شعور کی عمر

April 12, 2017
شمارہ - ٤،عالمی انتشار ناول

تیسری اور آخری قسط

شعور  کی عمر / سمون دی بوا

ترجمہ - یونس خان

میں نے ان تاریک بادلوں سے اپنے آپ کو باہر نکالا: میں  گلیوں میں گھومتی رہی؛ میں نے آسمان کی طرف دیکھا، خستہ مکانوں کو دیکھا۔ کسی چیز نے بھی میرے اندر حرکت پیدا نہ کی۔ چاند کی چاندنی اور غروب آفتاب، بہار کی برستی بارش اور گرم تارکول کی خوشبو۔ سال کی چمک دھمک اور تبدیلی: میں ایسے لمحات کو جانتی ہوں جو خالص ہیرے کی چمک دھمک رکھتے ہیں۔ لیکن یہ سب  ہمیشہ ہی  بن بلائے  میرے پاس چلے آئے۔ یہ غیر متوقع طورپر بڑھنا شروع ہو جاتے ہیں  ، جنگ بندی کے لئے غیر  جانچ شدہ،  وعدے کے لئے غیرمتوقع، سرگرمیاں جو میرے وجودپر اصرار کرتی ہیں ان سے دور  جاتے ہوئے؛مجھے ان سے محضوظ ہونا چاہئے کسی حد تک غیر قانونی طور پر، لائی سے ؔ سکول سے باہر آتے ہوئے، یا میٹرو کے خارجی راستے پر، یا اپنی بالکنی پر کام کی دو نشستوں کے درمیان یا  آندرے کو ملنے جانے کے لئے شاہراہ پر جلدی سے چلتے ہوئے۔ اب میں پیرس میں گھومی پھری ہوں، فارغ، آمادہ اور سرد مہری کے ساتھ لاتعلق۔ میری چھلکتی ہوئی فرصت نے  دنیا میرے ہاتھ میں تھما دی اور اسی وقت مجھے اسے دیکھنے سے روک دیا۔ بالکل سورج کی طرح ،گرم شام میں پٹی دار  بند پردوں سے چھلکتی ہوئی ، میرے ذہن میں  گرمیوں کی   آنچ شاندار چمک دمک بناتی ہے۔اگر میں اس کی  سخت چکا چوند کا براہ راست سامنا   کروں تو یہ مجھے اندھا بنا دے۔

میں گھر واپس گئی: میں نے آندرے کو فون کیا، یا اس نے مجھے ٹیلی فون کیا۔ اس کی والدہ پہلے  کے مقابلے میں کہیں زیادہ جھگڑالو ہو رہی تھی؛ وہ پرانے سکول  فیلوز کو چلتے ہوئے اور باغبانی کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ اس  کے خوشگوار دوستانہ رویے نے  مجھے اداس کردیا۔ میں نے اپنے آپ سے کہا ہمیں پھر وہیں ملنا چاہئے جہاں  ہم پہلے  ملےتھے،  خاموشی کی  اس دیوار کے ساتھ جو ہمارے درمیان موجود ہے ۔ ٹیلی فون۔۔۔ یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو لوگوں کو قریب لے آئے: یہ ان کے دور ہونے کو واضح کرتا ہے۔ آپ اکٹھے نہیں ہوتے جب تک کہ آپ گفتگو  کرتے ہوئے  ایک دوسرے کو دیکھ نہیں لیتے۔ آپ اکیلے نہیں ہوتے جب آپ کاغذ کے ایک ٹکڑے کے سامنے ہوتے  ہیں جو آپ کو باطن میں بات کرنے کی اجازت دیتا ہے  جب آپ دوسروں سے مخاطب ہوتے ہو۔۔۔ تلاش کرنے اور حقیقت کو پانے کے لئے۔ مجھے اس کو یہ خط لکھنے کی طرح لگا: لیکن کیا؟ میرے دکھ میں پریشانی نے گھلنا شروع کر دیا ہے۔ ان دوستوں کو جنہیں میں نے کتا ب بھیجی تھی انہیں مجھے بتانے کے لئے  لکھنا چاہئے تھا:کسی ایک نے بھی ایسا نہیں کیا  حتی کہ مارٹن  نے بھی۔آندرے کے جانے کے ایک ہفتہ بعد اچانک ہی   اس کے متعلق بے شمار  آرٹیکلز آنا شروع ہو گئے۔ سوموار کو چھپنے والے آرٹیکلز نے مجھے مایوس کیا، بدھ والے نے پریشان اور  جمعرات والے نے مجھے بہت زیادہ دل گرفتہ  ۔ سخت ترین الفاظ کی اکتا دینے والے تکرار، 'ایک دلچسپ بیان کی مکرر' با مروّتی۔ کوئی بھی شخص میرے کام کی تخلیقیت تک نہیں پہنچ پایا۔کیامیں اسے واضح کرنے کے لئے منظم  نہیں کر سکی؟ میں نے مارٹن کو ٹیلی فون کیا۔ تجزیہ احمقانہ تھا،اس نے کہا؛ مجھے اس کی پرواہ نہیں کرنا چاہئے۔ جہاں تک اس کی اپنی رائے کا تعلق ہے   میرے علم میں لانے سے پہلے وہ انتطار کرنا چاہتی تھی  جب تک کہ  وہ اس کتاب کو ختم نہیں کر لیتی : وہ اسے  مکمل کرنے  جا رہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ اسی شام وہ اسے مکمل کر لے گی، اور اگلے دن صبح وہ پیرس  آجائے گی۔  جیسے ہی میں نے اپنے منہ میں کڑواہٹ  محسوس کی میں نے    فون بند کر دیا۔ مارٹن نہیں چاہتی تھی کہ میں ٹیلی فون پر اس کے ساتھ بات کروں: تو اس کا مطلب ہے کہ اس کا تبصرہ بھی ناموافق ہے۔ میں سمجھ نہیں پائی۔ میں عام طور پر اپنے  کام کے بارے میں اپنے آپ کو دھوکے میں نہیں رکھتی۔

ہمیں پارک مونٹیسوریؔ میں ملے ہوئے تین  ہفتے ہو گئے تھے۔۔۔ تین ہفتے جنہیں  سب سے زیادہ ناگوار ترین ہفتوں میں گنا جا سکتا تھا ، جنہیں میں جانتی تھی۔ عام طور پر مارٹن کو  دوبارہ ملنے کا خیال  ہی  مجھے خوش کر دیتا تھا۔لیکن میں  بہت زیادہ فکر مند ی محسوس کر رہی تھی اس کے مقابلے میں   جب میں سول سروس کے  امتحان  کے نتیجے کا انتظار کر رہی تھی ۔ پہلی فوری رسمی  خوش خلقی کے بعد میں نے سیدھی چھلانگ لگا دی۔ "بہت اچھی؟ تمہارا کیا خیال ہے اس بارے میں ؟"

اس نے متوازن جملوں میں جواب دیا۔۔۔ میں اس چیز کا اندازہ لگا سکتی تھی  کہ انہیں بڑی احتیاط  کے ساتھ تیار کیا گیا تھا۔ کتاب ایک شاندار تالیف تھی؛  اس نے  بہت سارے ابہاموں کو واضح کیا تھا؛ یہ قابل قدر تھا زور دینے میں  کہ میرے کام میں کیا نیا ہے۔

" کیا بزاتہ یہ خود کچھ نیا کہتی ہے؟"

" یہ اس کا مدعا نہیں تھا۔"

" یہ میر اتھا۔"

وہ الجھن کا شکار ہو گئی؟ میں کہتی چلی گئی؛ میں بار بار غصے کا اظہار کرتی رہی۔ جیسے ہی اس نے یہ  دیکھا میری پہلی کتابوں میں جو پہلے سے موجود ہے، جس طریقے کو میں نے اپنایا تھا اسے ہی اب آگے بڑھا رہی تھی؛"دراصل بہت ساری جگہوں پر انہیں میں نے بڑ ی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔"نہیں، میں کچھ بھی نیا پیدا نہیں کر رہی ہوں۔ جیسا کہ پلے زیئرؔ نے کہا ہے کتاب شائد اچھی بنیادوں پر ایک خلاصہ اور تکرار مکرر ہے ۔

" مجھے بالکل مختلف کچھ کرنا مطلوب تھا۔"

جیسا کہ  اکثر ہوتا ہے  جیسے ہی کسی کو کوئی بُری خبر  پہنچتی ہے  ، ویسے ہی بیک وقت یہ میرے لئے غیر یقینی بھی تھا اور  حیران کن بھی۔ فیصلے پر اتفاق رائے غالب تھا۔ اس کے باوجود میں  اپنے آپ سے کہہ رہی تھی کہ میں مکمل طور پر غلط ہو ہی نہیں سکتی سب کچھ ایسا ہی تھا۔

ہم پیرس کے باہر  ایک باغ میں کھانا کھا رہے تھے۔ میں نے اپنی الجھن اور شرمندگی کو چھپانے کی بہت زیادہ کوشش کی۔ آخر میں میں نے کہا"میں حیران ہوں کہ کیا کسی شخص کی مذمت کی جانی چاہئے ایک دفعہ دہرانے پر  جب وہ ساٹھ سال سے تجاوز کر جائے۔"

"کیسا گمان ہے!"

"یہاں بے شمار پینٹر ہیں، میوزک کمپوزر ہیں، حتی کہ فلسفی ہیں جنہوں نے اپنا بہترین کام بڑھاپے میں کیا؛ کیا اپ مجھے کسی ایک لکھاری کے متعلق بتا سکتے ہیں جس نے بڑھاپے میں اپنا بہترین کام کیا ہو؟"

"وکٹر ہیوگو۔"

" ٹھیک ہے۔ لیکن اس کے علاوہ کون ہے؟ مونٹسکیو ؔ  انسٹھ سال  کی عمر میں عملی طور پر اپنی کتاب  قوانین کی روح کے بعد لکھنا  ختم کر چکا تھا، یہ کتاب اس کے ذہن میں سالہا سال رہی تھی۔"

"یہاں اور لوگوں کو بھی ہونا چاہئے۔"

" لیکن ان میں کوئی ایک بھی ایسا شخص نہیں ہے  کہ جس کے نام سے ذہن میں چشمے پھوٹنا شروع ہو جائیں۔"

"آؤ! تمہیں اپنا دل چھوٹا نہیں کرنا چاہئے۔" مارٹن نے لعن طعن کرتے ہوئے کہا۔"کام کے ہر شخص کے  اپنے اونچ اور  نیچ ہوتے ہیں۔اس دفعہ  تم پوری طرح  کامیاب نہیں ہوپائیں جو تم کرنا چاہتی تھی: تمہیں ایک اور کوشش کرنا چاہئے۔"

"عام طور پر میری ناکامیوں  نے میری  حوصلہ افزائی کی۔ اس مرتبہ یہ مختلف تھا۔"

" میں نہیں جانتی کہ کیسے۔"

"کیا اس کی وجہ میری عمر ہے۔آندرے کا کہنا ہے کہ سائنسدان  پچاس سال سے بہت پہلے ختم ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح لکھنے کے معاملے میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ  یہاں بھی ایک ایسی سٹیج آ جاتی ہے کہ یہاں وہ صرف وقت  گزار رہے ہوتے ہیں۔"

" لکھنے کے معاملے میں میرا یقین ہے کہ ایسا نہیں ہے۔"مارٹن نے کہا۔

" اور سائنس کے بارے میں کیا خیال ہے؟"

" یہاں میں اہل نہیں ہوں کہ کوئی  رائے پیش کر سکوں۔"

میں آندرے کا چہرہ دوبارہ دیکھ سکتی تھی۔ کیا وہ بھی اسی طرح کی مایوسی کو محسوس کر رہا تھا جیسا کہ میں محسوس کر رہی تھی؟ ایک دفعہ اور ہمیشہ کے لئے؟ یا بار بار؟ سائنسدان تمہارے دوست ہیں۔ ان کا آندرے کے متعلق کیا خیال ہے؟"

" کہ وہ ایک عظیم سائنس دان ہے۔"

" لیکن ان کی کیا رائے ہے کہ اس وقت   وہ کیا کر رہا ہے؟"

"' یہ کہ اس کے پاس ایک عمدہ ٹیم ہے اور یہ کہ ان کا کام بہت اہم ہے۔"

" وہ کہتے ہیں تمام تازہ خیالات ان لوگوں  کی طرف سے آتے ہیں جو اس کے ساتھ کام کرتے ہیں۔"

"یہ اچھا ہو سکتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سائنسدان اپنی  دریافتیں زندگی کے   صرف آغاز میں  ہی کرتے ہیں۔ تقریبا سائنس کے تمام  نوبیل انعام  جوان لوگوں کو ملے ہیں۔"

میں نے ٹھنڈی سانس لی۔" تو ، پھرآندرے ٹھیک کہتا ہے۔ اب وہ کوئی چیز دریافت نہیں کر سکتا۔"

" کسی بھی شخص کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ  مستقبل کے متعلق پہلے سے ہی کوئی رائے قائم  کر لے۔" مارٹن نے غیر متوقع طور پر   ٹُون کی ایک  واضح تبدیلی کے ساتھ کہا ۔" آخر کار،  کوئی چیز بھی وجود نہیں رکھتی ما سوا چند مخصوص مثالوں کے۔عمومیت کسی چیز کو ثابت نہیں کرتی۔"

" مجھے چاہئے کہ میں اس پر یقین رکھوں۔" میں نے کہا اور پھر دوسری باتیں کرنے میں مشغول ہو گئی۔

جیسے ہی وہ  جانے لگی ۔ مارٹن نے ہچکچاتے ہوئے کہا " میں تمہاری کتاب دوبارہ پڑھوں گی۔ میں اسے بہت جلد پڑھ لوں گی۔ "

" تم نے اسے پڑھا، اچھی بات ہے، تم اسے ختم نہیں کر سکو گی۔ لیکن جیسا کہ تم نے کہا ، یہ بہت اہم نہیں ہے۔"

" کسی بھی طور اہم نہیں ہے۔مجھے پورا یقین ہے کہ  تم   ابھی بھی بہت ساری بہت اچھی کتابیں لکھ  سکتی ہو۔" مجھے بھی  پورایقین ہے کہ ایسا معاملہ نہیں ہے میں اسے رد نہیں کروں گی۔" تم ابھی بہت جوان ہو!" اس نے اضافہ کیا۔

لوگ مجھے اکثر ایسا کہتے ہیں،اور میں اسے حد سے زیادہ تعریف سمجھتی ہوں۔ اچانک ہی اس رائے نے مجھے غصے میں مبتلا کر دیا۔ یہ ایک مبہم تعریف ہے  جو  کسی کے ناموافق مستقبل کی پشین گوئی کرتا ہے۔ جوان رہنے کا مطلب  ہے چاق و چوبند  توانائی برقرار رکھنا ،زندہ دلی اور  ذہنی  ہوشیاری۔ تو بڑھاپے کی مشیّت کامطلب ہے  روزانہ کا پھیکا چکر، اداسی اور پیرانہ سالی۔ میں جوان نہیں ہوں: میں نے اپنے آپ کو بہت اچھی طرح رکھا ہے، جو کہ ایک مختلف چیز ہے۔  بہت زیادہ محفوظ۔ شائد ختم ہو چکی ہوں اور تکمیل پا چکی ہوں۔ میں نے کچھ نیند کی گولیا ں لیں اور بستر پر چلی گئی۔

جب میں جاگی تو میں بہت زیادہ متجسس تھی۔۔۔ میں بہت زیادہ پریشانی کی بجائے  بہت زیادہ  بے چین تھی۔ میں نے ٹیلی فون کالوں کو سننا بند کیا اور  اپنے روسو ؔ اور مونٹسکیوؔ کو پڑھنے کی تیاری شروع کر دی۔ میں نے دن کے  اختتام تک دس گھنٹے پڑھا، بمشکل  ایک ہیم سلائس اور دو انڈنے کھانے کے لئے  وقفہ کیا۔ یہ ایک عجیب تجربہ تھا اس نے میرے قلم سے پیدا ہونے والے صفحات  کو زندہ کر دیا  اور  میں بھول گئی۔ وقتاً فوقتاً وہ  میرے اندردلچسپی  لیتے رہے۔۔۔انہوں نے مجھے حیران کیا اتنا زیادہ کہ جیسے کسی اور نے انہیں لکھاہو ۔ ابھی تو  میں زخیرہ الفاظ کو پہچان رہی تھی، فقروں کی ساخت،  سطر کو کہاں  توڑنا ہے، مبہم تراکیب،آداب۔ یہ صفحات  مسلسل میرے وجود کے ساتھ سیراب ہوتے رہے ۔ ان کے ساتھ بیمار کرنے والی ایک بے تکلفی تھی۔ایک ایسے  بند کمرے کی بو جس میں کوئی شخص  بہت دیر تک بند رہا ہو۔ میں نے اپنے آپ کو مجبور کرنا شروع کر دیا کہ میں چہل قدمی کے لئے باہر جاؤں اور قریبی ریسٹورنٹ میں کھانا کھاؤں: واپس گھر، میں نے بہت تیز کافی کو اپنے گلےسے نیچے اتارا اور میں اپنی اس موجودہ کتاب کو کھولا۔ یہ سب کچھ میرے ذہن میں تھا اور وقت سے پہلے جانتی تھی  کہ موازنے کے نتائج کیا ہوں گے۔ ہر وہ چیز جو میں کہنا چاہتی تھی  اپنی دو مونوگراف تحریروں ،یعنی خاص  سپیشیلائزڈ مضامین، میں  مَیں کہہ چکی تھی۔ وہ خیالات جنہوں نے مونوگراف میں دلچسپی پیدا کی تھی ،ایک دوسری شکل میں،  میں دہرانے کے علاوہ کچھ نہیں کر رہی تھی ۔ میں اپنے آپ کو دھوکہ دے رہی تھی جب میں یہ  سوچ رہی تھی کہ میں کچھ نیا  لکھنے جا رہی ہوں۔ لیکن سب سے  بُرا  کیا تھا، جب میرے طریقوں کو مخصوص تناضر سے علیحدہ کیا گیا جن پر میں نے  انہیں اپلائی کیا تھا ان کی اپنی شدت اور  لچک ختم ہو گئی۔ میں نے کچھ نیا پیدا نہیں کیا تھا: مطلق طور پر کچھ بھی نہیں۔ اور میں جانتی تھی کہ دوسری جلد اسی جمود کو طول دینا ہے۔ وہ یہاں ہے، پھر: میں  نےتین سال ایک فضول کتاب لکھنے پر ضائع کر دیئے۔ یہ صرف ایک ناکامی نہیں ہے، دوسروں کی طرح ، جس میں شرمندگی  اور غلطیوں کے باوجود میں نے چند نئے نظریات کو  کھولا۔ بے فائدہ۔ صرف  آگ لگانے  کے قابل۔

مستقبل کے متعلق اپنے ذہن کو  پہلے سے ہی مت بناؤ۔ آرام سے کہنے کو بہت کچھ ہے۔میں مستقبل کو دیکھ سکتی ہوں۔ وہ میرے سامنے کھلا پڑا ہے۔  ہموار ،عریاں ، نظروں سے دور جاتا ہوا۔ کبھی کوئی منصوبہ نہیں، کبھی کوئی خواہش نہیں۔ اب مجھے لکھنا نہیں چاہئے۔ تب پھر مجھے کیا کرنا چاہئے؟ میرے اندر کون سا خالی پن ہے ۔۔۔ میرے ارد گرد۔ بے فائدہ۔ یونانی اپنے بوڑھے لوگوں کو  بھڑ کہتے تھے۔" بے فائدہ بھڑ۔" ہیکوباؔ اپنے آپ کو ٹروجن وومن کہتی تھی۔ ایسا ہی میرا معاملہ تھا۔ میں بکھر گئی تھی۔ میں حیران ہوں  کہ لوگ اپنے آپ کو زندہ رکھنے  کے لئے کس طرح  اپنی تنطیم کرتے ہیں  جب  کہ اپنے اندر  کسی چیز کی بھی امید نہ ہو ۔

بغیر کسی فخر کے میں  طے شدہ تاریخ سے پہلے  جانا نہیں چاہوں گی اور میں آندرے کو ٹیلی فون پر کچھ بھی نہیں کہوں گی۔ لیکن کتنے لمبے ہوں گے یہ تین دن جو  مسلسل آئیں  گے مجھے ایسا لگا! ان کے روشن رنگ کے آستینوں میں جڑے ہوئے بٹن، سختی سے پیک کی ہوئی شیلفوں پر کتابیں: نہ ہی موسیقی اور نہ ہی الفاظ، میرے کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں۔ پہلے میں ان کو دیکھا کرتی تھی:  ترغیب کے حوالے سے یا پھر سکون کےحوالے سے۔ اب وہ میرے لئے توجہ کو منتشر کرنے والی چیزوں کے علاوہ کچھ نہیں تھا جن کا غیر متعلق ہونا  مجھے بیمار کرتا تھا۔ ایک نمائش کو دیکھو، لُوور ؔ کو و اپس جاؤ۔ بہت عرصے تک مجھے ایسا کرنے کی فرصت تھی  اِن دِنوں جب یہ میرے پاس نہیں تھیں، اب تو یہ اس سے بھی بُرا ہو گیا ہے۔ اب اگر صرف دس دن پہلے میں کلیساؤں اور قلعوں  کو اس طرح دیکھ سکتی تھی کہ یہ سب  پتھروں کا ڈھیر  ہے، اب یہ اس سے  بھی بُرا تھا۔ کینویس سے کوئی بھی چیز میرے او پر اثر انداز نہیں ہو رہی تھی۔ میرے لئے تصویریں محض کپڑا تھا جس پر ٹیوبوں سے کچھ رنگ نچوڑے گئے تھے  اور جنہیں برش سے پھیلا دیا گیا تھا۔ سیر نے مجھے بیزار کر دیا تھا: یہ میں پہلے سے ہی دریافت کر چکی تھی۔ میرے تمام دوست چھٹیوں  کی وجہ سے  دور تھے  اور کسی بھی صورت نہ تو مجھے ان کے اخلاص کی ضرورت تھی اور نہ ہی ان کے جھوٹے پن کی۔فیلپ۔۔۔ میں اس کی کیسے مذمت کروں، اور وہ بھی تکلیف کے ساتھ۔میں نے اس کے تصور کو ایک طرف دھیکیل دیا، اس نے میری انکھوں کو آنسوؤں سے بھر دیا۔

اس لئے میں گھر پر رہی، سوچ میں مبتلا۔ یہ بہت ڈراؤنا ہے۔۔۔ میں یہ کہنا پسند کر رہی تھی کہ یہ غیر منصفانہ ہے۔۔۔  کہ اسے ایسا ہونا چاہئے کہ یہ   دونوں طرح سے چل سکے بہت تیز بھی اور بہت آہستہ بھی ۔ میں بُرگؔ کے مقام پر لائی سے ؔ سکول کے دروازوں سے گزر رہی تھی۔میں اتنی ہی جوان تھی جتنا کہ میرے شاگرد، پرانے بھورے بالوں والے استادوں کو ترحم کے ساتھ گھورتے ہوئے۔ ایک کوندا ہوا ،اور میں  بزات خود ایک بوڑھی استاد تھی۔ اور پھر لائی سےؔکے گیٹ میرے اوپر بند ہو گئے۔

سالہا سال تک میرے شاگرد  مجھے دھوکے میں مبتلا کرتے رہے کہ میری عمر کبھی تبدیل نہیں ہو گی: سکول کے ہر سال کے آغاز پر میں انہیں دوبارہ یہاں دیکھتی، اتنا جوان کہ ہمیشہ رہیں؛ میں نے اپنے آپ کو نہ تبدیل ہونے والی حالت میں بدل لیا  ۔ وقت کے عظیم سمندر میں مَیں ایک چٹان کی طرح تھی جس سے  لہریں  ٹکرا رہی تھی  جو اُسے  مسلسل تروتازہ کر رہیں تھیں۔۔۔ ایک چٹان جو نہ تو حرکت کرتی ہے اور نہ ہی چھوٹے پرزوں میں تبدیل ہوتی ہے۔ اور اچانک  لہریں مجھے دور بہا کر لے گئیں اور وہ  مجھے لے کر آگے بڑھتی جا رہی تھیں جہاں تک کہ میں زمین پر گر گئی مرنے کے لئے۔ میری زندگی تیزی کے ساتھ،المناک طریقے سے آگے  بڑھ رہی تھی  اپنے اختتام کی طرف۔اوراس کے ساتھ ہی  عین اس وقت بڑی آہستگی کے ساتھ زندگی  ٹپک رہی تھی ، اب  توبہت زیادہ آہستگی کے ساتھ ، ہر ہر گھنٹہ، ہر ہر منٹ۔ ہر شخص  کوچاہئے کہ وہ انتظار کرے جب تک کہ چینی پگھل نہ جائے، یادیں ختم ہو جائیں، زخموں کے نشان ختم ہو جائیں، سورج غروب ہو جائے، ناخوشی اٹھ جائے  اور دور چلی جائے۔ یہ  ان دو آہنگوں کے درمیان عجیب  انحراف تھا۔ میرے دن سر پٹ دوڑتے ہوئے  میرے سے دور اُڑ رہے تھے؛ اس کے باوجود ہر ایک میں سے گھسٹتے ہوئے  دن مجھے  درماندہ بنا رہے تھے ، بالکل  درماندہ۔

میرے پاس صرف ایک امید بچی تھی، آندرے۔ کیا وہ میرے اندرکے اس خالی پن کو بھر سکتا ہے؟ ہماری  تعلق داری کہاں کھڑی  ہے؟ اور پہلی جگہ پر ہم ایک دوسرے کے لئے کیا تھے، اس ساری زندگی میں جسے ہم  اکٹھے زندگی گزارنا کہتے ہیں؟ میں  چاہتی تھی کہ  میں اس کے متعلق  بغیر کسی دھوکہ دہی کے اپنا ذہن  بناؤں ۔ اس طرح کرنے کے لئے  مجھے اپنی تمام زندگی  کی کہانی کو دہرانا پڑے گا۔ میں نے اپنے آپ سے وعدہ کیا  کہ میں ایسا کروں گی۔ میں نے کوشش کی۔ آرام کرسی کی گہرائی میں ، چھت کو گھورتے ہوئے میں نے اپنی ابتدائی ملاقاتوں  کی دہرائی کی ، اپنی شادی کی ، فیلپ کی پیدائش کی ۔میں نےا یسا کچھ نہیں سیکھا جو میں پہلے سے نہیں جانتی تھی۔ کیسی مفلسی ہے! " ماضی کے  وقت کا صحرا ۔"  فلسفی چاٹے بری آنڈؔ نے کہا۔ وہ ٹھیک کہہ رہا تھا ، افسوس! میرے پاس تو عام سی قسم کا خیال تھا  کہ میری زندگی جو میرے پیچھے ہے لینڈ سکیپ کی طرح ہے جس میں ،جیسے ہی میں خوش ہوں، بتدریج اس کے خم دار راستوں اور اس کی چھپی ہوئی وادیوں  کو  تلاس کرتے ہوئے، گھوم پھر سکتی ہوں۔ نہیں۔ میں تاریخوں  اور ناموں کو دہرا سکتی ہوں، ایک سکول بوائے کی طرح  جواحتیاط سے یاد کئے ہوئے ایسے مضمون کے اسباق کو  اعتماد سے  دہرا  سکتا ہو جس کے متعلق وہ کچھ  بھی نہ جانتا ہو۔ اور  لمبے وقفوں کے بعد یہاں پھٹی ہوئی ، دھندلی تصویریں ابھریں، تجریدی آرٹ کی طرح  جیسا کہ میری  فرانس کی پرانی   تاریخ  کی کتاب میں تھیں: وہ بلا سوچے سمجھے ، ایک سفید پس منظر کے مقابل آ کھڑی ہوئیں ۔ ماضی کی یاد دہانی کے اس تمام وقفے  کے دوران آندرے  کے چہرے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔میں رک گئی۔ میں نے تو صرف یہی کرنا تھا کہ میں منعکس کروں۔کیا وہ مجھ سے اتنا ہی پیار کرتا ہے جتنا کہ میں اس سے کرتی ہوں؟ پہلےمیر اخیال تھا کہ وہ کرتا ہے، یا شائد ایسا کوئی سوال ہمارے لئے کھڑا ہی نہیں ہوتا، کیونکہ اکٹھے ہم خوش تھے۔ جب کہ اس کے کام نے اسے تادیر خوش نہیں رکھا، کیا وہ اس نتیجے پر پہنچ گیا تھا کہ ہمارا پیار اس کے لئے ناکافی  تھا؟ کیا اس نے اسے مایوس کیا؟ میں نے خیال کیا کہ وہ میری طرف  ایک حسابی مستقل کی طرح دیکھتا ہے جس کی گمشدگی  اسے بہت حد تک  ششدر کرتی ہے  کسی بھی صورت اس کے مقدر کو تبدیل کئے بغیر، کیونکہ معاملے کا دل  توکہیں اور رہتا ہے۔ اس معاملے میں میری سمجھ بوجھ اس کی بہت زیادہ مدد نہیں کر سکتی ہے۔ کیا  کوئی اور عورت اسے میرے سے زیادہ دینے  میں کامیاب ہو پاتی؟ کس نے ہمارے درمیان رکاوٹیں کھڑی کی ہیں؟ کیا اس نے؟ کیا میں نے؟ ہم دونوں نے؟ کیا یہاں کوئی ایسے امکانات ہیں کہ ان کو  دور کیا جا سکے؟ میں اپنے آپ سے سوال کر کر کے تھک گئی ہوں۔ الفاظ ٹکڑوں کی صورت میرے ذہن میں آئے: محبت،  اتفاق رائے، اختلاف رائے ۔۔۔ یہ شور ہے، معنی سے مبرا۔ کیا انہوں نے بھی کبھی کچھ رکھا؟ جب میں نے ریل گاڑی میں قدم رکھا، سردی کی سخت لہر، شام سے پہلے، مجھے قطعاً کوئی خبر نہیں  تھی  کہ میں کیا تلاش کر رہی ہوں۔

پلیٹ فارم پر وہ میر اانتظار کر رہا تھا۔ آخر کار وہ تمام ذہنی تصویریں اور الفاظ، وہ غیر متشکل آواز، اچانک طبعی موجودگی   کا ظہور۔  دھوپ سے جلا ہوا، بہت زیادہ  کمزور، اس کے کٹے ہوئے بال،  کاٹن کا پاجامہ اور مختصر بازوؤں کی قمیض پہنے ہوئے، شائد یہ اس آندرے سے مختلف تھا جسے میں نے خدا حافظ کہا تھا، لیکن یہ وہی تھا۔میری خوشی جھوٹی نہیں ہونا چاہئے: چند ہی لمحوں میں وہ  لاشے میں معدوم نہیں ہو سکتا۔ یا شائد یہ ہو سکتا ہے؟ اس نے  انتہائی رحمدلی کے انداز میں مجھے گاڑی میں بٹھایا، جیسے ہی ہم نے  وِلا نِیوَ ؔ  کی طرف سفر شروع کیا  اس کی مسکراہٹ محبت سے بھری ہوئی تھی۔ ہم بہت حد تک  خوشگوار طریقے سے ایک دوسرے کے ساتھ  باتیں کرنے کی عادت میں مبتلا تھے یہاں نہ تو افعال  اور نہ ہی مسکراہٹیں کوئی  بہت زیادہ معنی  رکھتی تھیں۔ کیا وہ مجھےدوبارہ دیکھ کر واقعی خوش ہوا تھا؟

مانتےؔ نے اپنا خشک ہاتھ میرے کندے پر رکھا اور  جلدی سے میرے ماتھے پر بوسہ دیا۔" یہ تم ہو، میری پیاری بچی۔" جب وہ مر جائے گی تو کوئی شخص بھی مجھے " پیاری بچی" کہنے کے لئے موجود نہیں ہو گا۔ مجھے یہ سمجھنے میں بہت مشکل پیش آئی  کہ اب میں  ان سے عمر میں  پندرہ سال بڑی ہو گئی ہوں جب میں  ان سے  پہلی بار ملی تھی  ۔ پنتالیس سال کی عمر میں مجھے وہ جتنی بوڑھی  لگتیں تھیں وہ اتنی ہی بوڑھی اب لگتی تھیں۔

میں آندرے کے ساتھ باغ میں بیٹھ گئی: سورج کی مسلسل ضربوں نے گلاب کے پھولوں  کو   ایسی خوش بُو دے دی تھی جو دل کو ایک نوحے کے طور پر  چھوتی تھی ۔میں نے اس سے کہا " تم جوان لگ رہے ہو۔"

" دیہات میں ایسی  ہی زندگی ہوتی ہے۔اور تم، کیسی ہو تم؟"

" جسمانی طور پر بالکل ٹھیک۔کیا تم نے میرے تبصرے دیکھے ہیں؟"

" ان میں سے کچھ۔"

" تم نے مجھے کیوں تنبیہ  نہیں کی کہ میری کتاب کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے؟"

" تم نے بڑھا کر بات کی ہے۔"

" یہ دوسری کتابوں سے مختلف نہیں ہے جیسا کہ تم نے تصور کیا۔ لیکن اس میں بہت ساری دلچسپ چیزیں بند ہیں۔"

"تمہارے لئے یہ بہت زیادہ رغبت نہیں رکھتی۔"

" اوہ ، یہاں تک میرا تعلق ہے۔۔۔حقیقی طور پر میں کسی بھی چیز کو تادیر تھام نہیں سکتا۔میں دنیا کا بُرا ترین قاری ہوں۔"

"یہاں تک کہ مارٹن بھی اسے غیر تسلی بخش سمجھتی ہے۔اب میں نے اسے اپنے ذہن میں تبدیل کر لیا ہے ، اسی طرح اپنے آپ کو بھی۔"

"تم کوئی  بہت مشکل  چیز کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔تم تھوڑا سا لڑکھڑائی ہو۔ لیکن میں فرض کر رہا ہوں  کہ تم اپنے راستے کو بڑے واضح طور پر دیکھ رہی ہو: اب تم بالکل صحیح طریقے سے اسے دوسری جلد میں ڈال سکتی ہو۔"

" اوہ، افسوس، کتاب کے متعلق بہت زیادہ تصور یہ  ہے کہ اس میں رخنے ہیں۔ دوسری جلد بھی اتنی ہی بُری ہو گی جتنی کہ پہلی۔میں اسے چھوڑ رہی ہوں۔"

" یہ بہت جلد بازی میں کیا گیا فیصلہ ہے۔ مجھے  تم اپنا مسودہ پڑھنے دو۔"

" میں اسے اپنے ساتھ نہیں لائی ۔میں جانتی ہوں کہ وہ  بُرا ہے۔میر ایقین کرو۔"

اس نے مجھے الجھی ہوئی نظروں سے دیکھا۔ وہ جانتا ہے کہ میں آسانی سے دل شکستہ ہونے والی نہیں۔" اس کی بجائے تم کیا کرنے والی ہو؟"

" کچھ بھی نہیں۔میں نے سوچا ہے کہ میں اپنا کام  دو سال  کے لئے چھوڑ دوں۔ ایک دم سے یہاں خالی پن ہے۔"

اس نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ پر رکھا۔" میں واضح طور پر دیکھ سکتا ہوں کہ تم پریشان ہو۔ اس لئے ایک دن کوئی نہ کوئی نیا خیال تمہارے پاس آ جائے گا۔"

" تم دیکھ رہے ہو کہ رجائیت پسند ہونا کتنا آسان ہے جب کسی نہ کسی کا  اس کے ساتھ کوئی تعلق ہوتو۔"

وہ کہتاگیا: یہ سب کچھ وہی تھا جس کی اسے ضرورت تھی۔ اس نے لکھاریوں کی بات کی  اس پر بحث کرنا دلچسپی کا باعث ہو گا۔ وہ کون سا نقطہ ہو گا  جہاں سے میرے روسوؔ اور میرے مونٹسکیو ؔ  کے متعلق نئے سرے سے  بات کا آغاز ہو گا۔ میں اس پر ایک نئے زوائیے سے بات کرنا چاہتی تھی: اور یہی  کچھ تھا جسے میں نے ابھی تلاش نہیں کیا تھا۔ میں نے  ان چیزوں کو یاد کیا جنہیں آندرے نے بتایا تھا۔ میں وہ مذاحمتیں دریافت کر رہی تھی  جن کا اس نے زکر کیا تھا جو میرے  وجود کے اندر تھیں۔ جس طریقے سے میں ایک سوال تک پہنچی، میری ذہنی عادت، چیزوں کو دیکھنے کا میرا طریقہ، کن چیزوں  کو میں آسان لیتی ہوں۔۔۔ یہ تمام میرا وجود تھا اور یہ مجھے محسوس نہیں ہوتا تھا کہ میں انہیں تبدیل کر سکتی ہوں۔ میرا ادبی کام  پورا ہو گیا تھا، ختم ہو گیا تھا۔ یہ میری خود نمائی کو زخمی نہیں کرتا تھا۔ اگر آج رات میں مر جاتی ہوں  میں سمجھتی ہوں کہ میں نے اپنی  زندگی کو کامیاب بنایا ہے۔ بلکہ  میں تو  ڈری ہوئی تھی بنجر زمین سے  جس میں سے میں اپنے وجود کو گھسیٹ  رہی تھی  جب  تک کہ موت میرے پاس نہیں آ جاتی۔رات کا کھانا کھاتے ہوئےمجھے مشکل پیش آئی کہ میں  چیزوں کے اوپر کیسے  ایک اچھا چہرہ لگا دوں۔ خوش قسمتی سے مانتےؔ اور آندرے سوویٹ روس کی ہمسایہ ریاستوں اور چین کے ہمسایہ ریاستوں کے خراب ہوتے ہوئے تعلقات پر  جزباتی دلیلیں  دے رہے  تھے۔

میں  سونے کے لئے بستر جلدی جا لیٹی۔ میرا کمرہ لوینڈر، جنگلی پودینے  اور صنوبر کی سوئیوں کی اچھی خوشبو سے بھرا ہوا تھا: مجھے  ایسالگ رہا تھا کہ میں کل ہی یہاں سے گئی تھی ۔ پہلے ہی ایک سال گزر گیا تھا! ہر سال پچھلے کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے گزر رہا تھا۔اس سے پہلے مجھے گہری نیند سونے  کے لئے کبھی اتنا زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا  ۔ اس کے باجود کہ میں جانتی ہوں کہ  کتنی آہستگی کے ساتھ گھنٹوں کو گھسیٹا جا سکتا ہے۔ اس کے باجود میں موت کے خیال کےساتھ ایک تسلی دینے کے لئے زندگی  سے بہت زیادہ محبت کرتی ہوں ۔ ان تمام باتوں کے باوجود میں سو گئی، ایک پُر سکون نیند ،کھیتوں کی طرف سے مکمل خاموشی رہی۔

" کیا تم باہر جانا پسند کرو گی؟" اندرے نے اگلی صبح پوچھا۔

" یقینا میں جانا چاہوں گی۔"

" میں تمہیں ایک خوب صورت جگہ دکھانا پسند کروں گا جسے میں نے دوبارہ دریافت کیا ہے۔ باغ کے کناروں پر۔ نہانے کی چیزیں لے آؤ۔"

" میں تو کچھ بھی نہیں لائی۔"

" تمہیں مانتے ؔسے کچھ نہ کچھ مل جائے گا۔ تمہیں  اس کی رغبت ہوگی،  میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ ایسا ہی ہو گا۔

ہم جنگلی کھیتوں کےگرد الود تنگ  راستوں پر  گاڑی چلاتے رہے۔  آندرے نے لمبے وقفوں کے لئے گفتگوکو  موقوف رکھا۔ وہ سالہا سال سے اتنے دن یہاں نہیں رہا تھا۔ اس کے پاس وقت تھا کہ وہ نئے سرے سے گاؤں کی چھان بین کرے اور اپنے بچپن کےدوستوں کو ملے:وہ پیرس کے مقابلے میں  یہاں بہت زیادہ خوش اور جوان نظر آ رہا تھا۔ یہ بالکل واضح تھا کہ اس نے یہاں میری کمی کو محسوس نہیں کیا۔  کتنا عرصہ وہ  میرے بغیر کچھ کرتے ہوئے رہ سکتا ہے؟

اس نے کار کو روک دیا۔ کیا تم اس زمین کے سبز تختے کو دیکھ رہی ہو؟ یہ دریا گارڈؔ ہے: یہ ایک طرح سے اس کاطاس ہے، نہانے کے لئے بہترین، یہ جگہ بزاتہ  سرور انگیز ہے۔

"  ہاں آؤ، کیا یہ زیادہ  گہرائی میں نہیں ہے؟ ہم دوبارہ اس پر چڑھیں گے۔"

" یہ بہت زیادہ مشکل نہیں ہے، میں بہت دفعہ یہ کر چکا ہوں۔"

وہ ایک دم سے ڈھلان پر نیچے کی طرف چل پڑا، یقنیہ قدموں کےساتھ اور بہت تیز۔ میں اس کے کافی  پیچھے رہتے ہوئے  چلتی گئی، ایک حد میں اور بہت تھوڑا لڑکھڑاتے ہوئے، ایک دفعہ گرنا یا ہڈی کا ٹوٹنا میرے لئے   اس عمر میں کوئی بہت  مزے کی چیز نہیں ہے۔ میں کافی تیزی کے ساتھ اوپر چڑھ  سکتی ہوں، لیکن میں نیچے اترنے میں زیادہ اچھی نہیں ہوں۔

" کیا یہ خوب  صورت نہیں ہے؟"

" بہت خوب صورت۔"

میں ایک چٹان کے سائے میں بیٹھ گئی۔ یہاں تک نہانے کا تعلق ہے تو۔۔۔ نہیں۔ میں بہت بُرے طریقے سے تیرتی ہوں۔ اور میں بالکل بھی راضی نہیں ہوں کہ میں اپنا آپ  نہانے کے کپڑوں میں دکھاؤں، حتی کہ آندرے کے سامنے۔ ایک بوڑھے شخص کا جسم، میں نے اپنے آپ سے کہا؛ پانی میں اسے چھینٹے اڑاتے ہوئے دیکھا، ایک بوڑھی عورت کے مقابلے میں کم بدنما۔ سبز پانی، نیلا آسمان، جنوبی پہاڑیوں کی خوشبو:میں اپنے آپ کو پیرس کے مقابلے میں یہاں زیادہ بہتر محسوس کر رہی تھی۔ اگر اس نے دباؤ ڈالا تو پھر مجھے جلدی سے جانا ہو گا:  یہی وہ چیز ہے جو وہ نہیں چاہتا۔

وہ میرے پہلو میں ایک پتھر پر بیٹھ گیا۔" تمہیں پانی میں آنا چاہئے۔ یہ بہت حیران کن ہے!"

" میں یہاں بہت خوش ہوں۔"

تمہارا والدہ کے متعلق  کیا خیال ہے؟ وہ بہت حیران ہو رہی ہیں؟ کیا تم نے نہیں دیکھا؟"

" حیران کن۔  وہ سارا دن کیا کرتی ہیں؟"

" وہ بہت کچھ پڑھتی ہیں؛ وہ ریڈیو سنتی ہیں۔ میں نے تجویز دی ہے کہ میں انہیں ٹیلی ویژن خرید دیتا ہوں، لیکن انہوں نے انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے۔ٗبس میں نہیں چاہتی کہ کوئی میرے گھر میں آئے۔ٗ وہ باغبانی کرتی ہیں۔ وہ اپنے گروپ کے اجلاسوں میں جاتی ہیں۔ وہ نقصان میں نہیں ہیں۔ ان کا یہی اوڑھنا بچھونا ہے۔"

"خود مختار۔ وہ اپنی زندگی کے بہترین حصے میں ہیں۔"

" یقینا۔ یہ ایسے ہی معاملات میں ایک معاملہ ہے کہ یہاں  بڑھاپا خوشگوار بن جاتاہے۔۔۔ ایک مشکل زندگی کے بعد بڑھاپا، ایک ایسا شخص جس نے دوسروں کو بہت کم یا بہت زیادہ  تھکایا ہو۔"

جب ہم نے دوبارہ چڑھائی پر چڑھنا شروع کیا  تو بہت زیادہ گرمی تھی: جیسا  کہ آندرے نے کہا تھا اس کے مقابلے میں راستے زیادہ لمبے اور سخت ہو گئے تھے۔ ہم بہت زیادہ بے تابی کے ساتھ اوپر چڑھتے گئے؛ اور میں جو پرانے دنوں میں بہت زیادہ خوشی سے   چڑھائی پر چڑھا کرتی تھی ، بہت پیچھے اپنے آپ کو گھسیٹ رہی تھی: یہ بہت شدت سے غصہ دلا رہا تھا۔ سورج میرے سر میں سوراخ کر رہا تھا؛ جھینگروں کی بیمار محبت کی  موت کی نزاع  کی تیز  آواز میرے کانوں میں بکھر رہی تھی؛ میرا سانس پھول رہا تھا اور میں ہانپ رہی تھی۔" تم بہت تیز جا رہے ہو۔" میں نے کہا۔

" تم اپنا وقت لو۔ میں  اوپر جا کرتمہارا انتظار کروں گا۔"

میں رک گئی، مجھے تیزی سے پسینہ آ رہا تھا۔میں نے دوبارہ چلنا شروع کر دیا۔ میرا اپنے دل کی دھڑکنوں  یا سانسوں پر کوئی کنٹرول نہیں تھا؛ میری ٹانگیں مشکل سے میرا ساتھ دے رہی تھیں؛ روشنی میری آنکھوں کو تکلیف دے رہی تھی؛  جھنگرس کے محبت کے گیت کی یک رخی،موت کا نغمہ، کی ناخوشگوار آواز میرے اعصاب پر اثر انداز ہو رہی تھی۔ میرا سر اور چہرہ جل رہے تھے جب میں کار تک پہنچی۔۔۔ مجھے لگ رہا تھا کہ میں  بس  ہیٹ سٹروک کےکناروں پر ہوں۔

" میں تباہ ہو گئی ہوں۔"

تمہیں  آہستگی کے ساتھ اوپر آنا چاہئے تھا۔"

" میں تمہارے ان چھوٹے چھوٹے آسان راستوں کو یاد کر رہا تھا۔"

" ہم نے گھر واپسی کا سفر خاموشی سے کیا۔"

ایک چھوٹی سی بات پر  بہت زیادہ خفا ہوجانا  یہ میری غلطی تھی۔ میں ہمیشہ ہی فوری طور پر غصے میں آ جاتی ہوں:کیا میں بُرے غصے والی  ایک لڑاکا عورت ہوں؟ مجھے خیال کرنا چاہیے۔ لیکن میں اپنی ناراضگی پر قابو نہیں پا سکی۔ میں اتنا بُرا محسوس کر رہی تھی  اور میں ڈر رہی تھی کہ مجھ لگ رہا تھا کہ مجھے لُو لگ گئی ہے۔ میں نے ایک دو ٹماٹر کھائے اورسونے کے  کمرے میں بستر پر لیٹنے کے لئے چلی گئی، جہاں اندھیرا، فرش پر لگی ٹائلیں اور چادروں کی سفیدی  سردی کا مصنوعی احساس دلا رہی تھی۔ میں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں؛خاموشی میں میں نے گھڑی کے پینڈولم کی ٹک  ٹک سنی۔ میں نے آندرے سے کہا " میں نہیں دیکھ پاتی کہ بڑھتی ہوئی عمر میں کسی شخص میں کس چیز کی کمی ہو جاتی ہے۔" بالکل ٹھیک، میں  اب دیکھنے کی کوشش کروں گی، ٹھیک ہے۔ میں نے ہمیشہ ہی زندگی کو  فِٹس گیرلڈؔ کے " شکست وریخت کے عمل "کے حوالے سے سمجھنے  سے انکار کیا   تھا۔ میں نے سوچا تھا کہ  آندرے کے ساتھ میرا تعلق کبھی شکست و ریخت کا شکار نہیں ہو گا  ، میرے کام کا جسم  مسلسل بڑھتے ہوئے  بہت زیادہ  ثمر آوار ہوتا جائے گا، فیلپ ہر دن  زیادہ سے زیادہ اسی طرح کا انسان بنتا جائے گا جیسا کہ میں اسےبنانا چاہتی تھی۔ یہاں تک میرا جسم  ہے، میں نے اس کے متعلق کبھی فکر ہی نہیں کی تھی۔ میرا یقین تھا حتی کہ خاموشی بھی پھل دیتی ہے۔ کیسا دھوکہ تھا!  ویلاری ؔ کے مقابلے میں فرانسیسی نقاد سینٹ بیواؔ  کے الفاط زیادہ سچے تھے "کچھ حصوں میں  کوئی شخص درختوں کی طرح بڑھتا ہے؛ جب کہ دوسرے حصوں  میں بُرا: ہمیشہ ہی کوئی شخص پھل نہیں دیتا۔" میرا جسم مجھے نیچہ  دکھا رہا تھا۔ میں لکھنے کے قابل نہیں رہی تھی: فیلپ نے میری تمام خواہشوں کو جھٹلا دیا تھا اور سب سے زیادہ کڑواہٹ کے ساتھ  دکھ دینے والی بات یہ تھی کہ میرے آندرے کے ساتھ تعلقات خراب ہو رہے تھے۔ کیسی بیوقوفی کی بات ہے،یہ ترقی کا نشہ آور تصور، اوپر کی طرف بڑھتی ہوئی  حرکت، جس سے میں نے محبت کی؛ اب کے لئے تباہی کا لمحہ ہاتھ میں تھا! اس کا پہلے سے ہی آغاز ہو گیا تھا۔ اب یہ بہت تیز  ہے اور بہت سست ہے: ہم واقعتاً بوڑھے لوگوں میں تبدیل ہو رہے ہیں۔

جب میں دوبارہ نیچے گئی تو گرمی نے ایک سبق دیا: مانتےؔ  کھڑکی کے پاس بیٹھی کتاب پڑھ رہی تھی جو ایک باغ میں کھلتی تھی۔ عمر نے اس کی طاقتوں کو دور نہیں پھینکا تھا؛ لیکن گہرائی میں اس کے اندر، کیا چلا گیا تھا؟ کیا وہ موت کے متعلق سوچ رہی تھی؟ استعفی کے ساتھ؟ خوف کے ساتھ؟میں نے پوچھنے کی کوشش نہیں کی۔" آندرے باؤلز کھیلنے گیا ہے۔ " اس نے کہا۔ "وہ سیدھا واپس آ جائے گا۔"

میں اس کی مخالف سمت میں بیٹھ گئی۔ جو کچھ بھی ہو، جب میں اسّی سال تک پہنچ جاؤں گی میں ان کے جیسے نہیں ہوں گی۔ میں اپنے آپ کی تنہائی کی آزادی  کے بلاوے  اور  پر امن طریقے سے  ہر کامیاب لمحے  سے بہت  اچھا  نکالنے کے عمل کو  خود سے  نہیں دیکھ سکتی تھی۔ یہاں تک میرا تعلق ہے  زندگی بتدریج  ہروہ چیز واپس لے رہی تھی جو اس نے مجھے دی تھی: اور ایسا ہونا شروع ہو گیا تھا۔ " اس لئے فیلپ نے پڑھانا چھوڑ دیا تھا۔" اس  نے کہا۔ " یہ اس کے لئے بہت اچھا نہیں تھا: وہ تو ایک خاص حلقے میں اہم شخص بننا چاہتا تھا۔"

"ہاں، یہ افسوس کی بات ہے۔"

" آج کا نوجوان کسی چیز میں بھی یقین نہیں رکھتا۔ اور میں آپ دونوں سے  زور دے کر کہوں گی کہ  دوسری صورت میں آپ کو بھی بہت زیادہ یقین نہیں رکھنا چاہئے۔"

"آندرے اور میں ؟ ہاں ، ہم ایسا کر سکتے ہیں۔"

" آندرے تو ہر چیز کے خلاف ہے۔ یہی اس کی غلطی  ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ فیلپ بُری طرح تبدیل ہوا ہے۔"

اس حقیقت کے باوجودکہ آندرے کبھی بھی پارٹی میں شامل نہیں ہو گا اس نے کبھی بھی نہیں چاہا کہ  وہ  خود مستعفی ہو جائے۔ میں اس معاملے پر بحث  کرنا نہیں چاہتی تھی۔ میں نے انہیں اپنی صبح کی سیر کے متعلق بتایا، اور میں نے پوچھا "  آپ نے تصویریں کہاں رکھی ہیں؟"

یہ ایک رسم ہے: میں ہر سال انہیں   پرانی البم  میں دیکھتی ہوں۔ لیکن وہ کبھی ایک جگہ پر نہیں رہتیں۔اس نے اسے میز پر رکھا اس کے ساتھ ایک کارڈ بورڈ کا ڈبہ بھی تھا۔ یہاں  کوئی بہت زیادہ بہت پرانی تصویریں نہیں تھیں۔ مانتے کی شادی کی تصویر،لمبے، شدید قسم کے کپڑے پہنے ہوئے۔ ایک گروپ فوٹو: وہ  اور اس کا خاوند، اس کےبھائی، اس کی بہنیں: پوری ایک نسل جن میں سے صرف اب وہی  ایک ہے جو زندہ ہے۔ آندرے کے بچپن کی ایک تصویر، پُر عظم اور ثابت قدم نظر آتے ہوئے۔ رینیؔ  بیس سال کی عمر میں اپنےدو بھائیوں کےدرمیان۔ ہم سوچتے تھے کہ اس کے مرنے کے بعد ہم اسے کبھی بھی بھول نہیں پائیں گے۔۔۔ چوبیس سال، اور وہ زندگی میں بہت زیادہ آگے دیکھتی ہوئی۔ اس نے حقیقت میں اس میں سے کیا حاصل کیا تھا۔ بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ وہ اپنے آپ کو کیسے ترتیب دیتی؟ موت کے ساتھ میری پہلی ملاقات: میں کتنا روئی تھی۔ اس کے بعد میں کم سے کم روئی۔۔۔ میرے والدین، میرا دیور، میرا سسر، ہمارے دوست۔ بڑھتی ہوئی عمر کا ایک الگ سے مطلب۔ ہر ایک کے پیچھے بہت ساری اموات، رونے کے لئے، بھول جانے کے لئے۔ اکثر ، اخبار پڑھتے ہوئے پتا چلا کہ کوئی وفات پا گیا ہے۔۔۔ ایک لکھاری جسے میں پسند کرتی تھی، ایک  ساتھی کارکن، آندرے کا کوئی پرانا  ساتھی، ساتھ کام کرنے والا کوئی سیاسی ورکر، ایک ایسا دوست گم گیا جو ہمارے رابطے میں تھا۔ اسے حیرت انگیز  اور عجیب و غریب  محسوس کرنا چاہیے جب ، مانتے کی طرح، کوئی یہاں موجود ہو، معدوم ہوتی ہوئی دنیا کی اکیلی گواہ۔

" آپ لوگ تصویریں دیکھ رہے ہیں؟" وہ میرے کندھوں کے اوپر سےجھکا۔ اس نے کچھ صفحے الٹ پلٹ کئے اور ایک تصویر کی طرف اشارہ کیا جس میں وہ گیارہ سال کا نظر آتا تھا اپنے دوستوں کے ساتھ  اپنی ہی وضع قطع میں۔ " ان میں سے آدھے سے زیادہ مر گئے ہیں" اس نے کہا۔" ان میں ایک لڑکا  پیئرؔ ہے۔۔۔ میں اسے دوبارہ ملا ہوں۔ اور اس والے کو بھی  ۔ اور پال ؔ کو ملا ہوں وہ تصویر میں نہیں ہے۔ یہ بیس سال سےزیادہ پہلے کی بات ہے جب ہم ملے تھے۔میں   انہیں بڑی مشکل سے پہچان پایا ہوں ۔ تم یقین نہیں کرو گی وہ میرے ہم  عمر ہیں۔ وہ واقعی  بوڑھے لوگوں میں تبدیل ہو گئے ہیں ۔ مانتے سے کہیں زیادہ تباہ حال۔  یہ پریشانی  کی بات ہے ۔"

"اس زندگی کی وجہ سے جو وہ جیئے ہیں؟"

" ہاں ۔کسان ہونے کے ناطے ان خِطوں میں انسان ضائع ہو جاتاہے۔"

" تم نے ان کے ساتھ اپنا موازنہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو جوان محسوس کیا ہو گا۔"

" جوان نہیں۔ بس کراہت امیز طریقے سے  مرعات یافتہ۔"

اس نے البم کو بند کر دیا۔" میں  ڈنر سے پہلے تمہیں وِلا نِیوَؔلے کر جانا چاہوں گا تا کہ ہم وہاں  ڈرنک کرسکیں۔"

" ٹھیک ہے۔"

کار میں اس نے باؤلز کی گیم کے متعلق بتایا  جو وہ جیت کر آیا تھا؛ جب سے وہ یہاں آیا تھا وہ اس میں کافی پیش رفت کر رہا تھا۔ اس کا موڈکافی خوشگوار لگ رہا تھا؛ میرے الٹ پلٹ کے عمل  سے وہ متاثر نہیں ہوا تھا، میرا مشاہدہ تھا،اگر چہ کڑواہٹ بھرا۔ اس نے ایک ٹیرس کے کنارے پر  گاڑی کو روک دیا  جو نیلے اور سنتری رنگ کے سائبانوں سے ڈھکی ہوئی تھی جس کے نیچے  بیٹھے لوگ سونف سے کشید کردہ اشتہا انگیز  ہلکی  شراب  پی رہے تھے؛ سونف کی بُو ہوا میں ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔ اس نے ہم دونوں کےلئے ایک چھوٹا سا آرڈر دیا۔ یہاں ایک لمبی خاموشی تھی۔

" یہ ایک خوشگوار چھوٹا سا چوک ہے۔"

" بہت زیادہ خوش گوار۔"

" آپ ایک  افسردہ  آواز میں کہہ سکتی ہیں۔ کیا آپ کو افسوس ہے کہ اپ پیرس میں نہیں ہیں؟"

" اوہ، نہیں۔ میں جگہوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتی،صرف حال کو دیکھتی ہوں۔"

" میں شائد لوگوں کا بھی خیال نہیں  رکھتی۔"

" اپ نے  ایسا کیوں کہا ہے؟"

" تم تو زیادہ باتونی نہیں ہو۔"

" مجھے افسوس ہے۔میں  اپنے آپ کو سڑی ہوئی محسوس کر رہی ہوں۔ آج صبح  میں نے بہت زیادہ سورج دیکھا ہے۔"

" تم اکثر سخت جانی کا مظاہرہ کرتے ہو۔"

" میں بوڑھی ہو رہی ہوں۔"

عام طور پر میری آواز میں دوستانہ پن نہیں ہوتا۔ میں آندرے سے کیا توقع کرتی؟ ایک معجزے کی؟ کہ اسے ایک چھڑی کو لہرانا چاہئے اور میری کتاب کو بہت اچھا ہو جانا چاہئے اور تمام تبصرے موافق ہو جاتے ؟ یا میری ناکامی کا اب  اس سے زائد کوئی مطلب نہیں ہونا چاہئے کہ میں ایک دفعہ اس کے ساتھ تھی؟ اس نےمیرے لئے بہت سارے چھوٹے چھوٹے معجزات پر کام کیا تھا: ان دنوں جب وہ بہت زیادہ  تناؤ میں رہتا تھا اپنے مستقبل کے قریب پہنچے کے لئے اس کی رضا مندی نے مجھے زندگی دی۔ اس نے مجھے اعتماد دیا، میرے  اعتقاد کو بحال کیا۔ اب اس کے پاس وہ طاقت نہیں رہی۔ اگر چہ وہ اپنے مستقبل میں یقین رکھتا ہوا چلتا جائے، یہ کافی نہیں ہے،وہ  میرے کام کے لئے مجھے تسلی دے۔

اس نے اپنی جیب سے ایک خط نکالا۔

" فیلپ نے  یہ خط مجھے لکھا ہے۔"

" اسے کیسے پتا چلا کہ تم یہاں ہو؟"

"جب میں وہاں سے رخصت ہو رہا تھا تو اس سے ایک دن پہلے میں نے اسے فون کیا تھا۔ اس نے مجھے کہا  تھاکہ تم نے اسے باہر پھینک دیا ہے۔"

" ہاں۔ اس کا مجھے کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔ میں کسی ایسے شخص سے محبت نہیں کر سکتی جس  کا میں احترام نہیں کرتی۔"

آندرے  نےسخت نظروں سے میری طرف دیکھا۔" میں نہیں جانتا کہ تم کس حد تک  سچی ہو۔"

" تمہارا کیا مطلب ہے؟"

تم صرف ایک اخلاقی جواز پر اسے ترتیب دے رہی ہو، جب  کہ اس کی بنیاد   سراسر  جزباتی ہے اور تم یہ محسوس کر رہی ہو کہ تمہارے ساتھ  بے وفائی ہو رہی ہے۔"

" دونوں ہی یہاں موجود ہیں۔"

" بے وفائی بھی، لاتعلقی بھی: بہت تکلیف دہ زخم ہے میرے لئے  کہ میں اس قابل ہو جاؤں کہ اس کے متعلق کوئی بات کر سکوں۔ ہمارے اندر دوبارہ خاموشی عود کر آئی۔ کیا یہاں ہمارے درمیان کچھ بہتر ہونے جا رہا ہے؟ ایک جوڑا جو  اکٹھے جیئے جا رہا ہے صرف اس لئے کہ انہوں نے کسی طرح اس کا آغاز کیاتھا، بغیر کسی دوسری وجہ کے: کیا یہ وہی کچھ تھا جس میں  ہم تبدیل ہونے جا رہے تھے؟ کیا ہم اگلے پندرہ، بیس سال بغیر کسی  ناراضی یا دشمنی کے  گزاریں گے   اور ہر شخص اپنی اپنی دنیا میں ملفوف ہو گا،مکمل طور پر اپنے مسئلے میں الجھا ہوا، اپنی ذاتی ناکامی پر کڑھتے ہوئے، الفاظ مکمل طور پر  بے فائدہ ہو گئے؟ ہمیں  کوئی قدم آٹھائے بغیر زندہ رہنا چاہئے۔ پیرس میں مَیں خوش تھی اور یہ اداس تھا۔ میں اس کی خوشگواری کو ناپسند کر رہی ہوں  اور میرے اندر سے جوش ختم ہو گیا ہے۔ میں نے ایک کوشش کی" اگلے تین دنوں میں ہم اٹلی ہوں گے۔ کیا تم اس خیال کو پسند کرتے ہو؟"

" اگر تم جانا چاہتی ہو تو مجھے پسند ہے۔"

" اگر تمہیں پسند ہے تو مجھے پسند ہے۔"

" کیونکہ تم جگہوں کو بالکل بھی کوئی اہمیت نہیں دیتیں؟"

" تمہارے ساتھ بھی ایسا ہی ہے، کافی دفعہ ایسا ہوا ہے۔"

اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ہماری مواصلت میں کچھ غلط ہو گیا تھا: ہر شخص اسے ایسے ہی لے رہا تھا جیسے کچھ کمی رہ گئی ہو۔ کیا کبھی ہم اس حالت سے باہر نکل پائیں گے؟ کل ہی کیوں ، آج کیوں نہیں: روم ہی کیوں یہاں کیوں نہیں؟

" ٹھیک ہے۔ ہم واپس چلتے ہیں" میں نے ایک وقفے کے بعد کہا۔

ہم نے مانتے کے ساتھ  تاش کھیلتے ہوئے وقت گزارا۔

اگلے دن میں نےدھوپ میں  اور جھینگروں کی چیختی ہوئی تیز آوازوں میں جانے سے انکار کر دیا۔ کیانقطہ تھا؟ میں جانتی تھی کہ جس  شخص نے بھی  پوپ کے محل کی مخالفت کی ہو، چاہے وہ  قدیم رومن پانی کا نظام پونٹ ڈُو گارڈ ؔ ہو، میں تو ویسی ہی بے حرکت رہوں گی جیسا کہ میں اس چھوٹے قطعہ اراضی میں رہی۔میں نے سر درد کا بہانہ کیا تا کہ گھر میں ہی رہوں۔ آندرے کوئی درجن بھر کتابیں لے آیا، اور ان میں ایک کی گہرائی میں ڈوب گیا۔ میں نے اپنے آپ کو  اپ ٹو ڈیٹ کیا اور ان تمام کے متعلق  معلومات حاصل کئیں۔ میں نے مانتے کی لائبریری کو دیکھا۔ ان میں گارنئیر ؔ کی کلاسکس تھیں، کچھ  پلی ایڈؔ کے مجموعے تھے جنہیں ہم نے  مانتے کو  تحفے کے طور پر دیاتھا۔ یہاں بہت ساری کتابیں تھیں جن کو پڑھنے کے لئے میرے پاس موقع نہیں تھا کہ میں سالوں اور سالوں پیچھےچلی جاتی: میں انہیں بھول چکی تھی۔ ان کو دوبارہ پڑھنے کے احساس نے ہی مجھے تھکا دیا تھا۔ جیسے  آپ پڑھتے ہو ویسے ہی وہ یاد رہتی ہے؛ یا کم از کم  آپ اس دھوکے میں رہتے ہیں کہ یہ آپ کو یاد ہیں۔ پہلی تازگی ختم ہو جاتی ہے۔ مجھے دینے کے لئے ان کے پاس کیا ہے، یہ وہ لکھاری ہیں جنہوں نے مجھےبنایا ہے جو کہ میں ہوں اور جو میں رہوں گی؟ میں نے کچھ جلدوں کو کھولا اور کچھ صفحوں کو پلٹا: ان تمام کا زائقہ اتنا ہی بیمار کرنے والا تھا جتنا کہ میری اپنی کتابوں کا۔۔۔ تنزل کا زائقہ۔

مانتے اپنے کاغذوں کو دیکھ رہی تھی۔ " میں یہ سوچنا شروع کر رہی ہوں کہ میں  اپنی آنکھوں سے لوگوں کو چاند پر دیکھوں گی۔"

" تم اپنی آنکھوں سے؟ کیا تم چاند کا سفر کرو گی؟ آندرے   نے قہقہ لگاتی ہوئی آواز میں پوچھا۔

" تم جانتے ہو کہ میرا کیا مطلب ہے۔ میں جان جاؤں گی کہ وہ یہاں ہیں۔  میرے بچے ، وہ روسی ہیں۔ امریکی  اپنی خاص اکسیجن کے ساتھ ایک میل پیچھے رہ گئے ہیں۔"

" ہاں ماما۔ آپ روسیوں کو چاند پر دیکھو گی۔" آندرے نے محبت سے کہا۔

" اور تم سوچوں ہم نے غاروں سے آغاز کیا تھا، " مانتے استغراق کے عالم میں کہتی گئی،" انہیں دس انگلیوں کے ساتھ ہماری مدد کرتے ہوئے۔ اور ہم اس نقطے پر پہنچ گئے ہیں۔ تم خود اس کو تسلیم کرو گے کہ یہ خوش آئند ہے۔"

"انسان کی تاریخ بہت عمدہ ہے، بالکل سچائی کےساتھ۔"آندرے نے کہا " یہ افسوس کی بات ہے کہ انسان  بہت زیادہ  اداس ہے۔"

" یہ ہمیشہ اداس نہیں رہا۔ اگر آپ چینی ہو تو دنیا کو ٹکڑوں میں نہ اڑاو۔ ہمارے بچوں کے بچے سوشل ازم دیکھیں گے۔ میں اس کو دیکھنے کے لئے اگلے پچاس سال بھی زندہ رہ لوں گی۔"

" کیا عورت ہے! کیا یہ تم سن رہی  ہو؟ اس نے مجھ سے کہا۔ وہ اگلے  پچاس سالوں کے لئے رضا مندی دے رہی ہے۔"

" کیاتم ایسا نہیں کرو گے ، آندرے؟"

" نہیں ، ماما۔  صاف بات یہ ہے کہ میں  ایسا نہیں کروں گا۔ تاریخ اس طرح کے پر تجسس راستوں کا پیچھا کرتی ہے جنہیں میں بڑی مشکل سے محسوس کرتا ہوں کہ یہ  میرے لئے کچھ کرے  گی۔ میرا تاثر تو یہی ہے کہ ایک  کنارے کی طرف رہا جائے۔ تو پچاس سال کے وقت میں ۔۔۔۔"

" ?

یونس خان

....................................

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form