شہناز پروین سحر کی کتاب "ایک آخری دن " پر تبصرہ

August 1, 2018
دیدبان شمارہ ۸،مزاحمتی ادبتبصرہ تبصرہ

دیدبان شمارہ ہشتم

شہناز پروین سحر کی کتاب پر

راشد جاوید احمد کا تبصرہ

ایک اور آخری دن

شہناز پروین سحر

پھول جیسی بچی سن

بچپنا بتاتے ہی

جلد بوڑھی ہو جانا

بس اسی میں عزت ہے

بس اسی میں عظمت ہے

غم ایک لازوال اور فطری جذبہ ہے ۔حزنیہ افکار کم و بیش ہر شاعر کے شعری شعور کا حصہ ہوتے ہیں ۔غم و الم سے عبارت کلام ہر عہد اور ہر رت میں ہر دلعزیز اور مقبول رہتا ہے ۔حزن و ملال سے منسوب شاعری تا دیر زندہ رہتی ہے اور اس کے اثرات دیر پا ہوتے ہیں ۔ ہر تخلیق کار اپنے سماج کا نمائندہ ہوتا ہے اس لیے اس کے تخلیق کردہ ادب میں ایک سماجی کرب پنہاں ہوتا ہے اور وہ اپنی معاشرت کا عکاس ہوتاہے۔ معاشرے کے دکھ درد کا بیان اس کی قوتِ متخیلہ کا حصہ ہوتا ہے۔ ایک خاتون مرد کی نسبت زیادہ حساس ہوتی ہے اور ہمارے معاشرے میں جبر و استحصال کا زیادہ شکار رہتی ہےاس لیے اس کے سخن میں اس کے ذاتی مصائب و آلام کے ساتھ ایک سماجی کرب بھی شامل ہوتا ہے ۔ ایک اور آخری دن کی خالق شہناز پروین سحرکے کلام میں بھی حزنیہ جذبات و احساسات وفور سے پائے جاتے ہیں جن میں کچھ حوالے ذاتی نوعیت کے ہیں تو کچھ اجتماعی۔

کھلونے میں دھماکے کی خبر ہے

مگر بچہ بہلنا چاہتا ہے

ذات سے لے کر کائنات تک ایک طویل مسافت ہے ۔ مسلسل تگ و دو ہے۔غم کے کئی روپ ہیں جن میں غمِ جاناں ، غمِ دوراں اور غمِ ذات شامل ہیں جب طبیعت غموں کی اسیر ہو جاتی ہے۔ جب مزاج پر الم کی حکمرانی ہو تی ہےتو خوشیاں بھی حزن و ملال کا پیش خیمہ معلوم ہوتی ہیں پھر ہر سو مصائب و آلام کے مناظر مہیب لگتے ہیں ۔جب ہر جانب نفسا نفسی کا دور دورہ ہو تو پھر زندگی کرنا مشکل ہو جاتا ہے

اوپر تلے ہیں سنگ ِ حیات اور سنگ ِ مرگ

چکی کے دونوں پاٹ میں جا دی گئی مجھے ؎

شہناز کے ہاں ایک عصری کرب ہے جو نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے اوراحساسِ تنہائی بھی شدید نوعیت کا ہے

دن بھر کی سانسوں کو مجھ سے

چھین لیا

پھر مجھے ہراساں چھوڑ گیا

آج کا دن بھی

کل جیسا تھا

ان کے ہاں صرف ذات کا ادراک ہی نہیں بلکہ اپنے ارد گرد کی بے چینی اور اضطراب ان کے مشاہدات کا حصہ ہے ۔چار سو ان کا کرب و سوز سماجی روئیوں کی غمازی کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے ۔ ۔شہنازکے تخیلات سے اندازہ یہی ہوتا ہے کہ ان کے ہاں حزن و ملال کا سرمایہ وافر ہے یہی غم و الم ان کے شعری شعور کو مزید تحریک دیتا ہے۔ ماتھے پر اک چاند جڑا ہے :: گھر پھر بھی تاریک پڑا ہے

ان کے اسلوب شاعری میں کیفیت کی فراوانی ہے اور مضمون آفرینی ہے۔

عصرِ حاضر میں جہاں بہت سی شاعرات اپنی شعری صلاحیتوں کو چند روایتی رومانوی تخیلات کی نذر کر رہی ہیں وہاں معدودے چند شاعرات ایسی بھی ہیں جن کے ہاں زمانی تقاضوں اور عصری روئیوں کا بھرپور اہتمام ملتا ہے جو ایک مستحسن قدر ہے ایسی معتبر ہستیوں میں شہناز پروین سحر بھی شامل ہیں۔ عصری بے مروّتی کا مذکور اُن کے ہاں بھرپور انداز میں ملتا ہے جس کے باعث وہ عمرانی روئیوں کو ہدف تنقید بناتی ہیں خلوص و مروّت امن و آشتی کا آدرش اُن کے فکری کینوس سے جھانکتا ہوا دکھائی دیتا ہے ۔وہ نفسا نفسی کے اس پر آشوب عہد میں محبتوں کی امین ہیں یہی امر اُن کے لیے فردِ جرم کی حیثیت رکھتا ہے جس کے باعث ان کی حیات کٹھنائیوں سے عبارت نظر آتی ہے

ہم اسیر وفا ہیں یاد رہے

دل نہیں مانتا رھائی پر اور

عصری چیرہ دستیوں کے شواہد شدت وحدت کے ساتھ اُن کے مشاہدات کا حصہ ہیں اس لیے اُن کے افکار میں حزن و ملال کا رنگ پایا جاتا ہے جس کی شدت قاری کو اپنے حصار میں لینے لگتی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اُن کے ہاں یہ کیفیت اس قدر کثرت سے کیسے در آئی ۔ کہتے ہیں کہ شاعری کو شاعر کی ذات کے بغیر سمجھنے کی کوشش، کل پر جزو کو فوقیت دینے کے مترادف ہوتی ہے۔ اتفاق سے میری ان کی کبھی ملاقات نہیں ہوئی، شاعری پربات بھی نہیں ہوئی اور میں ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا۔ فیس بک پر ان کے ایک گروپ کی وساطت سے کچھ بکھری بکھری شاعری پڑھنے کو ملی۔ بہت عرصہ پہلے "فنون" اور کچھ مقتدر جریدوں کے ذریعے ان کی شاعری سے تعارف ہوا تھا۔پھر جیسے کہ ہم ایسے فنکاروں کو بھول جاتے ہیں جن کی پی آر نہیں ہوتی یا جو خود سے اس سکہ رائج ا لوقت کے استعمال پر یقین نہیں رکھتے اور بھیڑ میں گم ہو جاتے ہیں ۔ اب ان کے اس شعری مجموعے کی بدولت ایک بار پھر تعارف ہوا۔اور بھرپور ہوا۔ ان کی شاعری، ان کے احساسات، جذبات اور بے تحاشاحساسیت، ان کی شخصیت کی غماز ہے۔ان کی شاعری کے ذریعے مجھے ، تہذیب میں گندھی، درویش صفت اور افتاد گان ِ خاک قسم کی شخصیت ملتی ہے اور قوی احتمال ہے کہ وہ اپنے دوستوں کے دکھ درد کی ساتھی بلکہ ان کی آنکھ کا تارا بھی ہوں۔ تنویر قاضی کا ایک شعر ہے جو اس نے نہ جانے کس کے لئے کہا

سمیٹ لاتا تھا پھر بھی ادھر ادھر کے دکھ :: کہ جس کو جینے نہ دیتے تھے اپنے گھر کے دکھ

لیکن یہ شعر مجھے شہناز کی شخصیت کا بھر پور عکاس نظر آتا ہے۔

عصرِ حاضر میں حیاتِ انسانی مسائل کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے اور زندگی کرنا جوئے شیر لانے کا مثیل ہے جس کی بدولت اجتماعی ذہنی تناؤ نمو پاش ہوا ہے ۔ایسی صورت احوال کے باوجود بھی جو لوگ زندگی کو شعروں میں ڈھالتے ہیں وہ یقیناً قابلِ قدر ہیں ایسے درخشاں ستاروں میں ایک نام شہناز کا بھی ہے جن کی شاعری ان کی زیست سے متعلق ہمت و حوصلے کی ایک ولولہ انگیز داستان لئے ہوئےہے ۔مجھے یقین ہے کہ زندگی کی ان چیرہ دستیوں کے درمیان بھی وہ ہنستی، مسکراتی بلکہ قہقہہ بھی لگاتی ہوں گی۔جیسا کہ محترمہ رفعت سجاد کا کہنا ہے کہ " شہناز تنہائی پسند ، نسبتا خاموش لیکن ذرا بھی بور نہیں۔ اسکی باتوں پر میں نے خشک سے خشک آدمی کو بھی قہقہہ لگاتے دیکھا ہے "

محبت کے سوا ان کے ہاں ایک خود اعتمادی کی فضا بھی ہے۔وہ اپنے کردار سے بخوبی واقف ہیں اس لیے ان کے شعری مخزن میں بے پناہ جسارتیں ہیں

کیا درد کا کوئی ازالہ ہے؟ زندگی کے تجربات و مشاہدات کا عکسِ جمیل بھی ان کے فکری کینوس میں قاری کے لیے آغوش کشا نظر آتا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ حقیقی زندگی کا وسیع تر ادراک رکھتی ہیں اس لیے ان کے آدرش میں ایک ہمہ گیری بھی جلوہ ریز ہے

دن بھر کی سانسوں کو مجھ سے

چھین لیا

پھر مجھے ہراساں چھوڑ گیا

آج کا دن بھی کل جیسا تھا

اور ایک اور نظم دیکھئے

میں دکھ دریا کی سوہنی

خوشیوں کا موہوم تصور کچا گھڑا

دریا کے اس پار میرا میہنوال بھی ہے

لیکن

میں تنہا ڈوبوں گی

سوانحی کرب تخلیقی اظہار میں داخلی احساسات کو فروغ بخشنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے ۔شہناز کی شاعری میں ان کی ذات کی پرچھائیاں مشاہدہ کی جا سکتی ہیں

اپنی تنہائی میں مکمل ہوں

میں تیرے ساتھ کچھ ادھوری تھی

جو تیری قید سے نکلوں تو کس قفس میں رہوں

میرا جواز یہی ہے کہ تیرے بس میں رہوں

پلٹ کے دیکھوں تو اکثر یہ سوچتی ہوں سحر

میں اپنی عمر گذشتہ کے کس برس میں رہوں

محسوس ہوتا ہے کہ مشیت کی طرف سے انہیں کٹھن جیون ودیعت ہوا جس کی وجہ سے ان کی سخن سنجی میں ذاتی حوالے سے کرب کا پہلو اجاگر ہوا ہے ۔ان کے افکار میں سماجی کرب کی ایک گونج سنائی دیتی ہے جس میں انفرادی اور اجتماعی حوالے ہیں انہوں نے اپنی معاشرت کے مسائل کو واضح کرنے کی سعیِ جمیل کی ہے ۔ان کے اشعار میں سماجی اور اخلاقی اقدار کی پامالی کا ایک درد پایا جاتا ہے نفسا نفسی اور خود غرضی کے روئیوں کو بھرپور انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔تلخ حقائق کا ادراک، زیست کی کٹھنائیوں سے موانست و مصالحت کا شعور ان کے شعری مخزن کا حصہ ہے

دیکھ ترک ِ تعلقات کے سکھ

بے حسی کے عذاب ختم ہوئے

وہ خدائی نبھا سکا نہ سحر

سب گناہ و ثواب ختم ہوئے

ان کے تخیلات میں ہمت و حوصلے کے پہلو وافر انداز میں ملتے ہیں وہ مصائب و آلام کا سامنا کرنے کا فن جانتی ہیں ۔

میں کیوں چراغ جلاوں ابھی اجالا ہے

وہ شخص بچھڑا نہیں ہے بچھڑنے والا ہے

مصرع در مصرع، شعر در شعر، غزل در غزل بین السطور ایک عمیق حسیاتی فروغ کار فرما ہے ۔ رفعتِ تخیل کی وجہ سے ایک فکری دقیقہ سنجی مشاہدہ کی جا سکتی ہے ۔لسانی اعتبار سے ان کے اشعار میں قرینہ کاری کا ہنر ملتا ہے۔

جوان عمر میں ہی بوڑھی ہو گئی ہوں سحر

انا کا لاڈلا بچہ کچھ ایسے پالا ہے

مجھے تو ماں نے کہا تھا ہمیشہ کم بولو

پھر اپنی چپ کو مسلسل سنبھالتی ہوئی میں

تیرے غرور کے پتھر سے ضبط سیکھا ہے

وگرنہ چوڑیوں کے کانچ پالتی ہوئی میں

اور پھر

وفا شعار طبیعت بھی ہے بلا کی طرح

چمٹ گئی ہے میری جاں سے بد دعا کی طرح

میں اپنی ذات کے پسماندگان میں ہوں سحر

وہ شخص مجھ کو ملا بھی تو خوں بہا کی طرح

من حیث المجموع معاملات میں ان کا عمیق حسیاتی شعور کارفرما نظر آتا ہے ۔جب زیست میں رونقیں اور رعنائیاں معدوم ہو جائیں اور ان کی جگہ مصائب و آلام لے لیں پھر تمام مسرتیں اور خوشگواریاں اپنی بساط لپیٹ لیتی ہیں ۔پھر انسان زندگی سے مفر کی راہیں تلاش کرتا ہے ۔زندگی کا پر اذیت دور شروع ہو جاتا ہے مگر جوانسان عقلِ سلیم سے بہرہ ور ہو تو وہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہنے کی جسارت رکھتا ہے ۔ایسے ہی جوابی روئیوں کے حامل احساسات سے مرصع ہے شہناز کی شاعری۔223 صفحات کے اس شعری مجموعے میں 60 غزلیں، 34 نظمیں، 6 پنجابی منظومات ، متفرق اشعار اور قطعات شامل ہیں۔ ایک ایک شعر، ایک ایک مصرعہ یہاں نقل کرنے کے لائق ہے، سمجھ میں نہیں آتا کہ حوالے کے لئےکون سا شعر لکھا جائے اور کون سا چھوڑا جائے، بالکل ایسے جیسے حافظ کے دیوان سے فال نکالی جاتی تھی ، اسی طرح اس کتاب کو کہیں سے کھول لیں، نظم ہو یا غزل ، سامنے آنے والا ہر شعر حوالے اور نقل کے قابل ہے،ظاہر ہے پوری کتاب تو نقل نہیں کی جا سکتی یہاں۔

گیٹ اپ کے حساب سے کتاب خوبصورت کلر سکیم کے ساتھ خوبصورت سرورق اس کتاب کی زینت ہے۔ محترمہ رفعت سجاد کا فلیپ بے تکلف ہونے کے باوجود شاعر کی پر وقار شخصیت کا عکاس ہے۔ کتاب کا دیباچہ بالکل منفرد ہے اور جس شخصیت کو یہ دیباچہ لکھنا تھا وہ لکھ نہ پائے اور اس دکھ نے گویا ساری کتاب کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔ جناب صابر محبوب کا تبصرہ کچھ علمی کچھ ذاتی قسم کا ہے لیکن محرتمہ کی شاعری کی کلید ہے اورخوب ہے۔ ترتیل راو کا لکھا ہوا تو شاعر ماں کو سعادت مند اولاد کی طرف سے زبردست خراج ِ تحسین ہے۔ جناب راو ذوالفقار نے سولہ آنے درست لکھا، اس تمام شاعری کو " بہ نوک خار می رقصم " کے عنوان کے تحت پڑھا جا سکتا ہے۔گمان غالب ہے کہ یہ شعری مجموعہ قبول ِ عام پذیرائی حاصل کرے گا۔

یہاں میں ایک اور بات بڑے وثوق سے کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ محترمہ کی نثر بھی کمال کی ہے۔ میں نے بہت کم معروف شاعروں کو اچھی نثر لکھتے دیکھا ہے لیکن جو ایک دو چیزیں مجھے بی بی شہناز کی دستیاب ہوئی ہیں وہ اپنا ایک الگ نثری اسلوب لئے ہوئے ہیں ۔

میری دانست میں تو شہناز پروین سحر، فہمیدہ ریاض، کشور ناہید، سعیدہ گزدر اور ادا جعفری کی ہم مرتبہ شاعر ہیں۔ "ایک اور آخری دن " بہت بہت پہلے شایع ہونا چاہئے تھا۔ شہناز بی بی، سلامت رہئے، شعر کہتی رہئے۔اور نثر میں بھی لکھتی رہئے۔

(راشد جاوید احمد)

راشد جاوید احمد

راشد جاوید احمد اردو اور پنجابی میں مختصر کہانیاں یکساں مہارت سے لکھتے ہیں. پنجابی کہانیوں کی کتاب " مٹی اتے لیک" پنجابی ادبی بورڈ نے چھاپی تھی . راشد جاوید احمد نے ٹی وی کے لئے ڈرامے بھی لکھے جو نثار حسین کے زمانے میں ٹیلی کاسٹ ہوئے. ایڈ ایجنسیز کے لئے کمرشل اشتہار لکھتے رہے.وہ بنک سے بطوراسسٹنٹ وائس پریذیدنٹ ریٹائر ہوئے اور اپنا بیشتر وقت  لوگوں اور کتابوں کے مطالعے میں گزارتے ہیں۔

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form