دیدبان شمارہ 12

پیمانوں سے پرے وجود

ساقی ہو کہ جام مست لب بام ہو

پیمانہ ہو کہ درد مند آشفتہ گام ہو

بھڑکے ہوئے الاو سے

سب خوف کھائیں ہیں

غم کو کریں غلط

سب مانتے ہیں درست

جل کے بھسم ہوں

ایسے نہیں ناسمجھ

جام کی تلخی ہو کہ

پیمانے کا خم ہو

ایک ذرا سی آنچ پہ

جاتے ہیں سب لپک

میں رازدان کیمیا گر

کندن کا ہوں مفرد

جلتا ہوا  زمانوں سے کئی

کسی طور پہ میرا فسوں

میں نہیں منتظر

کسی مے نوش کی  پیاس کی

جذبے میرے سلامت  

میرے خوابوں کی سپاس بھی

ایک قافلہ دیکھتی ہوں رندوں کا روز میں

دیوانہ وار بڑھ رہا ہے  

پیمانوں کی اور کو

ساقی انڈیلتے ہیں جام  ہوس خوشرنگ و خوش بو

گھونٹ جن کے بھر کے یہ کرتے ہیں ہاو ہو

کسی کا درد لادوا  وقتی علاج پاتا ہے

کوئی غم اپنوں کے دیئے خود ہی گٹگ جاتا ہے

اس طور پہ آنے کی چاہ کسے

اس راز پیمبری کو پانے کی چاہ کسے

یہ طلبگار حسن و ریا

یہ وفادار سود و زیاں

سب کوئلے ہیجان کے چبا جائیں گے

ہیرے علم و نور کے یہ بیچ کھائیں گے

بھٹکے ہویے یہ بوزنے کیوں میرے پاس آئیں گے۔۔۔

عینی علی

عینی علی

....................................

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form