پرویز شہر یار کی نظمیں

October 26, 2020
دیدبان شمارہ 12 مابعد کرونا نمبر نظمیں نظمیں

یدبان شمارہ ١٢

نظم : لاک ڈاؤن اور مزدوروں کا کا رواں

پرویز شہریار، نئی دہلی

مزدوروں کا کارواں

منزل کی جانب تھا رواں دواں

ان میں بھوکے ننگے، بوڑھے بچے

بلی کتے اور بکری،سائیکل ریڑھی سب کے سب ساتھ تھے

جو بھی ان کے اثاثہئ حیات تھے

کرونا وائرس کی مار

اوپر سے بے اثر ریاستی سرکار

نفسی نفسی کا تھا عالم،جہد البقا کا تھا مقام

بند تھی ساری دَھا ڑیاں،بند تھے سارے کاروبار

قافلہ تھا

کہ تھمنے کانام لیتا نہ تھا

بھوک اور پیاس سے نڈھال

پھر بھی چلا جا تا تھا

دور دور تک کوئی نہ تھا پر سانِ حال

پھر بھی چلا جا تا تھا

کوئی رستے میں مل جاتا اگر روزے دار

مزدوروں کی بھوک پیاس سے ہوکے بے قرار

انھیں پانی کی بوتلیں

روٹی، تربوز اور کچھ روپے اُدھار

فطرے کا کچھ مآل

پیش کر دیتا تھا

گرمی کے مارے

ہونٹ سبھی کے خشک تھے

اور پاؤں میں پڑ گئے تھے چھالے

منزل پر پہنچتے ہی،

سانپ کی مانندیکایک،

سوال یہ کھڑا ہو گیا پھن پھیلائے

شہر سے واپس آئے مزدوروں کو اب کون سنبھالے

چلتے چلتے

بدن تھک کے ہوگئے چور

مزید چلنے سے سب ہوگئے مجبور

سوا سو کروڑ کی آبادی

بند تھی قفس میں پرندوں کی طرح

کوئی نہیں تھا یہاں جو انھیں بڑھ کر گلے لگالے

ہر مزدور تھا فریادی،

مولا تو نے یہ کیسی وبا دی

ماں بچے سے دور ہوئی، کورونا سے مجبور ہوئی

دور ہو گئے ماں سے بچے

چلتے چلتے

کچھ مر بھی گئے، کچھ بچ بھی گئے

جو بچ گئے وہ چلتے ہی رہے، چلتے ہی رہے

مزدوروں کا سمٹتا بکھرتا کارواں

منزل منزل تھا، رواں دواں

کوئی ان کا نہ تھا رازداں

منزلِ مقصود کا،دور دور تک نہ تھا، ----- نام و نشاں

تاریخ کا یہ عجب سانحہ تھا

ہمارے اجداد نے کبھی یہ دیکھا نہ تھا

قتل و غارت تو ہوئے تھے ملک میں پہلے بہت

مگر انسان کبھی ایسا ہراساں نہ تھا

کورونا جیسے خوردبینی جراثیم سے کبھی

اس قدرلرزاں با اندام نہ تھا

انساں کبھی اتنا نافرجام نہ تھا

------------------------

نئی نسل کے نام ------- ایک نظم

پرویزشہریار، نئی دہلی

عہد ِ وسطیٰ کے اواخرکا ہندوستان

خوشامدیوں سے گھری

شہنشاہوں کی سفینہئ حیات

عیش کوشی کے

گہرے سمندر میں

ڈوبتی ہی چلی جاتی تھی

نئی نسل کے نوجوانوں کی کشتیاں بھی

دیر رات گئے

ذہنی عیش کوشی کے

دریاؤں میں پیہم ہچکولے کھاتی ہیں

صبح صادق

افلاس کا مارا ہواملائے حزیں

وقت ِ مقررہ پر جب دیتا ہے اذان

بسترِ استراحت پر

رات کی بے خوابی کا خمار لیے

کروٹیں بدلتے ہیں، دن چڑھے دیر تک

وہ نوجوانانِ قوم

کہ جن کے شانوں پر

ملک کے مستقبل کا تھا انحصار

ان میں کوئی غیرتِ بہادر شاہ ظفر

کوئی شجاعت ِٹیپو سلطان بھی ہو سکتا تھا

کوئی واجد علی شاہ کی سخاوت کو للکاربھی سکتا تھا

لیکن

صد حیف کہ

شجاعت اورسخاوت تو بڑی دوٗر کی ہے بات

ان میں خوئے اسلاف تو ہے عنقا

غیرت ِ اجداد بھی نہیں

جن مدارس کا نمک کھاکر

وہ پروان چڑھے ہیں

ان کے ناموس کا

انھیں کچھ پاس بھی نہیں

ایک دلفریب سماوی جال پھیلا ہے تمام

جس میں جوق درجوق سبھی پھنستے چلے جاتے ہیں

اپنی رنگین تخیّل کی

برقی دنیا میں مگن

کوئی جامِ جمشید ہو جیسے

جادوئی صندوقچے کے حسین شیشے میں

اپنی حسِ بصارت کو مرکوز کیے جاتے ہیں

اپنی قوتِ رادی سے یکسرمحروم نوجوانان

اپنی عزتِ نفس کا جنازہ اُٹھائے چلے جاتے ہیں

پیروانِ شداد بنتے چلے جاتے ہیں

وہ نوجوانانِ قوم

کہ جن کے شانوں پر

ملک کے مستقبل کا تھا انحصار

ڈاکٹر پرویزشہریار



ایڈیٹر، این سی ای آر ٹی، نئی دہلی16-

Dr. Perwaiz Shaharyar
Flat No. 4/48, NCERT Campus
Sri Aurobindo Marg
New Delhi-110016
Mobile No. 9910782964

spa1962@gmail.com

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form