دیدبان شمارہ 11

راکھ

کتنے خدا بپھرے چنگھاڑتے پھرتے ہیں

کالی جبینیں،ناتریشیدا بال

اہنے اپنےشبدوں کی تسبیحاں کرتے دندناتے

چوڑی چھاتیاں لیے

تکبر کے خمییر میں گندھے

فتووں کی تلاش میں کوشاں

ادھر تو

جبیں موحد ہے

دل جھکتا نہیں

روح تڑپتی نہیں

قدم مستقیم ہیں

ہتھیلیاں سلی ہوئی۔

مگر وہ خدا

اپنی بدبوگار

غلییظ بغلوں میں

اہنے بنائے

کبیرہ و،صغیرہ

اعمال نامے لیے

کہ۔جن میں

نیکیوں کے لکھنے کو

سفید اوراق بھی نہیں

سیاہی سیاہی

جو،وہ

اہنے سجدوں کی کالک

اتار کے لکھتے

اور،اپنی پارسا خدائی

کی سیڑھیاں چڑھتے جاتے

قدموں تلے انکے

قرار دیے گیے

منکر و زانی

مسلتے جارہیے ہیں

لیکن۔

ان خداؤں کی الوئی مناجاتوں کی گونج

انکے قراردہ گناہگاروں کی فریادوں کے الم کو

دبائے جاتی ہے

خدا معاف کرنا نہیں چاہتے

کہ

انکی بنائی جہنمیں خالی ہیں۔

جبکہ خداؤں کی جنتوں کی حوریں

وہ حوریں

کہ جنکو

ونی کی سزا سے خدا بچالائے تھے

اپنی رستی رانوں کے درمیان سے

مسلسل نکلنے والے لہو کو

مرہم بنانے کو

جہنم کی آگ میں

جلائے جانے والے گنہگاروں کی ہڈیوں کی راکھ کی آس میں

دعاگو،ہیں

کہ اب خدا فیصلہ کریں

اور بھری جہنموں سے

گناہگاروں اور زانیوں کی

راکھ چرا کر وہ

پاکباز خداؤں کے

دیے گیے

ہوس پرست نوکیلے دانتوں سے

بھنبھوڑے ہوئے رستے زخموں کو وہ

جہنمیوں کی خاک

کی مرہم

بنا کر

سکوں پا سکیں۔

اعمالنامے بھرتے خدا

رات کو ایک بار پھر

اپنی اپنی شرع کی پیروی کیلیے

فولادی کشتے پیس،رہے ہیں۔

سیمیں درانی

سیمیں خان درانی

میرا پیدائشی نام سمعیہ ہے جو بہت سے ارتقائی مراحل سے گزر کے اب صرف سیمیں ہے۔ اور اگر کوئی مجھے میرے پاسپورٹ والے نام سے پکارے تو میں ہمیشہ ایک بہری بڑھیا کی مانند آنکھیں جھبکتی  رہ جاتی ہوں۔ ایم پی اے کر رکھا ہے۔ اور یونیورسٹی کی سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی پہلی پریزیڈنٹ تھی۔ نوکری کی تو پاکستان کی اکلوتی منیجر بزنس ڈیولپمنٹ تھی، آٰئل انڈ گیس سیکٹر میں۔ مجھے یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ میں اپنے کلائنٹس کے ساتھ بزنس لنچ اور ڈنر پہ جانے کی بجائے انکو اپنے باس کے حوالے کردیتی تھی۔ بچپن میں کتابی کیڑا تھی۔ اب وہ کیڑا خالی اوراق پہ جب اپنا زہر اگلتا ہے تو کچھ تو واہ واہ کرتے ہیں۔ کچھ کو بدہضمی ہوجاتی ہے۔ ان میں اکثریت آدمیوں کی ہے۔ آدمی اس لئے بولا کہ ہر ماں آدمی جن لیتی ہے۔ مرد بننا آسان نہیں۔ بد مزاجی نے معاشرتی ری ایکشن کی وجہ سے جنم۔لیا کیونکہ جھوٹ اور دوغلا پن برداشت نہیں کر پاتی۔ اور اپنے درانی اور راجپوت خون کیوجہ سے مرنے مارنے پہ ہر لمحہ تیار رہتی ہوں کیونکہ نا انصافی اور منافقت سے شدید نفرت ہے۔ "فنون" "شاعر" "اجرا"، "ثالث" ،دیدبان" اور "ادبیکا" میں تمام افسانے شائع ہوچکے۔ نثری نظم بھی لکھتی ہوں۔ بولڈ لکھنے کا لیبل ہے مگر میں صرف سچ لکھتی ہوں۔

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form