سبز قدم۔۔۔

صبا ممتاز بانو

خوابوں کو آنکھوں کی دہلیز کا راستہ پار نہ کرنے دیا جائے تو زندگی گزارنا مشکل ہو جاتا ہے۔ پیڑوں پر گیت گاتے پرندے خوشی کی نوید دیتے ہیں تو پتوں پر پھوٹنے والی کونپلیں تخلیق کی اہمیت کا احساس دلاتی ہیں۔ مامتا کا جذبہ بھی عورت کے اندر کونپل کی طرح پھوٹتا ہے اور اس کے پورے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ راگنی بھی ایک عورت تھی، وہ جذبوں کی آنچ کو سرد تو کر سکتی تھی، بجھا نہیں سکتی تھی۔ کیسے کیسے لمحے گزارے تھے اس نے، کبھی باپ کے ہاتھوں اپنی ہستی کو پامال ہوتے دیکھا تو کبھی داس کی بے حسی کو نظر انداز کیا۔ کیونکہ آخر کو وہ اس کا پتی داس تھا۔

’’عمریا بیتی جائے، کوئی رشتہ نہ آئے۔‘‘ ماسی دُرگا نے اسے دیکھا اور دھیمے سُروں میں وہی پرانا راگ چھیڑ دیا جو اسے ہمیشہ راگنی کو دیکھ کر ہی یاد آتا تھا۔ راگنی عمر کے تیسویں (30) برس میں تھی۔ اس عمر میں خاندان بھر کی لڑکیاں تین تین بچوں کی ماں بن گئی تھیں۔ بس ایک راگنی رہ گئی تھی۔ راگنی کا من شروع سے ہی پڑھائی لکھائی کی طرف تھا۔ چندر بابا جو عمر کے اب پچاسویں (50) سال میں تھا ’’چندر‘‘ سے ’’چندر بابا‘‘ کہلایا جانے لگا تھا، مگر جب وہ جوان اور تنو مند تھا، راگنی کو پڑھتے دیکھتا تو اس کا سر فخر سے بلند ہو جاتا۔ من میں ہزاروں آشائوں کے دِیپک جل اُٹھتے۔

’’ایک دن جرور آئے گا بیٹا! جب تو بڑی افسر بن جائے گی۔ تب تو نے اپنے چوکیدار کو بھی کہہ دینا ہے کہ اس بابے کو اندر نہ آنے دینا۔‘‘ راگنی باپ کی بات سن کر شرمندہ ہو جاتی، جواب کیا دیتی؟ یہ تو اولاد کا پراناوتیرہ ہے کہ پالنے میں پلنے اور اُنگلی پکڑ کر چلنے والی اولاد جب اپنے پائوں پر کھڑی ہو جاتی ہے تو ماں باپ اسے کلنک کا ٹیکہ لگنے لگتے ہیں۔ راگنی کو اس روایت سے بغاوت کا موقعہ ہی نہیں ملا، نہ افسری ہاتھ آئی اور نہ پِتا کو ’’بابا‘‘ کہہ کر دھتکارے جانے کا وقت آیا۔

راگنی تیس (30) برس کی ہو کر بھی پچیس (25) کی لگتی تھی۔ گول مٹول چہرہ، بڑی بڑی آنکھیں، سروقد راگنی کا سراپا ’’ہیما مالنی‘‘ سے کم نہ تھا۔ اتنی خوب صورت لڑکی سے کون شادی نہ کرنا چاہتا؟ مگر جب قسمت کا پھیر اُلٹا ہو، سب دھرا رہ جاتا ہے۔ بن بلائے رشتوں کی بھی کوئی کمی نہیں تھی۔ راگنی کا ہاتھ مانگنے کے لئے کئی گھروں سے ہاتھ بڑھے لیکن پھر نہ جانے کیا ہوتا؟ زمانے کو چپ سی لگ جاتی، خاموشیوں کا راج ہو جاتا، وجہ بتانا بھی گوارہ نہ کیا جاتا۔ راگنی کا قصور کیا تھا؟ وہ ایک متوسط طبقے کے اَن پڑھ شخص کی بیٹی تھی، جو اَن پڑھ ہونے کے باوجود بھی حساب کتاب کے پھیر میں ماہر تھا۔ اس کا باپ سرکاری ملازم تھا نہ اس کے بھائی اعلیٰ عہدوں پر فائز، کئی رشتے آئے، کئی گئے، مگر راگنی کی قسمت نہ بدلی۔ اوپر والے نے انسان کو ڈوریوں کے ساتھ باندھ رکھا ہے، گھوم پھر کر وہ اسی دائرے میں آ کھڑا ہوتا ہے، پُتلی تماشے کا کھیل ہے سارا، پُتلی کی حد وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں دھاگے کا سرا ختم ہو جاتا ہے، یا تماشا دکھانے والا طنابیں کس لیتا ہے، ذرا سی طنابیں کھینچ لو تو پُتلی وہیں پر پہنچ جاتی ہے جہاں سے چلتی ہے۔ راگنی نے ایک دو بار حد سے باہر نکلنے کی کوشش تو کی، مگر قدم تھرکتے تھرکتے اسی دائرے میں آ کر رک گئے۔ فارغ رہنے سے بہتر تھا کہ کہیں ملازمت کر لی جائے، دھیان تو بٹے۔ چھوٹے سے شہر میں اُستانی بننے کے علاوہ اور کیا تھا، جو وہ کرتی، صبح جانا، سہ پہر کو لوٹنا، زندگی کولہو کے بیل کی طرح ہوگئی تھی۔

گھر میں ماں بولتی رہتی تھی اورسکول میں پرنسپل۔ بیٹے کو شیشے میں اُتار کر ساس کو پرے کیا جا سکتا ہے، مگر رعب جھاڑتی ہوئی پرنسپل کو نہیں، جس کا اپنا یہ فلسفہ تھا کہ

’’سسرال جانے سے قبل ہر لڑکی کو ملازمت ضرور کرنی چاہئے، یہاں سے نکل کر ساس کو برداشت کرنا آسان ہو جاتا ہے۔‘‘ کیا آسان ہوتا ہے، کیا مشکل؟ یہ تو اسے پتا نہیں تھا، مگر اب تو سکول میں بھی وقت گز ارنا اس کے لئے مشکل ہوگیا تھا۔ یہاں اس کے گھر والوں سے بھی زیادہ اس کی فکر کرنے والے لوگ بیٹھے تھے۔ انسان سب سے زیادہ فکر اپنی کرتا ہے، خود سے بڑھ کر کوئی کسی کی فکر کر سکتا ہے، نہ بھلا سوچ سکتا ہے۔ دوسروں کے بارے میں زیادہ غوروفکر کا مظاہرہ کر کے دراصل ہم اس کے لئے پریشانی کے سامان کر رہے ہو تے ہیں۔ یہی کچھ راگنی کے ساتھ ہو رہا تھا۔ کبھی پرنسپل اسے عمر کو پکڑنے کا مشورہ دے رہی ہوتی تو کبھی کولیگز بروقت شادی کرنے کے لئے اس پر زور ڈال رہی ہوتیں۔ ایسے میں من کے اندر سے کوئی بولتا۔

’’بھگوان پر زور ڈالونا! اسے کہو کہ میری عمر گزر رہی ہے، جوڑے تو اس نے آسمانوں پر بنائے ہیں، دو ستاروں کے ملن کا وقت بھی اس نے طے کیا ہے، انسان صرف کوشش کر سکتا ہے، اس کوشش کا پھل اس نے کب، کس وقت اور کتنا دینا ہے؟ یہ بھی وہی جانتا ہے، پھر بار بار مجھ سے یہ سوال کیوں؟‘‘ راگنی کا کوئی گناہ نہیں تھا، کوئی قصور نہیں تھا، پھر بھی ہر جگہ اس پر فقرے کسے جاتے۔ کبھی مشورے دے کر اس کو پریشان کیا جاتا۔ عمر کیا نظر نہیں آتی؟ چہرے پر پڑنے والی جھریاں کسے دکھائی نہیں دیتیں؟ بے جا مشورے دے کر پریشان کر دینا بھی ایک جواز ہوتا ہے۔ منجو بھائی کی شادی پر خاندان بھر اکٹھا ہوا تو پھر وہی ماسی دُرگا کا راگ۔

’’عمریا بیتی جائے، کوئی رشتہ نہ آئے۔‘‘ ماسی کو آ جا کر یہی سوجھتا تھا کہ وہ اسے اذیت دے کر کونوں کھدروں میں چھپنے پر مجبور کر دے۔ اگر خاندان کی تمام لڑکیاں میٹرک یا ایف اے کر کے گھروں کو سدھار گئی تھیں تو قصور کس کا تھا؟ چندر کا؟ جس کی آنکھوں میں اپنی بیٹی کے لئے سہانے خواب سجے تھے یا پھر راگنی کا جو کتابوں کے بوجھ تلے اپنی عمر سے بے نیاز ہوگئی تھی؟ راگنی نے فسٹ کلاس میں اکنامکس میں ماسٹر کیا تو چندر کی اُمید بندھ گئی کہ راگنی ضرور کسی بڑے عہدے پر پہنچ جائے گی، پھر اس کی شادی بھی کسی بڑے افسر سے ہو جائے گی۔ وہ غریب کہاں جانتا تھا کہ غریب کی بیٹی کسی اونچے استھان پر پہنچ جائے، تب بھی اُمیدوں کے دَر اس کے لئے نہیں کھلتے، امیروں کے گھر سے نکل کر امیروں کے گھر تک کا فاصلہ ہی طے کیا جاتا ہے۔ راگنی افسر کیا بنتی؟ افسر بننے کے راستے میں تو رشوت کے سانپ لہرا رہے تھے۔ انہیں صرف پیسے کا بھوجن چاہئے تھا۔ پیسہ تو نہ چندر کے پاس تھا اور نہ ہی راگنی کے پاس، لے دے کر راگنی سے ہی چندر کی اُمیدیں بندھی تھیں۔ موہن، راجو اور آکاش کا اوڑھنا بچھونا تو بس کھیل کود تھا۔ ڈٹ کر کھانا کھانا، کھیل کا میدان سجانا اور شام کو تھک ہار کر نرم و گرم بستروں پر سو جانا۔ کپڑے کی چھوٹی سی دُکان کا مالک چندر بہتیرا چیختا چلاّتا، مگر تینوں میں سے کوئی بھی اس کی بات سننے کو تیار نہیں تھا۔ سب کے اپنے اپنے سپنے تھے۔ پھولوں کا رَس چوسنے والے بھنورے پھول کا کملانا اور مرجھانا کب دیکھتے ہیں؟ چندر کو بھی اولاد کو جنم دینے کی سزا بھگتنا تھی، سو وہ بھگت رہا تھا۔ دُکان سے اتنے پیسے ضرور آ جاتے تھے کہ وہ پورے کنبے کو اچھا کھلا پلا رہا تھا۔ راگنی سے آس بندھی تھی کہ ایک دن افسر بن کر سامنے آ کھڑی ہوگی، مگر وہ تو پہاڑ بن کر سامنے آ کھڑی ہوئی تھی۔ چندر کے من کی ساری خوشیاں، تمنائیں اور اس کی آنکھوں کے منظر اس پہاڑ کے پیچھے چھپ گئے تھے۔ کبھی کبھی کوئی خِردمند سندر پہاڑ کے پیچھے سے تانکا جھانکی کرتا تو دل بلیوں اُچھل جاتا۔

’’لو اب گرا کہ تب گرا یہ پہاڑ!‘‘ مگر پھر وہی حسرت ناتمام۔ چھپا چھپی کا کھیل تھا ناں! پل بھر میں نظروں سے اوجھل ہو جاتا۔ راگنی کے سارے سپنے سورج کی دہلیز پر جا کر کھڑے ہو جاتے، ذرا سی تپش کیا تیز ہوتی، سب خاکستر ہو جاتا۔ بڑے پہاڑوں کو سَرکرنے کے لئے بڑے حوصلوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ دل بڑا نہ ہو تو جیت سے پہلے ہی شکست مقدر بن جاتی ہے۔ بڑی مشکل کو برداشت کرنے کا حوصلہ چھوٹے من والوں میں نہیں پایا جاتا۔ تمنائوں کے پیچھے لپکتے، رائی جیسے حوصلے کے مالک، چھوٹے چھوٹے دل کے لوگ ذرّہ ہی پگھلا لیتے تو بڑی بات تھی، پہاڑ بن جانے والی راگنی کی عمر کی لڑکیاں سَر کرنا ان کے بس کی بات کہاں تھی۔ اگر ہوتی تو آج راگنی کم ازکم دو بچوں کی ماں ضرور ہوتی۔ وہ تو بیوی بننے کے لئے ترس گئی تھی، ماں کا درجہ تو پھر بیوی بننے کے بعد آتا ہے۔ بھولا بھٹکا برادری کا کوئی فرد گھر آتا تو راگنی کو دیکھتے ہی اس کی شکل ایسے بگڑنے لگتی جیسے کوئی بندر سمان۔اسی وجہ سے اس نے کسی کے سامنے آنا بھی چھوڑ دیا اور کسی شادی بیاہ پر آنا جانا بھی۔

منجو کی شادی کو گزرے تین برس ہوگئے تھے، اب منجو سے چھوٹے سنجو کی شادی تھی۔ ایک بار پھر برادری کو اکٹھا ہونے کا موقع مل رہا تھا۔ وہ جانتی تھی، اس دفعہ پھر وہی تماشا ہوگا، بیاہی کنیائیں اپنے اپنے بالکوں کے ساتھ خود بھی اُودھم مچاتی ہوئی اسے شرمندہ کرنے کا کوئی نہ کوئی سامان ضرور کریں گی۔ کسی کے ہاتھوں میں چھوٹا سا بچہ ہوگا تو کسی کی اُنگلی کسی بچی نے پکڑ رکھی ہوگی اور کوئی اتنا بڑا پیٹ لئے کراہنے کا ناٹک بھی کرتی جائے گی اور پیٹ بھر بھر کر کھانا بھی ٹھونستی جائے گی۔ اسے کیا درد ہونا تھا، درد تو راگنی کا بڑھ جاتا۔ ایک معصوم سا بچہ راگنی کی نگاہوں کے سامنے آ کر کھڑا ہو جاتا۔

’’مجھے کب جنو گی ماں! ماں!! کب جنو گی مجھے؟‘‘ راگنی کوئی پتھر کا مجسمہ نہیں تھی، اس کے سینے میں بھی دل دھڑکتا تھا، اس دل میں جذبات و احساسات کا سمندر موجزن تھا جو ساحل پر کھڑے بچوں کی کلکاریاں سنتا تو دُور تک چلا آتا۔ درد کیا جاگتا، کئی منظر اسے ستانے کو پردہ سیمیں پر لہرانے لگتے۔ بہتر تھا کہ ایسی جگہ نہ ہی جایا جائے جہاں اس کی ذات کو ہر سو نشانہ بنایا جائے۔ ایسے شکاری جو نشانے بھی تاک تاک کر لگاتے ہوں کہ گوشت پوست کے لوتھڑوں سے پار روح تک کو چھلنی کر ڈالیں۔ کیا ضروری تھا وہاں جانا؟ پھر وہ نہیں بھی جائے گی تو چندر بابا اور سادھنا ماں تو جائیں گی جو گھر آ کر اسے بتا دیں گے کہ اس کی ذات پر کیا کیا فقرے کسے گئے؟ کس طرح مجرموں کے کٹہرے میں راگنی کے ساتھ ایک طرف چندر اور دوسری طرف سادھنا کو کھڑا کر دیا گیا؟ پہلے بھی تو ایسا ہوتا تھا، جس کا دل جہاں چاہتا وہیں پتھر اُچھالتا۔ پتھر چندر بابا کو لگتا یا سادھنا پر پڑتا، نام راگنی کا ہی ہوتا، اس لئے درد بھی راگنی کو ہی زیادہ ہوتا۔ ابھی گزرے سال کی وجنتی کی شادی راگنی کو بھولی نہیں تھی، جب مناکشی بوا نے اسے لگا لگا کر جملے کسے تھے۔

’’اری! دیکھو تو، اب تو چہرہ بھی پکا پکا لگنے لگا ہے۔ کوئی برس نہ بیتا اور بالوں میں چاندی آگئی۔ جوان کنیا گھر پر ہو تو نیند کہاں آوئے ہے؟ اور ایک یہ چندر اور سادھنا ہیں، پچھلے برس میں چندر کے گھر رہنے گئی تو لجا آتی تھی ان کو دیکھ دیکھ، نہ کوئی رام رام، نہ پوجا پاٹ، بس پیسہ ہی دھرم ہوگیا۔‘‘ بھلا کوئی مناکشی بوا کو یہ کیوں نہیں سمجھاتا کہ آخر رات سونے کے لئے بنی ہے، دو گھڑی آرام تو کرنا ہے، پریشانیاں تو خوابوں میں بھی ڈراتی رہتی ہیں۔ چندر اور سادھنا کی نیند میں بھی سکون کہاں ہوتا ہوگا؟ لیکن اگر چندر بابا اور سادھنا، راگنی کو لے کر ہی سوچتے رہیں تو گھر کیسے چلے؟ مناکشی بوا گائوں کی رہنے والی منہ اندھیرے اُٹھ کر مندر کا رُخ کرنا ان کی زندگی تھی، گائوں میں زمیندارا تھا، نہ کمانے کی پریشانی اور نہ اناج کا غم۔

چندر کی اس اکلوتی بہن مناکشی کے خیال میں چندر اور سادھنا بھنگ پی کر سوتے تھے۔ اگر وہ بھنگ پی کر بھی سوتے تھے تو کیا دُکھ تھا، جس نے ان کو نشہ کرنے پرمجبور کر دیا تھا اور اگر ایسا نہیں تھا تو وہ چاروں آنکھیں دو آگے کی، دو پیچھے کی، کھلی رکھ لیتے تو بھی کیا کر لیتے کہ بھنگ تو سماج پی کر سو رہا تھا جس کو ہیرے جیسی لڑکیاں نظر نہیں آتیں۔ کوئی بیاہ ہوتا یا موت، کونے کھدرے میں سمٹی سمٹائی راگنی کو وہ نگاہیں بھی ڈھونڈ لیتیں جن کو قریب کھڑا ہاتھی بھی نظر نہیں آتا تھا، اسی لئے راگنی نے شادی بیاہ، خوشی غمی، سب پر جانا چھوڑ دیا تھا۔ کیا فرق پڑتا تھا؟ اب تو عمر تیس برس سے بھی اوپر جانے کو تھی۔ لوگوں کی بالشت بھر کی زبانیں گز بھر کی ہوگئیں تھیں۔ راگنی نے تو کہیں آنا جانا بالکل ہی چھوڑ دیا تھا، مگر چندر اور سادھنا کے لئے برادری سے کٹ کر رہنا ممکن نہ تھا۔ سہاگ کے گیت، شوخ و شنگ کپڑے، کھٹے میٹھے گانے اور سچی جھوٹی باتیں۔ راگنی کی عمر کیا بڑھ گئی، سب روٹھ گئے۔ راگنی نے کہیں پر آنا جانا چھوڑ دیا اور ماتا پِتا نے بھی اصرار کرنا چھوڑ دیا۔ پہاڑ جیسی لڑکی کو ساتھ لے کر چلتے ان کا سر شرم سے جھک جاتا تھا۔ راگنی کا بس کہاں چلتا تھا، چلتا تو عمر کو روک لیتی، قد کو ٹھہرا لیتی، جسم کو سُکیڑ لیتی۔ ہر اِک کی اپنی بولی تھی۔ کوئی کہتا۔

’’چندر کو کوئی رشتہ پسند نہیں آتا۔‘‘ کسی کے خیال میں’’راگنی کو آوارہ گردی کی عادت پڑ گئی ہے، وہ ایک مرد کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتی، ایک کھونٹے کے ساتھ بندھ کر رہنا اب اس کے لئے بڑا مشکل ہے۔‘‘ سکول میں امتحانوں کے سلسلے میں ہفتہ وار میٹنگ تھی۔ سب ٹیچرز امتحانوں کے بارے میں بات کر رہی تھیں۔ چائے کی چُسکی لیتے لیتے پرنسپل نے راگنی کو دیکھا۔

’’راگنی! میڈیکل سائنس کیا کہتی ہے؟ کیا آپ کو نہیں پتا؟ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ماں بننے کے چانسز کم ہوتے چلے جاتے ہیں؟ عورت کے لئے صحیح عمر میں شادی بہت ضروری ہے ورنہ بانجھ پن کی تلوار سر پر لٹکنے لگتی ہے۔‘‘ سکول کی پرنسپل کو کچھ اور نہ سوجھتا تو وہ راگنی کی عمر کو لے کر بیٹھ جاتی۔ آج بھی یہی ہوا۔ راگنی نے دُکھی دل سے پرنسپل کو دیکھا۔

’’جانتی ہوں، مگر اوپر والے کی مرضی ہوگی تو بیاہ بھی ہو جائے گا اور بچہ بھی۔ قسمت میں بچہ نہ ہو تو سولہ سال کی لڑکی بھی بچے کی چاہ میں ساٹھ سال کی عورت بن جاتی ہے، مگر مراد نہیں پاتی۔ سارا کھیل مقدروں کا ہے۔‘‘ اس نے خود کو تسلی اور دوسروں کو جواب دیا۔

’’بس! یہی بات ہے، تم نے شادی بیاہ کو کھیل سمجھ لیا ہے۔ کوشش تو کرو۔‘‘ پرنسپل نے لقمہ دیا۔ سارادن اُداس گزرا اور رات کو ایک بچہ خوابوں میں اس کی بانہوں میں سمٹنے کے لئے لپکتا رہا۔ جوں ہی وہ ہاتھ بڑھا کر پکڑنے کی کوشش کرتی تو وہ دُور چلا جاتا۔ کاش! بچہ جننے کے لئے پھیرے لینا ضروری نہ ہوتا۔ کوکھ سے جنم لینے والا بچہ کسی کا بھی ہوتا، ماں کا نام پاتا، مرد شناخت دے یا نہ، پیدا کرنے والا مرد باپ ہی ہوتا ہے، باپ بننے کے لئے خاوند ہونا ضروری نہیں ہوتا، تعلق قائم کرنا ضروری ہوتا ہے۔ بچہ جننے کی صلاحیت ہونا ضروری ہوتا ہے۔ یہ رشتوں، ناطوں کا بکھیڑا نہ ہوتا تو عورت کو کوئی بیوی بناتا یا نہ بناتا، وہ ماں بننا ضرور پسند کرتی، بلکہ عورتوں کی اس بھیڑ میں اکثر عورتیں ایسی نکل آتیں جو خاوند کی بجائے بچوں کو پالنا زیادہ پسند کرتیں۔

عورت کو مرد کی خلوتوں کی، اس کے دُکھ درد کی ساتھی پہلے بنایا گیا تھا، مامتا کا رُتبہ بعد میں ملا، مگر اس کو جس مٹی سے گوندھا گیا تھا، اس میں مامتا کا خمیر شامل تھا، اسی لئے تو عورت بیاہی ہو یا اَن بیاہی، اس کے اندر مامتا ہر وقت تڑپتی رہتی ہے۔ کلکاریاں مارتا ہوا بچہ اسے اپنی طرف پکارتا رہتا ہے اور ماں بننے کی خواہش بیوی بننے کے لئے مجبور کر دیتی ہے، لیکن جب تمنائیں حسرتوں میں بدل جائیں توآہستہ آہستہ کمزور پڑ جاتی ہیں۔ راگنی بھی ایسے ہی موڑ پر آ کھڑی ہوئی تھی۔ جذبات و احساسات کا گلا گھونٹتے گھونٹتے اس نے بیوی بننے کی تمنا کو بھی مار دیا تھا۔ وہ اور کر بھی کیا سکتی تھی؟ لوگوں کا گلا تو نہیں گھونٹ سکتی تھی، ان کی نگاہوں میں سیسہ نہیں اُنڈیل سکتی تھی، ان کی زبانوں پر قفل نہیں لگا سکتی تھی۔ اس کے جتن کام کر گئے۔ اس کے اندر کی بیوی مر گئی، مگر مامتا زندہ تھی، باوفا یا ڈھیٹ، مامتا کیوں نہیں مرتی؟ بچے اپنے گھر بار والے ہو جائیں تو جنم دینے اور پالنے والی ماں کے بڑھاپے کو سنبھالنے سے انکار کر دیتے ہیں، اُن کی جنت ماں کے قدموں کی بجائے بیوی کے نازو نخرے میں سمٹ آتی ہے۔ ماں تو تب بھی نہیں مرتی جب بچے اس کے وجود سے تنگ آ کر اس کے مرنے کی دُعائیں کرنے لگتے ہیں۔ ماں امر ہوتی ہے۔ راگنی بھی یہ بات سمجھتی تھی۔ بس ایک یہی غم راگنی کو کھائے جا رہا تھا۔

’’گزرتے وقت میں ماں بننے کا وقت بھی گزر گیا تو؟‘‘ رات کے اندھیرے میں وہ چیخ مار کر اُٹھی۔

’’ماں! ماں!! ماں!!!‘‘ سادھنا نے اسے دیکھا تو سمجھی ڈر کر اسے پکار رہی ہے۔

’’کیا ہوا راگنی!‘‘

’’کچھ نہیں ماں!‘‘ راگنی کیا بتاتی کہ سوتے میں بچہ اس کے بازوئوں سے گر پڑا تھا۔ ’’ماں، ماں‘‘ پکارتے ہوئے بچے کی آواز دُور دُور تک بکھر گئی تھی۔

’’عمر زیادہ ہو جائے تو بھوت پریت خوابوں میں آ کر ڈرانے لگتے ہیں۔ تیرے لئے اب کسی مرد کا وجود بہت ضروری ہوگیا ہے۔ مر گئی تو آتما بن جائے گی۔‘‘

’’تو کیا کروں میں؟‘‘ راگنی نے روتے ہوئے کہا۔

’’اس سکول کو چھوڑ، کسی دفتر میں ملازمت کر۔ کوئی نہ کوئی مل جائے گا تجھے۔ خوب صورت ہے تو ابھی بھی، اس سے پہلے کہ یہ خوب صورتی بھی نہ رہے، کسی کو پھانس لے۔‘‘ ماں نے اسے نئی راہ سُجھائی۔

’’اُف!‘‘ یہ وہی ماتا تھی جو اس کو بڑے بڑے بلاوز سی کر دیتی اور اپنی عزت کی حفاظت اور خاندان کی مان مریادا کی لاج رکھنے کا بھاشن دیتی تھی۔

’’ مگر پتا جی......‘‘ اس نے ٹھنڈی آہ بھر کر بے بس ماں کو دیکھا۔

’’ تیرے پِتا جی کچھ نہیں کہیں گے۔ یہ مشورہ انہوں نے ہی مجھے دیا تھا۔ مگر میرا دل نہیں مانتا تھا۔ ماں ہوں ناں! تجھے بری آتما بنتے نہیں دیکھ سکتی۔‘‘ کسی لڑکے سے بات کرنے پر بھی ڈانٹ دینے والے ماتا پِتا نے بیاہ کے لئے لڑکا پھانسنے کی اجازت دے کر اپنے خاندان کی لاج اور مان مریادا کو خود اپنے ہاتھوں دفن کر ڈالا تھا۔ لوگوں کی زبانوں، اشاروں، کنائیوں سے بچنے کا ایک ہی راستہ تھا۔’’بیاہ!‘‘۔

کسی نے یہ بھی کہا۔’’مندر جایا کر، بھگوان ضرور سنے گا۔‘‘ اس نے مندر جانا شروع کر دیا۔ روزانہ باقاعدگی سے مندر جاتے ہوئے اسے ایک ماہ ہوا تھا کہ ایک چہرہ کبھی مندر کی سیڑھیاں چڑھتے، کبھی اُترتے اس سے ٹکرا جاتا۔ کبھی بھگوان کے سامنے سر جھکائے اور کبھی پراتھنا کرتے ہوئے۔ وہ اٹھائیس سال کا ایک جوان تھا۔ کھلا کھلا رنگ و روپ، دُبلا پتلا جسم، رام رام کی پراتھنا کرتے کرتے کبھی کبھی وہ ہچکیاں لے کر اپنا دُکھڑا بیان کرنے لگتی۔

’’رام! میں جو چڑھاوا تجھ پر چڑھاتی ہوں، وہی تو مجھے لوٹا دیتا ہے۔ کبھی ایسا بھی تو کر، میں پرشاد چڑھائوں اور بدلے میں تجھ سے من کی مرادیں پائوں۔‘‘ ہر بار مندر سے نکلتے ہوئے قدم من بھر کے ہو جاتے، گھر جانے کو دل نہ کرتا، گھر میں تھا کیا؟ چندر، اس کا پِتا جو کل اسے’’ گھر کی لکشمی ‘‘کہتا تھا، دیوی کہتا تھا،آج اس کی نگاہ میں وہ’’ سبز قدم‘‘ تھی یعنی ’’منحوس‘‘۔ یہ سوچ اس کے ذہن میں کس نے ڈالی تھی؟ ان لوگوں نے جو اس کے بیٹوں کی آوارہ گردی، اس کے کاروبار کی تنگی، اس کے گھر پر آنے والی ہر مصیبت کا ذمہ دار راگنی کا بیاہ نہ ہونے کو ٹھہراتے تھے۔ پچھلے دنوں راجو کا کسی سے جھگڑا ہوگیا۔ مار مار کر انہوں نے اسے اَدھ موا کر دیا۔ مخالف پارٹی کا پیسہ انسپکٹر کے دماغ پر چڑھا ہوا تھا۔ اس نے اُلٹا راجو کے خلاف ہی مقدمہ درج کرنے کی دھمکی دے ڈالی۔ قریب تھا کہ راجو گرفتار ہو جاتا، چندر نے راگنی کے کانوں کی بالیاں فروخت کر کے راجو کی جان چھڑائی۔ کبھی کاروبار میں گھاٹا، کبھی سادھنا کی بیماری، گھر کی ہر پریشانی اور مصیبت کی وجہ راگنی کو قرار دیا جانے لگا۔

’’ارے! یہ سبز قدم گھر سے نکلے تو یہ گھر ہرا بھرا ہو۔ آج مجھے راجیش ملا تھا، میرا حال دیکھ کر مجھے ایک جوتشی کے پاس لے گیا۔ جانتی ہو، اس نے کیا کہا؟ کہنے لگا، بیٹی جب جوانی کی سرحدوں کو پار کر جائے تو گھر غضب کے دیوتائوں کا استھان بن جاتا ہے۔‘‘

’’بھلے مانس! ایسا نہ سوچ، یہ ہمارے دھرم کو بھرشٹ کرنے والی باتیں ہیں۔‘‘

’’ارے نہیں! یہ مسلمان بھی ایسا ہی سوچتے ہیں کہ بیٹی بڑھاپے کی سرحدوں کو چھونے لگے تو رحمت کی بجائے زحمت بن جاتی ہے، عذابوں کا دَر کھل جاتا ہے، آسمانی بلائیں اور آفتیں گھر کا راستہ دیکھ لیتی ہیں، بیٹی ماں باپ کے گھر بیٹھے بیٹھے بوڑھی ہو جائے توگھر سے رحمت کا سایہ اُٹھ جاتا ہے۔‘‘

’’مگر جہاں تک میں نے سنا ہے، شادی ان مُسلوںکے ہاں سنت ہے، فرض نہیں، کریں یا نہ کریں، گناہ نہیں۔‘‘

’’جوان بیٹی شادی کرے یا نہ، اس پر گناہ نہیں، لیکن اگر کچھ ایسا ویسا ہو جائے تو اس کے سر کے سائیوں کو جو زندہ ہوں، اس کے باپ اور ماں کو گناہ ضرور ہے۔‘‘ چندر نے وضاحت کی۔

’’ یہ کیا بات ہوئی؟ گھی سیدھی اُنگلی سے نہ نکلا تو ٹیڑھی کر لی؟‘‘ سادھنا نے کہا۔

’’سیدھی سی بات بھی تمہاری موٹی عقل میں نہیں سما رہی؟ بات یہ ہے کہ شادی کرتے ہی بنے، ہندو دھرم ہو یا اسلام، جوان بیٹی کو گھر پر بٹھائے رکھنے کے حق میں نہیں۔‘‘ اس کے ساتھ ہی چندر نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑ لیا۔

’’سمجھ نہیں آتا، کون سے مندر جائوں، کس بھگوان کے آگے سر پٹخوں کہ یہ منحوس، سبز قدم میرے گھر سے ٹلے۔‘‘ چندر اس کا پِتا جو اسے کبھی ’’لکشمی‘‘ اور ’’دیوی‘‘ کہتا تھا، آج ’’سبز قدم‘‘، ’’منحوس‘‘، ’’نصیبوں جلی‘‘ کہہ رہا تھا اور وہ سن سن کر آبدیدہ ہوتی جا رہی تھی۔ ایک وہ دن تھا کہ اس کا پِتا اس کا بیاہ کسی ٹھاکر یا راجا کے گھر ہو جانے کو اپنی دلی منوکامنا کہتا تھا، آج یہ دن آگیا تھا کہ وہ ایک مصیبت، عذاب اور بوجھ بن گئی تھی۔

شام کو اس نے پوجا کی تھالی اُٹھائی اور مندر کی راہ لی۔ وہاں سکون تو تھا، پراتھنا کرتے ہوئے پھر بھگوان سے باتیں کرنے لگی۔ بھری دُنیا میں ایک بھگوان ہی تو تھا جس نے کبھی اسے برا نہیں کہا تھا، کبھی کوئی طعنہ نہیں دیا تھا، اس کا دُکھڑا سنتا اور حیران حیران آنکھوں سے اسے دیکھتا رہتا۔ روتے روتے وہ بھول گئی کہ وقت کافی ہوگیا ہے۔ جلدی سے اُٹھنے کی کوشش میں وہ توازن قائم نہ رکھ سکی، مگر دو ہاتھ آگے بڑھے اور اسے گرنے سے بچا لیا۔ وہی سندر لڑکا، آنکھوں میں دُکھ اور ہمدردی لئے اس کے سامنے کھڑا تھا۔

’’کیوں روتی رہتی ہو؟ جب بھی تمہیں دیکھا، روتے ہی پایا، کبھی ہنس کر دیکھو، کائنات حسین لگنے لگے گی۔‘‘ وہ اس کا نرم و نازک ہاتھ سہلاتے ہوئے بولا۔ راگنی نے لجا سے ہاتھ پیچھے ہٹا لیا۔

’’تم کون ہو؟ کہاں سے آئے ہو؟‘‘ اس نے جھجکتے جھجکتے پوچھ ہی لیا۔

’’میں داس ہوں، راجھستان سے تعلق ہے میرا، سرکاری سکول میں ٹیچر ہوں۔‘‘ اس نے جواب دیا۔

’’گھر والے ساتھ رہتے ہیں یا اکیلے رہتے ہو؟ تمہارا کھانا کون پکاتا ہے؟‘‘ اس نے ایک ہی سانس میں ڈھیر سارے سوال کر ڈالے۔

’’گھر والے ساتھ نہیں رہتے، میں یہاں اکیلا ہی رہتا ہوں۔ سکول کے ایک کوارٹر میں رہتا ہوں۔ وہ میرے اکیلے کے لئے کافی ہے۔‘‘ اس کا لہجہ نرم تھا۔

’’مجھ سے تو اتنا کچھ پوچھ لیا، اب تم بھی بتائو کہ روتی کیوں رہتی ہو؟‘‘ اس نے راگنی کی دُکھتی رَگ کو چھیڑ ہی دیا۔

’’شباب کے رُخصت ہوتے ہی مصیبتوں نے مجھے گھیر لیا۔ رشتہ داروں کی نظر میں دوشی ٹھہری، ماتا پِتا نے بھی منہ موڑ لیا۔ لڑکی کی شادی نہ ہونے میں اس کا کیا گناہ ہوتا ہے؟ کیا قصور ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ ہنسنا، بولنا اور اُٹھنا بیٹھنا چھوڑ دیا جائے؟‘‘

’’اچھا! تم چنتا نہ کرو، میں سمجھ گیا، مگر تم جیسی خوب صورت لڑکی کو کوئی بیاہنے نہ آئے۔ یقینا تم پر کوئی جِنّ عاشق ہوگا جو تمہاری شادی نہیں ہونے دیتا۔‘‘ داس نے مسکرا کر اسے دیکھا۔

’’جِنّ کا عشق تو چل رہا ہے، مگر میری عمریا تو بیتی جا رہی ہے۔ کب میری شادی ہوگی؟ کب میں ماں بنو ںگی؟‘‘

’’تجھے ماں بننے کا بڑا شوق ہے؟‘‘ داس نے اس سے پوچھا۔

’’کس عورت کو نہیں ہوتا؟‘‘ راگنی نے بھی جھٹ سے سوال کیا۔ داس نے دوبارہ اس کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی اور اس کی نشیلی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔

’’ہیجڑے کو نہیں ہوتا۔‘‘

’’مگر وہ عورت تھوڑی ہوتا ہے۔‘‘راگنی نے کہا۔

’’ہوتا ہے ناں! عورت ہیجڑا، مرد ہیجڑا۔‘‘ داس نے اس کی معلومات میں اضافہ کیا۔ پھراس دن کے بعد مندر میں راگنی کے پھیرے بڑھتے چلے گئے۔ داس کا ساتھ ملتا رہا۔

’’راگنی! میرے ماتا پِتا، میرے گھر والے میری شادی ابھی نہیں کر سکتے، چار جوان بہنوں کی شادی کا بوجھ ہے میرے کندھوں پر۔‘‘اس کے ہونٹوںکو زندگی بخشتے ہوئے داس نے اپنی مجبوری بیان کی۔

درختوں کے گھنے جھنڈ تلے تاریکی کا راج تھا۔ مندر کے پیچھے اس ویران جگہ کو داس اور راگنی نے آباد کر دیا تھا۔ داس کو راگنی کی آنکھوں میں سارا جہان نظر آنے لگا تھا اور راگنی کو داس کی آنکھوں سے جھانکتا ہوا شریر بچہ۔ وقت کے ساتھ ساتھ راگنی کا داس پر شادی کے لئے اصرار بڑھنے لگا۔ داس کو مانتے ہی بنی۔ مندر میں شادی کا منڈپ سجایا گیا۔ داس، راگنی اور راگنی کے ماتا پِتا، تینوں بھائی اور پنڈت ،بس! اور کیا ہوتا بھلا؟ داس بینڈ باجا لاتا، باراتیوں کا جلوس ہوتا تو شادی بیاہ کی رسمیں کی جاتیں۔ چلو! جیسے تیسے ہوا، بوجھ تو اُتر گیا۔

داس اور راگنی کا بیاہ تو ہوگیا، مگر برادری والوں کی باتیں پھر بھی ختم نہ ہوئیں۔ کسی نے اس چُپ چاپ شادی کی وجہ چندر کے پیسے بچانے کی عادت کو قرار دیا، کسی کے خیال میں لڑکے کی چالاکی کہ کوئی پیسہ لگائے بغیر بیاہ کرا لیا۔ جتنے منہ اتنی باتیں۔ دُھوم دھام سے، قرض لے کر شادیاں رَچانے والوں نے اس شادی کو سوگ قرار دے دیا۔ کسی کو راگنی پر ترس آیا۔بارات آتی، ڈولی جاتی، رسمیں ہوتیں، بےچاری راگنی! مگر راگنی خوش تھی کہ اب وہ ماں بن سکے گی۔ لوگوں کی باتوں سے کیا ہوتا ہے؟ اب داس اس کا پتی تھا اور وہ اس کی بیوی۔ عورت بیوی بن جائے تو پھر ماں بننے کی آس لگ جاتی ہے۔ پہلے یہ چنتا تھی کہ بیاہ ہو جائے اور اب یہ چنتا کہ ماں بن جائے۔ داس کو راگنی کا ماں بننے کا شوق ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا۔

’’ماں بننے کے لئے ساری عمر پڑی ہے۔ راگنی کیوں اپنا حسن برباد کرنے پر تلی ہے؟‘‘ باپ بننے کی اِچھا اس میں بھی تھی، مگر بہت زیادہ نہیں۔ راگنی کو ماں بننے کی عمر گزر جانے کا ڈر تھا۔ داس کو راگنی کے اس اندیشے سے چِڑ آتی تھی۔

’’عمر گزر گئی تو کیا ہوا؟ راگنی نہ سہی بچہ کسی اور سے ہو جائے گا۔‘‘ چھٹی کا دن تھا۔ داس گھر میں راگنی کا انتظار کر رہا تھا۔ صبح سے راگنی غائب تھی۔ اس نے سوچا۔

’’مندر گئی ہوگی، مگر اب تو بارہ بجنے والے ہیں، اب تک تو اسے آ جانا چاہئے تھا۔‘‘ ہاتھوںمیں پرشاد لئے اور مٹی کے ایک کونڈے میں راکھ لئے راگنی اندر داخل ہوئی تو اس کو دیکھتے ہی داس کا پارہ چڑھ گیا۔

’’کب چھوڑے گی تو جان ان جوگیوں، جوتشیوں کو؟ یہ تجھے ماں نہیں بنا سکتے، مت جایا کر۔‘‘ داس نے چھڑی اُٹھائی اور راگنی کو دُھن کے رکھ دیا۔

ایسی عورت جس کا اس کے ماں باپ کو پتا نہیں تھا، وہ اس سے بچہ جن لیتا تو یہیں کا ہو کر رہ جاتا۔ سندر سپنے آنکھوں میں سجائے داس کی راہ دیکھنے والی ارادھنا کا کیا ہوتا؟ مرد گھر سے دُور ہو تو عورت کی ضرورت پہلے سے بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ وہ گھر سے دُور تھا، ارادھنا سے دُور تھا، شانتی بھی یہاں نہیں تھی، جو اس کے بلانے پر اس کے کمرے میں آ جایا کرتی تھی۔ سب سمجھتے تھے شانتی، داس کے کمرے کی صفائی کر رہی ہے، داس بھی تو بہت صفائی پسند تھا۔ ایک ایک چیز جھاڑنا، صاف کرنا۔ شانتی جس دن نہ آتی، وہ سب کام خود کر لیتا۔ جب شانتی، داس کے ہوتے ہوئے آتی تو سمجھو آدھا دن گیا۔ شانتی شودر تھی، نیچ ذات سے تھی، اس کے ہاتھ سے کھانا پینا سب پاپ تھا۔

داس کو ایک دفعہ شانتی نے ناریل کا ٹوکرا پکڑایا تھا تو اس نے غصے سے زمین پر دے مارا تھا۔ ناریل چاروں طرف بکھر گئے تھے۔ یہ ٹوکرا اسے تحفے میں آیا تھا۔ مگر کمرے کی صفائی کرتی شانتی کو ہاتھ لگانا پاپ نہیں تھا۔ داس، شانتی سے صفائی کروانے کے بہانے اس پر ہاتھ صاف کر دیتا، شانتی کے برہنہ وجود سے کھیلتے ہوئے داس کو گمان تک بھی نہ گزرتا کہ وہ اونچی ذات کا ہے۔ گندگی، صفائی، پاکی، ناپاکی، نظریۂ ضرورت سارے آدرشوں اور وِچاروں کو کھا جاتا۔ راگنی شودر تو نہیں تھی، عورت تو تھی۔ اس کی ضرورت پوری کر سکتی تھی۔ اگر وہ راگنی سے شادی نہ کرتا تو وہ مندر آنا چھوڑ دیتی۔ راگنی نے آنکھیں بند کر کے اس پر اعتبار کر لیا۔

کبھی کبھی اس کے من میں وِچار آتا تھا کہ یہاں سے جاتے سمے وہ راگنی کو ساتھ لے جائے گا۔ بھرپور جسم کی تنومند، توانا راگنی جیسی عورت نے اس کی زندگی کو رنگین بنا دیا تھا۔ مرد کی محبت اور چاہت کا بھروسہ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس کا نظریۂ ضرورت اور عادت سب پر بھاری پڑ جاتا ہے۔ راگنی اس کی ضرورت تو تھی ہی، اب اس کی عادت بھی بنتی جا رہی تھی۔ راگنی کو روئی کی طرح دُھن کر وہ گھر سے نکل گیا۔ شام کو دیکھا تو راگنی اوندھے منہ بستر پر پڑی تھی۔ اسے تیز بخار تھا، وہ کانپ رہی تھی۔ داس نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔

’’اتنا تیز بخار!‘‘ جلدی سے دوائی لی اور اسے کھلائی۔ گھر میں اکثر سر درد اور بخار کی گولیاں وہ لاتا رہتا تھا۔ ضرورت کے وقت کام آجاتی تھیں۔ بخار تھوڑا ساکم ہوا تو راگنی نے آنکھیں کھولیں۔ داس اس پر جھکا ہوا تھا، پانی کی پٹیاں کر رہا تھا۔ راگنی نے داس کے سامنے ہاتھ جوڑ دیئے۔

’’داس! جوگی نے کہا تھا، آج کی رات تمہارا میرے قریب آنا بہت ضروری ہے، ورنہ سارا عمل اُلٹ ہو جائے گا۔‘‘ کانپتی ہوئی راگنی کو دیکھ کر داس کو ترس آگیا۔ راگنی ایک طرف ہوگئی۔ داس کے لئے جگہ چھوڑ دی۔ کچھ دنوں بعد داس چند دن کے لئے اپنے گھر راجستھان چلا گیا۔ راگنی اکیلے گھر میں منڈلاتی پھری۔ اس کے بیاہ کی چنتا کرنے والے ماتا پِتا نے پسند کی شادی کرنے کے جرم میں اسے طعنوں سے اتنا چھلنی کیا تھا کہ اس نے آنا جانا بہت کم کر دیا تھا۔ منحوس، نصیبوں جلی، سبز قدم نے ماں باپ، بھائیوں کے روّیے اور لوگوں کی باتوں سے تنگ آ کر ماتا پِتا کے کہنے پر جب داس کو پھنسا کر جیون ساتھی بنا لیا تو وہی لوگ پلٹ گئے۔ باتوں کا رُخ بدل گیا، انداز نہیں بدلا۔

بھگوان ضرور بدل گیا تھا، اب وہ اس کی سننے لگ گیا تھا۔ اس نے راگنی کی منوکامنا پوری کر دی۔ راگنی پیٹ سے کیا ہوئی، داس کے ارمانوں پر پانی پڑ گیا۔ پانی کا کرشمہ داس کو ایک آنکھ نہ بھایا۔ ابھی اس نے فیصلہ بھی نہیں کیا تھا کہ راگنی کو ساتھ لے جائے یا ہمیشہ کے لئے راگنی کے پاس اِدھر ہی رہ جائے، فیصلے کے بیچ کلپنا ٹپک پڑی۔ بچی مانو تو راگنی کا پرتو تھی۔ راگنی نے اس کا نام کلپنا رکھا تھا۔ داس کی یاسیت بھی خوشی میں بدل گئی تھی، خون تھاناں! رنگ کیسے نہ دکھاتا؟ کلپنا چھ ماہ کی ہوگئی تھی۔ داس نے پہلے سے زیادہ کلپنا کا خیال رکھنا شروع کر دیا تھا۔ راگنی بھی داس کے بدلتے روّیے پر خوش تھی۔ کلپنا نصیبوں والی تھی۔ کروا چوتھ کا برت تھا۔ سب عورتیں خاوند کی سلامتی کے لئے مندر میں پراتھنا کر رہی تھیں۔ راگنی نے بھی دِیا جلایا اور داس کی خوشیوں اور ساتھ کی کامنا کی۔ کلپنا، داس کے پاس تھی، پوجا پاٹ سے فارغ ہو کر راگنی نے دیکھا۔ داس نہیں تھا۔

’’گھر چلا گیا ہوگا، کب تک انتظار کرتا؟‘‘ راگنی کو داس پر بے انتہا پیار آیا۔ سارا رستہ پیار بھرے خیالوں میں گزر گیا۔ مگرگھر تو سنسان پڑا تھا، نہ داس تھا اور نہ کلپنا۔ راگنی نے بوکھلا کر اِدھر اُدھر نگاہ دوڑائی۔ داس کے کپڑوں کا بیگ بھی نہیں تھا۔

’’کلپنا! کلپنا!‘‘ راگنی نے زور زور سے رونا شروع کر دیا۔ داس، کلپنا کے لئے کلپنا کرنے والی راگنی کی گود ویران کر کے جا چکا تھا۔ پھر کھوج کا سفر تھا اور راگنی تھی، مگر داس کا گھر، اس کا گائوں، راگنی کو کچھ بھی نہیں ملا۔ ساری آشائوں نے دم توڑ دیا۔ مندر کی دیواروں سے سر ٹکراتی راگنی کبھی خود سے باتیں کرتی، کبھی بھگوان سے۔

’’کیا ماں بننے کے لئے کسی اور داس کو تلاش کیا جائے؟ یا ماں بننے کی آشا کو اس گھنے درختوں کے جھنڈ تلے دبا دیا جائے جہاں سے راگنی کی ماں بننے کی اُمید پیدا ہوئی تھی؟‘‘۔

پوہ ابھی پھٹی نہیں تھی، اندھیرے کا راج تھا، دُھندلکا چاروں طرف پھیلا ہوا تھا۔ شکنتلا رام رام جپتی مندر کے احاطے میں داخل ہوئی۔ اس کی نگاہیں اِدھر اُدھر دوڑ رہی تھیں۔ اندھیرے میں کون تھا جو اس وقت اس کو دیکھ رہا تھا؟ اپنی بیٹی روما کا پاپ چھپانے کے لئے اسے اپنے گائوں سے کافی دُور واقع اس قصبے کے مندر تک آنا پڑا تھا۔ ہاتھوں میں پکڑی ٹوکری سے لگ رہا تھا کہ اس میں پھول ہیں۔ گھنے درختوں کا جھنڈ آیا، وہ رُک گئی اورجلدی سے ٹوکری رکھ دی۔ ٹوکری رکھ کر تیز تیز قدموں سے وہ مندر کے احاطے سے نکل گئی۔ تھوڑی دیر بعد سر کھجاتی، میلی کچیلی ساڑھی میں دیوانوں جیسی باتیں کرتی راگنی نے ٹوکری اُٹھائی۔ ٹوکری میں بند آنکھوں میں بھی چھوٹی سی وہ گڑیا کسی ریاست کی شہزادی لگ رہی تھی۔

’’ماں کے پاپ میں اس کا کیا دوش؟ وہ تو معصوم تھی۔‘‘ فطرت کے حسن پر جنم لینے والی، چاند ستاروں کو شرما دینے والی۔

’’کلپنا! کلپنا!‘‘ راگنی نے اسے گود میں اُٹھا لیا۔ کلپنا میں حرکت نہیں تھی، وہ ساکت تھی۔ راگنی کی بے اختیار آہیں نکل گئیں۔ وہ زور زور سے چلاّنے لگی۔

’’کلپنا مر گئی، کلپنا مر گئی۔‘‘ راگنی کے راگ نے فضائ کو بھی ماتم زدہ کر دیا تھا۔

صبا ممتاز بانو

صحافیہ، کالم نگار، شاعرہ ، ادیبہ

Sabamumtaz17@gmail.com

مصنفہ نےلاہور میں جنم لیا۔ تعلیم ایم اے اردو اور بی ایڈ۔ زمانہ طالبعلمی سے لکھنے لکھانےکا آغاز ہوا۔ ملک کے تمام بڑے رسائل و جرائدمیں لکھا۔2002 سے باقاعدہ شعبہ صحا فت میں قدم رکھا۔ روزنامہ لیڈر ، روزنامہ انصاف، روزنامہ خبریں ، روزنامہ نوائے وقت ، اپنا ٹی وی چینل ، سی ٹی وی چینل کےلئے مختلف پوسٹوں پر کام کیا۔ادب سے تعلق بھی زمانہ طالب علمی سے جڑا ۔ اخبارات وجرائد میں مختلف موضوعات پر کہانیاں لکھیں ۔ خواتین کے رسائل میں افسانے بھی لکھے ۔ بعد ازاں صحافتی مصروفیات کی وجہ سے ادبی اشغال میں کچھ تعطل آ گیا۔صحافت میں نام کمانے کے بعددوبارہ ادبی اصناف کی طرف توجہ مبذول کی ۔ ان کے افسانے مختلف ادبی جرائد میں چھپتے رہتے ہیں۔ایک کتاب "فلسطین میں موساد کی دہشت گردی" منظر عام پر آچکی ہے۔ایک ناول "پیار کی پہلی منزل "بھی چھپ چکا ہے۔افسانوں اور شاعری کی کتاب زیر طبع ہے۔ سماجی سطح پر بھی مختلف تنظیموں کے ساتھ اچھے عہدوں پر کام کیا ۔

۔بزم وارث شاہ کا "بہترین ادبی خدمات 2017 " کا ایوارڈ حاصل کر چکی ہیں۔

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form