ہندی شاعر۔ رما شنکریادو ’ودروہی‘

January 12, 2019
"دیدبان شمارہ 9 "مزاحمتی ادبملٹی میڈیاتراجم

ہندی شاعر۔ رما شنکریادو ’ودروہی‘ کا تعارف اور نظمیں

ترجمہ: نسترن احسن فتیحی

نوٹ۔مزاحمتی ادب کی تلاش میں آج میری نظر ایک ایسے ہندی کے شاعر پر جا کر ٹھہری جنکا تعارف اس موضوع کے تحت نہیںکروانا ان کے ساتھ ایک اور ناانصافی ہوگی۔ اس لئے میں ان کی ایک ہی عنوان کے تحت پڑھی گئی دو نظم کا ترجمہ دیدبان کے قاری کے لئے پیش کر رہی ہوں ۔(نسترن)

رما شنکر یادو ہندی کے شاعر ہیں جن کی پیدائش ۳ دسمبر ۷۵۹۱ءمیں ہوئی اور انتقال ۸ دسمبر ۵۱۰۲ ءکو ہوا۔ انہوں نے اپنا تخلص’ ودروہی ‘ (جسکا اردو معنی باغی ہے)رکھا تھا اور یہ تخلص ان کی پوری شخصیت کا احاطہ کرتا ہے ۔ کیونکہ ان کی پوری زندگی احتجاج کی نذر ہو گئی۔وہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے ۔این ۔یو)کے طالب علم تھے ۔ ان کے جاننے والے بتاتے ہیں کہ انہوں نے ماسٹرز کے بعد یہیں سے پی ایچ ڈی کرنا چاہا مگر انہیں پی ایچ ڈی میں ایڈ میشن نہیں دیا گیا ۔اس کی وجوہات جو بھی رہی ہوں مگر انہوں نے احتجاج کے طور پر یونیورسٹی نہیں چھوڑا ، وہ کہتے تھے کہ” یہاں کے ہوسٹلوں، جنگلوں اور ماحول میں میں نے اپنے دن گزارے ہیںیہ میری کرم استھلی(میدان عمل) ہے “۔ بعد میں وہ اسی کیمپس میں ہمیشہ رہے ۔ آمدنی کا کوئی ذریعہ نہ ہونے کے باعث طالب علموں کی مدد پر گزر بسر ہوتا رہا،جو ان کو کچھ کھلا دیتا کھا لیتے جہاں دل چاہتا پیڑ کی چھاﺅں میں سو جاتے ۔طالب علموں کو اپنی نظمیں سناتے ۔جہاں نظموں کے لئے بلایا جاتا جاتے ، جو خوش ہوکر سنتا ، سناتے ۔ اس طرح ایک دن اسی کیمپس میں فٹ پاتھ پر اس دار فانی سے کوچ کر گئے اور ثابت کر گئے کہ ہماری قوم حساس فنکاروں کے لئے اب بھی کتنی بے حس ہے۔جو انسان نا انصافی ، نا برابری، ظلم کے خلاف اپنے سینے میںایک آگ لے کر گھومتا رہا اس کی اپنی زندگی اسی ظلم اور نا انصافی کی نذر ہو گئی۔یہاں پیش کی گئی نظم کا عنوان بھی یہی ہے ،’مجھے اس آگ سے بچاﺅ میرے دوستوں‘ ۔ آپ کو ان دونوں نظموں کی قراءت سے اندازہ ہوگا کہ ان کا کینوس کتنا وسیع ہے اور انسانیت کے لئے ان کا جزبہ کیسا تھا ۔ پوری نظم میں تہذیبوں ، سلطنتوں اور قام کی تاریخ بکھری پڑی ہے میں نے چند ایک کو چھوڑ کر اشاریہ دینے کی ضرورت نہیں سمجھی کہ یہ سب بے حد واضح ہیں۔ ان کی ایک کتاب ”نئی کھیتی “ کے عنوان سے ۱۱۰۲ میں منظر عام پر آئی ۔ جسے سانسکرتی سنکلن ، جن سنسکرتی منچ الٰہ باد( اتر پردیش )نے شائع کیا تھا ۔ اور کویتا کوش کے نام کی ایک ویب سائیٹ پر مختلف لوگوں کی مدد سے جمع کی گئی نظمیں یکجا کر دی گئی ہیں ۔اور اس کتاب ”نئی کھیتی “کی جانکاری بھی یہیں مہیا کرائی گئی ہے ۔

 ۔1

مجھے اس آگ سے بچاﺅ میرے دوستو ۔

میں سائمن(۱) انصاف کے کٹہرے میں کھڑا ہوں

قدرت اور انسان میری گواہی دیں

میں وہاں سے بول رہا ہوں جہاں

موہن جوداڑو(۲) کے تالاب کی آخری سیڑھی ہے

جس پر ایک عورت کی جلی ہوئی لاش پڑی ہے

اور تالاب میں انسانوں کی ہڈیاںبکھری پڑی ہیں

اسی طرح سے ایک عورت کی جلی ہوئی لاش

بے بی لونیا (۳)میں بھی مل جائیگی

اور انسانوں کی بکھری ہوئی ہڈّیاں میسوپوٹامیا (۴)میں بھی

میں سوچتا ہوں اور بار بار سوچتا ہوں

تاکہ یاد آ سکے

پرانی تہذیب کے دہانے پر

ایک عورت کی جلی ہوئی لاش ملتی ہے اور

انسانوں کی بکھری ہوئی ہڈیاں

اس کا سلسلہ سیریا کے چٹانوں سے لے کر

بنگال کے میدانوں تک چلا جاتا ہے

اور جو کانہا (۵)کے جنگلوں سے لے کر

سواناکے ونوں تک پھیلا ہوا ہے۔

۲

۔مجھے اس آگ سے بچاﺅ میرے دوستو ۔

ایک عورت

جو ماں ہو سکتی ہے

بہن ہو سکتی ہے

بیٹی ہو سکتی ہے

میں کہتا ہوں ہٹ جاﺅ میرے سامنے سے

میرا خون جل رہا ہے

میرا دل لرز رہا ہے

میرا جسم سلگ رہا ہے،

میری ماں کو،میری بیوی کو،

میری بہن کو ، میری بیٹی کو مارا گیا ہے،جلایا گیا ہے

ان کی روحیں بین کر رہی ہیں آسمان میں

میں اس عورت کی جلی ہوئی لاش پر سر پٹک کر

جان دے دیتا اگر میری ایک بیٹی نہ ہوتی تو!

اور بیٹی ہے کہ کہتی ہے

پاپا تم بلاوجہ ہم لڑکیوں کے لئے اتنے جزباتی ہوتے ہو۔

ہم لڑکیاں تو لکڑیاں ہوتی ہیںجو بڑی ہونے پر

چولہے میں لگا دی جاتی ہیں۔

اور یہ انسانوں کی بکھری ہوئی ہڈیاں

رومن کے غلاموں کی بھی ہو سکتی ہیںاور

بنگال کے جولاہوں کی بھی یا پھر

ویتنامی، فلسطینی بچوں کی

سلطنت آخر سام سلطنت ہوتی ہے

چاہے رومن سلطنت ہو، بریٹش سلطنت ہو

جس کا یہی کام ہوتا ہے کہ

پہاڑوں پر،پٹھاروں پر، ندی کنارے

ساگر کی عمیق گہرائی میں ،انسانوں کی ہڈیاں بکھیرنا

جو تاریخ کو صرف تین جملوں میں

پورا کرنے کا دعوی پیش کرتا ہے کہ

ہم نے زمین میں شرارے بھر دئے

ہم نے زمین پر شعلے بھڑکا دئے

ہم نے زمین پر انسانوں کی ہڈیاں بکھیر دیں!

لیکن ،

میں ان انسانوں کی نسل سے ،اس بات کے

یقین کے ساتھ جیتا ہوںکہ

جاﺅ اور کہ دو سیریا کے غلاموں سے

ہم سارے غلاموں کو اکٹھا کرینگے

اور ایک دن روم آئینگے ضرور

لیکن ،

اب ہم کہیں نہیں جائینگے کیونکہ

ٹھیک اسی طرح جب میںنظمیں آپ کو سنا رہا ہوں

رات دن امریکی مزدور

عظیم سلطنت کے لئے قبر کھود رہا ہے۔

اور ہندوستانی مزدور اس کے پالتو چوہوں کے

بلوں میں پانی بھر رہا ہے

ایشیا سے افریقا تک جو نفرت کی آگ لگی ہے

وہ آگ بجھ نہیں سکتی دوست

کیونکہ وہ آگ

وہ آگ ایک عورت کی جلی ہوئی لاش کی آگ ہے

وہ آگ انسانوں کی بکھری ہوئی ہڈیوں کی آگ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱ )

سائیمن کمیشن جو سات برٹش رکن پارلیامنٹ پر مشتمل تھا اور جو ۷۲۹۱ ئ میں ہندوستان کے آئین کے میں ترمیم کے لئے بنایا گیا تھا۔

(۲) 

موہن جوداڑو۔ ±قدیم تہذیب کا ایک مرکز،

(3-4) 

بیبیلونیا اور میسو پو ٹیمیا۔ ان دو سلظنتوں کا نام جو جنوبی میسو پوٹیمیا (موجودہ عراق) میں قائم ہوئیں۔

(۵)

کانہا۔ کرشن بھگوان

(۶)

 ونوں ( جنگلوں)

( With Special thanks to kavitakosh.org, Laxman Yadav and Vinod Yaduvanshi )

ڈاکٹر نسترن احسن فتیحی

Dr.Nastaran Ahsan Fatihi  is an Indian Urdu  fiction writer and social activist. Her notable literary works include Novel" Lift"، and  "Eco Feminism،AsriTanisi Afsana .

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form