پروپیگنڈا ‘منفی اشاریےاور سماجی تنزلی

March 23, 2021
دیدبان شمارہ ۱۳ مابعد کرونا ادبافسانہ

دیدبان شمارہ ١٣

پروپیگنڈا ‘منفی اشاریےاور سماجی تنزلی

تحریر : نعیم بیگ

زبانِ عام میں پروپیگنڈا کی تعریف یوں کی جاتی ہے کہ یہ ایک ایسی نپی تلی سرگرمی ہے جودوسروں کےنقطہ نظر کو جوڑ توڑ ‘ عمل یا رویوں اور تحریر و تقریر یا ایسے سائنز جس میں ہرطرح کے بینرز، میوزک، انسانی پہناوے‘ کپڑوں کی ساخت،  ہیئر سٹائل، ڈیزائنز اور ڈاک کی ٹکٹ وغیرہ شامل ہیں‘ کے ذریعے مسترد کردے اور  خود مستردکرنے والوں کے تصورات کو خاموشی سے مہمیز دے کر مخالفین کے عقائد و ذہن پر اثر اندازہو کر انہیں منفیت  یا کنفیوژن کا شکار کردے ۔

پروپیگنڈا سرگرمی گفتارسے لے کر انسانی عمل، تخلیق اور ایجادات تک پھیلی ہوئی ہے۔یہ رسمی طور پر ایک ایساعمل ہے جوکسی سچ کو آدھا کر دے، کسی جھوٹ کو سچ کے درجے پر فائز کردے‘ کسی بھی عقیدےکو مبالغہ آرائی تک بلند کر دے یا اس کو کمتر درجے پر لے آئے۔ کسی بھی وجود و موجود  کو اس کی ہیئت سے پرے لےجاکر اس کی ساخت پر سوال اٹھا دے اور رائے عامہ کو اپنی حمایت میں اس طور پر ہموارکرے کہ خود پروپیگنڈسٹ کے نظریات کو اہمیت حاصل ہو جائے اور حقائق کو مسخ ، جھوٹ کو بالاتر، افواہوں کو جنم دیکر کسی بھی فکرو فہم کو منفیت کا شکار کر دے۔ یہ اس جوہر کی ابتدائی ساخت ہے جسے ہم پروپیگنڈا کہتے ہیں۔

بریٹنیکا  ڈاٹ کام کے مطابق لفظ پروپیگنڈہ ، جیسا کہ چندصدیوں سے استعمال ہوتا آ رہا ہے ، بظاہر مشنری کام کو آگے بڑھانے کے لئے 1622۔ئ میں رومن کیتھولک کارڈینلز کی تنظیم ، کانگریگیو ڈی پروپیگنڈا فائیڈ ( تبلیغ برائےمذہب) کے عنوان اور کام سے اخذ کیا گیا ہے۔ اس وجہ سے بہت سے رومن کیتھولک لوگوں کے نزدیک یہ لفظ کم از کم مشنری یا کلیسیائی اصطلاح میں انتہائی قابل احترام مفہوم رکھتا ہے۔

فی زمانہ اِس لفظ کےکثیر  و مسلسل منفی استعمال سے یہ اصطلاح اب یقینی طور پر  عالمی سطح پر قابل مذمت ٹہری ہے‘ جس میں بدعنوانی‘ حکومتی مظالم کی داستانوں اور دھوکہ دہی کے ساتھ بیان کردہ جنگی مقاصد مثلاً عالمی جنگیں، ، نازیوں کی وزارتِ عامہ کی عوام دشمن کارروائیوں  سے لے کر  خود ہمارے ہاں نظریات کی سیاسی اور معاشی جنگ کےمنفی اثرات سے بچاؤ کے لئے مسلسل جاری ہوتا یک طرفہ بیانیہ ہے۔ بین ہی یہ اصطلاح  روشن خیالی و فروعی مذہبیت اور سیاست دانوں کی الیکشن مہم کےدوران جھوٹے وعدے‘ حتیٰ کہ جھوٹی اور گمراہ کن اشتہارات کی بے مثال مثالوں کی یاد دلاتا ہے۔

پروپیگنڈا ایک عمومی حساس’’ تبلیغ کا عمل ‘‘ ہے۔ اس سے مراد وہ علامتی اعمال جس کے تحت ممکنہ لوگ براہ راست تبلیغی اثرات جیسے مذہب کی طرف راغب کرنا ، کچھ مذہبی اطوار و روایات کو رائج کرنا، علاوہ ازیں غیر ملکی امداد پر وصول کنندہ کے ثقافتی اور سماجی حوالوں پر اثرانداز ہونا بھی پروپیگنڈا کی ایک قسم ہے۔

بعض اوقات بالواسطہ پروپیگنڈا کی مابین بھی اختلاف پیدا کر دئیے جاتے ہیں۔ جس میں پروپیگنڈا کرنے والےاور ان کی پشت پناہی کرنے والے کو ایک اور خفیہ پروپیگنڈا کے راستے یہ اطلاعات بہم پہنچائی جاتی ہیں کہ زرد حریفانہ پروپیگنڈا سے بچا جائے۔

زرد  حریفانہ پروپیگنڈا بالکل زرد صحافت کے معانی میں آتا ہے جس میں ذرائع خفیہ یا بھیس بدلے ہوئے ہوتے ہیں۔ جیسے سیاسی اشتہارات میں دستخط شدہ بینر، جھوٹے ناموں کا استعمال کرکے خفیہ ریڈیو سٹیشنوں، ایڈیٹرز، سیاستدانوں یا دوسرے لوگوں کے مبینہ بیانات و ویڈیوز اور خاص طور پر فوٹو شاپ سے تجسیم کردہ منفی شخصی خاکے اور غیر اخلاقی سماجی واقعات کے منظر نامے جنھیں حکومتوں،سیاسی حمایتیوں یا کاروباری اداروں نے خفیہ طور پر مالی منعفت  دیکر جنم دیا ہو۔ ۔

پروپیگنڈے سے متعلق ایک اور اصطلاح نفسیاتی جنگ جسے عرف عام میں ہائبرڈ وار بھی کہا جاتا ہے۔ یہ وقوعے سےقبل از وقت یا جنگ کے وقت استعمال کی جاتی ہے۔ اِس کا کلی طور پر تعلق دشمنوں کی آبادی یا فوج کو الجھا کر مایوسی کا نشانہ بنانا ہے۔ ایسی صورت میں آنے والےحملوں کی غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ یا خبر لیک کر دینے سے دشمن افواج کو غلط سمت میں موڑ دینا ہے۔ بین ہی سیاسی جنگ میں تصور امن کو معاشرتی اور سیاسی تفریق سے تیز ترکرنا اور مخالف دھڑوں میں کنفیوژن پھیلا کر اور دیگر تیکنیکوں کے ساتھ پروپیگنڈاکو تیر بہدف کرنا مقصود ہوتا ہے ۔  

پروپیگنڈا  کی ایک اور اہم ترین اصطلاح برین واش ہے۔ عام طور پر یہ اصطلاح شدید سیاسی تعصب اورمخالف نظریہ  کو  مخفی ریاستی جبر سے ختم کر دینے  کی صورت سامنے آتی ہے۔ اس میں حکومتی سرپرستی میں  قومی اور نظریاتی سطح پر حکومتی بیانیے کو مقبول تر بنانے کے لئے طویل سیاسی لیکچرز یا مباحثے  شامل ہیں۔اپنے اِس مقبول بیانیے کے مخالف دھڑوں میں بعض اوقات اساتذہ ، علم و ادب  سے تعلق رکھنے والے شاعر  و ادیبوں اور دانشوروں کی ادبی و فعالی مزاحمت کو کم کرنے کی کوشش میں  اِن ’غیرذمہ دار‘  عناصر کو جسمانی طور پر تشدد ، زیادتی  یا تنہائی کی قید ، دھمکیوں کے ذریعہ ، مالیطور پر غیر مستحکم کرنے کی کوشش یا تفتیش کاروں یا منحرف ساتھیوں کے ساتھ جذباتی و پریشان کن تصادم  جیسی صورت روا رکھا جانے والا جبر و تشدد ۔  ساتھی شہریوں کے سامنے ذلت  و غیر اخلاقی سنسنی خیز جھوٹے واقعات کو  زرد صحافت  کے ذریعہ وسیع پیمانے پر  پھیلا دیا جانا  شامل ہے۔

پروپیگنڈا کے بارے میں عالمی حوالوں سے اِس موضوع پر گفتگو  اور پس منظر میں جب ہم اپنی لوکیل میں اس بات کاجائزہ لیتے ہیں تو ہمارے ہاں اردو ادب کے تناظر میں  ترقی پسند تحریک کے احیائ سے لیکر آج تک اس بحث کو زندہ رکھا جا رہا ہے کہ ترقی پسندوں کا ادب محض پروپیگنڈا ہے اور جہاں بھی موقع ملا  ،اِن رجعت پسندوں نے اپنے قول و فعل،عملی و ادبی سرگرمیوں اور سرکاری سرپرستی میں معاشی دلآویز سہولتوں کے بدلے اس تشہیر کو مسلسل دوام بخشا کہ ترقی پسند سوچ و فکر ایک ایسے معاشرے کا  قیام وانتظام و انصرام چاہتی ہے جو کسی صورت مقامی سماجی ضرورتوں کا درماں نہیں رکھتی۔کبھی ترقی پسندوں کو اسلام دشمن قرار دیاگیا، کبھی انسان دشمن اور ثقافت دشمن گردانا گیا۔ ایسا کرتے ہوئے سماج میں خوف کی ایک ایسی فضا پیدا کی گئی جہاں رجعت پسندوں کو سرکاری سرپرستی میں ایک ایسا ادبی میدان مہیا گیا‘ جہاں سے یہ پروپیگنڈا اپنی پوری توانائیوں سے کروڑوں پاکستانی عوام پر سرکاری مشنری کے ذریعے مسلط کیا گیا۔

یہ وہ زمانہ تھا جب سیدسبط حسن اور اِن کے ساتھی ادبی میدان میں متحرک تھے۔ اشتراکیت کے موضوع پر ۱۹۷۰ میں جب سبط حسن نےفریڈرک اینگلز کی کتاب کا ترجمہ کیا اور بعدازاں سوشلزم پر ان کے دو تین آرٹیکل  سامنے آئے تو رجعت پسندوں کا پورا جتھہ ان کے سامنے سرکاری مشنری کی مدد سے اتر آیا۔  اشتراکی افکار کے  عہد بہ عہد ارتقاء کی تفاصیل اور اس کی مقبولیت نے رجعت پسندوں اور ان کی بہی خواہ حکومت اور ایلیٹ کلاس کو اس پر مجبور کیا کہ وہ اپنی پروپیگنڈا مشین کو پوری توانائی سے متحرک کر دیں ۔ یوں شہابیہ گینگ آف فائیوکا  نام سامنے آیا جو اشتراکی سوچ و فکرکو اپنی پروپیگنڈا مہم سے نبٹنے کے لئے میدان میں اتارا گیا۔ اس گینگ کے سرخیل قدرت اللہ شہاب تھے جس میں ممتاز مفتی، اشفاق احمد ، بانو قدسیہ وغیرہ شامل تھے۔  اِس گینگ کا سب سے بڑا ٹارگٹ یہ تھاکہ  ۱۹۱۷ کے کامیاب روسی انقلاب کے  بعد غلام ملکوں سمیت جو  خود اعتمادی، سماجی انصاف پر مبنی اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو رہے تھے۔ اس کے خلاف پاکستان کے ادبی و سیاسی منظر پر ایک محاذبنایا جائے تاکہ انقلابی تحریکوں کا راستہ روک کر سرمایہ دارانہ نظام کے پھیلاؤمیں ممکنہ رکاوٹوں کو  پروپیگنڈا کے تحت دور کیا جائے۔ یہی وہ دن تھے جب پاکستان سمیت پوری دنیا میں انقلابی تحریکوں میں سماجی و سیاسی و ثقافتی  اور معاشی آزادی کے لئے جدو جہد کا دوردورہ تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے تحت پروپیگنڈا  اب ایک باقاعدہ صنعت کا درجہ رکھتی ہے۔ یہ عمومی سماجی و سیاسی و ثقافتی سرگرمیوں میں دولت کے بل بوتے ایک ایسے سسٹم کو  تجسیم کرتی ہے جن کا کام مسلسل اس بات کی ترویج کرنا ہی ٹہرتا ہے کہ وہ ہر اس مخالف نظریہ کو رد کرے جو سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف سر اٹھائے۔ اس نظام کے تحت بنیادی فکر تو سرمائے کے ارتکاز اور اس پر ایک مخصوص طبقے کی ذاتی ملکیت ہے۔ یہی طبقہ دولت آفرینی کے تمام ذرائع جن میں فیکٹریاں، ملیں، بینک، جہازوں ، ریل گاڑیوں،زمینوں،میڈیا ، فارماسیوٹیکل اور اسلحہ سازی پر قابض ہے۔ اب اگر دولت آفرینی کےان ذرائع پر اجتماعی ملکیت  کے دعوے دارسامنے ہوں تو ظاہر ہے کہ ذاتی ملکیت والوں کے لئے وبالِ جان ہی بنیں گے۔ یہی وہ بنیادی فکر ہے جس پر قابو پانے کے لئے پروپیگنڈا کو زدِ زبان عام کیا گیا تاکہ اشتراکی سوچ پر بند باندھے جائیں۔

آج اس کے اثرات ملک کےسیاسی و سماجی منظر نامے پر بخوبی دیکھے جا سکتے ہیں۔  جس دور کے بارے میں راقم نے  ابتدا میں گفتگو کی۔ صدر ضیا الحق کے مارشل لاء بعد جبر کی ایسی صورت حال پیدا ہوئی اس میں عالمی جہادی ضروریات کی پیش نظر مذہبی اصطلاح جہاد کو مقدس فریضہ قرار دیاگیا ‘ جس کے ممکنہ نتائج اب انفرادی جہاد کی صورت فقہی و فرقہ وارانہ تقسیم درتقسیم کی صورت سامنے آئی۔ بین ہی ایک ایسے سماج کو جسے سائنسی و جدید علوم کی شدیدضرورت تھی اسے تنزلی کی راہ پر لگا کر توہم پرستی، گنبدی و مجاوری و بابا کلچر کی نذر کر کے سیاسی نتائج تو حاصل کر لئے گئے لیکن اب اس کے اثرات دھائیوں تک جاتےنظر نہیں آتے۔

۔۔۔۔

نعیم بیگ لاہور فروری۲۰۲۱۔ئ

نعیم بیگ

افسانہ نگار ، ناول نگار نعیم بیگ کا تعلق پاکستان کے ادبی مرکز لاہور سے ہے۔ آپ بنیادی طور بینکار ی اور انجینئرنگ مینجمنٹ سے تعلق رکھتے ہیں ۔اپنے پروفیشنل سفر میں وہ جزوقتی لکھاری کی حیثیت سے ہمہ وقت مختلف اخبارات اور جریدوں میں اردو اور انگریزی کے مضامین لکھتے رہے۔’ ٹرپنگ سول‘اور ’کوگن پلان‘ ان کے  دو ناول انگریزی میں آ چکے ہیں ۔ اردو زبان میں بھی ان کے دو افسانوی مجموعے ’ یو۔ڈیم۔سالا‘اور ’ پیچھا کرتی آوازیں‘ اور ایک ناول ’ ڈئیوس،علی اور دِیا‘  منظر عام پر آچکے ہیں . نعیم بیگ ایک فعال ادیب ہیں جو انگریزی اور اردو دونوں زبانوں  میں بیک وقت  لکھ رہے ہیں .آپ کئی ایک ملکی ادبی اداروں اور عالمی رائٹرز گلڈ اور ہیومن رائٹس واچ کے ممبر ہیں۔

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form