک عجیب سے دور سے گزر رہی تھی جہاں روز کسی انہونی کا دھڑکا لگا رہتا تھا اور دل کئی طرح کے وسوسے بنتا رہتا تھا کہ کب نہ جانے زندگی کون سا نیا موڑ لے لے جس کو جھیلنے کی مجھ میں تاب نہ ہو۔

رب نواز مجھے اچھا لگتا تھا اس لیے کہ وہ سادہ تھا، اپنائیت والا تھا اور سب سے بڑھ کر زندہ رہنا چاہتا تھا۔ اسے اپنے دل کی صحت کی فکر کے علاوہ کوئی کامپلیکس نہ تھا۔ جو دل میں آتا کہتا اور کر جاتا تھا اپنے بیمار دل کا بادشاہ تھا وہ۔ میں نے سوچا۔

امی کی ریکوری اچھی ہو رہی تھی مگر پھر بھی کم از کم پندرہ دن تک انہیں ہسپتال میں رکنا تھا۔ ایک دن کے بعد امی کی حالت کے پیش نظر ان کو سی سی یو میں شفٹ کر دیا گیا۔  

ایسے میں ہم روز کہیں نہ کہیں ایک دوسرے کو ڈھونڈ لیتے اور ڈھیروں باتیں کرتے۔ اس کا فوک میوزک اور ادب کا نالج بہت اچھا تھا۔ میری انگریزی اچھی تھی۔ وہ مجھے سسی پنل ،سہتی مراد، شیریں فرہاد اور ہیر رانجھے کے قصے سناتا تو میں اسے ہیملٹ، رومیو جولیٹ، ہیلن آف ٹرائے اور مڈ سمر ناٰیٹ ڈریمز کی سمریاں یاد کرواتی جو بی اے کے امتحان میں آنا متوقع تھیں۔

دو  چاردن میں کوئی کسی کو اس سے زیادہ کیا جان سکتا تھا؟ میں جب بھی صبح کی چائے بناتی اس کا اور اس کی امی کا ایک کپ بھی بنا کر ان کے وارڈ میں لے جاتی ۔میں اور رب نواز باتیں کرتے تو اس کی امی ارد گرد کے مریضوں کی خبر گیری کرتی رہتیں۔

اس کی منطقیں سب سے نرالی تھیں۔ وہ کہتا تھا محبت کرنے کا مزہ اس کو کرنے والے کہاں لے پاتے ہیں وہ تو بیچارے سماج اور حاسدین کے ہاتھوں تکلیفیں اٹھاتے یا نظریں لگواتے ختم ہو جاتے ہیں۔ محبت تو اصل میں محبت کے قصے لکھنے والوں کا شغل ہے۔

مجھے بتاو اسمارہ کیا صرف محبت کرنے والے ہی امر ہو تے  ہیں؟ محبت کی کہانیاں لکھنے والے بھی تو امر ہو جاتے ہیں۔ اب دیکھو آپ کسی کتب فروش کے پاس وارث شاہ کی شاعری کی کتاب لینے جاو گے تو اسے کیا کہو گے؟ بھائی رانجھے کہ ہیر دینا یا وارث شاہ کی ہیر دینا ؟ ہیر رانجھے کی نا ہو کر امر ہوگئی لیکن امر ہو کر تو وارث شاہ ہی کی رہی نا؟

پھر کبھی کہتا پچھلے وقتوں میں خون اور گوشت پوست کے دل کی اصل ہییت جب تک کسی نے چیر پھاڑ کر نا دیکھی تھی تو  مصوروں اور عاشقوں نے ہاتھوں سے بنے خلا کو دل کی شکل دے کر اس میں لال رنگ بھر لیا اورمحبت کی مہر بنا لی پھر جب کوئی ٹھیس لگی تو اسی میں تیر مار کر لہولہان ہو گیے- پھر جب انسان نے ترقی کر لی اور دل کی اصل ہییت اور کام جان لیا تومحبت کے لیے کوئی خلا ہی نہیں چھوڑا اور وہ مادیت پسند معاشرے میں محض فلموں اور ڈراموں تک ہی محدود ہو گئی۔ اب جنگوں اور انقلابوں کے قصے ہی بہت ہیں رونے کو ۔ کون وارث شاہ رانجھے کی بربادی کے وین ڈالتا اور کون غالب قیس کا دل مجنوں کی مٹھی میں تلاش کرتا؟

بس ایسے ہی اوٹ پٹانگ باتیں کرتے کرتے  ایک دن بدھ کا بھی  آگیا۔ رب نواز کی امی اور بہنیں صبح آٹھ بجے  مجھے بلانے آیئں۔ میں نے امی کو دوائیاں دیں ان کا ہاتھ دبایا اور رب نواز کے وارڈ کی طرف چل دی ۔ ڈاکٹر اس کے بیڈ کے پاس کھڑے اس کی ہمت بندھا رہے تھے۔ اس کی اوپن ہارٹ سرجری ہونا تھا۔ میں خاموشی سے ایک جانب جا کر کھڑی ہو گئی وہ ہسپتال کے نیلے گاؤن میں متھرا کا کرشنا لگ رہا تھا۔ میں نے مسکرا کر اس کو دیکھا اس  نے جوابی مسکراہٹ دی۔ اس کے جامنی ہوںٹ جیسے ایک بار پھول کی پھنکھڑیوں کی طرح چٹکے اور مجھے یقین ہو گیا کہ انشا اللہ سب ٹھیک ہو گا۔ وہ خود چل کر تھیٹر تک گیا اور میں اسے دروازے سے اندر جاتا دیکھتی رہی۔ اس نے جانے سے پہلے پیچھے  مڑ کر دیکھا۔ مجھے اس کی آنکھیں ڈبڈبائی ہوئی محسوس ہویئں۔اسکی آنھوں میں ایک عجیب سا ملال تھا جیسے کہ رہا ہو ۔۔۔  ہمیں کہیں اور ملنا چاہیے تھا کسی ماورائی داستان میں یا کسی عظیم مصور کے کسی شاہکار میں۔ کیا یہ ستم ظریفی  نہیں  کہ ہماری محبت کا سنٹر سٹیج دل کا یہ ہسپتال نکلا۔

 میں نے ساتھ کھڑی اس کی امی کے شانے پہ ہاتھ رکھا اور ان کو تسلی دی۔

میں کچھ دیر ان کے ساتھ بیٹھ کر دعایئں پڑھتی رہی پھر امی کے اکیلا ہونے کا خیال آ کر ان کے پاس سے اٹھ آئی۔ ایک لمحے کے لیے دل میں آیا کہ اسے کچھ ہو گیا تو۔۔۔

دوپہر کے قریب جا کر دیکھا تو ابھی وہ تھیٹر میں ہی تھا۔

شام کو اس کی بہن نے بتایا  کہ اس کو آئی سی یو میں شفٹ کر دیا گیا ہے ابھی بے ہوش ہے اور حالت خطرے سے باہر نہیں۔ دیر سے آپریٹ  کروانے کی وجہ دے پیچیدگیاں بڑھ گئی تھیں بس اگلے چوبیس گھنٹے اہم ہیں۔

رات کو امی کی حالت بھی بہت اچھی نہیں رہی ان کو ساری رات بخار رہا اور میں ساری رات جاگتی رہی۔ صبح میری بہن ناشتہ لائی تو بولی گھر چلی جاو کچھ آرام کر لو میں جانے کے لیے نکلی تو رب نواز  کا ہنستا کھیلتا چہرہ آنکھوں ے آگے آ گیا۔۔

ابو کو پارکنگ میں انتظار کرنے کا کہ کر میں آئی سی یو کی طرف بڑھی۔ باہر انتظار گاہ میں اس کی امی بنچ پر سوئی ہویئں تھیں۔ میں دروازہ کھول کر خاموشی سے اندر گئی اور رب نواز کے بیڈ کے پاس جا کر کھڑی ہوگئی ۔ اس کے جامنی ہونٹوں کے بیچ سے نکلتا وینٹیلیٹر کا پائیپ نہایت بے ہودہ معلوم ہو رہا تھا۔ ارد گرد مشینوں کی آواز نہایت بے ڈھنگی لگ رہی تھی اس کے چہرے اور ہاتھوں پر ورم تھا اس کا ایک ہاتھ اس کے بیڈ کی سایئڈ سے باہر نکل رہا تھا۔ میں نے احتیاط سے اٹھا کر اندر کرنا چاہا تو جیسے اس کے پپوٹوں میں ایک جنبش ہوئی اور اس کی انگلیوں کی گرفت میرے ہاتھ پر سخت ہو گئی۔ میں حیران ہوئی کہ میں نے غیر ارادی  طور پر ہاتھ چھڑانے کی کوشش کیوں نہ کی۔ اچانک نہ جانے کیا ہوا ارد گرد مشینیوں کا بے ڈھنگا شور بند ہو گیا اور مجھے جیسے  دور کہیں سے اس کی آواز اپنے لاشعور میں اترتی محسوس ہوئی۔

میکوں مونجھاں ڈے‘ میکوں شاد نہ کر

میڈی اجڑی جھوک آباد نہ کر

بھل زلف سیاہ دے نال سجن

میکوں بدھی رکھ‘ آزاد نہ کر

((مجھے اداسیاں بخش‘ مجھے شاد نہ کر۔ میری اجڑی ہوئی جھوک (بستی) آباد نہ کر۔ اے دوست! مجھے اپنی سیاہ زلف سے باندھے رکھ اور مجھے آزاد نہ کر)

میں نہ جانے کتنی دیر اس کا ہاتھ تھامے ساکت کھڑی رہی ۔ مجھے نہیں پتہ میرے لیے یہ محبت تھی یا کیا تھا مگر وہ اس بیچارگی میں بھی اپنی اپنایئت کا اظہار اپنے روم روم سے کر رہا تھا۔ محبت اس کے سوا اور  کیا ہے کہ کسی کے درد کو محسوس کیا جائے ۔مجھے ڈر  لگا کہ  جیسے یکدم میرے دل سے درد کی کوئی  ٹیس نکل کر اس کےہاتھ سے ہوتی ہوئی اس کے دل تک نا پہنچ جائے۔ میں نے یکدم ہاتھ چھڑایا اور  مشینوں کی آواز کے غیر معمولی پن کو محسوس کرتے ہویے سسٹر کو آواز دی۔ سسٹر قریب آئی اور مشینوں کو دیکھ کر مجھے باہر جانے کا اشارہ کیا۔

باہر آ کر مجھے یاد آیا ابو نہ جانے کب سے پارکنگ لاٹ میں میرا انتظار کر رہے ہوں گے۔ اس کے ہاتھ کا دباؤ اور اس کا خوابناک سرائیکی لہجہ دونوں میرے ساتھ سر جھکایے چلتے چلے جا رہے تھے۔ ہم نہیں جانتے تھے ہم کون ہیں- پر ہم وہ نہیں تھے جو محبت کے اس لمس سے پہلے تھے۔

میں اداس سی جا کر گاڑی میں بیٹھ گئی جسے ابو نے میری رت جگے کی تھکن سمجھا۔ گھر جا کر بھی بار بار اس کا خیال آتا رہا۔ زندگی میں پہلی بار کسی نے اسقدر محبت سے میرا ہاتھ تھاما اور وہ بھی  ان حالات میں۔

پھر مجھے اس سے ملنے سے لے کر اس کے ساتھ گزارے چند دن یاد آ گیے۔ انسان بھی عجیب مخلوق ہے دکھوں اور تکلیفوں کے لق دق صحرا میں بھی محبت اور امید کے پھول کھلانے سے باز نہیں آتا۔

میں نے ظہر کی نماز پڑھ کر اس کے لیے دعا مانگی اور کچھ دیر سونے کو لیٹ گئی تا کہ رات کو پھر ہسپتال جا سکوں۔

رات کو میں اور ابو ہسپتال میں رکنے والے تھے۔ ہم پہنچے تو نرس نے بتایا امی کو کمرے میں شفٹ کرنا ہے۔ اس کی بھاگ ڈور میں کافی دیر ہوگئی۔  

امی کی حالت تیزی سے بہتر ہو رہی تھی۔ میں ایک بار آئی سی یو کی طرف گئی پر وارڈ بوائے نے اندر نہیں جانے دیا کہ رب نواز کا حال جان سکوں۔ اس کی امی اور بہن بھائی بھی کہیں نظر نہیں آئے۔ سسٹر روزینہ بھی کہیں نہیں دکھ رہیں تھی  نہ ہی وہ باتونی آیا جی۔ میں کمرے میں آ گئی اور صبح کا انتظار کرنے لگی۔

صبح چھ بجے ہی میں آئی سی یو ی طرف گئی۔ گارڈ کرسی پہ اونگھ رہا تھا۔ اندر جا کر دیکھا تو رب نوازکے بستر پر کوئی اور مریض تقریبا ویسی ہی حالت میں لیٹا تھا۔ پاس گزرتی نرس سے کچھ پوچھنے کی کوشش کی تو اس نے منہ پر انگلی رکھ کر خاموشی سے باہر جانے کا کہا۔

باہر نکلی تو سسٹر روزینہ کو سامنے سے آتا پایا-

"سسٹر سسٹر رب نواز کیسا ہے؟" میں نے بے تابی سے پوچھا

سسٹر نے مجھے دیکھا تو ان کی آنھوں کے آنسوؤں نے میرے دل کی دھڑکن بڑھا دی۔

"بتایئے سسٹر؟"

"اسے کل دوپہر کو کارڈیک اریسٹ ہوا۔ ہم نے ریوایو کرنے کی بہت کوشش کی پر اس نے آپریشن کرانے میں بہت دیر کر دی تھی۔ ہی از نو مور"

"اس کی فیملی ؟"

وہ تو رات کو ہی اس کی باڈی لے کر ملتان چلے گیے تھے ۔  

سسٹر یہ کہ کر آگے بڑھ گئیں پر میںے قسمت کے سکے کے اچھل کر زمین پر گرنے سے اوجھل ھو جانے والی ایک سایئڈ کی تاریکی اپنے اندر اترتی محسوس کرنے لگی۔

آج برسوں بعد جب یہ کہانی لکھنے بیٹھی تو اس آخری سطر تک آتے آتے قدرت اللہ شہاب کی چندراوتی میرے پاس آن کھڑی ہوئی۔

اس نے اپنی اینگلو انڈین سی انگریزی میں مجھ سے سوال کیا:

“ How was it with the purple boy?

“We started with a simple hello and ended in a complicated goodbye!”

میں نے جواب دیا۔

عینی علی

....................................

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form