صابر ظفر کی غزلیں

August 13, 2018
دیدبان شمارہ ۸،مزاحمتی ادبغزلغزل

صابر ظفر کی غزلیں

۔۔۔۔۔۔۔قطب رند کے لئے۔۔۔۔۔۔۔۔

تم تو سرگرم ہو ، شعلوں کو ہوا دینے میں

میرا مولا بڑا دھیما ہے سزا دینے میں

کاسہ ایمان کا ، مت پوچھیئے کیسے لرزا

ایک بت لینے میں اور ایک خدا دینے میں

خاک ہو جاتے ہیں ہم جیسے وفا پیشہ لوگ

تو بہت دیر لگاتا ہے صلہ دینے میں

کرتے ہم آخری درخواست پلٹ آنے کی

سانس ہی ساتھ نہ دیتا تھا صدا دینے میں

جانے کیا دوسرے لوگوں کے دلوں میں ہے ظفر

ہم تو مصروف ہی رہتے ہیں دعا دینے میں

صابر ظفر

۔۔۔۔۔۔

وطن پرستوں کو رہنا ہے تان کر سینہ

اور اصل جینا ہے دشمن کو مار کر جینا

نظر نہ آئے جنھیں گل زمیں لہو میں تر

سخن طراز وہ میرے لئے ہیں نابینا

براے حفظ _ حجابات _عصمت_ مادر

پیو کہ جام _ شہادت اگر پڑے پینا

اچھال دینا ہوا میں ہر ایک چیتھڑے کو

میان _ رزم ، گریباں کبھی نہیں سینا

ملیں گے اور کئی دن نہ لا پتا افراد

جو دے گی طول _ ستم ، بن رہی ہے کابینہ

تم اس کو اپنی سکونت سے دور دفن کرو

رکھے جو دل میں ظفر کوئ پاسباں کینہ

صابر ظفر

صابر ظفر

 مظفر احمد ( صابر ظفر ) ایک ممتاز غزل گو شاعر اور مقبول گیت نگار ہیں آپ کی غزلیہ شاعری کے اب تک 40 مجموعے شائع ھو چکے ہیں آپ کی اہم تخلیقات میں ابتدا ۔ دھواں اور پھول ۔ عشق میں روگ ہزار ۔ دکھوں کی چادر ۔ بارہ دری میں شام ۔بے آہٹ چلی آتی ہے موت ۔سانول موڑ مہاراں اور سر - بازار می رقصم ۔شامل ہیں آپ نے ایک ہزار سے ذیادہ گیت ۔ریڈیو ۔ پاکستان ٹیلی ویزن ۔دیگر چینلز اور ملکی اور غیر ملکی فلموں کے لئے لکھے ہیں

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form