یدبان شمارہ ١٣

افسانہ : رف رف رفتن

تحریر : راشد جاوید احمد

یہ وہ دن تھا جب اس نے کچھ میٹر مزید کپڑا بننے کے بعد باقی دھاگہ سمیٹا اور کپڑے کو کھڈی کی گرفت سے آزاد کیا۔ وہ اس کپڑے پر جو اب ایک نہایت ہی خوبصورت چادر کی شکل اختیار کر چکا تھا بار بار ہاتھ پھیر کر لطف اندوز ہو رہی تھی۔ بادامی رنگ کے سلک کی یہ چادر اس نے کئی راتوں کی محنت کے بعد تیار کی تھی اور اسکے چاروں کونوں پر ہلکے نیلے رنگ کے پھول بھی کاڑھے تھے۔ اس نرم و نفیس سلک پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس نے دیکھا کہ اسکا ہاتھ مسلسل محنت سے نیلا پڑ چکا تھا۔ چادر طے کرتے ہوئے اس نے دیوار میں لگے شیشے میں جھانکا۔ نیلے ہاتھ سے سر کے بال، جو اسکی موٹی دلکش آنکھوں پر آئے تھے پیچھے ہٹائے۔ اسے اپنا چہرہ، رخسار، جلد سب کے سب سلک کی طرح ملائم نرم اور نیلاہٹ لئے ہوئے لگے۔ قدموں کی آہٹ سن کر اس نے چادر ایک ایسے صندوق میں چھپا دی جس کو شاید ہی کبھی سال دو سال میں ایک بار کھولا جاتا تھا۔

اونچے، بلند پہاڑوں اور درختوں سے گھری یہ بستی آٹھ گھروں پر مشتمل تھی اور ہر گھر ایک دوسرے سے کافی فاصلے پر تھا۔ پہاڑ کی تراش خراش اور کہیں تنگ اور کہیں کھردرے راستوں کے باعث جہاں کسی کو جگہ مناسب لگی اس نے گھر بنا لیا، کوئی اونچا کوئی نیچا۔ اس بستی میں ابھی تک بجلی نہیں تھی اور رات کو جب ان میں روشنی کا انتظام کیا جاتا تو یہ روشنی دور سے ایک منحنی سی روشن لکیر نظر آتی۔ گھروں کے دروازوں کا رخ اس ندی کی جانب تھا جو ان گھروں سے تقریبا بیس فٹ نیچے بہہ رہی تھی۔ یہ کسی دریا کا حصہ تھی اور چند ایک قدرتی چشمے بھی اس میں گرتے تھے اسلئے وہاں ہر وقت پانی موجود رہتا تھا جو سورج کی روشنی میں ایک پنے کی صورت چمکتا نظر آتا، البتہ رات کی تاریکی اور خاموشی میں پانی کے بہنے کی آواز میں دلفریب موسیقیت تھی۔ آٹھ گھروں کی اس بستی میں ہتھ کھڈیاں تھیں۔ یہاں کے مرد چالیس کوس کا فاصلہ طے کر کے بُنائی کے لئے خام مال خرید کر لاتے اور ان کی عورتیں دھاگہ بنتیں اور حیران کن خوبصورت ڈیزائین کی چادریں، مفلر ٹوپیاں، واسکٹ حتی کہ بستر میں پاوں گرم رکھنے والے موزے بھی تیار کر لیتیں۔ یہی یہاں کی معاشیات تھی۔ اگرچہ تمام مال شہروں میں پہنچ کر سستے داموں بکتا تھا تاہم اتنے دام مل جاتے تھے کہ ضروریات زندگی اور خام مال خرید لیا جائے۔ اس دور افتادہ بستی کے مکینوں کی ضروریات ہی کیا تھیں۔ کھانا پینا ان کا بے حد سادہ، سارا سال وہ مکئی ، باجرے پر گذارہ کرتے۔ دودھ کے لئے ہر گھر میں دو چار بکریاں یا ایک گائے تھی۔ عورتیں اور مرد دونوں ہی جفا کش تھے۔ لوگوں کے لئے اعلی لباس تیار کرنے والے خود موٹے جھوٹے پیوند لگے لباس میں عمر گزار دیتے تھے اور سردیوں میں بھی اکثر ننگے پاوں ہی نظر آتے تھے، خاص طور پر عورتیں کہ ان کا تو کہیں آنا جانا ہی بہت کم تھا۔

گھروں کے سامنے والے رخ پر ندی اور گھروں کے درمیان، اونچے درختوں پر پہاڑی کووں کے لا تعداد گھونسلے تھے اور صبح کے وقت ان کا شور سن کر بستی کا ہر فرد بیدار ہونے پر مجبور تھا۔ ان کووں کی کائیں کائیں کے مختلف انداز بستی والوں کے لئے بڑے معنی لئے ہوتے۔ لڑکے بالے اور چھوٹی بچیاں سارا دن بکریوں کے ریوڑ چراتے، لڑکے البتہ کبھی کبھار شہر سے آئی ڈور سے گھر میں بنائی پتنگیں بھی اڑا لیتے۔ بکریاں چراتی بچی میں جونہی جوانی میں قدم رکھنے کی نشانیاں ابھرتیں اسے گھر کی کھڈی پر بٹھا دیا جاتا اور پھر باہر کی دنیا سے گویا ان کا رشتہ ختم ہو جاتا۔ ہاں چوری چھپے وہ گھر کے باہر کھیل لیتیں لیکن اسکا بھی ایک آدھ بار سے زیادہ امکان نہ ہوتا اور وہ جاتی بھی کہاں، ندی کی طرف جانے کی ممانعت تھی اور گھروں کی پچھلی طرف پہاڑوں کی ایک مسلسل دیوار تھی جسے دیکھ کر لڑکیوں کو قید کا سا احساس ہوتا تھا۔

دن تقریبا ختم ہونے والا تھا جب خوشبخت نے آج کا بنائی کا کام مکمل کیا اور کمر سیدھی کرنے کو ذرا لیٹی ہی تھی کہ بوڑھی دادی نے اسے آواز دی اور آج کے کام کا حساب لیا۔ وہ روزانہ اس سے معلوم کرتی کہ اسنے کتنے گولے دھاگے کے استعمال کئے ہیں اور ان سے کیا کیا تیار کیا ہے۔ دادی کا حساب بہت پکا تھا اور سب اسکے دماغ میں بہی کھاتے کی طرح درج ہوتا تھا۔ وہ جوانی میں ان گنت لباس بن چکی تھی اور بستی میں ایک بڑے فنکار کی حثیت رکھتی تھی۔ اسے حساب کتاب میں کبھی غلطی نہیں لگی تھی لیکن وہ اس لڑکی خوشبخت کا حساب کبھی نہیں سمجھ پائی۔ وہ اسے ہمیشہ اس بات پر ڈانتی کہ وہ دھاگہ ضایع کرتی ہے اور اسے دئے گئے دھاگے سے جتنی چیزیں تیار ہونی چاہئیں اتنی نہیں کر پاتی۔ دادی کی یہ تفتیش اور سرزنش اس وقت کچھ زیادہ ہی بڑھ گئی تھی جب سے لڑکی نے ایک بہت ہی نفیس مردانہ مفلر مکمل کر نے کے بعد گم کر دیا تھا۔

جس کمرے میں ہاتھ سے چلنے والی کھڈی تھی اسکی پچھلی دیوار کے پیچھے پہاڑ کا طویل سلسلہ تھا۔ اس دیوار کا ایک پتھر کھسکا کر لڑکی نے سوراخ نما کھڑکی بنا رکھی تھی۔ جب وہ بنائی کے کام سے اکتا جاتی تو اس پتھر کو سرکا کر باہرکا نظارہ کرتی۔ باہر سرے سے کوئی نظارہ ہی نہیں تھا۔ سیدھے کھڑے چٹیل پہاڑ، سورج کی روشنی میں نہائے ہوئے، بے آب و گیاہ، نہ چرند نہ پرند، نہ کوئی رستہ نہ کوئی بندہ بشر۔ پھر بھی کمرے کے ماحول سے یکسر باہر نکلنے کے لئے اس کھڑکی سے باہر جھانکنا گویا قید سے چند لمحوں کی آزادی کا احساس تھا۔ اسی طرح کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے اسے اس دن دور ایک جوان لڑکا نظر آیا۔ وہ بہت مشکل سے ان سنگلاخ پہاڑوں کے ابھرتے پتھروں کو پکڑ پکڑ کر اوپر کی طرف آ رہا تھا۔ اسکا رخ بلا شبہ اسی کھڑکی کی جانب تھا۔ پہلے وہ خوف زدہ ہوئی، پھر حیرت زدہ۔۔۔ یہاں کسی انسان کی آمد کا تصور بھی نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ یہاں سرے سے کوئی راستہ ہی نہیں تھا، حتی کہ یہاں تو کبھی بکریاں چرانے والے بھی نہیں آ پائے تھے۔ وہ اسکا تصور تھا یا کوئی ہیولا۔آہستہ آہستہ وہ قریب آتا گیا تو اسکے خدو خال واضح ہونے لگے۔ لمبا قد، متناسب جسم لیکن جو چیز سب سے نمایاں تھی وہ اسکی پاو پاو بھر موٹی آنکھیں تھیں۔ اور قریب آنے پر اسکے نیم گھنگریالے بال اور ہونٹوں پر بہت ہی ہلکی سنہری روئیں بھی نظر آ رہی تھیں۔ وہ بڑی مشقت کے بعد سوراخ کے قریب پہنچا۔ اس نے اپنی سانس ہموار کی۔ لڑکی اسے اتنا قریب دیکھ کر ششدر رہ گئی۔کون ہے یہ، لباس سے تو اسی علاقے کا معلوم ہوتا ہے لیکن یہ یہاں پہنچا کیسے۔ اجنبی تو اپنی سانس ہموار کر چکا تھا لیکن لڑکی کی سانسوں کا زیر و بم تو گویا پوری دیوار کو ہلائے دے رہا تھا۔ وہ اسے دیکھنے میں بری طرح مگن تھی۔اتفاق سے وہ خوبونرت مفلر اس وقت لڑکی کے گلے میں تھا۔ لڑکے نے ہاتھ بڑھایا تو لڑکی نے پیچھے ہٹنے کی بجائے مفلر سوراخ سے نیچے لٹکا دیا۔ لڑکے نے اتنا خوبصورت مفلر اپنے ہاتھوں سے چھوا تو اسے لڑکی کا لمس بھی محسوس ہوا۔ اس نے مفلر کو ذرا سا جھٹکا دیا تو مفلر لڑکی کے شانے سے نکل گیا اور دور نیچے کی طرف اڑتا ہوا نظروں سے غائب ہو گیا۔ اسکا دل دھک سے رہ گیا۔ اسے فورا دادی کی غصے بھری آنکھوں کا خیال آیا اور جونہی مفلر اسکی نظروں سے غائب ہوا تو اسنے غصے سے لڑکے کی جانب دیکھا۔ لیکن وہاں تو اب کوئی نہیں تھا۔ ایسے جیسے کبھی کوئی تھا ہی نہیں۔ شام گہری ہونے کو تھی۔ وہ دیر تک کھڑکی کے پار دیکھتی رہی۔ بات اسکی سمجھ سے باہر تھی۔ لڑکے کو پہاڑ سے اوپر آنے میں کوئی پندرہ منٹ تو لگے ہوں گے لیکن غائب ہونے میں صرف پلک جھپکنے کا وقت۔ اس نے کھڈی کی پچھلی ٹیک پر پیر رکھا اور سوراخ کے تقریبا وسظ میں ہو کر دیکھا کہ وہ نوجوان کہیں گر تو نہیں گیا کہ اتنے میں دادی کے قدموں کی اواز آئی۔ اس نے فورا واپس کمرے میں چھلانگ لگا ئی اور سوراخ کو پتھر سرکا کر بند کر دیا۔ دادی جانتی تھی کہ لڑکی نے پتھر ہٹا کر کھڑکی سی بنا رکھی ہے۔ اس نے اس پر غصے کا اظہار بھی کیا تھا لیکن وہ یہ بھی سمجھتی تھی کہ اس سوراخ سے کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں۔۔ رات جب دادی نے حساب کتاب کیا تو تیار ہونے والے کل تین مفلر تھے جبکہ چوتھے کا نہ دھاگہ تھا اور نہ ہی مفلر۔ لڑکی کی کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا جواب دے۔ نہ جانے کیوں اسنے اس واقعے کو پوشیدہ رکھنے کا سوچا اور بیان دیا کہ چوتھا مفلر ہاتھ میں لئے وہ کھڑکی سے باہر جھانک رہی تھی تو ایک دم تیز ہوا کے جھونکے سے وہ اسکے ہاتھ سے نکل گیا اور کہیں پہاڑوں میں نیچے ہی نیچے چلا گیا۔ دادی نے سخت ترین الفاظ میں ڈانٹ پلائی اور یہ بھی کہا کہ یہ کھڑکی کسی دن تمہیں برباد کر دے گی۔ تھکاوٹ کے باوجود وہ رات کو اپنے کمرے سے نکل کر کھڈی والے کمرے میں آتی رہی۔ اس نے ایک دو بار پتھر سرکا کر دیکھا بھی لیکن انتہا درجے کی تاریکی میں کیا نظر آتا۔ باقی ماندہ رات، شام کو پیش آنے والا واقعہ بار بار اسکی آنکھوں کے سامنے آتا رہا۔

اگلے روز کھڈی والے کمرے کے باہر نظر آنے والے درختوں میں غالبا کسی جانب سے آئی کوئی پتنگ پھنسی تھی اور کووں کی جان پر بن آئی تھی۔ کچھ تو بے صبری سے اڑان بھرتے دور چلے جاتے اور پھر پلٹ کر آتے اور پتنگ پر حملہ آور ہوتے لیکن ہوا کے زور سے پتنگ کے پھڑپھڑانے کا شور ہوتا تو پھر اڑجاتے۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ ان کی پر سکون زندگی میں یہ بلا کہاں سے چلی آئی۔ ایک کوا زور زور سے کائیں کائیں کرتا تو نہ جانے کہاں کہاں سے بیسیوں کوے اور آجاتے اور سب مل کر اجتماعی شور و غوغا کرتے۔ شور سن کر دادی بھی آ گئی۔ اسنے جو کووں کی آوازیں سنی تو سب کو خبردار کیا کہ یہ کوئی اچھا شگون نہیں۔ اسکے تجربے کے مطابق جو آوازیں کوے نکال رہے تھے وہ محض پتنگ کی وجہ سے نہیں تھیں بلکہ یا تو کسی مہمان کی آمد کی خبر تھی یا گھر کے کسی فرد کے سفر پر جانے کی۔ دادی کے دیکھتے ہی دیکھتے آخر ایک جری کوے نے پتنگ کا کاغذ پھاڑ دیا اور باقی کووں نے نہایت خوشی کے عالم میں وہ داد و تحسین بلند کی کہ اہل خانہ کانوں پر ہاتھ رکھ کر کمروں کے اندر دبک گئے۔

لڑکی کام کے کمرے میں آئی اور غیر ارادی طور پر اسنے کھڑکی کا پتھر سرکا کر باہر جھانکا۔ باہر دھوپ اور ویرانی تھی البتہ کووں کی آواز کہیں دور سے سنائی دے رہی تھی۔ اسنے کھڑکی بند کر دی اور کام پر بیٹھ گئی۔ آج اسکے کام کی رفتار بہت سست تھی۔ ہاتھ کھڈی پر بے دلی سے چل رہے تھے اور دھاگہ اسکے خیالوں کی طرح بار بار الجھ رہا تھا۔ مزید برآں اسنے کام کے دوران کوئی بیسیوں بار پتھر سرکا کر نظریں پھاڑ پھاڑ کر باہر دیکھا لیکن وہاں کچھ ہوتا تو نظر آتا۔ تنگ آ کر اسنے کام میں دھیان لگایا کہ مطلوبہ مقدار میں دھاگے سے کچھ بن پائے اور دادی کی نرم گرم سے بچ جائے۔ دادی اسے بہت اچھا کاریگر بلکہ فنکار سمجھتی تھی لیکن ساتھ ہی ساتھ اسے دھاگے کی دشمن بھی قرار دیتی تھی۔ دادی کو کیا علم کہ روز کچھ نہ کچھ خام مال اس خفیہ چادر کی نظر ہو جاتا تھا جسے وہ بہت محنت اور پیار سے بنا رہی تھی۔ دادی کا خیال آتے ہی اسکے ہاتھوں میں روزانہ کی تیزی لوٹ آئی۔ اسنے شام سے پہلے ہی آج کا کام ختم کیا اور ایک بار پھر چاہا کہ کھڑکی سے پتھر سرکا کر دیکھے کہ اچانک کھڑکی کے باہر پتھر پر کسی جنبش کا احساس ہوا۔ اسکا رنگ فق ہو گیا اور سردی کے موسم میں وہ پسینے میں شرابور ہو گئی۔ جلدی جلدی مکمل کیا کام دادی کو تھمانے کے بعد وہ واپس پتھر کے قریب آئی اور دھڑکتے دل سے اسے ایک طرف سرکایا تو وہ سامنے کھڑا تھا۔ پہاڑ کے ایک نوکیلے پتھر کے سہارے۔ اسے اتنا قریب دیکھ کر ایک بار تو جیسے اسکے دل نے دھڑکنا بند کر دیا ہو لیکن ہمت کر کے اسنے سہمی ہوئی سرگوشی میں پوچھ ہی لیا

" تم۔۔۔۔تم۔۔۔۔کون ہو اور کہاں تھے۔۔۔۔میرا مطلب کہاں سے اس مشکل اور سنگلاخ پہاڑ پر آئے ہو۔۔۔کیسے۔۔۔اتنی نشیبی دیوار۔۔۔۔"

لڑکے نے لڑکی کے تمام سوال غور سے سنے۔ اسکے چہرے پر مسکراہٹ تھی جس سے اسکی مونچھوں کی سنہری رویں پھیل گئیں اور شفق میں زیادہ سنہری لگنے لگیں۔ اسنے صرف اتنا کہا " تم مجھے پانی پلا سکتی ہو، مجھے بہت پیاس لگی ہے۔۔۔"

کچھ نہ سمجھتے ہوئے، ہونق چہرہ لئے وہ صراحی سے پا نی کا کٹورا بھر کے لائی تو وہ وہیں اسی انداز میں کھڑا تھا۔ اسنے اشارے سے اسے بتایا کہ وہ پانی پینے کے لئے ہاتھ فارغ نہیں کر سکتا۔ لڑکی نے سوراخ میں سے تقریبا نصف جسم باہر نکالتے ہوئے کٹورا اسکے ہونٹون کے ساتھ لگا دیا اور اسنے گھونٹ گھونٹ کر کے پانی پی لیا۔

" تم کون ہو، اس بستی کے مکین تو نہیں لگتے اور یہاں کیوں آئے ہو، مطلب کیسے آئے ہو ؟ " لڑکی نے اوسان بحال کر کے پوچھا

" ہاں تم ٹھیک کہتے ہو، میں پہاڑ کی دوسری جانب سے ہوں لیکن میں یہاں آتا رہتا ہوں، میں ان گلہریوں کا شکار کرتا ہوں جو یہاں نیچے کثرت سے مل جاتی ہیں اور انکی کھال۔۔۔۔"

" مگر نیچے سے اوپر آنے کو تو کوئی راستہ نہیں، میں بخوبی جانتی ہوں، آج تک کوئی نہیں آیا، آخر تم۔۔۔" لڑکی نے بات کاٹی

" ہاں یہاں آنے کی ہمت کوئی نہیں کر سکتا۔ بس ایک دن کھڑکی کھلی تھی اور میں نے تمہیں ایک خوبصورت چادر بنتے دیکھا ۔ مجھے تم اور چادر دونوں ہی بے حد پسند آئے۔ میں تمہیں چادر سمیت اپنی بستی میں لے جانا چاہتا ہوں۔۔۔"

لڑکی نے اس قسم کی بات کبھی زندگی میں نہیں سنی تھی۔ وہ جس ماحول کی پیداوار تھی وہاں تو اس قسم کا خیال بھی محال تھا۔ اسکی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کہے لیکن یک بیک وہ لڑکا اسے بھر پور طریقے سے اچھا لگنے لگا۔ ابھی اس نے کوئی بات کرنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا کہ دادی کی آواز اسکے کان میں پڑی جو پوچھ رہی تھی کہ کام ختم کر نے کے بعد وہ ابھی تک کمرے میں کیوں تھی۔ دادی کا ڈر اسقدر تھا کہ مشینی انداز میں اسنے پتھر سرکا کر کھڑکی بند کر دی اور دوسرے کمرے میں بھاگ گئی۔

یہ رات اسکے لئے پہلی رات سے بھی زیادہ تکلیف دہ تھی۔ پہلے تو وہ اسے محض اپنا وہم سمجھتی رہی لیکن آج اس کو اسی مفلر سمیت دیکھا جو خود اسنے اسکے ہاتھ میں دیا تھا اور آج تو اسنے کٹورا بھر پانی بھی پیا تھا اور بات بھی کی تھی۔ رات کروٹیں بدلتے اور یہ سوچتے گزر گئی کہ وہ کوئی انسان تھا یا اسکا خیال کیونکہ کھڑکی کے اس پار تو آج تک بستی کا کوئی بندہ بشر کبھی نظر نہیں آیا تھا اور سب جانتے تھے کہ وہاں آنے جانے کا کوئی راستہ، کوئی پگڈندی، کچھ بھی نہیں ہے۔ اسے دادی کی بات بھی یاد آئی کہ ابھی دو دن پہلے ہی اسنے کووں کی عجیب کائیں کائیں سن کر کہا تھا کہ کوئی مہمان آنیوالا ہے۔ بمشکل دن طلوع ہوا تو اسے اس کمرے میں جانے ہی سے ڈر لگنے لگا۔ جہاں وہ پچھلے پانچ سال سے کھڈی چلا رہی تھی۔ وہ دبے پاوں کمرے میں گئی اور دھاگوں کے گولوں کو جو دن چڑھے ہی دادی کھڈی پر رکھ دیتی تھی ، گھورنے لگی۔ ہر گولے میں اسے اسی لڑکے کے خدوخال نظر آنے لگے۔ کچھ دیر بعد اسے ماتھے میں درد محسوس ہوا اور بدن کی حرارت بھی تیز لگنے لگی۔ ایک بار تو اس نے سوچا کہ آج دادی سے چھٹی لے لے لیکن آج اسکا ارادہ اس خوبصورت چادر کو مکمل کرنے کا تھا جو اسنے صندوق کے اندر چھپا رکھی تھی۔ اس نے کوئی دس بار کھڑکی کے پتھر کی طرف چور نظروں سے دیکھا لیکن اتنی ہمت نہ ہوئی کہ پتھر سرکا سکے۔ کل والا پانی کا خالی کٹورا بھی قریب ہی پڑا تھا۔ اس نے لپک کر اسے اٹھایا اور کسی پیاسے کی طرح ہونٹوں سے لگا لیا۔ اسے ایک عجیب خوشی اور سکوں کا احساس ہوا۔اب تو اسے یقین ہو چلا تھا کہ نہ یہ خواب ہے نہ خیال، یہ ایک حقیقت ہے مگر وہ پھر گڑبڑا گئی۔ ابھی کل ہی کی بات تھی ، اس نے اپنے باپ سے پوچھا تھا کہ اس پہاڑ کی دیوار کے پیچھے کیا کوئی راستہ ہے، کوئی جگہ ہے آنے جانے کی تو اسنے گھور کر اسکی طرف دیکھا اور الٹا سوال کر دیا کہ آیا اسنے اپنی اٹھارہ سالہ کی عمر میں کووں کے علاوہ کسی اور پرندے تک کو بھی اس طرف دیکھا ہے۔ وہ خاموش ہو رہی۔ وہ کیسے بتاتی کہ لڑکا وہاں تھا، اسکے گلے میں مفلر تھا اور اسنے اسکے ہاتھوں پانی پیا تھا۔ اس نے چادر کی تعریف کی تھی اور ۔۔۔ اور۔۔۔۔وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ کیا کرے۔ آج کے کام کا آغاز بھی نہیں کر پائی تھی۔ اسے محسوس ہوا کہ وہ اس اجنبی کے لئے پاگل ہو چکی ہے۔ کل کا واقعہ یاد کر کے اسکا دل زور زور سے دھڑک اٹھتا۔ یکدم کھڈی والا کمرہ اسے قید خانہ لگنے لگا اور کام کرنے کی بجائے وہ پتھر سرکا کر باہر کا نظارہ کرنے اٹھ کھڑی ہوئی۔

آج پھر کووں نے بہت شور مچا رکھا تھا۔ معلوم نہیں اونچے درختوں پر بیٹھے نیچے پہاڑ کی جانب کیا نظر آرہا تھا کہ بار بار نیچے کو اڑان بھرتے اور پھر شور مچا کر اوپر درختوں پر بیٹھ کر واویلا کرتے۔ ان کے اس بے تحاشا اور غیر معمولی شور نے دادی کو بھی مجبور کر دیا کہ وہ دیکھے کہ ان کو آج کیا تکلیف ہے۔ ماتھے پر ناگواری لئے دادی کھڈی والے کمرے کے باہر آ کھڑی ہوئی۔ اسنے کووں کی حرکات میں ایک عجیب سی بے چینی دیکھی۔ اسکے دل میں کسی انہونی کا کھٹکا ہوا۔ اسنے اپنی پوتی سے کچھ کہنے کو مڑ کر کمرے کے اندر جھانکا تو کھڈی پر کوئی نہیں تھا۔ گولے ویسے کے ویسے ہی دھرے تھے۔ پتھر سرکا ہوا تھا اور کمرہ خالی تھا۔ دادی نے سارے گھر میں پوتی کو آوازیں دیں، تلاش کیا لیکن وہ کہیں نہیں تھی۔ گھر کے مرد ندی تک تلاش کر آئے لیکن کوئی سراغ نہ ملا۔ سہہ پہر ہونے کو آئی۔ بستی کے لوگوں نے رسوں، لاٹھیوں اور بھالوں کی مدد لی اور دادی کے حکم پرگھر کے پچھواڑے والے عمودی پہاڑ پر چڑھنے کی کوشش کرنے لگے کہ یہی ایک جگہ تھی جہاں آج تک کسی کی رسائی نہ ہوئی تھی اور نہ ہی کبھی ضرورت پڑی تھی ۔ تین گھنٹوں کی مشقت کے بعد وہ لوگ اس کھڑکی کے قریب پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ لڑکی ایک نہایت خوبصورت سلک کی چادر میں ملبوس پہاڑ کے ایک چوڑے پتھر پر لیٹی تھی اسکے ہاتھ میں ٹوٹا ہوا پانی کا کٹورا تھا، اسکے پاس وہی مفلر پڑا تھا جو سال بھر پہلے کھڑکی سے باہر اڑ گیا تھا۔ اتنی بلندی سے گرنے کی وجہ سے وہ دم توڑ چکی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

راشد جاوید احمد

راشد جاوید احمد اردو اور پنجابی میں مختصر کہانیاں یکساں مہارت سے لکھتے ہیں. پنجابی کہانیوں کی کتاب " مٹی اتے لیک" پنجابی ادبی بورڈ نے چھاپی تھی . راشد جاوید احمد نے ٹی وی کے لئے ڈرامے بھی لکھے جو نثار حسین کے زمانے میں ٹیلی کاسٹ ہوئے. ایڈ ایجنسیز کے لئے کمرشل اشتہار لکھتے رہے.وہ بنک سے بطوراسسٹنٹ وائس پریذیدنٹ ریٹائر ہوئے اور اپنا بیشتر وقت  لوگوں اور کتابوں کے مطالعے میں گزارتے ہیں۔اس کے علاوہ وہ ایک آن لائین ادبی جریدے ’’ پنسلپ میگزین‘‘ کے مدیر بھی ہیں۔

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form