شبنم عشائی کی نظمیں

January 12, 2019
"دیدبان شمارہ 9 "مزاحمتی ادبنثری نظمشاعری

شبنم عشائی کی دو نظمیں

1.

دلاسہ نہیں

مجھے حق دے دو

محبت مانگنے کا حق

محبت دینے کا حق

محبت جینے کا حق

اب کے نہ کوئی الزام

مقدر کو دونگی

نہ ہی اپنے بخیئے

ادھیڑ دونگی

مجھے خاک کرنے کی مشق میں

خدا کو کٹہرے میں کھڑا مت کرو

شاطروں کی عدالت میں نہیں

محبت کے سجدے میں آنے دو

نفرتوں کی ہریالی

مجھ میں مت اگنے دو

نیئتیں جو پاک نہیں

مجھ میں مت بونے دو

مجھے اپنی مٹی سے

رل مل کر جینے دو

دلاسہ نہیں مجھے حق دے دو

۔۔۔۔۔۔۔۔

2-

تمہارا دوغلہ پن

مجھے بھونتا ہے

میرے من کی آنکھیں

لال ہو جاتی ہیں

کچھ نظر نہیں آتا۔

نہ کہیں زمیں

نہ کوئی آسماں

جسم ہوا میں لہراتا ہے

دفن نہیں ہو سکتا

زمین و آسمان کو

کہاں کریدوں

دوغلے پن کی قبر میں

تعلق تمام

\دفنا دوں کیا؟

.............

3.

مجرا کرتی شاعرات میں

نظم زخمی ہو جاتی ہے

نظم سوچتی ہے

کہ زخم اس کا زیور ہے

نظم سوچتی ہے

کہ زخم کے زیور سے آراستہ سینہ

سچ کے آئینے میں دیکھ کے آﺅں

بھیڑ لگی ہے مداحوں کی

جھوٹ بدن کے اسٹیج پر مجرا کر رہا ہے

سچ کا شیشہ

روپوش ہے اوڑھنی میں

مجرا کرتی کسی شاعرہ کے۔

-----------------

Shabnam Ishai

....................

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form