راشد جاوید احمد کی نظمیں

March 29, 2020
دیدبان شمارہ 11 نظمیں نظمیں

دیدبان شمارہ 11

راشد جاوید احمد کی نظمیں

آدھی عمر

سود کی کتابت کرتے

اور سرمایہ داروں کا بچا کھچا پلاو کھاتے گزار دی

بہت محنت اور جانفشانی سے یہ کام کیا اور

خوابوں کو پیچھے دھکیلتا رہا

عمر کے اس موسم میں

arrears

میں اکٹھے ہو جانے والے خواب

اب مجھے پریشان کرتے ہیں

کچھ خوابوں کو تو ٹھکانے لگا دیا

مگر ایک خواب

میرے قابو میں نہیں

اس کو تعبیر کے دھاگے میں

پرونے کا وسیلہ ہی نہیں

رات کا سرد ماتھا

اور پلکوں پر اٹکا خواب

بہت جگایا خود کو

سارے دیپ بجھا دیئے

مگر یہ خواب وہیں ٹکا ہے

بس اب آنکھیں نوچنا باقی ہیں

( راشد جاوید احمد )

۔۔۔۔۔۔

زندگی بہت مصروف ہو گئی ہے

وقت بے مہر ہو گیا ہے

جو خواب مجھے آج دیکھنا تھا

وہ کسی دوسرے جنم تک ملتوی کرنا پڑا ہے

زخموں پر مرحم رکھنے کے لئے

اُس نے ابھی صرف وعدہ کیا ہے

کل کے لئے سانسیں کمانے والے ہاتھ

صبح چائے بھی پی سکیں گے یا نہیں

سب کی یہی حالت ہے

زندگی بہت مصروف ہو گئی ہے

اپنی ساری پونجی صرف کرکے

میں نے چند لمحے یہ کہنے کے لئے خریدے ہیں

کہ جب کہیں میں مر گیا

تو کوشش کرنا

مجھے اگلے جنم سے ذرا پہلے دفنا دینا

( راشد جاوید احمد )

راشد جاوید احمد

راشد جاوید احمد اردو اور پنجابی میں مختصر کہانیاں یکساں مہارت سے لکھتے ہیں. پنجابی کہانیوں کی کتاب " مٹی اتے لیک" پنجابی ادبی بورڈ نے چھاپی تھی . راشد جاوید احمد نے ٹی وی کے لئے ڈرامے بھی لکھے جو نثار حسین کے زمانے میں ٹیلی کاسٹ ہوئے. ایڈ ایجنسیز کے لئے کمرشل اشتہار لکھتے رہے.وہ بنک سے بطوراسسٹنٹ وائس پریذیدنٹ ریٹائر ہوئے اور اپنا بیشتر وقت  لوگوں اور کتابوں کے مطالعے میں گزارتے ہیں۔

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form