قندیل بدر کا کلام

تجھ کو آتی ہے اگر کاری گری، سنگ تراش

میرا چہرہ، مرا پیکر، مرا کوئی انگ تراش

یا تو پانی سے کوئی شیشہ بنا میرے لیے

یا تو آئینے سے یہ دھول ہٹا زنگ تراش

میرے آنچل کو بنانے کے لیے گھول دھنک

اور پھر پھول سے تتلی سے کئی رنگ تراش

تیرے ہاتھوں میں کئی سر ہیں، یہ دعوی ہے ترا

چل کوئی ساز ہی لکڑی سے بنا، چنگ تراش

جیسے ترشا ہے یہ سورج کسی پرکار کے ساتھ

تو بھی آوزار اٹھا ایسا کوئی شنگ تراش

کورے کاغذ پہ بھی کاڑھے ہیں شجر، پھول، ثمر

شعر کہنا ہے تو کچھ ذائقہ کچھ ڈھنگ تراش

تو تو مٹی کے طلسمات سے واقف تھا حسن

کیوں جہاں زاد کے جلوے سے ہوا دنگ، تراش!

قندیل بدر

قندیل بدر بلوچستان کے شہر "لورالائی" میں معروف ادبی شخصیت ممتاز شاعر سعید گوہر کے گھر میں پیدا ہوئیں، نوجوان نسل کے اہم شاعر دانیال طریر کی آپ بڑی بہن ہیں. آپ نے میٹرک اور ایف اے "کوئٹہ شہر سے جب کہ بی اے اور ایم اے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے کیا.. آج کل نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز اسلام آباد سے پی ایچ ڈی کر رہی ہیں، آپ نے ایم فل کے لیے "بلوچستان میں اردو غزل" پر مقالہ لکھا ہے. اس کے علاوہ آپ سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر فائز ہیں. آپ کا شعری مجموعہ '' دھجی دھجی روشنی '' حال ہی میں شائع ہوا ہے.

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form