شعور کی عمر

October 12, 2016
شمارہ - ٢، اردو ڈائسپورا ناول

شعور کی عمر

مصنفہ: سیمون دی بوا

اردو ترجمہ: یونس خان

(پہلی قسط)

کیا میری گھڑی رک گئی ہے ؟ نہیں۔ لیکن اس کی سوئیاں تو گھومتی ہوئی محسوس نہیں ہوتیں۔ ان کی طرف دیکھو۔ کسی اور چیز کے متعلق سوچو ۔۔۔ کسی بھی اور چیز کے متعلق: گزرے ہوئے کل کے متعلق ، انتظار کے اعصابی دباؤ کے باوجود ، ایک پر سکون، عام سا، روانی کےساتھ گزر جانے والا دن ۔ نرم خو بیداری۔ آندرےؔ ایک عجیب وضع کے ساتھ مڑ کر بستر پر لیٹا ہوا ہے، اس کی آنکھوں پر پٹی ہے، بچے کی طرح اس کا ایک ہاتھ دیوار کے ساتھ دبا ہوا ہے، جیسے وہ الجھن اور نیند کے دباؤ میں ہو، اس کی ضرورت ہے کہ وہ دنیا کی ثابت قدمی کی جانچ کر سکے۔ میں اس کے پلنگ کے کنارے پر بیٹھ گئی، میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

آٹھ بج گئے ہیں

میں لائبریری میں ناشتے کی ٹرے لے گئی :میں نے ایک کتاب آٹھائی جو کل ہی آئی تھی۔۔۔ میں پہلے ہی سرسری انداز میں اس کے آدھے صفحے پڑھ چکی تھی۔ کتنی بور ہے ، اس سب میں ابلاغ کا نہ ہونا چل رہا ہے۔ اگر آپ واقعی چاہتے ہیں کہ ابلاغ ہو تو کسی نہ کسی طرح آپ اسے مینج کرو۔ بے شک، ہرشخص کے ساتھ نہ سہی کم از کم دو یا تین لوگوں کےساتھ ہی سہی۔ کبھی کبھی میں آندرے ؔ کو اپنے موڈ کے متعلق نہیں بتاتی، غم ،غیر اہم تفکرات؛ یقینا اس کے بھی اپنے کچھ راز ہوں گے؛ لیکن مجموعی طور پر ایساکچھ نہیں ہے جو ہم ایک دوسرے کے متعلق نہیں جانتے ۔ میں نے چین کی چائے کو انڈھیلا، گرما گرم اور تیز۔ ہم نے اپنی اپنی ڈاک دیکھتے ہوئے اسے پیا، جولائی کے سورج کا کمرے میں سیلاب آ رہا تھا۔ بے شمار دفعہ ہم ایک دوسرے کے آمنے سامنے اس چھوٹے میز پر بیٹھے ہوں گے سامنے رکھے گرما گرم تیز چائے کے پیالوں کے ساتھ؟ ہم کل صبح پھر ایسا ہی کریں گے پورا سال کریں گے۔ اگلے دس سال کریں گے۔۔۔۔۔ یہ لمحہ میٹھی سی نرم یاد اور دل لگی کے ایک وعدےکے قبضے میں ہے۔ کیا ہم تیس سال کے ہیں یا ساٹھ کے ہو گئے ہیں؟

آندرے کے بال سفید ہو گئے تھے جب وہ ابھی جوان ہی تھا:ابتدائی عمر میں برف جیسے بال، اس کی جلد کی واضح تازگی پر زور دیتے تھے، وہ خاص طور پر وجیہہ نظر آتا تھا۔وہ ابھی بھی وجیہہ نظر آتا ہے۔ اس کی جلد سخت ہو گئی ہے اور اس پر جھریاں پڑ گئیں ہیں ۔۔۔ بوڑھا چمڑا۔۔۔ لیکن اس کے چہرے اور آنکھوں میں مسکراہٹ کی چمک موجود ہے۔ فوٹو گراف البم اس کے خلاف کہہ سکتی ہے، جوان آندرے کی تصویر اس کے موجودہ چہرے کی تصدیق کرتی ہے، میری آنکھیں اسے کسی عمر سے بھی منسوب نہیں کرتیں۔ ایک لمبی عمر ہے جو خوشیوں سے، آہوں سے، جھگڑوں سے، بغل گیر ہونے، اعترافات کرنے ، خاموشیوں اور دل کی اچانک تیز ہوتی ہوئی دھڑکنوں سے بھری ہوئی ہے:اس سب کے باوجود تو ایسے لگتا ہے کہ جیسے وقت تو آگے بڑھا ہی نہیں ہے۔ مستقبل ابھی بھی لا منتہا تک پھیلا ہوا ہے۔

وہ کھڑا ہوا۔ 'میں امید کرتا ہوں کہ تمہارا کام ٹھیک چل رہا ہو گا-' اس نے کہا۔

'  تمہارا بھی 'میں نےجواباً کہا۔

اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔

اس طرح کی تحقیق میں بہت سارے ایسے مواقع آ جاتے ہیں جب اہم بیش رفت نہیں ہو پاتی۔ جس طرح وہ کام کرنے کا عادی ہے وہ اسے خوش دلی سے قبول نہیں کرتا۔

میں نے کھڑی کھولی۔ پیرس، موسم گرما کی شدید گرمی سے نڈھال۔ اسفالٹ اور آ نے والے جھکڑ کی بُو۔ میری آنکھیں آندرے کا پیچھا کرتی ہیں۔ ممکن ہے یہ ان لمحات کے دوران کی بات ہو جب میں نے اسے غائب ہوتے ہوئے دیکھا، وہ میرے لئے موجود ہے بہت زیادہ وضاحت کے ساتھ.. اس کا لمبا قد چھوٹا ہو گیا ہے، اس کا ہر قدم واپسی کی راہ کے نشان بنا رہا ہے، یہ غائب ہو گئے ہیں اور گلی سنسان محسوس ہو رہی ہے، لیکن دراصل یہ توانائی کا میدان ہے جو اسے میرے پاس واپس آنے کے لئے اس کی قیادت کرے گا ،اس کی قدرتی عادت کے عین مطابق.اس کی موجودگی کے مقابلے میں مَیں اسے زیادہ یقین کےساتھ حرکت کرتا ہوا دیکھتی ہوں۔

میں کافی دیر تک بالکنی پر رکی رہی۔ میں نے اپنی چھٹی منزل سے بہت پھیلے ہوئے پیرس کو دیکھا، سلیٹ سے ڈھکی چھتوں پر اڑتے ہوئے کبوتروں کےساتھ،وہ جو پھولوں کے گملے لگتے ہیں دراصل چمنیاں ہیں۔ سرخ یا پیلی کونجیں۔۔۔پانچ ، نو، دس.. ان میں سے میں دس گن سکتی ہوں۔۔۔ آسمان کے برخلاف ان کے آہنی بازوں کو پکڑ لو.دائیں طرف دور میری نظریں ایک عظیم بلند دیوار کے مقابل ٹکراتی ہیں جس میں چھوٹے چھوٹے سوراخ ہیں۔۔۔ ایک نیا بلاک- میں مخروطی شکل کے مینار دیکھ سکتی ہوں۔۔۔ حال ہی میں لمبی عمارتیں تعمیر ہوئی ہیں۔ ایڈگر کوئینٹ بلیوارڈ ؔکے حصے میں درختوں کی قطار میں کب سے کاریں کھڑی ہیں؟ لینڈ سکیپ کے نئے پن کو میں دیکھ رہی ہوں اور یقینا اسے گھور کردیکھ رہی ہوں، مجھے یاد نہیں ہے میں نے پہلے بھی اسے دیکھا ہو۔ میں دو تصویروں کو دیکھنا چاہوں گی ، پہلو بہ پہلو آگے اور پیچھے ایک ترتیب کےساتھ تاکہ میں ان میں عدم تفاوت کی وجہ سےحیرت کا اظہار کر سکوں ۔ نہیں.. واقعی نہیں۔ دنیا اسے خود وجود میں لاتی ہے ایک ابدی وجود کی صورت میری آنکھوں کے سامنے..میں اتنی جلدی اس کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں عادی ہو جاتی ہوں یہ مجھے تبدیل ہوتے ہوئے محسوس نہیں ہوتے۔

کارڈ انڈیکسز اور سادہ کاغذ میرے اندر خواہش پیدا کرتے ہیں کہ میں کام کروں پر میرے دماغ میں الفاظ ناچ رہے ہیں جو مجھے ارتکاز سے روک رہے ہیں۔ آج شام فیلپؔ یہاں موجود ہو گا۔ وہ تقریاً ایک ماہ سے دور ہے۔ میں اسکے کمرے میں گئی۔ کتابیں اور کاغذ ابھی بھی ادھر اُدھربکھرے پڑے ہیں۔۔۔ ایک پرانا سرمئی سویٹر، بنفشی رنگ کے پاجاموں کی ایک جوڑی۔۔۔ اس کمرے میں میرا دل نہیں چاہا کہ میں اس کمرے کو ترتیب دے سکوں کہ میرے پاس فارغ وقت ہی نہیں تھا، نہ ہی میرے پاس پیسے تھےاور شائد اس لئے بھی کہ میں یہ یقین کرنا نہیں چاہتی تھی کہ فیلپ نے میرے ساتھ تعلق ختم کر دیا ہے۔ میں لائبریری میں واپس گئی جو کہ گلاب کے پھولوں کی خوشبو سے بھری ہوئی تھی ، ایسا ہی تازہ اور سادہ ذہن جیسے بہت سارا سلاد۔ میں حیران ہوئی کہ میں نے کبھی ہی اس اپارٹمنٹ کو خالی اور اداس تصور کیا ہو۔ یہاں کسی چیز کی کوئی کمی نہیں تھی۔ میری آنکھیں خوشی سے دیوان پر پڑے تکیوں پر گھومنے لگیں، کچھ سادہ رنگ، کچھ شوخ: پولینڈ کی گڑیا، سلواکیہ کے ڈاکو اور پرتگال کے مرغ تمام اپنی اپنی جگہ پر موجود تھے، اتنے ہی اچھے جتنا سونا۔ فیلپ یہاں آئے گا۔۔۔ کوئی بھی کام کرنے کے لئے میں تو ابھی بھی خسارے میں ہوں۔ اداسی رونے سے دور بہہ سکتی ہے۔ لیکن خوشی کی بے صبری۔۔۔ اتنی آسانی سے اس سے چھٹکارہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

میں نے ذہن بنایا کہ باہر جاؤں اور موسم گرما کی گرمی میں سانس لوں۔ سرمئی فیلٹ ہیٹ اور نیلگوں سبز رنگ کی برساتی اوڑھے ایک لمبا نیگرو مردہ دلی سے راستے کو صاف کر رہا تھا.. پہلے زمین کے رنگ کے الجیرین ہوا کرتے تھے۔ ایلگرڈ کوئنٹ بولیوارڈ میں ، مَیں عورتوں کے ہجوم میں گھل مل گئی۔ جیسا کہ میں کبھی بھی صبح کے وقت گھر سے باہر نہیں گئی۔ مارکیٹ میں میرے لئے اجنبی ہوا تھی( صبح کی بے شمار مارکیٹیں، بے شمار آسمانوں کے نیچے)۔ ایک چھوٹے قد کی بوڑھی عورت لنگڑاتی ہوئی ایک سٹال سے دوسرے سٹال کی طرف لپک رہی تھی، اس کے چھدرے بالوں کو احتیاط سے کنگھی کیا گیا تھا۔ ا س کے ہاتھ کی گرفت میں اس کی خالی ٹوکری کا ہینڈل تھا۔ اپنی ابتدائی عمر میں مَیں کبھی بھی بوڑھوں کے لئے پریشان نہیں ہوئی تھی. میں مُردوں کی طرح ان کی طرف دیکھتی جن کی ٹانگیں ابھی بھی چل رہی ہوں۔ اب میں انہیں دیکھتی ہوں۔۔۔عورتیں اورمرد،جو میرے سے تھوڑے ہی بڑے ہوں۔ ایک دن میں قصائی کی دکان پر اس عورت کی طرف متوجہ ہوئی اس نے اپنی بلیوں کے لئے چھیچھڑے مانگےتھے۔ 'اپنی بلیوں کے لئے..' اس مرد نے کہا جب وہ چلی گئی۔ اس کے پاس کوئی بلی نہیں ہے۔ اس طرح کا شوربہ گوشت وہ ا پنے لئے بنانےجا رہی ہے-' قصائی کے لئے یہ دلچسپی کی بات تھی۔ فی ا لوقت وہ سٹالوں کے نیچے سے بچے ہوئے ٹکڑؤں کو چن رہی تھی اس سے پہلے کہ لمبا نیگرو ان سب کو صفائی کرتے ہوئے گٹر میں ڈال دے۔ ایک ماہ میں ایک سو اسی فرانک میں گزراہ کرنا. دس لاکھ سے زائد لوگ اسی حالت زار میں ہیں. تیس لاکھ لوگ شائد ان سے کم بدبخت ہوں۔

میں نے کچھ پھل خریدے، کچھ پھول اور میں بازار میں ٹہلتی رہی۔ ریٹائرڈ: ایسا لگتا ہے کہ جیسے ٹھکرا دیا گیا ہو، کسی کو سکریپ کے ڈھیر پر پھینک دیا گیا ہو۔ ایسے الفاظ میرے دل میں لرزہ طاری کر دیتے ہیں۔ فارغ وقت کا لمبا عرصہ مجھے خوف زدہ کر دیتا ہے۔ میں غلط تھی۔ مجھے وقت کو کندھوں سے زرا دور کچھ وسعت میں تلاش کرنا چاہئے تھا. لیکن میں نے اسے ترتیب دیا ۔ اور کتنی خوشی کی بات ہے کہ ضروری کاموں کے بغیر رہا جائے، کسی طرح کی کوئی پابندی نہیں، اس کے باوجود وقتاً فوقتاً ایک بے کلی میرے اوپر چھاجاتی ہے۔ میں اپنی پہلی تقرری کو یاد کرتی ہوں، پہلی کلاس کو، اور مردہ پتوں کو جومیرے وطن کی اس خزاں میں میرے پاؤں کے نیچے چرمرائے۔ ان دنوں مجھے ریٹائرمنٹ غیر حقیقی لگتی تھی بالکل موت کی طرح، میرے اور اس دن کے درمیان وقت کا پھلاؤ تقریباً دوگنا تھاجتنا کہ میں اب تک جی چکی ہوں ۔ یہ ایک سال پہلے کی بات ہے جب یہ وقت آیا ۔ میں نے تمام سرحدیں پار کر لیں لیکن وہ تمام کم واضح ہیں۔ یہ والی اتنی سخت ہے کہ ہے جیسے آہنی پردہ۔

میں گھر واپس آئی؛ میں اپنے میز پر بیٹھ گئی۔ بغیر کسی کام کے اس دلکش صبح کو میرے لئے پھیکا ہونا چاہئے تھا۔ میں رک گئی جب ایک بجنے والا تھا تو یہ تو کچن میں میزبچھانے جیسا تھا۔۔۔ بالکل مِلّی ؔمیں میری دادی اماں کے کچن جیسا ( میں مِلّئ جا کر اسے دوبارہ دیکھنا چاہتی ہوں)۔۔۔۔ دیہاتی گھر کے میز، اس کے بنچوں، اس کے تانبے کے برتنوں، اور واضح شہتیروں کے ساتھ ، اس فرق کے ساتھ کہ یہاں گیس سٹوو کی بجائے ککنگ رینج اور ریفریجریٹر ہے۔ (یہ کون سا سال تھا جب فرانس میں ریفریجریٹر آیا ؟ میں نے تو اپنا دس سال پہلے خریدا تھا لیکن یہاں یہ پہلے سے ہی معمول کی بات تھی۔ انہوں نے کب آغاز کیا؟ جنگ سے پہلے ؟ فوری بعد؟ ان میں سے کچھ ایسی چیزیں بھی ہیں جو اب مجھے یاد نہیں۔)

آندرے دیر سے آیا، اس نے مجھے بتایا کہ وہ آ گیا ہے۔ لیبارٹری چھوڑنے سے پہلے اس نے فرانس کے نیوکلیائی ہتھیاروں کی ایک میٹنگ میں شرکت کی تھی۔

کیا یہ ٹھیک جا رہا ہے؟ میں نے پوچھا۔ہم نے ایک نئے منشور کے الفاظ کا تعین کیا۔ لیکن میرے لئے تو یہاں کوئی ابہام نہیں تھا۔ اس کا باقی ساری تحریر پر کوئی زیادہ اثر نہیں پڑے گا۔ فرانسیسی تو لعنت ملامت بھی نہیں کرتے۔ بچاؤکے متعلق، خاص طور پر ایٹم بم کے بارے میں ۔۔۔ کسی بھی چیز کے متعلق۔ کبھی کبھی تو مجھے لگتا کہ میں دوزخ میں رہ رہی ہوں، کیوبا چلی جاؤں، یا مالے ؔ۔ نہیں ، سنجیدگی سے ، میں نے ایسا کبھی نہیں سوچا۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ کوئی بھی شخص اپنے آپ کو کارآمد بنا لے۔

 'تم اب کام نہیں کر سکتی-'  

' 'یہ کوئی بہت بڑی تباہی نہیں ہو گی۔

میں نے سلاد، ہیم، پنیر، اور پھل میز پر رکھے۔' کیا تم بھی اتنی ہی دل گرفتہ ہو جتنا کہ دوسرے؟ ایسا پہلی دفعہ تو نہیں ہوا کہ آپ لوگ مقبولیت حاصل کرنے میں ناکام رہے ہو۔

'نہیں۔'

'پھر تو اچھی بات ہے ؟'

'تم سمجھنے کے لئے انتخاب نہیں کرتی۔'

وہ ہمیشہ مجھے کہتا کہ آج کل تمام نئے خیالات اس کے ساتھیوں کے طرف سے آتے ہیں اور یہ کہ وہ اتنا بوڑھا ہو گیا ہے کہ اب وہ نئی دریافتیں نہیں کر سکتا - میں اس میں یقین نہیں رکھتی۔ 'اوہ ، میں دیکھ سکتی ہوں کہ تم کیا سوچ رہے ہو۔'  میں نے کہا۔ ' میں اس میں یقین نہیں رکھتی۔'

تم سے غلطی ہو گئی ہے۔ یہ پندرہ سال پہلے کی بات ہے جب مجھے آخری خیال آیا تھا۔

پندرہ سال۔ وہ کسی بھی ایسے بنجر دور میں سے پہلے نہیں گزرا تھاجو اتنی طویل مدت تک جاری رہا ہو۔ لیکن وہ اس نقطے پر پہنچنے سےپہلے ہی پہنچ چکا ہے، کوئی شک نہیں کہ کسی تخلیقی کام کی تحریک کے لئے اس قسم کی ایک وقفے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مجھے فرانسیسی شاعر والیریؔ کی کچھ سطریں یاد آ رہی ہیں فرانسیسی میں

خاموشی کا ہر ایٹم

موقع ہے ایک پکے ہوئے پھل کا

غیر متوقع پھل تصور سے پیدائش تک کے سست دور میں ہی ملے گا۔ وہ مہم جس کا جزباتی اشتراک میں نے کیا ہے وہ ابھی پوری نہیں ہوئی۔ یہ مہم اپنے شکوک ، ناکامی، کسی پیش رفت کے نہ ہونے کی اداسی، پھر روشنی کی جھلک، ایک امید،ایک مفروضہ جس کی تصدیق ہو چکی ہو، کے ساتھ؛ پھر ہفتوں اور مہینوں کی فکر مند ثابت قدمی، کامیابی کا نشہ۔ مجھے آندرے کے کام کی زیادہ سمجھ بوجھ نہیں ہے لیکن میرا ضدی اعتماد اس کی روح میں دوبارہ جان ڈال دیتا ہے۔ میرا عتماد ابھی بھی متزلزل نہیں ہوا۔ میں کیوں نہ اس کا اظہار اس سے کروں؟ میں کبھی یقین نہیں کروں گی کہ میں دوبارہ کبھی اس کی آنکھوں میں دریافت کی بخار زدہ خوشی دہکتے ہوئی نہیں دیکھوں گی۔ میں نے کہا 'یہاں ثابت کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے کہ تمہیں تمہارا دوسرا ہوا کا جھونکا نہیں ملے گا

نہیں ، میری عمر میں ہرشخص ایک دماغ کی عادت رکھتا ہے.. جو قوت اختراع میں رکاوٹ بنتی ہے۔ اور میں سال بہ سال زیادہ بے خبر ہوتا جا رہا ہوں۔

میں تمہیں اب سے ان دس سالوں کی یاد دلاؤں گی۔ تم شائد ستر سال کی عمر میں اپنی بہترین دریافت پا لو ۔

تم اور تمہاری رجائیت پسندی: میں تمہیں یقین دلاتی ہوں کہ تم نہیں ہو گے۔

تم اور تمہاری قنوطیت

ہم مسکرائے۔ اس کے باوجود کہ یہاں مسکرانے کے لئے کچھ موجود نہیں تھا۔ آندرے کی ہزیمت کی کوئی جائز بنیاد نہیں تھی۔ اس بار اس کی منطقی شدت میں کمی آئی ہے۔ یقین مانئے، فرائیڈ نے اپنے ایک خط میں کہا تھا کہ کچھ لوگ ایک خاص عمر میں جا کر کچھ نیا دریافت کرنے کے اہل نہیں رہتے اور یہ بہت دکھ کی بات ہے۔ لیکن اس وقت وہ آندرے سے عمر میں بہت بڑا تھا۔بہر حال یہ انتہائی اداسی اب بھی مجھے غمگین کرتی ہے، اگر چہ اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آندرے اس کو کیوں جگہ دیتا ہے کہ وہ ایک عموی بحران کی حالت میں ہے۔ یہ مجھے حیران کرتا ہے، لیکن معاملے کی سچائی یہی ہے کہ وہ اس حقیقت کو قبول نہیں کر پا رہا کہ وہ ساٹھ سال سے تجاوز کر چکا ہے۔ یہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے پاس ابھی بھی دل کو خوش کرنے کے لئے بے شمار چیزیں ہیں. لیکن اس کے پاس نہیں ہیں۔پہلے تو وہ ہر چیز میں دلچسپی رکھتا تھا. اب تو سب سے بڑا کام ہی یہی ہے کہ انہیں کھینچ کر لے جایاجائے کسی فلم یا کسی نمائش کے لئے یا کسی دوست کوملنےجانے کے لئے۔

'کتنے دکھ کی بات ہے کہ اب تمہیں سیر کے لئے جانا اچھا نہیں لگتا۔' میں نے کہا۔

یہ دن بہت پیارے ہیں .. میں ابھی سوچ رہی تھی کہ مِیّی  واپس جانا اور فانٹین بلیو ؔ کے جنگل میں جانامیں نے کیسے پسند کیاہے۔

'تم ایک حیران کرنے والے عورت ہو۔' اس نے ایک مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔

تم سارے یورپ کو جانتی ہو لیکن اس وقت جو تم دیکھنا چاہتی ہو وہ تو پیرس کے مضافات میں ہے-

کیوں نہیں؟ چمپئے ؔ کا چرچ بھی کم خوب صورت نہیں ہے کیونکہ میں قدیم یونانی شہرایکروپولیس تک جا چکی ہوں۔

بالکل ٹھیک۔ یونہی چار یا پانچ دن کے لئے لیبارٹری بند ہوتی ہے میں وعدہ کرتا ہوں کہ ہم کار میں ایک لمبا سفر کریں گے۔

ہمارے پاس وقت ہے کہ ہم ایک سے زائد بار جا سکتے ہیں کیونکہ ہم اگست کے آغاز تک پیرس میں رہیں گے۔ کیا آپ جانا چاہتے ہیں؟ میں نے کہا  صبح اتوار ہے۔ تم فارغ نہیں ہو

نہیں ایلیس تم جانتی ہو شام کے وقت نسلی امتیاز کے متعلق پریس کانفرنس ہے۔ انہوں نے مجھے کاغذوں کا پورا ایک پلندہ دیا ہے انہیں میں نے ابھی تک دیکھا نہیں ہے۔

سپین کے سیاسی قیدی ،پرتگالی زیر حراست، ستائے ہوئے ایرانی ؛کانگو، انگولا، کیمرون کے باغی؛ وینزویلا ، پیرو، اور کولمبیا کے مزاحمتی جنگجو؛ وہ ہمیشہ ان کی مدد کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں اور جتنی مدد ہو سکے وہ کرتے ہیں۔ملاقاتیں، منشور، عوامی اجتماعات، بہت سارے علاقے، وفود۔۔۔ انہوں نے کسی بھی چیز سے کبھی پہلو تہی نہیں کی۔

'آپ بہت زیادہ کام کرتے ہو۔'

یہاں کرنے کہ لئے کیا رہ جائے گا جب دنیا اپنی خوشبو کھو دے گی؟ جو کچھ بھی بچا ہے وہ صرف وقت گزارنا ہے۔ میں بزات خود بد نصیبی کے دور سے گزری ہوں ، دس سال پہلے۔ میں اپنے جسم سے نفرت کرنے لگ گئی تھی؛ فیلپ بڑا ہو گیا تھا۔ روسوؔ پر لکھی اپنی کتاب کی کامیابی کے بعد میں اپنے اپ کو اندر سے کھوکھلا محسوس کرنے لگ گئی تھی۔ جوں جوں میں بڑی ہوتی گئی میرے دکھ میں کمی آتی گئی۔پھر میں نےمونٹسکیوؔ پر کام کرنا شروع کر دیا، میں نے فیلپ کو سول سروس کے امتحان میں ڈال دیا اور اسے مقالہ شروع کرانے میں کامیاب ہوئی۔ مجھے سوربون یونیورسٹی میں لیکچر شپ کی نوکری مل گئی، یہاں مجھے یونیورسٹی کی اپنی سکالر شپ کی کلاسز کے مقابلے میں پڑھانا زیادہ اچھا لگا۔ میں اپنے جسم کے معاملے پرراضی برضا ہو گئی تھی۔ مجھے لگتا تھا کہ میں زندگی کی طرف دوبارہ لوٹ رہی ہوں۔اگر آندرے بہت جلد اپنی عمر کے متعلق اگاہ نہ ہوتا، میں بڑی آسانی سے یکسر اپنے بارے میں بھول جاتی۔ وہ دوبارہ باہر چلا گیا اور میں ایک لمبے وقت کے لئے بالکنی پر ٹھہری رہی۔میں نے آسمان کے نیلے پس منظر میں ایک سنتری لال کرین کو مڑتے ہوئے دیکھا۔میں نے ایک سیاہ کیڑے کو آسمانوں کے بیچ ایک وسیع، جھاگ دار، برفانی لکیر بناتے ہوئے دیکھا۔

دنیا کی ابدی جوانی کو دیکھ کر مجھے اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوا۔ کوئی ایسی چیز جس سے میں محبت کرتی تھی ختم ہو گئی تھی اور بہت ساری دوسری چیزیں مجھے مل گئیں تھیں۔ کل شام میں راسپیل بولیوارڈؔ پر جا رہی تھی اور آسمان کرمزی رنگ کا تھا،مجھے ایسے لگ رہا تھا کہ میں کسی اجنبی سیارے پر گھوم رہی ہوں جہاں گھاس بنفشی رنگ کی ہو سکتی ہے اور زمین نیلی۔ نیون لائیٹ کے اشتہار کی سرخ چکا چوند روشنی درختوں میں روپوش ہو رہی تھی۔ وہ ساٹھ سال کا تھا جب اینڈرسن حیران ہو رہا تھا کہ اب ہم سویڈن کو چوبیس سے کم گھنٹوں میں پار کرنے کے اہل ہو گئے ہیں ، جب کہ اس کی جوانی کے دنوں میں ایک ہفتہ درکار ہوتا تھا۔ میں اس طرح کی عجیب چیزوں کا تجربہ کر چکی ہوں۔ ماسکو سےپیرس صرف ساڑھے تین گھنٹے میں

ایک ٹیکسی مجھے مونٹیسوری پارک لے گئی جہاں مجھے مارٹن کو ملنا تھا۔ جیسے ہی میں باغ میں پہنچی کٹی ہوئی گھاس کی خوشبو سے میرے دل کی گھنٹیاں بجنا شروع ہو گئیں۔۔۔ بلند الپائن چراہ گاہوں کی خوشبو جہاں میں آندرے کے ساتھ گھوما کرتی تھی، میرے کندھوں پر ایک تھیلا ہوتا، ایسی ہی ایک خوشبو میرے آگے ہوتی کہ یہ میرے بچپن کے مرغزاروں کی خوشبو تھی۔ عکس، باز گشت اور پیچھے ہی پیچھے لامتناہی گونج ۔۔۔میں نے اپنے پیچھے ایک طویل ماضی رکھنے کی خوشی دریافت کر لی تھی۔ میرے پاس اتنی فرصت نہیں ہے کہ میں اپنے آپ کو یہ بتا سکوں، لیکن اکثر ایسا ہوا ہے ، غیر متوقع طور پر، میں نے اسے دیکھا ہے، شفاف حال کے پس منظر کے طور پر۔ ایک ایسا پس منظر جو اسے اس کا رنگ اور روشنی دیتا ہے بالکل ایسے ہی جیسے سمندر کی تبدیل ہوتی ہوئی چکا چوند روشنی میں دکھتے ہوئے پتھر اور ریت۔ ایک دفعہ مجھے مستقبل کے منصوبوں اور وعدوں سے محبت کرنے دو،اب میرے احساسات اور میری خوشیاں گزرے ہوئے وقت کے مخملی سائے کے ساتھ ہموار اور نرم ہیں۔

مارٹن کیفے کی ٹیرس پر بیٹھی لیمن جوس پی رہی تھی ۔ گہرے سیاہ بال، نیلی آنکھیں، نارنجی اور پیلی پٹیوں اور بنفشی اشارے کے ساتھ ایک مختصر لباس، ساتھ میں ایک خوب صورت عورت۔ چالیس سال کی۔ جب میں تیس سال کی تھی تو میں یہ سن کر مسکرائی تھی آندرے کے والد بیان کر رہے تھے کہ چالیس سال کی عمر کی  ایک پیاری نوجوان عورت اور اب یہی الفاظ میرے لبو ں پر تھے، جب میں نے مارٹن کے متعلق سوچا۔ اب تو مجھے ہر شخص ہی جوان معلوم ہوتا ہے ۔ وہ میری طرف دیکھ کر مسکرائی۔ کیا تم میرے لئے اپنی کتاب لائی ہو؟

یقینا۔

جو کچھ میں نے اس پر لکھا تھا اس نے اس کی طرف دیکھا۔'آپ کا بہت شکریہ' اس نے اک رسان کے ساتھ کہا۔ اس نے مزید کہا ' میں ایک لمبے عرصے سے اسے پڑھ رہی ہوں۔ لیکن تعلیمی سال کے اختتام پر ہر شخص بہت مصروف ہوتاہے۔مجھے جولائی 14 تک انتظار کر نا ہو گا-'

'مجھے یہ جان کر بہت زیادہ خوشی ہو گی کہ تم کیا سوچ رہی ہو۔'

مجھے اس کے فیصلے پر بہت زیادہ اعتماد ہے، کہنے کی بات یہ ہے کہ ہم ہمیشہ ایک دوسرے کو سمجھتی رہیں ہیں ۔ میں مکمل طور پر اس کے ساتھ برابری محسوس کرنا چاہتی ہوں اگر اس نے میرے ساتھ تھوڑا سا بھی پرانااستاد شاگرد کا احترام برقرار نہ رکھا تو، اگر چہ وہ خود ایک ٹیچر ہے،شادی شدہ ہے اور ایک خاندان کی ماں ہے۔

'آج کل ادب پڑھانا مشکل ہے۔ تمہاری کتابوں کے بغیر میں نہیں جانتی کہ اسے کیسے تیار کیا جائے۔' اس نے شرماتے ہوئے کہا، کیا آپ اس کےساتھ خوش ہیں؟

میں ا س کی طرف دیکھ کر مسکرائی۔ 'سچ کہوں؟ ہاں۔'

اس کی آنکھوں میں ابھی بھی ایک سوال تھا۔۔۔ جسے وہ لفظوں میں بیان کرنا نہیں چاہتی تھی۔ پہلے میں نے پیش قدمی کی۔' تم جانتی ہو کہ میں کیا کرنا چاہتی ہوں۔'۔۔ جنگ کے دور کے شائع شدہ تنقیدی کاموں پر غور کرتے ہوئے آغاز کروں اور پھر ایک نیا طریقہ تجویز کروں کہ جس کی وجہ سے یہ ممکن ہو کہ کس طرح مصنف کے کام تک راستہ بنایا جائے، اسے گہرائی میں دیکھا جائے، اس کے مقابلے میں اسے زیادہ درست طریقے سے کیا جائے جیسا کہ اس سے پہلے کبھی نہ ہوا ہو۔ میں امید کرتی ہوں کہ میں کامیاب ہوئی ہوں۔

یہ محض ایک امید سے زیادہ ہے ، یہ تو ایقان ہے، یہ تو کسی شک و شبہ کے بغیر کسی چیز پر اعتماد کرنا ہے۔ اس نے میرے دل کو سورج کی روشنی سے بھر دیا ۔ ایک پیارا دن، مجھے مسحور کر دیا ان درختوں نے، لان، سیر جہاں میں اپنی سہیلوں اور ساتھی طالب علمی کےساتھ گھوما کرتی تھی، کچھ مر چکے ہیں، یا زندگی نے ہمیں علیحدہ کر دیا ہے ۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ ۔۔۔آندرے کے برخلاف جو اَب کسی سےبھی نہیں ملتا ۔۔۔ میں نے اپنے کچھ شاگردوں کو اور اپنے نوجوان ساتھیوں کو دوست بنایا تھا۔ میں انہیں اپنی عمر کی عورتوں سے بہتر سمجھتی تھی۔ ان کا تجسس میری زندگی کو مہمیز لگاتا ہے یہ مجھے ان کے مستقبل میں لے جاتا ہے، میری اپنی قبر کے دوسری طرف۔

مارٹن نے اپنے کھلے ہاتھ سے کتاب کو تھپتھپایا۔ ابھی بھی اج کی اس شام میں، مَیں اس میں ڈوب سکتی ہوں۔ کیا آپ میں سے کسی نے اسے پڑھا ہے؟

صرف آندرے۔ لیکن اس کے نزدیک توادب ایک بہت بڑا سودا نہیں ہے۔

اس کے نزدیک اب کوئی بھی بہت بڑا معاملہ نہیں ہے۔ وہ میرے لئے اتنا ہی شکست خوردہ ہے جتنا کہ وہ اپنے لئے۔ وہ مجھے ایسانہیں کہتالیکن اسے اندر تک یقین ہے کہ اب کے بعدمیں ایسا کچھ نہیں کروں گی جس سے میری ساکھ میں اضافہ ہو۔ اس سے مجھے کوئی پریشانی نہیں ہے، میں جانتی ہوں کہ وہ غلط ہے۔ میں نے تو بس اپنی بہترین کتاب لکھی ہے، دوسری جِلد ابھی آگے چلے گی۔

'تمہارا بیٹا؟'

میں نے اسے پروف بھیجے ہیں، وہ میرے ساتھ اس کے متعلق بات کر ے گا ۔۔۔ وہ آج شام واپس آئے گا۔

ہم نے فیلپ کے متعلق بات کی ہے ، اس کے تھیسیز کے بارے میں ، اس کے لکھنے کے بارے میں۔ جیسا کہ میں کرتی ہوں، وہ الفاظ سے پیار کرتی ہے اور وہ لوگ جو اسےجانتے ہیں کہ انہیں کیسے استعمال کرنا ہے۔ وہ صرف اپنے آپ کو اجازت دیتی ہے کہ وہ اپنے پیشے اور گھر کے ساتھ زندہ کھا سکے۔ وہ گاڑی میں بٹھا کرمجھے اپنے لٹل اسٹن لے گئی ۔

' 'کیا تم جلد پیرس واپس آؤ گی؟

میرا نہیں خیال کہ میں دوبارہ واپس آؤں گی۔ میں تو یہاں سے آرام کے لئے سیدھی نینسی ؔکے ہاں سے یونے چلی جاؤں گی۔

کیا تم چھٹیوں کے دوران کوئی تھوڑا بہت کام کرو گی؟

ہاں میں کام کرنا چاہوں گی۔ لیکن میرے پاس ہمیشہ کم وقت ہوتا ہے۔ میرے اندر تمہارے جتنی طاقت نہیں ہے۔

یہ طاقت کا معاملہ نہیں ہے۔ میں نے اپنے آپ سے کہا جیسے ہی میں اس سے الگ ہوئی، میں بس لکھے بغیر رہ نہیں سکتی۔کیوں؟ لیکن میں کیوں فیلپ کو ایک دانشور بنانے کی شوقین ہوں جب کہ آندرے چاہتا ہے کہ وہ کوئی دوسرا راستہ چن لے؟ جب میں بچی تھی، جب میں نوجوان تھی، کتابوں نےمجھے مایوسی سے بچایا، مجھے اس بات پر یقین تھا کہ سب سے زیادہ قدر ثقافت ہی کی ہے میرے لئے یہ ممکن ہی نہ تھا کہ میں اپنے اس ایقان کو معروضی طور پر دیکھوں۔

کچن میں مَیری جین  کھانا بنانے میں مصروف تھی، ہمیں فیلپ کے پسندیدہ کھانے تیار کرنا تھے۔میں نے دیکھا کہ تمام کام ٹھیک چل رہا ہے۔ میں نے اخبار پڑھے اور ایک مشکل کراس ورڈ پزل لے لیا جس پر میرا پون گھنٹہ لگ گیا، کبھی کبھی یہ اچھا لگتا ہے کہ اپنی توجہ کچھ وقت کے لئے ان مربعوں کے ایک سیٹ پر مرکوز کی جائے یہاں ممکنہ طور پر الفاظ موجود ہوتے ہیں اگر چہ وہ نظر نہیں آتے، میں اپنے ذہن کو فوٹو گرافک ڈویلپر کے طور پر استعمال کرتی ہوں کہ وہ ابھر کر سامنے آ جائیں۔۔۔ میرا تاثر ہے کہ میں انہیں اوپر نکال سکتی ہوں کاغذ کی گہرائی میں سے ان کی چھپی ہوئی جگہ سے۔

جب آخری مربع بھر دیا گیا تو میں نے اپنے کپڑوں کی الماری میں سے سب سے خوب صورت کپڑوں کا چناؤ کیا۔۔۔ گلابی اور سرمئی سلک۔ جب میں پچاس سال کی تھی مجھے ہمیشہ اپنے کپڑے یا تو بہت خوشگوار لگتے یا پھر بالکل بے کیف- اب میں جانتی ہوں کہ کس کی مجھے اجازت ہے اور کس کی نہیں، اب میں بغیر پریشانی کے کپڑے پہن لیتی ہوں۔ بغیر کسی خوشی کے۔ بہت نزدیکی اور محبت بھرا جو تعلق میں نےاپنے کپڑوں کے ساتھ قائم کیا تھا اب ختم ہو گیا ہے۔ بحرحال اب میں اپنی شکل کی طرف خوشی کے ساتھ دیکھ سکتی ہوں۔ یہ فیلپ تھا جس نے ایک دن مجھے کہا ..آپ کیوں گول مٹول نظر آ رہی ہیں۔( اس نے بمشکل ہی اس بات کا احساس کیا ہو گا کہ میں دبلی ہو گئی ہوں۔) میں اب ڈائیٹ کر رہی ہوں۔ میں نےوزن چیک کرنےکی مشین لے لی ہے۔ اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا کہ میں نے اپنے وزن کے متعلق فکر کی ہو۔ میں ادھر ہی ہوں- جتنا کم میں نے اپنے آپ کو جسم کے ساتھ شناخت کیا ہے اتنا ہی مجھے لگتا ہے کہ مجھے اپنا خیال کرنا چاہئے۔ اس کاانحصار میرے اوپر ہے اتنی بور فرض شناسی کے ساتھ میں اس کی دیکھ بھال کرتی ہوں جیسا کہ میں نے کسی حد تک اس کی دیکھ بھال کی ہے وزن میں کچھ کمی آئی ہے ،کسی حد تک پرانی دوست کی خواہش ہے اسے میری مدد کی ضرورت ہے۔ آندرے ایک شراب کی بوتل لایا ،میں نے اسے ٹھنڈا ہونے کے لئے رکھ دیا ؛ ہم نے کچھ دیر گفتگو کی اس کے بعد اس نے اپنی والدہ کو فون کیا۔ وہ اکثر انہیں فون کرتا ہے۔ وہ کافی صحت مند ہیں۔ وہ ابھی بھی تند خو جنگجو کے طور کیمونسٹ پارٹی کے عہدے پر ہیں ۔ وہ چوراسی سال کی ہیں اور وہ ولا نووا ڈی ایوی نون  میں اپنے گھر میں اکیلی رہتی ہے۔ وہ ان کے بارے میں فکر مند ہے۔ اس نے ٹیلی فون پر قہقہہ لگایا، میں نے اسے چیختے ہوئے اور احتجاج کرتے ہوئے سنا لیکن اس نے جلد ہی گفتگو کو مختصر کر دیا ۔ مانتے کو اگر موقع ملے تو وہ بہت باتونی ہو جاتی ہے ۔

انہوں نے کیا کہا ہے؟

ان کے نزدیک یہ بات یقینی ہے کہ کسی نہ کسی دن مزید پانچ لاکھ چینی روس کا بارڈر پار کر جائیں گے۔ یا وہ کہیں بھی بم پھینک دیں گے ، کہیں بھی ، عالمی جنگ شروع کرنے کے چاؤ میں۔ وہ مجھے الزام دے رہیں تھیں کہ میں ان کا طرفدارہو گیا ہوں - انہیں کوئی بھی آمادہ نہیں کر پا رہا ہے ، میں بھی نہیں ۔

کیا وہ ٹھیک ہیں؟ وہ اکتاہٹ کا شکار تو نہیں؟وہ ہمیں دیکھ کر بہت خوش ہوں گی؛ جہاں تک اکتاہٹ کا تعلق ہے تو وہ اس لفظ سے واقف نہیں ہیں۔

وہ تین بچوں کے ساتھ سکول ٹیچر رہیں ہیں۔ ان کا ریٹائر ہونا خوشی کی بات ہے لیکن انہوں نے کام کرنا بند نہیں کیا۔ ہم ان کی باتیں کرتے ہیں ، چینیوں کی باتیں کرتے ہیں ، دوسروں کی طرح ہم بھی ویسی ہی باتیں کرنا پسند کرتے ہیں جن کے متعلق ہم بہت کم جانتے ہیں۔آندرے نے ایک میگزین کھول لیا اور وہاں میں تھیں ، اپنی گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے جس کے سوئیاں گھومتی ہوئی محسوس نہیں ہوتیں۔

اچانک ہی وہ یہاں تھا، ہر دفعہ اس کا چہرہ دیکھ کر مجھےحیرت ہوتی ہے، میری ماں سے بالکل الگ شباہت لئے ہوئے،اس میں آندرے کی واضح طور پر شباہت تھی۔ اس نے بڑے زور سے مجھے گلے لگایا خوشگوار باتیں کرتے ہوئے، میں نے اس کی فلالین کی جیکٹ کے گدازکو اپنے گال پر محسوس کیا۔ میں نے اپنے آپ کو اس کی گرفت سےآزاد کرایا تا کہ آئرین کو چوم سکوں- وہ میری طرف دیکھ کر مسکرائی اس کی مسکراہٹ میں اتنی یخ بستگی تھی کہ میں اپنے ہونٹوں کے نیچے ایک نرم، گرم گال کو محسوس کرکے حیران رہ گئی۔آئرین۔ میں ہمیشہ اسے بھول جاتی ہوں اور وہ ہمیشہ یہاں ہوتی ہے۔ سنہرے بال؛ بھوری نیلی آنکھیں؛پتلا منہ، تیز ٹھوڑی، اس کے متعلق کچھ ایسا مبہم اور ہٹیلا بہت فراخ ماتھا۔ جلد ہی میں نے اسے علیحدہ کر دیا۔ میں فیلپ کے ساتھ اکیلی تھی جیسا کہ میں ہمیشہ کرتی تھی جب میں صبح اسے جگانے جاتی تو اس کے ماتھے کو چھوتی۔

ایک قطرہ بھی نہیں حتی کہ ایک وہسکی کا؟  آندرے نے پوچھا

'نہیں شکریہ۔ میں تھوڑا سا فروٹ جوس لوں گی۔'

کتنی سمجھدار ہے وہ، وہ کتنی سمجھدار وضع داری کےساتھ کپڑے پہنتی ہے۔ معقول بالوں کا ہیئر سٹائیل، ہموار، اپنے فراخ ماتھے کو ایک جھالر کےساتھ چھپاتے ہوئے۔ اناڑی پن سے کیا گیا میک اپ؛ کافی حد تک چھوٹاپہناوہ۔

جب میں عورتوں کے کسی میگزین کو سرسری سا پڑھتی تو میں اپنے آپ سے کہتی ' آئرین یہاں کیوں ہے-' اکثر ایسا ہوا ہے کہ جب بھی میں نے اسے دیکھا میں نے اسے واضح طور پر پہچان لیا۔ وہ خوب صورت ہے  آندرے نے زور دے کر کہا۔ وہ دن بھی تھے جب میں اس سے اتفاق کرتی تھی۔۔۔ کان اور ناک کی نفاست۔ موتیوں جیسی ملائم جلد پر زور دیتی ہوئیں گہری نیلی پلکیں۔ جب وہ اپنے سر کو جھٹکتی ہے اور اس کے چہرے سے لباس کھسکتا ہے تو آپ سب اس کے منہ کو ،اس کی ٹھوڑی کو دیکھ پاتے ہو۔ کیوں؟ کیوں فیلپ اس طرح کی عورتوں کے پیچھے بھاگتا ہے، سپاٹ، بے رخ اور نمود ونمائش کی رسیا؟ یہ ثابت کرنے کے لئے کہ وہ انہیں اپنی طرف مائل کر سکتاہے، بغیر کسی شک و شبہ کے وہ ایسا کر سکتا ہے۔ وہ ان کا شوقین نہیں ہے۔ میں ہمیشہ سوچتی ہوں کہ اگر وہ ان محبت کرنے لگ پڑا ۔۔۔۔ میں ہمیشہ سوچتی ہوں اسے محبت میں نہیں پڑنا چاہئے اور ایک شام وہ مجھے کہنے لگا –' میرے پاس آپ کے لئے ایک بڑی خبر ہے-'  ایک ضرورت سے زائد جزباتی ہوتے ہوئے بچے کی مانند جس کی سالگرہ ہو، جو بہت زیادہ کھیلا ہو، بہت زیادہ ہنسا ہو، بہت زیادہ چلایا ہو۔ یہاں تو جیسے کوئی حادثہ ہو گیا ہو میرے سینے میں جیسے کوئی گھنٹی بج رہی ہو، خون میرے گالوں تک چڑھ آیا، میری تمام تر طاقت اپنے لرزتے ہوئے ہونٹوں کی لرزش کو قابو کرنے میں صرف ہو گئی۔ سردیوں کی ایک شام، گرائے ہوئے پردے اور تکیوں کی قوس و قزاح میں لیمپ کی روشنی، تب اس نے اچانک ایک خلیج کو کھول دیا، غیر موجودگی کی کھائی۔ تم اسے پسند کرو گی . وہ ایک ایسی عورت ہے جو بر سر روزگار ہے۔ بڑےلمبے وقفوں کے لئے وہ سکرپٹ گرل کے طور پر کام کرتی ہے۔ میں یہ سب جانتی ہوں اس کےساتھ ایک نوجوان شادی شدہ خاتون ۔ وہ عورتیں ایک مبہم طرح کی نوکری رکھتی ہیں اور ان کا یہ دعوی ہوتا ہے کہ وہ اپنے دماغ کو استعمال کرتی ہیں ۔ کھیل کے لئے جانا، اچھے کپڑے زیب تن کرنا،اپنے گھروں کو بے عیب طریقوں سےچلانا، ان کے بچوں کو اچھی طرح پالنا، اپنی ایک سماجی زندگی رکھنا۔۔۔ قصہ مختصر ہرجگہ کامیابی۔ اور وہ واقعی اس کے بارے میں قطعی طور پر فکر مند نہیں ہوتیں۔ اس نے میرے خون کو منجمند کر دیا۔

جون کے آغاز میں ،جس دن یونیورسٹی بند ہوئی، فیلپ  اور آئرین اٹلی کے شہرسارڈینیا چلے گئے تھے۔ جب کہ ہم اسی میز پر دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے جس پرمیں اکثر فیلپ کے ساتھ کھانا کھایا کرتی تھی ( آؤ، اپنے سوپ کو ختم کرو، تھوڑا سا گوشت اور لے لو، اپنے لیکچر پر جانے سے پہلے کچھ تو پیٹ میں اتار لو۔) ہم نے ان کےسفر کے متعلق بہت ساری گفتگو کی۔۔۔آئرین کے والدین کے طرف سے شادی کا ایک خوب صورت تحفہ، جو کہ اس طرح کا تحفہ دینے کی سکت رکھتے ہیں۔ وہ تمام تر وقت زیادہ تر خاموش رہی ایک ذہین عورت کی طرح جو یہ جانتی ہوکہ ایک شاندار بلکہ حیرت انگیز تبصرہ کرنے کے لئےصحیح وقت کا انتظار کیسے کیا جاتا ہے۔ وقفے وقفے سے وہ اپنے مشاہدے کے کچھ قطرے ٹپکا دیتی،حیران کن۔۔۔ یا کم از کم میرے لئے حیران کن۔۔۔ اپنی حماقت سے یا عامیانہ پن سے۔

ہم لائبریری واپس آگئے۔ فیلپ نے میرے ڈیسک کی طرف دیکھا۔ 'کیا کام ٹھیک جا رہا ہے-'

'بہت اچھا۔تمہارے پاس پروف پڑھنے کے لئے وقت نہیں ہے؟'

'نہیں؟ کیا تم اس کا تصور کر سکتے ہو؟ مجھے بہت افسوس ہے۔'

'تم کتاب پڑھو گے،میرے پاس تمہارے لئے ایک کاپی ہے۔' اس کی لاپرواہی نے مجھے کسی حد تک افسردہ کر دیا لیکن میں نے اس کا اظہار نہیں ہونے دیا۔ میں نے کہا –' تمہارا اپنے متعلق کیا خیال ہے؟ کیا اب دوبارہ تم اپنے مکا لےکے سنجیدہ کام کی طرف لوٹ رہے ہو؟' اس نے اس کا جواب نہیں دیا۔ اس نے عجیب نظروں سے آئرین کی طرف دیکھا۔

'کیا معاملہ ہے؟ کیاآپ لوگ دوبارہ سفر پر جانے والے ہو؟ '

'نہیں۔'دوبارہ خاموشی۔ اور تب اس نے کچھ بدمزاجی سے کہا  اوہ، کیا آپ ناراض ہیں۔ کیا آپ مجھے قصور وار ٹھہرا رہی ہیں، میں اسی ماہ فیصلہ کر لوں گا۔ یہ مشکل کام ہے ایک ہی وقت میں پڑھنا اور تھیسز پر کام کرنا۔ ہاں البتہ مجھے تھیسز پر کام کرنا چاہئے اس کے بغیر یونیورسٹی میں میرا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ میں اسے چھوڑ رہا ہوں۔

تم زمین پر کس چیز کی بات کر رہے ہو؟'میں یونیورسٹی چھوڑ رہا ہوں۔میں ابھی کم عمر نوجوان ہوں، میں اس کے علاوہ بھی کچھ کر سکتا ہوں۔لیکن یہ ممکن نہیں ہے۔ اب چونکہ یہ تمہارے پاس ہے تم اسے نہیں چھوڑ سکتے- میں نے سخت ناراض ہوتے ہوئے کہا۔

سنو۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے یونیورسٹی ٹیچر ہونے کے ناطے مستقبل تابناک تھا۔ اِن دنوں صرف میں ہی نہیں جو کہ اپنے طالب علموں کی دیکھ بھال کرنا مشکل سمجھتے ہیں اور کوئی بھی کام اپنے طور پر کر لیتے ہیں ایسے بہت سارے لوگ ہیں۔

یہ بالکل سچی بات ہے ۔ آندرے نے کہا۔ 'تیس طالب علموں کا مطلب ہے ایک طالب علم ضرب تیس۔ پچاس طالب علم تو ایک ہجوم ہوتے ہیں۔ ہاں یہ یقینی ہے کہ ہم کوئی طریقہ نکال لیں جس سے تمہیں اپنے لئے زیادہ وقت مل سکے اور تم اپنا تھیسز مکمل کر سکو۔

'نہیں۔' آئرین نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔

پڑھائی اور تحقیق۔۔۔ ان لوگوں کو واقعی بہت بُری ادائیگی ہو رہی ہے۔ میرا ایک کزن ہے جو کیمسٹ ہے۔ نیشنل ریسرچ سنٹر میں وہ ایک مہینے کے آٹھ سو فرانک کما رہا ہے۔ وہ ایک ڈائی فیکٹری میں چلا گیا ہے۔۔۔ یہاں اسے تین ہزار ملیں گے۔

'یہ رقم کا معاملہ نہیں ہے۔ فیلپ نے کہا۔'

'یقینا نہیں ہے۔ یہ پانی میں تیرنے کی گنتی بھی ہے۔'

کچھ بچ بچا کہ پابند جملوں میں وہ ہمیں دیکھتی رہی وہ ہمارے متعلق کیا سوچتی ہے۔ اوہ اس نے بڑے طریقے سے نبھا یا ہے۔۔۔ اس طریقے سے آپ آدھا میل دور سے گھوں گھوں کی آواز سن سکتے ہیں۔  سب سے بڑھ کر یہ کہ میں تمہارا دل توڑنا نہیں چاہتی۔۔۔ اسے میرے مقابلے پر کھڑا نہ کرو، میرے نزدیک یہ سب کچھ غیر منصفانہ ہو گا۔ اس کے باوجود میرے پاس تمہیں کہنے کے لئے کچھ نہ کچھ ہے، اگر میں اپنے آپ کویہاں نہ روکوں تو میں کہہ سکتی ہوں کہ یہ بہت زیادہ ہے۔ آندرے یقینا ایک بڑا سائنس دان ہے اور ایک عورت ہوتے ہوئے میری کارکردگی بُری نہیں ہے۔ لیکن ہم دنیا سے کٹ کر ، لیبارٹریوں میں اور لائبریروں میں رہ رہے ہیں ۔ نئی نسل کے دانشور معاشرے کے ساتھ فوری رابطے کے متمنی ہوتے ہیں۔ اپنی قوت حیات اور حد سے زائد مشقت کرنے کی صلاحیت کی بنا پر فیلپ ہماری طرح کی زندگی گزارنے کے لئے نہیں بنا، یہاں دیگر پیشہ ورانہ مواقع ایسے بھی ہیں جن میں وہ کہیں زیادہ بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہے-اور اس طرح یقینا مقالہ لکھنا قطعی طور پر ایک پرانی ٹوپی کی طرح ہے۔ اس نے بات ختم کرتے ہوئے کہا۔

کبھی کبھی وہ کیوں بدنما دیوپیکر لگتی ہے؟ اس سب کے باوجود دراصل آئرین اتنی بیوقوف نہیں ہےجتنا کہ وہ نظر آتی ہے۔ اس کا اپنا ایک وجود ہے وہ اپنا ایک وزن رکھتی ہے، اس نے میری اس تمام فتح کو ملیا میٹ کر دیا ہے جسےمیں نے فیلپ کے ساتھ مل کر حاصل کیا تھا۔۔۔ ایک فتح اُس پر اور ایک فتح اس کے لئے۔ ایک لمبی جنگ اور کبھی کبھی میرے لئے بہت مشکل۔ میں اس مضمون کو تریب نہیں دے سکتی، میرے سر میں درد ہے۔ 'میرے لئے ایک درخواست لکھ دو یہ کہتے ہوئے کہ میں بیمار ہوں۔'

' نہیں'۔ نوجوان لڑکی کا چہرہ بوڑھا اور سخت ہو گیا۔ سبز آنکھیں میرے اوپر گھونپ دی گئیں۔

' کتنی نا مہربان ہو تم۔' آندرے نے اندر آتے ہوئے کہا۔۔۔  صرف یہ ایک۔۔ 'نہیں'

ہالینڈ میں میری مصیبت، ایسٹر کی ان چھٹیوں کے دوران جب ہم نے فیلپ کو پیرس میں چھوڑا۔'میں تمہاری ڈگری کا بھدا پیوند نہیں لگانا چاہتا۔' اور وہ اپنی نفرت بھری آواز میں چلایا۔ ' میرا خیال مت رکھو،مجھے کسی کی پرواہ نہیں ہے۔ اور میں ایک سطر بھی نہیں لکھوں گا۔' اور تب اس کی کامیابیوں اور ہماری سمجھ کے درمیان سمجھوتہ ہو گیا۔ اس چیز کی سمجھ کہ اب آئرین تباہ کر رہی ہے۔ اور میں اس کے سامنے ٹوٹنا نہیں چاہتی - میں نے اپنے آپ کو مجتمع کیا۔ 'تمہارا کیا مطلب ہے پھرتم کیاکرنا چاہتے ہو؟' آئرین جواب دینا چاہتی تھی۔ فیلپ نے اسے ٹوکا۔ 'آئرین کے باپ کے دماغ میں بہت کچھ ہے۔'

'کیا بہت کچھ؟ کیاکاروبار؟'

'ابھی اس کا کچھ پتا نہیں ہے۔'

تمہیں اپنا سفر شروع کرنے سے پہلے یہ سب بات کرنا چاہئے تھی۔ تم نے ہمیں کیوں کچھ نہیں بتایا؟

میں اپنے ذہن کو بدلنا چاہتا تھا۔

میرے اندر اچانک ایک غصے کی لہر دوڑ گئی: یہ قابل یقین نہیں ہے کہ یوں ہی اس کے دماغ میں یونیورسٹی چھوڑنے کی ہل چل مچ گئی ہے ۔اس لمحے اس نے مجھے بتانےسے گریز کیا یقینا آپ دونوں مجھے اس کا زمہ دار ٹھہرا سکتے ہیں۔

فیلپ نے غصے سے کہا۔ اس کی آنکھوں کا سبز رنگ مجھے اس طوفانی رنگ کی طرف لے گیا جس کو میں بہت اچھی طرح جانتی ہوں۔

نہیں۔ آندرے نے کہا۔' ہر شخص کو اپنی پسند کے پیشے کا چناؤ کرنا چاہئے۔'

'اور کیا تم اس کا الزام مجھے دو گی؟'

میں نہیں سمجھتی کہ پیسے کمانے کے لئے اتنی بڑی آرزوہونا چاہئے۔ میں نے کہا  میں حیران ہوئی ہوں۔

میں تمہیں کہہ چکاہوں کہ پیسوں کا معاملہ نہیں ہے۔

پھر کیا ہے، وضاحت سے بتاؤ۔

میں بتا نہیں سکتا۔ مجھے اپنے سسر سے بات کرنا ہو گی۔ میں ان کی پیشکش کو اس وقت تک قبول نہیں کروں گا جب تک کہ اس کی کوئی بڑی قدر نہ ہو۔

میں نے نرمی کےساتھ ، جتنی ہو سکتی تھی، اس کے ساتھ کچھ اور بحث کی ۔ میں اسے تھیسز کی قدر کے متعلق قائل کرنے کی کوشش کرتی رہی اور اسے مضامین اور تحقیق کے متعلق بنائے گئےابتدائی منصوبوں کو یاد دلاتی رہی۔ اس نے بڑہی تابعداری سے جواب دیا لیکن میرے الفاظ نے اس پر کوئی اثر نہیں کیا۔ نہیں ، اب اس کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، بالکل بھی نہیں۔ اُس کی تو اب ظاہری وضع قطع بھی تبدیل ہو گئی ہے۔ ایک اور طرح کا ہیئر کٹ۔ زیادہ اپ ٹو ڈیٹ پہناوہ۔۔۔ سولہویں صدی کے لوکل گورنمنٹ کی انتطامیہ کے فیشن کے کپڑے۔ یہ میں ہوں جس نے اس کی زندگی کا ماڈل بنایا تھا۔ اب میں اسے باہر سے دیکھ رہی ہوں، ایک دور کھڑی تماشائی۔ یہ تمام ماؤں کا مشترکہ المیہ ہے لیکن کسے یہ کہنے میں آسانی محسوس ہوئی ہے کہ عورتوں کا مشترکہ المیہ؟

آندرے نے انہیں لفٹ میں دیکھا اور میں دیوان پر گِر گئی۔ ہر چیز باطل۔۔۔ خوشیوں کے دن، غیر موجودگی کے نیچے اصل موجودگی۔۔۔ یہ محض یقین ہے کہ فیلپ یہاں کچھ گھنٹوں کے لئے موجود تھا۔ میں اس کا انتظار کر رہی تھی کہ وہ واپس آ رہے ہیں کبھی بھی واپس نہ جانے کے لئے، وہ ہمیشہ گھر سے باہر جائے گا۔ ہمارے درمیان وقفہ اس سے کہیں زیادہ حتمی تھا جتنا کہ میں نے سوچا تھا۔ میں اس کے کام میں اس کی مدد نہیں کر سکتی تھی؛ اب ہمارے درمیان کوئی مشترکہ دلچسپیاں نہیں تھیں۔ کیا رقم کا اس کے نزدیک واقعی کوئی مطلب ہے؟ یا وہ صرف آئرین کے لئے راستہ بنا رہا ہے؟ کیا وہ اس کے ساتھ اتنی ہی محبت کرتا ہے؟ کسی کو یہ تو معلوم ہونا چاہئے کہ وہ راتیں اکٹھے گزارتے ہیں؟ اس میں کوئی شک والی بات نہیں ہے کہ وہ اپنے جسم کو مکمل طور پر مطمئن کر سکتی ہے اور ایسے ہی اپنے غرورکو، میں دیکھ سکتی ہوں کہ وہ اپنے فیشن ایبل خارج کے نیچے قابل قدر ہیجان کی صلاحیت رکھتی ہے۔ وہ بندھن جو ایک مرد اور عورت کے بیچ طبعی خوشی وجود میں لاتا ہے میں کچھ ایسا ہے جس کے میلان کی اہمیت کا مجھے صحیح طور اندازہ نہیں ہے۔ جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے اندر تو اب جنسی رویہ موجود نہیں ہے۔ میں اسے ہمیشہ بے توجہی کا سکون کہتی ہوں، میں نے اسے اچانک کسی اور روشنی میں دیکھنا شروع کیا۔۔۔ یہ تو مثلہ کرنا ہے، یہ تو احساس کا ختم ہونا ہے۔ اس کی کمی اس کی ضرورتوں ، دکھوں اور خوشیوں جو کہ اس کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں کے معاملے میں مجھے اندھاکررہی ہیں۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب میں فیلپ کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتی۔ ایک بات یقینی ہے۔۔۔ وہ پیمانہ جس کے مطابق میں اس کی بہت زیادہ کمی محسوس کرتی ہوں۔ اس کے متعلق شائد اس کا شکریہ ادا کرنا چاہئے کہ کم و بیش میں نے اپنی عمر کے مطابق اپنےآپ کو قبول کر لیا ہے۔ وہ اپنی جوانی کےساتھ ساتھ مجھے بھی اپنے ساتھ لے کر چلا ہے۔ وہ مجھے لِی مانز میں چوبیس گھنٹے کی ریس میں لے جاتا تھا، اُپ آرٹ شو میں ، ایک بار ایسا بھی ہوا ہے۔ اس کی چنچل، اختراعی موجودگی نے گھر بھر دیا تھا۔ کیا مجھے اس خاموشی کو بڑھنے دینا چاہئے، یہ چوکسی، اچھے برتاؤ کے دنوں کے بہاؤ، جو آئندہ کبھی نہیں ٹوٹیں گے کسی بھی ان دیکھے وجود سے.

...... ......

یونس خان

....................................

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form