قرنطینہ

نیّر حیات قاسمی

آج کل

دن ہی کچھ ایسے ہیں

کہ تمام لفظ، اپنے چہرے

بے معنویت کے ماسک سے ڈھانپے

موضوعات کو سینیٹائز کیے

ایک دُور افتادہ خموشی میں

خود کو قرنطینہ کیے بیٹھے ہیں

اور

ساری ادھوری نظمیں

زیرِ تکمیل اُمید کی ویکسین سے

چٹکی بھرتجرباتی خوراک اپنے بے بحر ہاتھوں میں لیے

بھکاریوں کی طرح

سرِ راہِ تخلیق بیٹھی ہیں!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”رہ نورد“

نیّر حیات قاسمی

میں،زیست کے راستے پر

چلتے ہوئے

خود سے، سب سے اِتنا دُور جا نکلا

کہ فاصلے حیرت سے پلکیں جھپکاتے

مڑ مڑ کے مجھے دیکھتے رہے

مگر میں، ہاتھ میںسکرین تھامے

موبائل کے حرکت کرتے، جگمگاتے منظر پر نظریں آویزاں کیے

گوگل میپس کی ’رہنمائی‘ میں

منزل سے دُور ۔۔۔ مزید دُور چلا جاتا تھا

اور قریب ہی تھا کہ

اُس حدِ فاصل سے بھی آگے نکل جاتا ، پھر جہاں سے

واپسی کی کوئی بھی راہ نکلتی نہیں

صرف، ون وے ٹریفک چلتی ہے جہاں پر

پھر ۔۔یکایک ۔۔ یک دم

کسی خاموش، دھیمے سے راہبر کی طرح

وہ مجھے رستے میں ملی

اُس نے مِرے رُخ کو موڑا

اور میں سکرین بجھائے، اُس وبا کی انگلی تھامے

ایک ننھے بچے کی طرح

ڈگمگاتا، لڑکھڑاتا

پھر سے اپنے نقطہءآغاز کی جانب گامزن ہوں!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیّر حیات قاسمی

شا عر اور افسانہ نگار نیّر حیات قاسمی: پیدائش چھبیس نومبر سنہ 1977، تعلق پاکستان کے شہر لاہور سے ہے۔ ایک پرائیویٹ ادارے سے وابستہ ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ معروف ادیب اور شاعر جناب احمد ندیم قاسمی کے نواسے ہیں اور ان کے موقر ادبی جریدے "فنون" کے مدیر بھی ہیں۔

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form