صدماتی فکشن اور مرگ انبوہ کا بیانیہ

December 9, 2020
دیدبان شمارہ 12 مابعد کرونا نمبرتنقیدمضامین

صدماتی فکشن اور مرگ انبوہ کا بیانیہ

علی رفاد فتیحی

یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ہم صدمے اور ثقافتی تصادم کے دور میں رہتے ہیں۔ دنیا کے مختلف حصوں سے جنگ اور نسل کشی کی خبریں اور دہشت گردی کے خطرات کی موجودگی لوگوں کی روز مرہ زندگیوں کا حصہ بن چکی ہے ۔ ہم روزشام کی خبروں میںخود کو تشدد کے مقام سے کچھ ہی فاصلے پر اپنے کو محسوس کرتے ہیں۔بالخصوص 11 ستمبر 2001 اور گجرات کے سانحے نے عوام کو تحفظ اور سلامتی کے احساس عامہ کی دہلیز سے دور کردیا ۔ انھیں محسوس ہونے لگا کہ اب دوسروں کے درد اورخطرے سے بچنے یا بچانے والی دنیا کا دفاع کرنا ممکن نہیں ہے یہ کبھی بھی تباہ ہوسکتی ہے کسی کی زندگی انتباہ کے بغیر تباہ کن واقعات کی نذر ہو سکتی ہے۔ یہ خوف علاقائی حدوں Kerby Ferrell کوپار کر عالمی سرحدوں کی جانب سفر کرنے لگا ہے ۔ اس پس منظر میں کربی فیرل   

نے جو صرف چند سال قبل تک تباہ کن تباہی کی پیش گوئی کر رہا تھا نوے کی دہائی کے غالب ثقافتی بیانیے کا تجزیہ پیش کیا اور ہمارے کا نام دیا ۔(Post Traumatic Culture)اس دور کو "پوسٹ ٹرومیٹک کلچر"

 اس کی دلیل ہے کہ ہمارے دور کے واقعات سے ہماراتعلق ایک اہم ثقافتی پس منظر رکھتاہے۔ تقریبا ہر طرح کی انسانی تباہی کا یہ ثقافتی پس منظر میڈیا کوریج کی طغیانی اور طوفان میں اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔ آج ہم ایک ایسی ثقافت میں رہتے ہیں جو غیر متوقع لیکن نفو ذ پذیر خطرہ اور بحران کے بھرمار ماحول میں ڈوبا ہوا ہے ، کیونکہ انفارمیشن پروسیسنگ کی جدید ٹکنالوجی ان تباہ کن واقعات کو اپنے طور پر فوری طور پر بے نقاب کرتی ہے۔                  

صدمے کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک اس کی "قسط وار یادداشت" کا نظریہ ہے ، جو ، عام معنوی یادداشت کے برعکس ، انتہائی جذباتی اور دوسری یادوں کے ساتھ مربوط ہوئے بغیر ، متحرک ، اور فعال حالت میں رہتا ہے۔لہذا ، یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے سانحہ گجرات جیسے تشدد یا مظالم کے مناظر دیکھے ہیں ، ان "انمٹ" یادوں کو بھلا نہیں سکتے۔ لہذا معاشرے میں Hyper visualised اور Hyper signifiedصدمے کی  

موجودگی کے نتیجے میں ممکنہ منفی نتائج سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ ذرائع ابلاغ کے زیر احاطہ امیجوں کی بڑھتی ہوئی گردش اور مہلک صدماتی نوعیت کے واقعات کی مسلسل آمد دو مخالف طریقوں کے باعث دوسروں کے درد سے رشتہ قائیم کر تی ہے۔                    

ا۔غیر حساسئیت : دوسروں کے غم اور ان کے سانحات سے غیر حساسئیت

اا ۔مجروحیت : یا کسی دوسرے کا شکار بنانا یا صدمہ پہنچانا۔

ایک ایسے وسیع ثقافتی ماحول میں جہاں میڈیا کوریج تشدد کی شبیہوں اور ادراکی تصور کی بہتات ناظرین کو غیر حساس بنا دیتا ہے۔ اور انھیں یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ یہ ان کی روز مرہ کی زندگی کا ایک اور اہم حصہ۔ جیسا کہ مائیکل ڈبلیو اسمتھ نے جین بڈرلارڈ کے ما بعد جدید نظریہ کو بہروپ اور نقل کے ذریعہ انتباہ کیا ہے ، "مابعد جدید دنیا میں میڈیا کوریج کی وجہ سے جہاں ہر چیز فوری اور واضح طور پر دکھتی ہے ، حقیقی صورت حال اور ادراکی تصورمیں فاصلہ کی عدم موجودگی محسوس ہوتی ہے اور یہ عدم موجودگی مرئی  اور ظاہری کے مابین تفریق کو ختم کر دیتی ہے۔                    

یہاں اس حقیقت کا اعتراف بھی ضروری ہے کہ صدمے کی علامات شبیہوں اور ادراکی تصور کو ادھیڑنے اور بہت زیادہ بے نقاب کرنے سے بھی ایک مختلف قسم کا ترسیلی خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ اگر لوگ مابعد جدیدبیانیہ کے جال میں پھنسے بغیر صدمے اور ان کے سانحات کے شکار افراد کے بارے میں ہمدردانہ موقف برقرار رکھنے کا انتظام کرتے ہیں یا ان کے بارے میں خالصتا

فکری گفتگوکرتے ہوئے دوسروں کے درد کو دک سے اڑا دیتے ہیںتو پھر فقدان احساس کا ایک اور intellectual

خطرہ درپیش ہوتاہے۔یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کی حقیقی زندگی کے صدماتی لمحات اور افسانوی صدماتی لمحات کےلسانی اظہار میں نمایاں فرق ہوتا ہے۔حقیقی زندگی کی خوفناک تکلیفوں اور پر تشدد واقعات کا براہ راسط مشاہدہ لسانی اظہار کو بے ربط اور بے رنگ بناتا ہے کیونکہ زبان صدمے کی اس شدت کو اپنے دائرہ ِ کار میں لانے میں ناکام رہتی ہے لہٰذا دکھ اور شدت کی لسانی قدر محفوظ نہیں رہ پاتی سوائے حوالہ جاتی قدر کے۔ اس کے بر عکس افسانوی صدماتی لمحات کا اظہار منضبط اور منظم ہوتا ہے کیونکہ صدماتی واقعات تواتر سے ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ایسا سماج جو تواتر سے صدمات کا شکار ہو اس کی متنی اور لسانی تصویر کشی ادبی تخلیقات ، صحافیانہ اظہاریے ، نصاباتی فکشن ، بصری بیانیے ، تاریخی دستاویزات اور سوشل میڈیا اور میڈیا کوریج جیسے مختلف تخلیقی یا غیر تخلیقی اظہاریوں میں ظاہرہوتی ہے۔                    

اگر ہم گزشتہ کچھ برس کی انسانی تاریخ کی تجسیم کریں تو انسانی تاریخ کا چہرہ جنگ زدہ اور پر تشدد نظر آتا ہے۔ انسانی تاریخ میں جنگ ، تعصب ، تشدد ، نفرت اور نسل کشی کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔صدمے کی کیفیت میں ان کافوری اظہار چونکہ ردِ عمل ہوتا ہے اور اس ردِ عمل کی تجسیم کے دوران مروج لسانی اور اظہاری نمونے توڑ پھوڑ کا شکارہوتے ہیں لہٰذا ایسے اظہاریوں کے مروج معنی معنوی نا پائیداری اور تزلزل پیدا کرتی ہے لہذا انھیں رد تشکیل کے

اصولوں پر پرکھنا ہوگا کیونکہ متن ظاہر میں جامد اور یک معنوی تفہیم کرتا دکھائی دیتا ہے لیکن اس کا معنی اس سے یکسر مختلف ہو سکتا مختلف النوع تخلیقی اظہاریوں میں Traumaہے۔صدمہ یا

لخت پن ، بین المتونیت ، تکرار، اورلسانی تجربات( تشکیلات) وغیرہ کو جگہ دیتا ہے ، یہ وہی خصائص ہیں جو سماج میں مابعد جدیدیت کے چلن کے نمائندہ ٹھہرتے ہیں۔صدماتی متون کا لسانی اظہاراس وقت کے انسانی سماج میں مروج سماجی، علمیاتی ، اور تخلیقی اظہاریوں کے نمونوں کو توڑتا ہے۔ کیونکہ صدماتی متون کا تجربہ کا سفر دروں سے بیروں کی طرف ہوتا ہے ۔ صدماتی تجربات کی شدت لسانی اظہار کے مروج سانچوں کو توڑ کر اظہار کے نیے پیمانے ڈھونڈتی ہے۔                  

اس پس منظر مین جب ہم اردو افسانوی ادب پر نظر ڈالتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ اردو افسانوی ادب میں صدماتی فکشن کی روائیت بہت مضبوط رہی ہے۔ صدماتی فکشن کی بہترین مثال معروف اردو فکشن نگار سعادت حسین منٹو کی تخلیقات میں ملتی ہے۔ منٹو کے صدماتی متون کو اس حوالے سے بہت نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔ جنگ ، تشدد اور نفرت یہ وہ تین عناصر ہیں جن سے ٹوبہ ٹیک سنگھ ، کھول دو ، ٹھنڈا گوشت اور دیگر افسانوں کا خمیر اٹھتا ہے ۔، صدمے کی مستقل ، نقصان دہ طاقت ، جو وقتا فوقتا منتقل ہوتی ہے ، ختم نہیں ہوتی ہے اور صدمے سے بچ جانے والے کردار کو پریشان کرتی رہتی ہے۔ صدماتی تجربات اور اس کی مہلک آواز دوسروںپر اثر انداز ہوتی رہتی ہے جب تک کہ ایک معنی خیز بیانیہ میں متشکل نہ کیا جائے

مشرف عالم ذوقی کا ناول مرگ انبوہ اس پس منظر میں ایک معنی خیز بیانیہ بن کر سامنے آتا ہے جس میںسانحہ گجرات اور 2014 کے بعد تواتر سے ظہور پذیر ہونے والے تاریخی طور پر ناقابلِ تردید فرقاوارانہ واقعات اور ان کی بدیہی تفاصیل کی تفہیم اس ناول کی صورت میں a Trauma  Theory ظاہر ہوتی ہے۔ صدمہ یا      

کی سب سے نمایاں خاصیت یہ ہے کہ صدمہ حساس تخلیق کار کے لاشعور کا ایک ناقابلِ حل مسئلہ بن جاتا ہے۔ صدمہ چونکہ شعور کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا تا ہے لہٰذا اس تباہ شدہ شعوری رو کے طفیل متشکل ہونے والے متن کی neurobiological تاریخی حیثیت مشکوک ہو سکتی ہے کیونکہ انسان کے

یا اعصابی لوازمات اس وقت کے تشدد اور جبر سے خود کو علاحدہ کرلیتے ہیں اور یہ ایک فطری عمل ہے گویا مشرف عالم ذوقی کے ناول مرگ انبوہ میں جبر یا تشدد کی مجموعی تصویرایک فاصلے سے بنتی ہے ۔ مجموعی سماجی بیانیوں سے اخذ شدہ نتائج کی صورت حال کو مرگ انبوہ میںمنطبق کیا گیاہے۔ ہندوستان میںگجرات اور دیگر فرقہ وارانہ سانحوں نے جہاں سیاسی ترتیب کو مجروح کیا اور اس کی ترتیبِ نو کی، وہیں سیکولر سوچ کو بری طرح سے جھنجھوڑا ہے۔ طاقت کے تصور کو تاریخی نقطہ نظر سے پیش کرتے ہوے  ذوقی عصرِ حاضر کے ہندوستان کا منظر نامہ قاری کے سامنے بیان کرتے ہیں۔

"تہذیبیں مٹ جاتی ہیں سندھ کی تہذیب مٹ گئی سومیرین ،میسوپوٹامین، ایرانی تہذیب "

.آج ان کے وجود تک کا پتہ نہیں .یہ ایلومناتی تھے جنہوں نے

"( آہستہ آہستہ تمام تہذیبوں کے نشان غایب کردیے جو طاقتور ہوا گا وہی حکومت کرےگا."(صفحہ نمبر ۱۰,مرگ انبوہ)

طاقت کے اس فلسفے کو مستحکم کرنے کے لیے ایک فن تاسی کردار "بی مشن" کے نام سے سامنے آتا ہے جس کا ہندوستان کے سیاسی ،سماجی معاشی ،علمی اور ،مذہبی غرضیکہ ہر معاملے میں بڑا ہاتھ ہے۔.

گجرات کا واقعہ چونکہ اب ماضی کا حصہ بن چکا ہے اور ماضی ہم تک ناول کی صورت میں آتا ہے لہٰذا اس پر بہت سے عوامل اثر انداز ہوتے ہیں، جیسے کہ : نظریہ ( آئیڈیالوجی) ، اور مقامی و بدیسی شرحیں۔ ان سب میں سے اصل واقعے کی کھوج ایک نہایت مشکل عمل ہوجاتا ہے۔پھر بھی اقلیتوں کے مسائیل سامنے آتے ہیں ۔ اقلیتوں کے مسائل کا بیان کرتے ہوئے ذوقی کہتے ہیں                

.اقلیت..... ایک تماشا ہے .....اقلیت.... ایک ہی کھیل ہے.     اقلیت.....ایک مداری ہے. ایک ڈگڈگی ہے..... اور ڈگڈگی کی

                     آوااز پر رقص کرتی ہوئی اقلیت.... چکرویوہ میں الجھتے، پھنستے ہوئے اقلیت.. ہزاروں برس کی تاریخ میں مخصوص اقلیت کو لٹیرا کہنے والے آسانی

           سے فیصلہ لے آئیں گے کہ اقلیتوں کی زمین کیسی؟ محمد بن قاسم سے محمود غزنوی، غوری،خلجی اور مغل بادشاہ تک سارے لٹیرے تھے لوٹ کی زمین کو

(اقلیتوں کا حق نہیں کہا جا سکتا.... ہم ایک ایسے وائرس کا شکار ہو چکے ہیں جو   ہمارا  نام صفحہء ہندوستان سے مٹا دینا چاہتا ہے"(صفحہ نمبر۸۳،مرگ انبوہ)

Archival اس ضمن میں نوتاریخیت ایک ایسا تنقیدی تناظر رہ جاتا ہے جس کے تصورِ دستاویزیت یا

تسلسل کے ذریعے ہم اصل واقعے اور صدمے کی درست تفہیم تک پہنچ سکتے ہیں۔

ناول میں شہریت چھن جانے کا غم، زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھنے کا خوف ناول کے مرکزی کردار جہانگیر مرزا میں ہر جگہ دکھائی دیتا ہے جو ہندوستان کے سیاسی اور سماجی حالات پر کڑھتا اور بنیاد پرست معاشرے کی اجارہ داری کو دیکھ کر خاموش ہوجاتا ہے بی مشن میں شامل ہونے کے بعد

NRC

اور اپنی ذات کے حاشیے پر دھکیلے جانے کے احساس سے واقفیت اسے مزید صدماتی سوچ میں مبتلا کر دیتی ہے جہاں موت کا فارم پر کرنے اور نسل کشی کے لیے بنائے جانے والے پروپیگنڈے اسے جلد ہی موت کی طرف دھکیل دیتے ہیں . وہاں دوسری طرف اسے سیاسی مکاریوں اور حکومتی چالبازیوں کا تجزیہ کر کے اس نتیجے پر پہنچنے میں دیر نہیں لگتی. جہانگیر مرزا اپنے ساتھ ساتھ قاری کو بھی اس بات سے آگاہ کردیتا ہے کہ مذہب ایک ایسا ذریعہ ہے .جس کو ہر ملک کے سیاست اور حکمرانوں نے اپنے اپنے مفادات کی خاطر ہر عہد میں بہت بخوبی استعمال کیا ہے اس طرح مذہب اور بنیاد پرستی کے لئے تشکیل دیے جانے والے عوامل اس ناول کا ایک اور بڑا موضوع بن جاتے ہیں جہاں گاو ماتا کی پوجا افضل ہے اور اس پوجا کے علاوہ لوازمات بھی مقدس جانے جاتے ہیں احترام اور عقیدت کے اس پہلو کو ناول میں پیش کیا گیا ہے اور مذہبی اجارہ داری کی فضا کو ناول نگار عالمگیر تناظر میں پیش کرکے ناول کا حصہ بناتا ہے:-

قوموں کی سیاسی زندگی میں بیانیاتی اونچ نیچ ان کے عروج و زوال کی داستانوں کی شرح ہوتی ہے۔ ترقی یافتہ خاص کر علمی میدان میں طاقت ور اقوام درپیش صدمات کی بعد از صدماتی تاریخی ٹائم لائن پر متوازی تاریخیت کے حوالے سے ایسی فکشن سازی کرتی ہیں کہ صدمہ کی وجوہات اور ناکامیاں درپردہ خیالیہ تک ہی محدود رہ جاتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ متوازی تاریخی بیانیے سیاسی مقاصد کے حصول اور سماجی بیگانی کی تشکیلِ نو کے لیے اختراع کیے جاتے ہیں۔

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ نوتاریخی نقاد دریدا کے اس تصور کو ماننے سے گریزاں ہیں کہ متن سے باہر کوئی شے وجود نہیں رکھتی۔ تو اس لحاظ سے متن بذاتِ خود ایک ”اختراع“ ہے جس کے دروں رسائی ایک انتہائی مشکل اَمرہے۔ کچھ ایسا ہی ہندوستان میں ہو رہی نسل کشی کے سانحے کے ساتھ ہوا۔ اب تک اس ’سانحے‘ پر کچھ زیادہ بیانیے اختراع نہیں کیے جاسکے ہیں۔ ان حالات میں مرگ انبوہ اپنی جگہ پر ایک مختلف تناظر کی ردِ تشکیلیت کرتاہے اور اس کا مقصدنسل کشی کے صدمے کی سیاسی تفہیم کرنا ہی ہے ۔ اگرچہ کہ ناول کے متن اور تاریخی (تناظراتی) واقعات میں بین المتونیت ہے لیکن یہ واضح نہیں کہ یہ ایک تاریخی اتفاق ہے یا ان میں دستاویزی مماثلت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مرگ انبوہ کو سمجھنے کے لیے ہر بیانیے کی ردِ تشکیلیت کی ضرورت ہے۔ ما بعد گجرات کے واقعات کو جس طرح فکشن میں ڈھالا گیا وہ درحقیقت صدماتی ارتفاع کا عمل ہے جو حقیقت کا عکس ہوتا ہے۔ عام طور پر میڈیا کوریج کے بے یقینی کے عہد میں ایسے بیانیے تشکیل کیے جاتے ہیں تاکہ ناظرین ان عبوری بیانیوں کی سطحی دمک میں کھو جائیں اور پس پردہ حقائق تک رسائی ممکن نہ ہوپائے۔ مرگ انبوہ ایک متوازی تاریخیت پیش کرتا ہے۔اگرچہ متوازی تاریخیت یا

Alternate  History  

 کے بارے میں یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ اس نے واقعتا احتجاج کے بطن سے جنم لیا ہے یا محض تخلیق کار کے وجدان اور تخیل کو آسانی فراہم کی ہے کہ وہ ان کے زور پر فکشن تخلیق کرسکے ۔۔ا ب مرگ انبوہ کے مطالعہ کے لیے یہ طے کرنا ضروری ہے کہ پیش کردہ تاریخی واقعات تاریخی حقائق ہیں یا صدمے کی صورت میں متشکل ہونے والا صدماتی ارتفاع۔

علی رفاد فتیحی

پروفیسر شعبۂ لسانیات ،علیگڑھ مسلم یونیورسٹی علیگڑھ انڈیا 

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form