‘‘رزان اشرف النجار --’’زرد پھولوں میں ایک پرندہ

August 3, 2018
دیدبان شمارہ ۸،مزاحمتی ادبمضامین

تحریر : عاطف ملک

غزہ 25 میل لمبا اور 4 سے 8 میل چوڑا دنیا کا سب سے کھلا قید خانہ ہے جہاں 18 سے ۱۹ لاکھ فلسطینی قید ہیں، 50 سال سے قید، 10 سال سے ناکہ بند؛ خوراک، ادویات سب ناکہ بندی کا شکار ۔ اور ابھی سزا باقی ہے، سزا و امتحاں ابھی باقی ہے، وقت کے شمار سے ماورا سزا ابھی باقی ہے، صعوبت خانے کے امتحاں ابھی باقی ہیں ۔ اس کھلے قید خانے میں پرندے بھی اترتے ہیں ، پھول بھی کھلتے ہیں۔ پھول زرد رنگ ہیں، قبروں پر ڈالنے کے لیے موزوں ۔ پرندے وہاں کم زندگی پاتے ہیں، گولیوں سے بچ جائیں تو بارود سے آلودہ ہوا کے شکار ہو کر مر جاتے ہیں، بموں کی آواز سے انکے ننھے دل بند ہوجاتے ہیں۔ مگر حیرانی ہے کہ پھر بھی چہچہاتے ہیں۔ پرندے کب کسی کی سمجھتے ہیں، آزاد آتے ہیں اور جسم چھوڑ کر آزاد اڑ جاتے ہیں۔

ان زرد پھولوں میں ایک پرندہ تھا ، سفید پنکھ اوڑے ۔ غزہ کی خون آلود زمیں پر گرا، سفید پنکھ سرخ رنگ ہوئے، آزاد اڑ گیا ۔پرندوں کی پرواز کو بھی بھلا کوئی روک سکا ہے ۔

رزان اشرف نجار، ایک نرس ، ایک لڑکی ، 21 سال عمر۔ وہ عمر جس میں مسکراہٹ گہری ہوتی ہے، آنکھیں چمک پاتی ہیں ، خواب کھلتے ہیں۔اس چھوٹی سی عمر میں وہ عورت کی برتری کی مثال دے گئی ۔ کراہتے مردوں کے زخموں پر مرہم رکھنے والی۔ برستی گولیوں میں اگلی صفوں میں نہتی کھڑی لڑکی۔ مردانگی کےمظاہروں میں دیوانگی دکھانے والی لڑکی۔ اُسے علم تھا کہ وہ کیا کر رہی ہے۔ کتنی لاشیں اس نے ان دنوں میں نہ سینچی تھیں، کتنے زخم ان دنوں میں اُس نے نہ سیے تھے۔ اُسے علم تھا، دشمن کی بے ضمیری کا، اپنوں کی بے بسی کا۔ اسے علم تھا کہ وہ کیا کر رہی ہے، یہ دیوانگی نہ تھی۔ وہ عورت تھی، اپنے مقام پر برتر ، کئی مقاموں پر مرد سے برتر۔

رزان نے کہا تھا، "عورت کو منوانا پڑتا ہے، اُسے مانا نہیں جاتا ۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اگر معاشرہ اب بھی عورت کو ماننے کو تیار نہیں، تو ہمارے کام کی وجہ سے وہ عورت کو ماننے پر مجبور ہوگا"۔ آج اُسے دشمن بھی ماننے کو مجبور ہے۔ دنیا دشمن کا مکروہ چہرہ اُس کی وجہ سے نہ چاہتے ہوئے بھی ماننے کو مجبور ہے۔

آج آ نکھ آبدیدہ ہے۔ رزان تو فاطمہ بنت عبداللہ کی بہن ہے جو آج سے ایک صدی پہلے لیبیا میں مجاہدین کو پانی پلاتے شہید ہوئی تھی اور علامہ اقبال نے کہا تھا :

یہ جہاد اللہ کے رستے میں بے تیغ و سپر

ہے جسارت آفریں شوق شہادت کس قدر

یہ کلی بھی اس گلستان خزاں منظر میں تھی

ایسی چنگاری بھی یارب، اپنی خاکستر میں تھی

غزہ کے خزاں رسیدہ گلستان میں وہ اپنے نام کے مانند تھی۔ رزان جس کے معنی وقار کے ہیں اور اشرف کہ جو فوقیت رکھتا ہے۔ وہ وقار سے زندہ رہی اور موت کو زندگی پر فوقیت دی۔

رزان کا خون بے فائدہ نہیں، یہ خون آبیاری کر رہا ہے قربانی کی ایک نئی فصل کی۔ وقت بدلے کا، اور سویرا ہوگا۔ سویرا کہ جب پرندوں کی عمریں لمبی ہو جائیں گی ۔ علامہ اقبال کا ایک اور شعر اُس کی نظر ہے:

ہے کوئی ہنگامہ تیری تربت خاموش میں

پل رہی ہے ایک قوم تازہ اس آغوش میں

ارزان ایک پرندہ تھا ، سفید پنکھ اوڑے ۔ غزہ کی خون آلود زمیں پر گرا، سفید پنکھ سرخ رنگ ہوئے، آزاد اڑ گیا ۔پرندوں کی پرواز کو بھی بھلا کوئی روک سکا ہے ۔

وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَكِنْ لَا تَشْعُرُونَ

.

عاطف ملک

عاطف ملک نے ایروناٹیکل انجینرنگ {اویانیکس} میں بیچلرز کرنے کے بعد کمپیوٹر انجینرنگ میں ماسڑز اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کی۔ یونیورسٹی آف ویسڑن آسڑیلیا میں سکول آف کمپیوٹر سائنس اور سوفٹ وئیر انجینرنگ میں پڑھاتے ہیں ۔ پڑھانے، ادب، کھیل اور موسیقی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ 

Related Posts

No items found.

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form