دیدبان شمارہ 11

کہانی

شہرِ نامطلوب

محمد عاطف علیم

اب کی بار میں صدیوں طویل طلسمی نیند سے جاگا  تو دیکھا کہ وہی قدیم بنجر تھا اور وہی تنگ و تاریک غار۔

میں نے نیند کی دبیز بوجھلتا کو دور کرنے کیلئے جسم کو کھینچ کر انگڑائی لی اورسر کو جھٹک زبان نکال کر گہرے سانس لیے کہ صبح صادق کا نور میری رگوں میں بھرجائے۔تب میں نے غار کی نیم تاریکی میں جھانکا کہ اپنے ساتوں نیک نہاد ساتھیوں کی خبر لوں مگر کیا دیکھا کہ وہ ساتوں لاموجود تھے اور غار کے دہانے پر تنا دبیز جالا ٹوٹا ہوا تھا۔

صدیوں کے اس پھیر میں پہلے بھی پیٹ کی بھوک نے ہمیں جب جب جگایا تو ہم میں سے کوئی ایک عازم شہر ہوتا کہ پیٹ کی تسکین کا کوئی حیلہ کرے مگر ہر بار لوٹتا تو وحشت میں گرفتار اور استغفار کا ورد کرتے ہوئے۔تب ہم ساتھی سوال کیے بغیر جان لیتے اور خورد و نوش کا جو سامان بھی میسر آتا زہر مار کرکے استغفار کے کلمات دہراتے طلسمی نیند اوڑھ لیتے۔یہ اچنبھا البتہ ضرور رہتا کہ جانے والے اور پھر مبتلائے  وحشت لوٹ آنے والے پر ایسی کیا گذری کہ ایک گھنی چپ کو اس نے غنیمت جانا۔سو میں نے گمان کیا کہ اس بار جگنے پر ان ساتوں نے اس وحشت کا راز معلوم کرنے کی ٹھان ایک ساتھ شہر کا رخ کیا ہوگا۔

اب میں وہاں اکیلا پڑا کیا کرتا کہ جانے کب وہ لوٹیں اور کیا معلوم لوٹیں بھی یانہ لوٹیں سو میں نے بھی نیند اور جاگ کے بیچ کے بھاری پن کو دور کرنے کیلئے سر کو جھٹکا اور بدن پر زبان پھیر غار سے نکل آیا۔

میں نے قدیم بنجر کی پتھریلی وسعتوں میں سمت معلوم کرنے کیلئے جبلت کو رہنما بنایا اور کوس در کوس نوکیلے پتھروں اور خاردار جھاڑیوں سے خود کو زخمی کرتا شام ہوئے پر اس شہر تیرہ بخت کی دہلیز پر آن کھڑا ہوا جہاں سے ہمیں اپنا جان و ایمان بچا کر اس طلسمی غار میں پناہ لینا پڑی تھی۔

وہ شہر افسوس جس سے میں شناسا ہوں ایک چھوٹا سا شہر ہوا کرتا تھا، بلند فصیلوں اور بہت سے دروازوں کے اندر دو چار کوس کے پھیلاؤ والا شہر۔سو یہ شہر وہ تو نہیں ہوسکتا تھا لیکن کیا پتا کہ وہی ہو اور ہماری نیند کے دوران اپنی فصیلوں اور دروازے کو روندتا ہوا لا متناہی فاصلوں تک پھیل گیا ہو(اس احمقانہ سوچ پر میں نے خود کو ملامت کی کہ ایک ذرا سی نیند کے وقفے میں آسمانوں سے معجزے تو اترنے سے رہے) لیکن یہ تو بہرحال طے تھا کہ کچھ عجیب سا تو ضرور ہوا ہے کہ میرا دیکھا بھالا شہر افسوس، شہر عجائب میں تبدیل ہوگیا ہے۔مجھے اپنے ساتوں ساتھیوں کی فکر دامن گیر ہوئی کہ کہیں وہ اس شہر میں کھوئے نہ گئے ہوں سو میں شہر میں داخل ہوا کہ انہیں تلاش کرکے ان کے احوال کو جانوں۔

شہر میں داخلے پر میں نے کیا دیکھا کہ طول طویل کالے اور چمکیلے راستے تھے جویہاں وہاں سے پھوٹی پڑتی روشنیوں سے جگر جگر دمک رہے تھے۔ان راستوں میں سے ایک پر شمار سے باہر رنگا رنگ پہیہ گاڑیاں اپنے آگے آنکھوں کو چندھیاتی خوب تیز روشنیاں دھرے زوں زوں آجارہی تھیں جبکہ اس کے متوازی اور اسے کاٹتے ہوئے راستے روشن تو تھے مگر ان پر اکا دکا پہیہ گاڑی ہی دکھائی دے رہی تھی۔ ان تمام راستوں کے کنارے خوب اونچی اور بڑی بڑی عمارتیں تھیں جو اپنی روشنیوں میں گم تھیں۔عالم حیرت میں کھڑے یونہی میرے دل میں خیال آیا کہ کیا معلوم یہاں کے لوگوں کو رات کے اندھیرے میں کم دکھائی دیتا ہو جبھی انہوں نے اپنی بصارت کے سہار کے لیے روشنی کا دریائے شور بہا نے کا حیلہ کیا ہو۔

شہر میں داخلے پر میں نے دیکھا تھاکہ وہاں مہیب پھاٹک والے داخلی دروازے کی بجائے دو چھوٹے چھوٹے دروازے ساتھ ساتھ کھڑے تھے جن پر ننھی سی سرخ سبز روشنیاں جل بجھ رہی تھیں۔ان دروازوں پر وردیاں کسے کچھ غصیلے لوگ کھڑے تھے جو دخول اور خروج کرنے والوں کے جسم پر کوئی آلہ سا پھیر کر اور خوب اچھی طرح ٹٹول کر انہیں آگے بڑھ جانے کا اشارہ کررہے تھے۔مجھ پر خیر کون سا رواج لاگو ہوتا تھا سو میں ٹانگوں کے بیچ میں سے ہوتا شہر میں داخل ہوگیا(بعد میں مجھے ہر چوک چوراہے میں ایسے ہی جلتی بجھتی روشنیوں والے چھوٹے دروازوں کا سامنا کرنا پڑا تھا)۔

میں بھی پہیہ گاڑیوں کی دیکھا دیکھی کالے چمکیلے راستے پر چلا ہی تھا کہ گویا جان ضیق میں آگئی ہو۔مجھے بیچ راستے پاکر گاڑیاں اچانک تیز چیخ کے ساتھ رک گئیں اور پھر پاں پاں کا شور جو مچا ہے تو خدا کی پناہ۔اور تو اور ان گاڑیوں میں موجود غصے میں بولائے ہوئے لوگ میری جانب بازو لہرا لہرا کر انت کی بے ہودہ گوئی کرنے لگے۔اس بدتہذیبی پر مجھے طیش توبہت آیا اور ایک بار تو جی میں تو آیا کہ ذرا ان کی طبیعت صاف کردی جائے لیکن یوں میرا راستہ کھوٹا ہوتا تھا سو میں نے صلح جوئی کو مصلحت جانا اور کان نیچے کیے جلدی سے کنارے پر ہوگیا۔

کنارے کنارے چلتے میں نے منہ اٹھا کر فضا میں ان سات پاکیزہ بوؤں کو سونگھا جن سے میں اپنے ساتھیوں کو پہچانا کرتا تھا لیکن مایوسی ہوئی کہ میری یاد میں محفوظ ان میں سے کوئی بو کہیں موجود نہیں تھی۔خیر ایسا بھی کیا، بھٹک رہے ہوں گے کہیں رزق کی کھوج میں، تلاش کیے پر مل ہی جائیں گے۔زیادہ ممکن ہے کہ وہ اس مکان میں محو استراحت ہوں جو وقت کی دھند سے بہت پرے اسی شہر کے اندر کبھی میری اور ان کی عافیت کاباعث ہوا کرتا تھا۔سو میں نے خود کو دلاسا دیا اور بازو میں ایک گلی کو نکلتے دیکھا تو خدا وندکا نام لے اس میں قدم رکھ دیا۔

میں، قطمیر کہ ہدایت پائے ہوئے سات پاکیزہ بو والے راست بازوں کا آٹھواں ساتھی ٹھہرایا گیا تھا اور جسے ان کی حفاظت پر مامور کیا گیا اور ان کے احوال میں شریک ٹھہرایا گیا تھا،اس فکر میں تھا کہ اپنے ساتھیوں کو تلاش کرپاؤں کہ میرے دل کو چین ملے۔

اس طلسم کدے میں داخل ہوتے ہیں میں نے مان لیا تھا کہ وہ شہر کہ جسے شہر افسوس کہیں، جہاں سے ہم نکل بھاگنے پر مجبور کردئیے گئے تھے، کوئی اور شہر تھا،یبوست کی دبیز تہوں میں سانس لیتا ہوا، دھول اڑاتے راستوں اور شام ڈھلے اندھیرے اور نیند میں ڈوب جانے  والا، اور یہ شہر جسے میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا اور اپنے تمام تر حواس کی مدد سے محسوس کررہا تھا،لاریب کوئی اور شہر تھا، ایک شہر نامطلوب کہ جس میں مجھے ڈر تھا کہ گئے زمانوں کے وہ سات پاکیزہ بوؤں والے نیک نہاد لوگ کہیں ہمیشہ کے لیے مجھ سے بچھڑ نہ گئے ہوں۔ کیا خبر انہیں اس مکان کا راستہ بھی نہ ملا ہو جو کبھی ان کا عافیت کدہ تھا۔

میں کہ سدا سے وہمی طبیعت کا تھا اور جلد پریشان ہوجانے والا تھا اسی ڈر کے گھیرے میں تھا کہ سخت انجان اور ناگوار بوؤں سے بوجھل ان فضاؤں میں کبھی مانوس بوؤں کا سراغ بھی لگا پاؤں گا کہ نہیں۔ میری تلاش کٹھن تھی اور طویل تھی سو مجھے طلب ہوئی کہ میں کچھ دیر کو کہیں ٹک کربیٹھوں اور جانوں کہ میری تلاش کا نقطہ آغاز کہاں ہے؟

میں اپنے دھیان میں تھوتھنی اٹھائے چہار سمت موجود عجائبات کو سمجھنے کی کوشش کرتا جارہا تھا کہ ایک گلی مڑتے ہی ایک سگِ نابکار کہ جسامت میں مجھ سے فزوں تر تھا میری راہ میں حائل ہوگیا۔میں نے بچ کر نکلنا چاہا لیکن وہ کہ صاف شری اور آمادہ فساد تھا میرے ارادوں کو فسق کرنے پر تلا ہوا تھا۔پہلے تو اس نے دانت نکوس کر مجھے ڈرانا چاہا لیکن مجھ پر اثر نہ دیکھ کر اس نے بھونک بھونک آسمان سر پر اٹھالیا۔

کہتے ہیں کہ کتا کتے کا بیری ہوتا ہے لیکن میں تو کسی کا بیری نہ تھا، نہ مجھے کسی کی حدود میں پسر جانے کا شوق تھا سو میں نے بہتیرا دم ہلا کر اسے اپنے دوست دارہونے کا یقین دلانا چاہا لیکن ناں صاحب، وہ کہاں ماننے والا تھا۔ابھی میں اس صورتحال سے چھٹکارہ پانے کی کوئی تدبیر سوچ رہا تھا کہ میں نے دیکھا کہ ارد گرد کے مکانوں اور دکانوں نے جیسے کتے جننا شروع کردئیے ہوں۔دیکھتے ہی دیکھتے پتا نہیں کہاں کہاں سے بہت سے خونخوار کتے اس فسادی کی پکار پر وہاں لپکتے چلے آئے۔میں نے پلٹنا چاہا تودیکھا کہ میرے عقب میں بھی کتے دیوار بنائے کھڑے تھے اورسب کے سب آمادہ فساد، مانو مجھے کچا ہی چبا جائیں گے۔وہ بدبخت نہیں جانتے تھے کہ میں عالم امثال سے اتارا گیا وجود ہوں اور فساد مجھ پر حرام ہے لیکن یہ وہ موقع تھا جب حرام و حلال میں حائل باریک پردہ ہٹ جاتا ہے سو میں نے اپنی وحشتوں کو آواز دی اور اپنی دم کی پھننگ سے قوس بناتے ہوئے ایک غیض میں گھوما اور سامنے والے پر جاپڑا۔وہ بہت سے اور میں اکیلا، جیسا کہ راست بازوں کے ساتھ ہوتا آیا ہے۔آن کی آن میں وہاں وہ غل مچا کہ خدا کی پناہ، جانے کون کون کس کس کو بھنبھوڑے دے رہا تھا۔

القط، مجھے ودیعت کردہ وحشت میرے کام آئی اور بہت سا دنگا مچنے کے بعد وہ زخم کھاکر ایک ایک کرکے میدان چھوڑ گئے،یہ الگ بات کہ میں خود بھی زخم زخم تھا۔میں فتح مند تھا مگر تھک چکا تھا اور میرے زخموں سے لہو رس رہا تھا، اب ایک ہی لگن تھی کہ کہیں دم لینے کا ٹھکانہ ملے تو آئندہ کا سوچا جائے مگر جانے خدا کو میری مزید آزمائش مقصود تھی یا میں ہی بولایا ہوا تھا کہ کسی ایسے راستے پر چل نکلا جس کے ایک چوراہے پر کوئی دیوار سی کھنچی تھی اور لوگ تھے کہ اس دیوار کے نیچے موجود خلا میں سے رینگ رینگ دوسری طرف جارہے تھے۔میں کچھ حیران سا اور کچھ پریشان سا لوگوں سے بچتا بچاتا انہی کی طرح اس خلا میں سے گزر گیا لیکن بے دھیانی میں تاروں کے بڑے بڑے گچھوں میں پھنس کر خود کو زخمی کرابیٹھا(بعد میں معلوم ہوا کہ انہیں خاردار تاریں کہا جاتا ہے اور یہ اس دیوار کے پار کسی نامعلوم خطرے کے پیش نظر بچھائی گئی تھیں۔)خود کو ان کانٹے دار تاروں سے چھٹکارہ دلانے کے جتن میں میں نے دیکھا کہ دیوار کے پار سے آنے والے لوگ بہت اطمینان کے ساتھ ان تاروں سے بچ کر اپنی راہ چل رہے تھے۔میں نے جانا کہ مصائب کو جان لینا راحت کا اور نہ جاننا تکلیف کا باعث  ہوتا ہے۔سو میں نہ جاننے کی تکلیف اٹھا کر وہاں سے نکلا اور ایک خاموش گلی میں داخل ہوگیا۔

وہ ایک نیم تاریک اور اداس گلی تھی جہاں دائیں بائیں مکان تھے اور ان مکانوں میں تاریکی اور خاموشی کا راج تھا۔ میں ایک کھلی جگہ پہنچا تو وہیں پیشاب سے دائرہ کھینچ کر اپنی عمل داری کا علاقہ قائم کیا اور پھر ایک قصاب کے پھٹے تلے گوشت کی مدھر بو کی سنگت میں پڑرہا۔وہاں ایک اطمینان یہ بھی میسر تھا کہ علاقے کے فسادی کتے اب میرے قریب آنے سے گریز کریں گے اور دوسرے یہ کہ کچھ پیٹ کا آسرا بھی ہوجائے گا۔

ایک تو بے تحاشا تھکن اور پھر بدن پر لگے زخموں کی جلن،سو میں رات دیر تک جاگا کیا اور سوچا کیا کہ نیکی کیا ہے اور شر کیا ہے اور  ایک میری نوع اور ایک میرے نیک نہاد ساتھیوں کی نوع اپنی کو کھ میں شر کے بیج کیوں پروان چڑھائے پھرتی ہے؟

پو پھٹے میں نے اگلی ٹانگوں کو پھیلا کر ایک طویل انگڑائی لینے کے بعدنئے دن کو خوش آمدید کہا اور پھر وہاں سے گوشت کے نام پر جو جنس خوردنی ملی بصد شکر پیٹ میں اتار اس شہر میں اپنے پہلے دن کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوگیا۔اس شہر میں یہ میری تلاش کا پہلا دن تھا۔میں نے سات پاکیزہ بو والے نیک نہاد دوستوں کو تلاش کرنا تھا کہ ہم تمام جنے اپنی غار میں واپس جابسیں اورمکڑی سے گذارش کریں کہ وہ پھر سے جالا بن کر ہمیں گروہِ دشمناں کی شری نگاہ سے محفوظ کردے، اس وقت تک کے لیے جب تک اسرافیل اپنے صور کی مہیب آواز سے ہمیں جگا نہ دے۔

میں قصاب کے پھٹے کی نیم تاریکی سے نکلا تو دیکھا کہ میرے سامنے پھیلا ہوا شہر، اس شہر سے یکسر مختلف تھا جو میں نے رات کو پایا تھا۔میں نے دیکھا کہ وہاں رونق یا چہل پہل تو نہیں تھی البتہ لوگوں کی بہت آوا جاوی لگی ہوئی تھی۔صبح ہوتے ہی سب کے سب لوگ، کیا بڑے، کیا چھوٹے، ایک شتابی کے ساتھ آجارہے تھے۔ کوئی اپنے قدموں پر چل رہا تھا تو کوئی کسی نہ کسی طرح کی پہیہ گاڑی پر سوار تھا مگر سب کے سب چپ چاپ اور ایک دوسرے سے کترائے ہوئے جیسے سب کو سب کے ہونے سے خطرہ ہو۔میں بھی متعجب سا ایک طرف کو ہو لیا۔

اس شہر کی روشن رات تو خیر سرا سر فریب تھی البتہ دن بہت کچھ ویسا ہی تھا جیسا اس شہر کا جسے صدیوں پہلے ہم چھوڑ کر قدیم بنجر میں پناہ گزین ہوئے تھے۔ یوں میں نے جانا کہ میں فی الواقعی شہر افسوس میں ہوں جس کا بہت کچھ بدل گیا تھاالبتہ روح وہی تھی، یبوست زدہ اور مرجھائی ہوئی۔شہر افسوس کی طرح یہ شہر بھی رات کا روپہلی چوغہ اترنے پر ایک مایوس اور تھکی ہوئی بوڑھی طوائف ایسا دکھنے لگا تھا جس کی بے رنگی انگ انگ سے ہویدا تھی۔

میں نے گھوم پھر کر دیکھا کہ شہر کی ساری چھوٹی بڑی عمارتیں جیسے قلعہ بند تھیں، کوئی روزن نہ کوئی کھڑکی۔اگر کبھی تھیں بھی تو انہیں اینٹیں چن کر یا لکڑی ٹھوک کر بند کردیا گیا تھا۔میرے سامنے مکانوں کے دروازے کھلتے اور پھر انسانوں کو اگلنے یا نگلنے کے بعد ٹھک سے بند ہوجاتے تھے۔ میں جس راہ بھی چلا کوئی ایسا دروازہ نہ ملا جو بھولے سے بھی کھلا یا ادھ کھلا رہ گیا ہو۔جانے لوگوں کو تازہ ہوا سے پرہیز تھا یا یہ خوف تھا کہ کوئی اچانک ان کے گھر وں پر حملہ آور نہ ہوجائے۔ وہاں گلیاں تو تھیں مگر اداس تھیں کہ کسی راہگیر کے پاس ان سے دو لحظہ بات  کرنے کی فرصت نہ تھی۔سو سارے میں ایک ویرانی سی ویرانی تھی، زمین سے آسمان تک کہ اگر وہاں کی زمین درختوں کی مہکار اور چڑیوں کی چہکار سے محروم تھی توآسمان بھی بد رنگ اوربھوکے کی تھالی کی طرح پرندوں کے وجود سے خالی تھا۔اور پھروہاں کوئی خوف سا خوف تھا کہ ہر شخص کے چہرے پر غصہ اور آنکھ میں ڈر لکھا ہوا تھا۔وہ جیسے کھلونے سے تھے چپ چاپ اور ایک دوسرے سے لاتعلق زندگی جیتے ہوئے۔

میں نے اپنی مبلغ عقل کو کام میں لاتے ہوئے جانا کہ ہماری نیند کے وقفے میں (جو نصف دن سے زیادہ کیا رہا ہوگا؟) بادشاہ دقیانوس نے کہ بدعقیدہ و بدبخت تھا اور ہم نیک نہاد لوگوں کی دشمنی پر ادھار کھائے بیٹھا تھا، اس شہر کو ہمارے لیے اجنبی بنادینے کی خاطر دربار کے چنیدہ جادوگروں سے کچھ ایسا کام لیا ہوگا کہ ہم غار سے پلٹیں تو یہ شہر ہماری پہچان سے باہر ہوجائے۔ یوں جادو کے زور سے اس نے شہر کا حلیہ تو بدل دیا تھا لیکن وہ بدعقیدہ اس شہر کی یبوست زدہ روح کو نہ بدل پایا تھا۔

 ایک اور عجیب بات جس کا میں رات کی مصنوعی روشنیوں میں پتا نہ چلاپایا تھا، یہ تھی کہ شہر کی بڑی شاہراہوں کے چوک چوراہوں

میں لوہے کی بے تحاشا چوڑی اور اونچی دیواریں کھڑی تھیں، یہ وہی دیواریں تھیں جن میں سے ایک کے نیچے سے میں گزرا تھا اور پھر کانٹے دار تاروں میں الجھا تھا۔بعد میں لوگوں کی سن سنا کر مجھ پر کھلا کہ ان دیواروں کو کنٹینر کہتے ہیں اور یہ لوہے سے بنے کمرے کے مصداق ہوتے ہیں اور ان میں جنس تجارت بھر کر بحری جہازوں میں لادا جاتا ہے اور پھر مہیب سی پہیہ گاڑیوں پر لاد کر جنہیں لوڈر کہا جاتا ہے ایک شہر سے دوسرے شہر لایا لے جایا جاتا ہے۔شہر میں البتہ انہیں راستے بند کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔کہنے کو تو میں نے یہ سب ایک رسان سے کہہ دیا ہے لیکن ان نامانوس الفاظ کا مطلب جاننے کے لیے مجھے جانے کس کس کا منہ تکنا پڑا۔لوگ ایک دوسرے سے دبے دبے انداز میں باتیں کرتے تھے اور پھر مجھے ان کی کہی بات کا مطلب سمجھنے کے لیے خود چیزوں کو سونگھ کر ان کی اصل کا پتا چلانا پڑتا تھا۔

خیر، میں نے گھوم پھر کر ایک ایک گلی کوچے کو چھان مارا مگر بس وہی ایک گلی نہ ملی جو مجھے مطلوب تھی کہ اس میں وہ پاکیزہ بو والے نیک نہاد بسا کرتے تھے جن کی مجھے تلاش تھی۔میں نے دیکھا کہ سائے لمبے ہوتے جارہے ہیں اور پھر تھکان نے بھی میرے بدن میں بسیرا کرلیا تھا سو میں چاہتا تھا کہ کوئی تنہا گوشہ ملے اور میں کہ رات بھر کا جاگا تھا،ذرا کی ذرا اونگھ لوں۔ابھی میں ایسا ارادہ کر ہی رہا تھا کہ گویا ایک آفت سی آگئی۔ اچانک گلی کی دوسری جانب سے بہت سے لوگ نمودار ہوئے۔ وہ بھاگ رہے تھے اور زور زور سے نعرے لگا رہے تھے۔ میں نے دھیان لگا کر سنا تو بس ایک ہی نعرے ’گو دقیانوس گو‘ کی سمجھ آسکی، مطلب اس کا البتہ مجھ پر کھل نہ پایا تھا(یہ عین ممکن ہے کہ نعروں میں وہ  والابادشاہ دقیانوس مذکور نہ ہو بلکہ اس نام کا کوئی اور بادشاہ ہو کیونکہ اب تک مجھے گمان ہوچلا تھا کہ یہ ملک کسی اور دقیانو س بادشاہ کا ملک ہے جو شاید اسی کی طرح سے بدعقیدہ بھی رہا ہو۔)

ہجوم کہ نعرہ زن تھا اس سرعت سے میری جانب لپکا کہ اگر میں جلدی سے دیوار کے ساتھ چپک نہ جاتا توقدموں تلے لوتھڑا بن گیا ہوتا۔اور پھر میں نے دیکھا کہ ان کے پیچھے پیچھے ایک اور ہجوم لپکا چلا آرہا ہے۔انہوں نے اسی طرح وردیاں کسی ہوئی تھیں جیسے میں نے جلتی بجھتی روشنیوں والے دروازوں پر ایستادہ وردی والوں کو دیکھا تھا۔یقینا یہ بادشاہ کے سپاہی تھے اور مفسد وں کا فساد مٹانے پر مامور کیے گئے تھے۔ ان میں سے ایک تو وہ تھے جن کے ہاتھوں میں ڈنڈے تھے اور دوسرے وہ تھے جن کے سروں پر لوہے کے خود اور ہاتھوں میں لوہے کی عجیب نالیا ں سی تھیں جو دیکھنے میں ہی خوف ناک لگ رہی تھیں۔ اگر میں نے ٹھیک سمجھا ہے تو انہوں نے کچھ ڈھالیں سی بھی اٹھا رکھی تھیں جنہیں وہ اپنے آگے رکھے یوں چل رہے تھے جیسے محاذ جنگ میں غنیم کا سامنا کرنے جارہے ہوں۔ جو بھی تھا لیکن میں انہیں دیکھ کر ڈر گیاکہ ان سب کے نتھنوں سے آگ نکل رہی تھی۔

انسانوں کی طرح میری نوع کو بھی خوب تجسس ودیعت کیا گیا ہے سو مجھ سے رہا نہ گیا اور میں بھی نعرے لگاتے ہجوم کے پیچھے پیچھے اپنی آواز ملاتا چلا کہ دیکھوں تو تماشا کیاہے؟ میں نے دیکھا کہ جب نعرے لگانے والے کھلے میں آئے اور ان کا تعاقب کرنے والوں سے ذرا فاصلہ ہوا تو انہوں نے نعرے لگانا موقوف کرکے ہاتھوں میں پتھر اٹھالیے اور لگے وردی والوں پر برسانے۔ پتھر جو ادھر سے برسنا شروع ہوئے تو ادھر سے بھی جواب آنے لگا جس پر میں نے کئی لوگوں کو گھائل ہوکر میدان چھوڑتے دیکھا۔لیکن عالم یہ تھا کہ ایک جاتا تو دس اس کی جگہ لے لیتے تھے۔دن بھر کی بے کیفی کے بعد اب کہیں جاکر دل بستگی کا سامان میسر ہوا تھا سو کچھ نہ سمجھتے ہوئے بھی میرا دل جوش سے بھرگیا اور میں بھی وردی والوں کی طرف منہ کرکے لگا نعرے لگانے۔

بات یہیں پر نہیں رکی بلکہ میں نے دیکھا کہ چہار سمت سے لوگوں کے غول کے غول اس مقام پر امڈے چلے آرہے ہیں۔وہ سب بھی نعرہ زن تھے اور جوش میں بھرے ہوئے تھے۔ کھلے میں پہلے سے موجود لوگوں میں شامل ہوتے ہی انہوں نے بھی ہاتھوں میں پتھر اٹھالیے اور لگے تاک تاک کر نشانے لگانے۔اچانک میری آواز حلق میں ہی گھٹ گئی اور میں نے تھوتھنی اٹھا کر سونگھا تو مجھ سے کہیں دور دور پاکیزہ بوئیں میری جانب لپکی چلی آرہی تھیں۔

”اوہ! میرے خدایا، تو وہ یہاں تھے، اس نعرہ زن ہجوم میں اور میں انہیں گلیوں میں تلاشتا پھر رہا تھا۔“

اب بے قرار ہونے کی باری میری تھی سو میں نے دم کی پھننگ تک زور لگا کر ایک ایک کو نام لے کر پکارا۔اس شور میں میری کون سنتا سو میں لپکا کہ اپنے نیک نہاد دوستوں کو اپنے ہونے کی خبر کروں اور ان کی خبر معلوم کروں مگر کہاں صاحب، کہ وہاں ایک ہجوم تھا، ابلتا، مچلتا، جوش کھاتا،ہوش اڑاتا اور ہوش گنواتا۔میں قدم بھر بھی جو بڑھا ہوتا تو کچلا جاتا سو میں تعجب اور اضطراب کا مارا وہیں تماشائی بنا کھڑا رہا۔

میرے سوچنے کو اور بہت سے سوال جمع ہوچکے تھے۔ یہ کہ جوش میں بولایا ہوا یہ ہجوم کیا ہے؟یہ لوگ کیا چاہتے ہیں اور کیوں اپنی جان کے بیری بنے ہوئے ہیں جبکہ میں نے دیکھا تھا کہ شہر میں اور بہت سے لوگ تھے جو شانت تھے اور ایک دوسرے سے لاتعلق اپنی اپنی  کھال میں ڈوبے ہوئے تھے۔یہ وہ لوگ تھے کہ لوہے کی دیواروں کے نیچے سے رینگنا اور خاردار تاروں سے بچتے بچاتے جلتی بجھتی روشنیوں والے دروازوں میں سے سرجھکا کر گزرنا جنہیں گوارہ تھا۔اگر ایک گروہ وہ تھا تو یہ حلق کا زور لگاتے اور پتھر برساتے لوگ کون تھے؟

اگلا سوال یہ کہ پاکیزہ بو والے میرے نیک نہاد ساتھی اس ہجوم کا حصہ کیوں کر بنے؟ کیا میری طرح وہ بھی دھکازوری ہجوم کے نرغے میں آئے ہیں یا وہ۔۔۔؟اچانک ایک عجیب خیال نے میرے خیال کی رو کے بہاؤ پر روک لگادی۔یہ بھی تو ممکن ہوسکتا ہے کہ کسی  شدید اضطراب نے ان کی نیند میں خلل ڈالا ہو اور وہ بادشاہ دقیانوس سے (یا جو کوئی بھی بادشاہ تھا) اپناپرانا حساب چکانے کو سنگ باری کرنے والے ہجوم میں آشامل ہوئے ہوں؟ لیکن ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم عالم امثال میں موجود لوگوں پر فساد حرام ہے؟

میں سوچتا رہا اور الجھتا رہا۔

اس تماشے میں ابھی ایک اور تماشے کا اضافہ ہونا تھا سو ہجوم میں سے کوئی چلایا:

”ٹائر کہاں ہیں، ان خنزیروں کو ٹائروں کی دھونی دو۔“

”جلدی کرو ورنہ وہ ہلہ بول دیں گے۔“

جواب میں ہجوم کی جانب سے سامنے کی طرف گول گول پہیے پھینکے جانے لگے۔کچھ لوگ آگے بڑھے اور انہوں نے ان پر کچھ چھڑک کر انہیں آگ لگا دی۔ایکا ایکی شعلوں کی ایک دیوارسی  بلند ہوئی اور ساتھ ہی دھواں بھی کہ اتنا کالا سیاہ اور زہریلا تھاکہ میری جان ضیق میں آگئی۔اب وہاں دھواں ہی دھواں تھا اور اس کے پار ناچتا، گاتا، شو رمچاتا ہجوم تھا۔میں نے چاہا کہ وہاں سے سٹک لوں لیکن کہاں کہ چہار اطراف لوگ ہی لوگ تھے اور دھواں ہی دھواں تھا۔

مجھے کچھ کرنا تھا ورنہ بہت دیر ہوجاتی۔

مجھے اپنی جان بھی بچانا تھی اور اپنی قوت شامہ کو رہنما کرکے اپنے ساتھیوں کو بھی تلاش کرنا تھا اور اس شہر نامطلوب سے دور لے جانا تھاکہ اسرافیل کے ساتھ اپنے وعدے کا پاس بھی ہم پر واجب تھا۔ ہماری بلا سے، ہماری غار کی عافیت اور نیند کیوں خراب ہو؟

ایک دھڑکا اور بھی مجھے لاحق ہوچکا تھاکہ ایسا نہ ہو کہ ہم واپس جائیں تو مکڑی پھر سے جالا بننے سے انکاری ہوجائے۔

میں ابھی اسی ادھیڑ بن میں تھا کہ اچانک جیسے قیامت سی ٹوٹ پڑی ہو۔وردی والوں کی جانب سے ڈزن ڈزن کی آوازوں نے وہاں موجود شور پر غلبہ پایا اور پھر میں نے سیٹی جیسی تیز آواز سے گاڑھے سفید دھوئیں میں لپٹی ہوئی کچھ نامعلوم چیزوں کو ہجوم کی جانب لپکتے دیکھا۔یہ دھواں کالے دھویں سے بڑھ کر زہر آلود تھا کہ میں روح تک آنسوؤں سے بھرگیا۔میں نے سانس لینا چاہا تو سانس نہ لیا گیا۔اسی آن میں نے آنسوؤں کی نمی سے پار دیکھا کہ لوگ افراتفری میں سر پر پاؤں رکھ کر بھاگ رہے تھے، کوئی کہیں تو کوئی کہیں۔ اس کے ساتھ ہی وردی والوں نے کہ شمار سے باہر تھے اچانک ہلہ بول دیا،یوں کہ بھاری قدموں کی دھما دھم سے زمین لرزنے لگی۔ میں اگر دم گھٹنے سے نہ مارا جاتا تو بھاری قدموں تلے آگیا ہوتا مگر اسرافیل کے ساتھ میرا وعدہ میرا محافظ تھا سو جانے کب اور کیسے میں وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوگیا۔

جانے کب میری جان میں جان واپس آئی اور میں نے دیکھا کہ میں دھواں دھار فضا سے دور شہر کے کسی اور کوچے میں کچھ اور لوگوں کے درمیان موجود تھا۔دھواں اب بھی دکھائی دے رہا تھا مگر بہت دور سے اور وہ لوگ ایک لاتعلقی کے ساتھ اس ہونی پر بات کررہے تھے جو ان پر نہیں کچھ اور لوگوں پر بیتی تھی یا بیت رہی تھی۔میں کہ اس ہونی کا عینی شاہد تھا اور ان لوگوں کو ان دوسرے لوگوں کے بارے میں اور پھر اپنے پاکیزہ بو والے نیک نہاد ساتھیوں کے بارے میں بتانا چاہتا تھا لیکن میری سننے والا کون تھا؟ان کے شہر پر ہلہ بولا جارہا تھا مگر وہ  ہاتھوں پر ہاتھ مارتے، ہنس ہنس دہرے ہوتے اس بارے میں بات کررہے تھے۔شاید وہ ہلہ بولنے والوں کے ساتھی ہوں۔ان میں سے ایک جو باریش تھا اور خوب پھیلے ہوئے پیٹ والا تھا ایک ٹھکنے سے مخاطب ہوکر بولا:

”میں تو کہتا ہوں کہ گو گو کے نعرے لگانے والوں کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے۔“

”ان حقوق مانگنے والے منحوسوں نے ہم شاہ پرستوں کی زندگی بھی اجیرن کررکھی ہے،“ یہ ٹھگنا تھا جو تلخ لہجے میں بول رہاتھا، ”ساری مشکلات کا سامنا تو ہمیں کرنا پڑتا ہے، ان کے روز روز کے احتجاجوں کی وجہ سے۔“

”اور کیا،کنٹینروں کے نیچے سے تو ہمیں رینگنا پڑتا ہے، واک تھرو گیٹس پر تو ہمیں تلاشی دینا پڑتی ہے۔“

”لو اور سنو، کل رات میری بیوی کنٹینر کے نیچے سے رینگ رہی تھی کہ ایک حرامی نے اندھیرے میں۔۔۔“

”وہ ضرور ان شرپسندوں کا ساتھی ہوگا۔“

کوئی کچھ اور بھی کہتا کہ اچانک دور سے دھماکوں کے ساتھ تیز سیٹیوں کی آوازیں ٹھہری ہوئی فضا کو چیرنے لگیں، میرے کان بھی کھڑے ہوگئے۔

”سن رہے ہو؟“

”ہاں، گولی چل گئی ہے۔“

”گولی؟“مجھے بات کی سمجھ نہ آئی۔

”مارو سالوں کو، ڈزا ڈز کردو، ایک ایک کو۔“

ابھی میں بات کو سمجھنے کی کوشش ہی کررہا تھا کہ فضا میں کچھ اور تیز قسم کی ڈوبتی ابھرتی آوازیں گونجنے لگیں۔

”لو ایمبولینسیں بھی آگئیں۔“

”اوئے شیدے! ٹی وی لگا، لائیو آرہا ہوگا۔“ کسی نے ہیجان بھری بلند آواز میں کسی سے کہا۔

”لائیو، تمہاری ماں کا سرآئے گا، انہوں نے تمام سکرینیں کالی کرادی ہیں۔“

”اوہ،بہن کے دینے! سارا مزہ کرکرا کرادیا۔“ کوئی ڈوبے ہوئے لہجے میں بولا۔

مجھے بات کی ٹھیک سے سمجھ تو نہیں آرہی تھی لیکن ان کے ہیجان اور جوش کو دیکھ کر اندازہ ہورہا تھا کہ وہاں کچھ بہت خوفناک ہورہا ہے۔مبہم اور بے شکل کے وسوسوں کے مارے میرا دل ڈوبنے لگا۔

”اوئے ٹھہرو، ادھر ہی رکو، ایمبولینسیں ادھر سے ہی گزریں گی۔“

”ہاں! ٹھیک ہے، لگتا ہے بہت سے لوگ مرے ہوں گے۔“

میں بولنے والے کی آواز میں چھپی خواہش کو صاف محسوس کرسکتا تھا۔زیادہ دیر نہ گزری کہ وہی تیز اور ڈوبتی ابھرتی آوازیں ہماری جانب آنے لگیں اور اچانک یہاں چپ چانت ہوگئی۔ میں نے دیکھا کہ اس جگہ جمع لوگوں کے چہروں پر اشتیاق سا جھلک رہا تھا۔

کچھ ہی دیر گزری کہ وہاں سے ایک کے بعد ایک پہیہ گاڑیاں گزرنے لگیں۔ان گاڑیوں میں ڈوبتی ابھرتی تیز آوازوں کے ساتھ چھت پر لگی روشنیاں بھی گھوم رہی تھیں۔

میں وہاں سے چل دیا۔

میرا دل بوجھل تھا اور قدم اٹھائے نہیں اٹھ رہے تھے۔ جانے یہ سب کیا چل رہا تھا؟ پتا نہیں کون سی بولی بول رہے تھے یہ لوگ کہ میرے پلے کچھ نہیں پڑا تھا۔کچھ ہی دیر گزری کہ میں کسی اور کوچے میں کچھ اور لوگوں کے درمیان تھا۔وہاں بھی شہر میں ہونے والی انہونی پر ہی بات ہورہی تھی لیکن ان کے لہجے بوجھل اور الفاظ ایک دوسرے سے روٹھے روٹھے سے تھے۔گمان ہے کہ یہ لوگ ان لوگوں کے ساتھ ہمدردی رکھتے تھے جن پر ہلہ بولا گیا تھا۔

”بہت ظلم کیا ہے ان ماں یکّوں نے،“ کوئی دلگیر لہجے میں کہہ رہا تھا، ”یہ بھی نہیں بتارہے کہ کتنے مرے ہیں اور کتنے زخمی ہیں۔“

”ٹی وی، ریڈیو، انٹرنیٹ سب بند، خبر کا کوئی ذریعہ نہیں چھوڑا نہوں نے۔“

”اب پریس ریلیز پر ہی یقین کرنا پڑے گا۔“ کوئی زہر خند لہجے میں بولا۔

”ایسی سنسر شپ تو جنگ کے دوران بھی نہیں ہوتی۔“

”وہ دیکھو، پرزنرز وین،“ کوئی مارے ہیجان کے چیخا۔

”ایک نہیں کئی ہیں، اسی طرف آرہی ہیں۔“

کسی نے پنجوں کے بل کھڑے ہوکر ہاتھ کو چھجا بنا کردور سے آتی پہیہ گاڑیوں کو دیکھا۔

”اوئے مارے گئے۔“

”کیا ہوا؟“

”یہ جیل یا پولیس کی گاڑیاں نہیں ہیں۔“

”تو!؟“

”یار، خود سمجھ لو نا کہ بندے گرفتار نہیں ہوئے، اٹھائے گئے ہیں۔“

اس سے پہلے کہ گاڑیاں وہاں پہنچتیں اچانک بہت سے وردی والے وہاں آگئے اور لوگوں کو ڈنڈے مار مار کر بھگانے لگے۔ تھوڑی دیر میں وہاں صرف میں ہی میں تھا،اس تماشے کا واحد تماشائی!

اور پھر پہیہ گاڑیاں، ایک کے بعد ایک زن زن گزرنے لگیں۔لیکن یہ کیا؟ ان گاڑیوں کے جلو میں تو وہ بوئیں بھی تھیں جن کے ہونے سے میرے جسم و جاں میں سرشاری بھری رہتی تھی۔

میں ایک دم سے پھننگ تک جوش سے بھرگیا۔

میرے کان کھڑے ہوئے اور میری دم کا پرچم لہرانے لگا، وہ انہی گاڑیوں کے اندر تھے جو نامعلوم سے نامعلوم کی جانب جارہی  تھیں۔میں نے پہچان لیا، ایک گاڑی کے اندرماکسلمینا تھا اورطنونس تھا، دوسری گاڑی کے اندر کئی دوسرے لوگوں کے ساتھ مرطونس، کشفیط اور زنوس بند تھے، ان سے پیچھے والی گاڑی میں یمیلخا اور سب سے پیچھے والی میں بہت سے دوسروں کے ساتھ سارینونس۔۔۔”اوہ خدایا! کہاں جارہے ہیں یہ لوگ اور کیوں جارہے ہیں اور پھر میرے بغیر؟ ناممکن! بالکل ناممکن! وہ مجھے چھوڑ کر کیسے جاسکتے ہیں؟“

”دقیانوس۔۔۔!!!“ میں نے چیخ کر بادشاہ کو للکارا۔

خیر، وہ ظالم میری غیض بھری للکار کو کیا سنتا،مجھے اپنا وقت کھوٹا نہیں کرنا تھا، جیسے بھی ہو مجھے ان پہیہ گاڑیوں میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہی جانا تھا۔میں نے یہ سوچا تو ایک ایک کونام سے پکارتے ہوئے گاڑیوں کے پیچھے دوڑ لگادی۔

آہ! مگر وہ مٹی کا طوفان کہ جس نے گاڑیوں کو اپنی لپیٹ میں لے کر میری نظروں سے ہمیشہ کے لیے اوجھل کردیا۔تب شاید میرا دم ٹوٹ گیا تھا یا شاید مجھے نیند آگئی تھی، پتا نہیں کیا ہوا تھا لیکن کچھ ایسا ضرور ہوا تھا کہ میں حواس سے بیگانہ ہوگیا تھا۔

جانے کتنی صدیاں، جانے کتنے یگ؟شاید بہت سے زمانے بیت گئے تھے جب میں نے خود کو ایک عبادت گاہ کے باہر پایا۔ میں نے آنکھ کھول کر دیکھا کہ میں گندے پانی کے بہاؤ میں پڑا تھا اور مر مرا کر ڈھانچ سا رہ گیا تھا اور اندر کا یہ احوال تھا کہ جیسے میں سر جھکائے کسی خلا میں داخل ہوا جارہا ہوں۔

تب عبادت گاہ سے کوئی خوش الحان سی صدا بلند ہوئی اور میرے دل کے تاروں کو چھیڑتی چلی گئی۔کچھ دیر بعد میں نے دیکھا کہ نیکو کاروں کی ایک جماعت ٹوپیاں سر پر رکھے اور اپنے چہرے پر نیکی کا غازہ ملے عبادت گاہ کی سیڑھیاں چڑھ کر اندر داخل ہورہی ہے۔ان میں اکثر بوڑھے تھے،سفید براق داڑھیوں والے اور ان کے ساتھ چند جوان بھی تھے جن کی چھوٹی چھوٹی سیاہ داڑھیاں کیسی بھلی لگ رہی تھیں!

مجھے ایک تسلی سی ہوئی کہ اس شہر میں سب برا نہیں،کچھ اچھا بلکہ بہت اچھا بھی ہے۔

دیر بعد مجھے خیال آیا کہ میں کیوں پیچھے رہوں سو میں بھی عبادت گاہ کی سیڑھیاں چڑھ گیا۔ میں نے اندر جھانکا تو وہ سب نیکو کار لوگ عبادت میں مصروف تھے۔ میرا دل بھرآیا۔ ”مجھ سے بڑھ کر خداوند کے قریب اور کون ہوگا؟۔کیوں نہ میں بھی ان خدا والوں کے ساتھ مل کر اپنے خدا وند کی حمد و ثنا کروں جس نے نیند کو ہماری پناہ بنادیا تھا۔کیوں نہ میں ان میں شامل ہوکر پاکیزہ بو والے نیک نہاد لوگوں کی سلامتی کی دعا مانگوں اور پھر کسی کی گود میں منہ چھپا کر دل کا سارا غبار آنکھوں کی راہ بہادوں؟“

میں نے صدق و صفا کو اپنا گواہ بنایا اور عاجزی کو اوڑھ کر عبادت گاہ کے اندر داخل ہوگیا۔میں دیوار سے لگے لگے آگے بڑھا اور پھر اگلی صف میں ایک بزرگ کے ساتھ لگ کر سجدہ ریز ہوگیا۔تب میری آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور دل گداز سے لبریز تھا۔ میں تادیر سجدے میں رہنا چاہتا تھا مگر اچانک اٹھنے والے ایک شور نے مجھے سراٹھانے پر مجبور کردیا۔

کیا دیکھا کہ سب لوگ اپنی عبادت موقوف کرکے کھڑے ہوگئے تھے اور چیخ چیخ کر کچھ کہہ رہے تھے۔ان کا مخاطب میرے سوا کوئی اور نہیں تھا۔

”یا وحشت! آن کی آن میں کیا ہوگیا انہیں؟“

میں جس مہربان بزرگ کے ساتھ لگ کر بیٹھا تھا سب سے زیادہ وحشت ناک حالت بھی انہی کی ہورہی تھی۔وہ میری طرف اشارے کرکے ہیجان کے عالم میں چیخے جارہے تھے اور اپنے لبادے کو جھٹکے جارہے تھے۔ اور پھر اچانک سب لوگ اپنی جوتیوں کی طرف دوڑے اور دیکھتے ہی دیکھتے مجھ پر جوتیاں برسنے لگیں۔

میں ہکا بکا، انہیں کچھ بتانا چاہتا تھا لیکن ان کی حالت غیر تھی او ر میں مسلسل جوتیوں کی زد میں تھا۔

مجھے لگا کہ انہیں میرا وہاں آنا پسند نہیں آیا۔اگر ایسی بات تھی تو وہ مجھ سے از راہ شائستگی معذرت بھی کرسکتے تھے، ان کی دل شکنی کا سوچ کر میں خود ہی وہاں سے چلاآتا کہ عبادت تو کہیں بھی کی جاسکتی تھی مگر خداوند کی مخلوق کے ساتھ معاملات کرنے کا یہ تو کوئی انداز نہیں۔

اے معزز قاری، آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ اس توہین اور ذلت کے باعث میرے پہلے سے زخمی دل پر کیا گزری ہوگی۔لیکن خیر، اللہ کے نیک بندوں کو کب کب آزمائشوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا؟۔میرے وہ سات نیک نہاد ساتھی بھی تو ہیں جن میں سے ہر ایک پاکیزہ بو کے ہالے میں جیا کرتا ہے۔میں قطمیر، ایک بندہ پرتقصیر، اپنے شکستہ دل کو لیے اس شہرنا مطلوب کو کب کا چھوڑ کر جاچکا ہوتا لیکن ایک آس ہے جس نے مجھے اس شہر کی گلیوں اور چوراہوں کے ساتھ باندھ رکھا ہے۔

آپ بھی میرے ساتھ مل کر دعا مانگیں خداوند رحیم و کریم سے کہ وہ مجھے میرے نیک نہاد ساتھیوں سے ملادے تاکہ میں انہیں لے کر غار کی عافیت میں لوٹ سکوں اور اسرافیل سے اپنے وعدے کا پاس کرسکوں۔

٭  ٭  ٭

محمد عاطف علیم


محمد عاطف علیم
شاعر، افسانہ اور ناول نگار ہیں۔ مشک پوری کی ملکہ اور گرد باد ان کے اب تک آنے والے ناول ہیں، جنہیں قارئین اور نقادوں میں بہت پذیرائی ملی ہے۔

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form