محمد زمان ظامی،راشد مجازی

شعبہ اُردو ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ

شہید ابنِ علی کی شاعری

فکرِ اقبال اور اُس کی شاعرانہ پیشکش بیسویں صدی کی تاریخِ ادبیات کاایک معجزہ ہے۔اقبال نے اپنے فکری عناصر کی عمارت خود شناسی اورخود آگاہی کے ایسے مضبوط ستونوں پر تعمیر کی ہے۔ جس کی بنیادوں میں عشقِ نبویؐ کی تجلّیات،اُمید ورجا کا پرچار، مسلمانوں کے ملیّ تشخص کی انفرادیت،خیروشر کی ازلی کش مکش کی عکاسی اور خوابِ غفلت سے بیداری کے جوہر نمایاں ہیں۔وہ اپنے کلام کے ذریعے ہندی مسلمانوں میں حجازی رُوح پھونک کر اُن کی نشاطِ ثانیہ کے خواہاں تھے۔ اس لیے اُن کی یہ صدائے ملتِ اسلامیہ کا گراں بہاسرمایہ ثا بت ہوئی اور ان کے فلسفہ حرکت وعمل ،تصّورات ونظّریات اور فکروفکر کی شاعرانہ عظمت نے معاصرین اورمتاخرین کو کسی نہ کسی صورت متاثر کیا۔چنانچہ فکرِ اقبال سے متاثر معاصراورپس رو ایک قافلہ کی صورت اختیار کرگے۔اسی قافلہ کے ایک باخبر راہ رُو شہید ابنِ علی بھی ہیں۔جنہوں نے ملتِّ اسلامیہ کی زبوں حالی کا درد اپنے سینے میں محسوس کرتے ہوئے تقلیدِ اقبال میں شاعری کو اپنے پیغام کی ترسیل کا ذریعہ بناکر،مختصر عرصہ حیات  میں احیائے ملّتِ اسلامیہ کے لیے،اپنا جو شعری سرمایہ چھوڑا  وہ ہماری نظریّاتی وملّی شاعری کا انمول باب ہے۔                                                                                        

       اگر شہید ابن علی کی شاعری کا بغور مطالعہ کیا جائے تو اُن کے کلام میں اُمید ورجا کا پرچار،حرکت وعمل کی دعوت ،عشقِ نبویؐ سے گہری وابستگی کا اظہار،جذبہ حریت وآزادی کا اعلان ،راہبیت کے خلاف اشعار،معاصرملکی، مذہبی اورسیاسی حالات کی نقاب کشائی،خودی اورخوداری کے اوصاف کی عکاسی اور فنی اسلوب سب اقبال سے اکتسابِ فیض کے شواہد ہیں۔

شہید  کے کلام پر فکرِاقبال کی چھاپ اور اکتساب اقبال کے بارے میں پروفیسرجعفربلوچ لکھتے ہیں:                  

''شہید کے افکار پر فکرِاقبال کا پرتو نمایاں ہے۔وہ اقبال سے متاثر تھے بلکہ اپنے مخاطب کو اکتسابِ  اقبال کا مشورہ دیتے تھے جس کی وضاحت اُن کے اس شعر سے بھی ہوتی ہے۔      

حافظ شیراز کورکھ طاق میں

سیکھ درسِ زندگی اقبال سے''(۱)

شہید ابن علی کا اصل نام ''حیات اللہ'' تھا۔آپ ''دائرہ دین پناہ مظفر گڑھ'' کےایک غریب کاشتکارگھرانے میں پیدا ہوئے تاریخ پیدائش کے حوالے سے درست معلومات نہیں۔معروف شاعر اور مدیر ''پیغامِ ترقی'' مظفر گڑھ ''کشفی ملتانی'' شہید ابن علی کے بارے میں لکھتے ہیں:                                                                              

''شہید ابن علی کا اصل نام ''حیات اللہ'' اور ''شہید''تخلصّ تھا۔کچھ عرصہ تک''حیات اللہ شہید'' کے نام سے لکھتے ہیں۔ان کے والد کے نام کا جزو ''علی'' تھا۔ اسی نسبت سے انھوں نے بعد میں ''شہید ابن علی'' کا قلمی نام اختیار کیا۔ دائرہ دین پناہ سے اُنھوں نے مڈل کا امتحان پاس کیا اور بعد میں نارمل پاس کر کے بصیرہ ضلع مظفر گڑھ میں ٹیچر مقرر ہوگئے۔ زراعت کاکورس کرنے لائل پورگئے ہوئے تھے کہ انہیں نمونیہ لاحق ہوا اور جان لے کر ٹلا۔ وفات کے وقت وہ غیرشادی تھے اور عمر تیس سال سے کم تھی۔''۔۔۔(۲)                                                                                    

      فروری ۱۹۳۹ کو ''ادبی دنیا'' میں مولانا صلاح الدین احمد نے شہیدابن علی کی وفات پرجو شزدہ لکھا تھا اُن کے مطابق شہیدابن علی کی وفات جنوری ۱۹۳۹ میں ہوئی،مزکورہ بیان کی روشنی میں قیاس اغلب ہے کہ تاریخ پیدائش ۱۹۸۹ءکے لگ بھگ ہوگی۔                                                                                                  

      شہید ابن علی تحریکِ آزادی کے پرجوش مبلغ اورقادرالکلام شاعرتھے۔اُن کی پختہ کلامی کے بارے میں مولانہ صلاح الدین احمد لکھتے ہیں:

"شہیدابن علی ایک نہایت خوش ذوق اورخوش گوشاعرتھےاورمنصوراحمدمرحوم ومغضورکے شاگردوں میں ایک امتیازی درجہ رکھتے تھے۔جن احباب نے شہید کا مرثیہ پڑھا جو اُنہوں نے منصوراحمدمرحوم کی وفات پرلکھا تھا اُنہیں اُن کےکلام کی پختگی اور اثرافرینی کا بخوبی احساس ہوگا۔''ادبی دنیا''میں وقتاَ فوقتاَان کی جوچیزیں چھپتی رہی ہیں انہیں خواص نہایت احترام کی نگاہ سے دیکھا ہے۔''    (۳)

شہید ابن علی تحریکِ آزادی  کےعلمبردارتھے وہ شاعری کےذریعےہندی مسلمانوں میں آزادی کی تحریک بیدارکرکے اُن میں مردِحُرکی صفات پیدا کرنےکےخواہاں تھے،انھوں نےاپنے اس جذبےکوامت مسلّمہ تک پہنچانےکیلئے نہ توفرنگی استعمارسےمصلحت بینی اختیار کی اور نہ ہی خاموش رہے بلکہ فرنگی استعارکےعین عالم شباب میں بھی اُن کاقلم نہایت جرآت وبےباکی سےنعرہ آزادی لگاتا اورجزکھاتا دکھائی دیتا ہے۔

چنانچہ اس خصوص میں شہید کا درجہ ذیل اظہاریہ اُن کی نظم''ٹیپو کے نام وصّیت'' سے ملاحظ ہو:

حلقوں   میں  مقید  نہیں  رہ سکتی کبھی  رُوح                  

رہتے  ہیں  سلاسل  میں بھی مردان حُر آزاد                  

کٹ کٹ کےجوانوں کی طرح جنگ  میں گرنا              

میسور   میں   کرنا   نہ   غلامی   مگر   ایجاد      (۴)              

شہید کے کلام میں خودی کا وصف نمایاں ہے۔وہ اقبال کی طرح مسلمانوں میں خودی اور خوداری کا گوہرنایاب پیدا کرناچاہتے ہیں۔ اس لیے خودی کو تمام امور کا سرچشمہ قرار دیتےہیں۔شہید کے ہاں خودی کا مقام عبوریت یقین ایقان لیے ہوئے ہے۔وہ خالقِ کائنات سے ہم کلام ہو کراپنی کم مائگی کا رونا نہیں روتے بلکہ عظمتِ انسانی کا پرچار کرتے دیتے ہیں،جس کا اظہار ان کی نظم''رازونیاز''سے ہوتا ہے:

  نقشِ طرازدہرتوروح وروانِ  دہرمیں

میرے بغیراےخدا تیراکمال  نا تمام

سچ  نہ کہو اے خدا عالم ِناثبات  پا

تیرےبغیرناتمام مییرےبغیرنا تمام    (۵)

شہید مضت کی نزرونیاز اور الطاف وعنایات کے نہ تو قائل ہیں اور نہ ہی اُنکی خوداری اپنی خودی سے مستثنیٰ دکھائی دیتی ہے۔وہ عمل ہریقینِ کامل رکھتے ہیں حرکت وعمل کےذریعےسستی وکاہلی کے فرسودہ نظاموں میں تبدیلی کے خواہاں ہیں اس ضمن میں اُن کی نظم ''اعتبارِعمل'' کا ایک ایک مصرع اپنے اندر خودی کا ایقان وعرفان لیے ہوئے ہے:

کہتا  تھا  اک  بندہ خود  دار  خُدا سے

اے انفس و آفاق میں پیدا تیرےآیات

میں  بندہ دوں  ہمت ومختاج نہیں ہوں

مانا  کہ تو  ہے صاحبِ  الطاف  و عنایات

پاداشِ عمل ہے تومیں  حاضرہوں عطا کر

ہونا رِجواں  شعلہ  کہ ہو  خلد مسرات

لیکن اگر  اظہارِ کرم ہے توانھیں ڈھونڈ

تھی ہدیہ  ونذرانہ  پہ جن  کی گزر اوقات     (۶)

اقبال کی طرح شہیدابن علی عشقِ رسولؐ اور اسلامی تشخص کی متاع لازوال سے مالامال تھے۔اُن کے ہاں اسلام روشنی وہدایت کی صورت عالمِ انسانیت کے لیے حقیقی پناہ ہے۔وہ اسلام کی برکات اورآفاقیت پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔ اس لیے اُن کے ہاں اسلام کا ملی تشخص محض پیغام نشاط نہیں بلکہ ایسا مربوط نظام فکر ہے۔ جس میں بنو نوع انسان کی دائمی کامیابی ہے۔ چنانچہ جب ہندوستان میں بعض ترقی پسند مسلمان اہلِ قلم اور اہلِ سیاست تشکیک و ارتیاب کے اندھیروں میں بھٹک کر "ہندو مسلم بھائی بھائی"کے نعرے لگا کر اپنے اسلامی تشخص کو پامال کر رہے تھے۔ تو انہوں نے اس نظریات کو نہ صرف رد کیا بلکہ اپنی جداگانہ ملی تشخص کی بقا کیلئے "دعوت نامہ اسلام : اچھوت کے نام" ۲۳ بند پر مشتمل ایک مسدس لکھا جس میں اسلام کے ملی تشخص کی انفرادیت اور ہندووٗں کو دائرہ اسلام میں لانے کی تبلیغ کی گئ۔ اس نظم کے ہر بند سے شہید کا عشق رسولﷺ ، اور اسلامی تشخص سے گہری وابستگی کا اظہار نمایاں ہوتا ہے:

اپنی  محرومی  قسمت کا  نہ غم کا  اے دوست

کر  نہ سفا  کی  تقدیر  کا   شکوہ  اے   دوست

دل میں و سواس مذلت کا کچھ نھ لا اے دوست

اپنی  لایعنی  نجاست  پہ  نہ  شرما  اے دوست

ملت  احمد  مرسلﷺ میں  تو  ناپاک نہیں

تو  شمیم  رگ   گل   ہے  پر   خاشاک  نہیں     (۸)

شہید کے تمام تر توجہات کا مرکز ذات رسول ہے۔ وہ ہر اس ذات کو اپنی محبت کا مرجع قرار دیتے ہیں۔ جو عشق رسول میں اطاعت رسول کا مظہر ہو اور وہی انکا محبوب نظر ہے۔ اس کا اظہار وہ اپنی نظم "میرا محبوب"  میں کرتے ہوئے کہتے ہیں:

روز   ہیجا  جس  کے  پاؤں  کو جیال آساثبات

ضرب  جس کی  زلزلہ   انداز  قلب  کائنات

نزرِ  ملت ، نزرِ دیں  نزرِ وطن  جس  کی حیات

ہے  وہ  شاب   جنگ  آرا   میرا  محبوب  نظر   (۹)

شہید کے پیش نظر ایک وسیع نظریہ فکر اور مقصد حیات تھا اور اس مقصد حصول حرکت و عمل سے ممکن تھا۔اس لیئے حرکت و عمل کے بارے میں ان کا نقطہ نظر اقبال کے نقطہ نظر سے مماثلت رکھتا یہے۔ وہ ہندی مسلمانوں کو قنوطیت و خوابیدگی کی بجائے حرکت و عمل کی دعوت دیتے ہیں انہوں نے اتاترک مصطفے کمال پاشا کے وفات پر ایک کتابچہ لکھا جس میں انہوں نے مسلمانوں کو اشک ریزی کی بجائے حرکت و عمل کی ترغیب دی ان کی عایت ان کے اسعار سے حرکت عمل کی صورت میں نمایاں ہوتی ہے۔ وہ تمام تر ناکامیوں کا ذمہ دار سستی کاہلی اور نا امیدی کو قرار دے کر عمل کی ترغیب دیتے دکھائی دیتے ہیں:

حیات  روح    و عمل   جوہر   حیات  عمل         فروغِ     صبح     شبستانِ    کائنات   عمل

ملا فوق  فرشتوں   پہ  جس   سے  آدم    کو       ہے وجہ   فوق   وہ   مجموعہ   صفات  عمل

عمل ہےحق کی ہرستش عمل ہےحق کی تلاش   نگوں    زنِ   ہبل  ولات  و سومنات  عمل

اسی   سے  سینہ   فطرت   کے  راز کھلتے ہیں      ضمیر     تابِ    چراغِ     تجلیات    عمل

فرد   کے  واسطے   کا فی  ہے   بس  یہی  تفسیر       عمل   ثبات ، عمل   زند گی   ،عمل  تقدیر   (۱۰)

شہید کے کلام کے فکری رجحانات ایک تاریخی دور کی دین ہیں ، یہ دور انگریز سامراج کی غلامی اور سرمایہ داری نظام کے پیداکردہ طبقاتی نظام کے کرب و اضطراب کا دور تھا ۔شہید انسان کی فطری آزادی کے قائل تھے ، انہوں نے برطانوں سامراج کے دور عروج میں بھی مصلحت بینی اور خاموشی کی بجائے اعلان جہاد بلند کیے رکھا اور انتہائی جرآت و بے باکی سے آزادی کا نعرہ لگائے رکھا وہ ہندی مسلمانوں میں جذبہ حریت و آزادی بیداریکرنے کے خواہاں تھے اس خصوص میں ان کا درج ذیل اظہاریہ ملا حظ ہو:

حق ہم کوبھی رہنےکاہےعالم کی فضامیں

پیغام   غریبوں   کا   امیروں  کو سُنا  دو

پھلے    ہوئے  اب    پاؤں   ذرا   سمیٹو

اور ہم کو  بھی  اس وسعتِ آفاق میں جادو

ہوکر نہیں تو ظلم  سے بے تاب اٹھیں گے

اٹھے تو  محلات   میں  سیلاب  اٹھیں گے          (۱۱)

شہید دنیائےعالم میں ہونے والی خانہ جنگیوں اور امن کی تباہی کا ذمہ دار فرنگیوں کو قرار دیتے ہیں وہ عالمِ اسلام پر فرنگی تسلّط کے تمام منصوبوں کو بے نقاب کرتے ہوئے کہتے ہیں:

کار فرما مصر میں سحر فرنگ

اوردین سےوسعتِ ایراں میں جنگ

خاکِ  بطحابے  شرارو بے  بہار

سطوتِ یورپ سےخم اس کےحصار

ہند خانہ  جنگہوں   میں خون فروش

بے نیاز فکرو فہم وعقل وہوش (۱۲)

        سرمایہ ومحنت کی کشمکش،غلام اورسامراجی ممالک کے باہمی ٹکراؤ نے بیسویں صدی کوایک عظیم رزمیہ صدی بنادیا۔چنانچہ سرمایہ داری نظام کے خلاف جب دو سطحوں پر مخالف طاقتوں یعنی ملکی اور قومی سطح پر مزدور تحریک اور بین الاقوامی سطح پر غلام ممالک کی آزادی کی تحریک نے جنم لیا توانسانی زندگی زبردست قسم کے انقلاب سے دو چار ہوئی۔ہند میں یہ تحریک ترقی پسندوں کی صورت میں منتظر عام پر آئی ۔شہید ان تمام تحریکات سے ؎گاہ تھے۔اگر چہ وہ کسی تحریک کاحصہ تو نہیں بنے مگر اُن کے اشعار سرتمایہ درانہ نظام کے خلاف نعرہً حق بلند کیے ہوئے ہیں۔اس کا اظہاراُن کی نظم " اعلان" کے اشعارمیں وضاحت لیے ہے:

تہذیب کےآئین میں ترمیم کرو اب      

زلتِ کشِ افلاس کی تعزیر گھٹا دو        

حق ہم کوبھی رہنےکاہےعالم کی فضا میں

پیغام غریبوں  کا امیروں کو سُنا دو       (۱۳)

      شہید ابنِ ولی معاصرملکی،سیاسی اورمذہبی حالات سےباخبرتھےانھوں نے تحریکِ آزادی کے حصول میں رکاوٹ بننے والےچارعناصر کی نہ صرف نشاندہی لی بلکہ اپنے ناوک قلم سےطنزیہ ہدف کا نشانہ بنا کرانھیں بے نقاب بھی کیا۔ یہی مشکلات تحریک آزادی کی سالمیت کےلیےخطرہ تھیں ،چنانچہ پہلےگروہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پہ وہ گروہ ہےجوقوم کوقنوطیت وخوبیدگی کا درس دےکر جمودکا شکارکررہاہے:

ایک  پیر و فربہ  و  تیرہ  دروں                 بندہ   دہقان   پر  جس  کا   فسوں              

دے رہاہے قوم کو  درسِّ  جمود               دیں ہےاُس کی آنکھ میں رقص وسرور (۱۴)

       دوسرے گروہ کی نشاندہی کرتے ہوئے کہتے ہیں۔یہ اُن لوگوں کا گروہ ہے جو بظاہراسلام کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں لیکن درحقیقت اُن کے دلوں میں نہ تو خُوفِ خُدا ہے اورنہ ہی وہ جذبہ جہاد رکھتے ہیں، کا اعلان بھی کرتا تو اس پر فتویٰ کفر صادر کر دیتے ہیں:

دوسرا    ملائے   سوزو   گداز               نغمہ قم  سے  ہے  خالی  جسکا  ساز

لب پہ لائےگر کوئی حرف جہاد               کہتا  ہے  کافر  ہے یہ  افرنگ زاد (۱۵)

تیسرےگروہ میں ان خوشامدی درباری صفت لوگوں کی اصلیت بےنقاب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ گروہ بھی تحریک آزادی میں بڑی رکاوٹ ہے۔اِن کی نظر فرنگی سا مزاج کی نزرونیاز والطاف پر ہی اس لیئے ذاتی مفاد کی خاطران کے ہرجائزو ناجائز امر کے معاون بنے ہوئے ہیں :

تیسرے  اُن  رہنماؤں  کا گروہ           سجدہ سرکار ہے  جن کا شیوہ      

چوتھے گروہ کا تزکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں یہ وہ ٹولہ ہے  جو ملّت فروش ہے (۱۶)

چوتھے حکامِ  شہِ  پیماں  پناں        خوانِ نغماپر سدا جن کی  نِگاہ

بیچ  کر  جو  اپنی  مِلت  کا  لہو         کرتے ہیں بادہ سے پر اپنا سبو         (۱۷)

تا ریخ  گواہ ہے کہ یہی چار مشکلات تحریکِ ازادی کی راہ میں رُکاوٹ بنی ۔شہید ازادی فطرت اور حریت کیش شاعر کا فرض منصبی پر ہے کہ وہ قوم کو جمود کی دلدل سے نکال کر حریت و ازادی کے جذبہ سے ہمکنار کرے ۔ وہ غلامی کو روح کی موت قرار دیتی ہیں وہ ہندی مسلمانوں میں ٹیپو سلطان شہید کے اوصاف پیدا کرنے کے خواہاں ہیں اور غلامی سے میسور کی طرح لڑ کر شہادت کو ترجیح دیتے ہیں:

کٹ کٹ کےجوانوں کی طرح جنگ میں گِرنا

میسور    میں    کرنا    نہ    غلامی   مگر   ایجاد   (۱۸)

          وہ فتح نفرت کے لیئےاۤلات جنگ کی  کثرت و طاقت کی بجا ئے ایمانی طاقت پر یقین رکھتے ہیں اُن کے نزدیک تمام تر فتوحات کادارومدار ایمانی طاقت پر ہے :

تا بش نہ گر  ایمان  کی پہلو  میں ہو  دل تاب

بے  زور  جنگاہ   میں  پھر   بازوئے  فولاد (۱۹)

      شہید کی نظموں کے بغور مطالعہ معلوم ہو تا ہے کہ اُن کا عشق کسی ماورائی حسن کی بارگاہ میں سر تسلیم خم کئے ہوئے ہے شہید مراحل عشق وصل کے تمنائی نہیں اُن کے ہجر میں لذتِ وصال اور عشرتِ خیال کا گماں ہوتا ہے :

وصال ؟ امید درخشاں کی موتِ جاویداں                    

وصال ؟ لذتِ ارماں کی موتِ جاویداں  

وصال؟حسرتِ پنہاں کی موتِ جاویداں

تڑپ کے بدلے مجھے خواب مستندام نہ دے        

نہ دے  وصال  کی  لِلہ  صدائے  عام   نہ  دے         (۲۰)

دوسری جگہ لذتِ وصال اور عشرت خیال کا تزکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:

 نہ  ہو  تو  عشق  میں  پھر  لذتِ  وصال  کہاں؟

نہ  ہو  تُو  عشق  میں  پھر  عشرتِ خیال  کہاں:     (۲۱)

شہید کے کلام میں پیرانِ گوشہ نشین اور ان کے صوفیانہ مصطلحات و شاغل کی نقاب کشائی،ترک دنیا،راہبت کے خلاف اشعار اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ شہید دین خانقائی اور اس کے ٖفروغ میں معاون بننے والے تمام رجحانات کو بے نقاب کرنا چاہتے ہیں تاکہ امتِ مسلمہ اپنی توحیدی فکرپر قائم رہے:

عامل ہویانہ ہومجھےاس سےغرض  نہیں   اک بارتوسن  تولےمگرابنِ علی  کی بات

بے  فائدہ   نہ   چاٹ   گلِ   قبر   خواجہ  کو     ہرگزنہ ہوگی اس سےتری دفع مشکلات

سجدوں میں خود گدازہوہیجامیں خودشکن             بڑھ کرنہیں ہےاس سےکوئی نسخہً نجات (۲۲)

فنی لحاظ سےبھی شہید کا کلام عمدگی کے درجہ سے مالا مال ہے۔ شہید کے کلام میں تشبیہات واستعارات ،لفظیات اور ترکیبات نئی معنویت کے ساتھ استعمال ہوئی ہیں اور معنیٰ ومفاہیم کے نئے در وا کرتی ہیں۔ ان کے دل میں قام کا درد تھا وہ ملّت و معاشرت کی اصلاح کا بے پایاں جذبہ رکھتے تھے اس لیے یہ جذبہ اُن کے طنزیہ پیرائے کا محرّک ثابت ہوا اور انھوں نے اپنی نظموں  میں طنزیہ اسلوب کو اپناتے ہوئے معاشرہ  کے اُن طبقوں کو مخاطب کیا مخاطب کیا جو کلامِ نرم ونازک سے متاثر  ہونے کا جذبہ  کھو چکے تھے اُن کے طنزیہ پیرائے کا اظہار درجہ ذیل اظہار یہ سے ملاحظ ہو:

گھساچکےہیں گوآنکھیں کتاب بینی میں      ہنوذ     پڑھ    نہیں    سکتے    نوشتہ   تقدیر

نگاہیں ان   کی ستارہ   شکار  کیونکر  ہوں       کہ ہیں مدام پہ عینک کےطاقچےمیں اسیر (۲۳)

        شہید نےاپنے کلام میں وزن اور صوتی حسن پیدا کرنےکےلیےدو رویہ ردیفوں کا اسلوب بھی اختیار کیا اور وہ اس اسلوب میں کامیاب ومنفرد دکھائی دیتے ہیں یعنی جس طرح اشعارکےآغاز میں بھی کچھ الفاظ مکرر آتے ہیں۔ اس سے کلام میں اظہارِ بیان مؤثر اور صوتی حسن ابھر کر سامنے آتے ہے جس کی مثال کلامِ شہید سے ملاحظ ہو:

مجھےخبرہے  تیرا حسن  سو گوار ہےآج                                                        

مجھےخبرہےتیرا قلب  شعلہ زار ہے آج                                                        

مجھےخبرہےتیری  روح بےقرار ہےآج                                                        

مجھے  خبر ہے  سینہ  ہے  چاک  چاک تیرا

شہید    سجر     پہ   حسن      تابناک    تیرا   (۲۵)

شہید کے کلام میں تمنا کا استعارہ منفرد انداز میں ہمارے سامنے آتا ہے ۔اک ناکام تمنا کا کینوس ان کے ہاں وسیع تر معنی ومفاہیم کے در وا کرتا دکھائی دیتا ہے:

کی  ہے اے  دوست  کئی بار تمنا  تیری       مگر  افسوس  کے ہر بار میں ناکام رہا

پھربھی منہ تیری محبت سےنہ موڑامیں نے       مٹ گیاتیری محبت کو نہ چھوڑامیں نے (۲۶)

شہید کے فنی اسلوب کی بابت پروفیسر جعفر بلوچ لکھتے ہیں:

"اپنی عشقِ سخن کے نہایت قلیل عرصہ میں شہید نے زبان پر جو دسترس حاصل کی وہ لائقِ تحسین وستائش ہے۔ان کی زبان کی شستگی اور روانی اور تراکیب کی چستی،برجستگی اور جدت دیکھ کر مسرت آگیں حیرت ہوتی ہے ان کے ہاں حشویات وزوائد برائے نام ہیں اور مفاہیم والفاظ ایک دوسرے کوآ ٰگے بڑھاتے نظر آتے ہیں۔" (۲۷)

شہید کے کلام کا یہ مختصرجائزہ اس حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ شہید ابنِ علی کی شاعری ہماری قومی وملّی شاعری  میں اہم اضافہ ہے۔ شہید اہنے عہد کے ایک منفرد اور قادر الکلام شام تھے ان کے کلام پراکتساب اقبال کی گہری چھاپ واضح ہے۔ شہید کی شاعری کا موضوعاتی تنوعّ ، فکری رنگارنگی ،منفرد اسلیب ِ بیان  اور تکثیت ان کی شاعرانہ عظمت کو نمایاں کرتا یے۔ انہوں نے اہنی مختصر مہلتِ حیات میں جو شعری سرمایہ قوم کو  دیا  وہ  ہمارے شعری ادب میں ایک وقیع اضافہ ہے۔

کتابیات

۱۔ جعفر بلوچ،''آیات ادب''،مکتبہ عالیہ،اردو بازار لاہور،۱۹۸۸ء ،ص ۶

۲۔ کشفی ملتانی،''شہید ابن علی''مشمولہ،پیغامِ ترقی،مظفر گڑھ،س ن ،ص۳

۳۔ صلاح دین احمد،مولانا،''شہید احمدعلی''،مشمولہ،ادبی دنیا،فروری ۱۹۳۹ء،ص۴

۴۔ شہید ابن علی،بیاض،س ن،ص۱۹

۵۔ ایضاً،ص۲۱

۶۔ شہید ابن علی،اعتبار عمل،مشمولہ،''ادبی دنیا''۱۹۴۹ء،ص ۵

۷۔ جعفربلوچ،آیات ادب،مکتبہ،اردو بازار،لاہور۱۹۸۸ء،ص ۱۶۳

۸۔ شہید ابن علی،''مسدس دعوت نامہ اسلام/ اچھوت کے نام ۱۹۳۸ء، ص۲

۹۔ شہید ابن علی،''میرامحبوب''،مشمولہ،پیغام ترقی مظفر گڑھ ،س ن،ص ۴

۱۰۔ جعفر بلوچ،''آیات ادب''،مکتبہ عالیہ،اردو بازار لاہور،۱۹۸۸ء ،ص ۶۱

۱۱۔ شہید ابن علی ،اعلان،بیاض،ص۱۸

۱۲۔ جعفر بلوچ،''آیات ادب''،مکتبہ عالیہ،اردو بازار لاہور،۱۹۸۸ء ،ص ۱۲۲

۱۳۔ شہید ابن علی ،اعلان،بیاض،ص۱۹

۱۴۔ شہید ابن علی،بیاض،س ن ،ص۲۶

۱۵۔ ایضاً،ص ۶۲

۱۶۔ ایضاً،ص ۲۱

۱۷۔ ایضاً،ص ۲۳

۱۸۔ ایضاً،ص ۲۴

۱۹۔ ایضاً،ص ۲۵

۲۰۔ ایضاً،ص ۲۹

۲۱۔ ایضاً،ص ۴۱

۲۲۔ شہید ابن علی،''نسخہ ہائے نجات''،مشمولہ،پیغام ترقی ،مظفر گڑھ،س ن،ص ۲۱

۲۳۔ شہید ابن علی،بیاض،ص ۹

۲۴۔ شہید ابن علی،''رخصت''مشمولہ،ادبی دنیا،مارچ ۱۹۳۹ء،ص ۵

۲۵۔ ایضاً،ص   ۷

۲۶۔ شہید ابن علی،''تمنائے آخریں''،مشمولہ،پیغام ترقی مظفر گڑھ،جولائی ۱۹۳۶ء،ص ۴

۲۷۔ جعفر بلوچ،''آیات ادب''،مکتبہ عالیہ،اردو بازار لاہور،۱۹۸۸ء ،ص ۱۶۸

محمد زمان ظامی

محمد زمان ظامی۔۔۔

ریسرچ سکالر ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ۔۔۔

حال ہی میں ۔رفیع الدین راز کی غزل گوٸی : تحقیقی و تنقیدی مطالعہ کے زیر عنوان ایم فل کا مقالہ لکھا ہے۔۔۔۔ان تحقیقی مضامین انڈیا کلکتہ یونیورسٹی سےڈاکٹر شہناز نبی نے بھی شاٸع کیے ہیں ۔ادبیات اور نعت رنگ میں بھی ہوۓ ہیں۔علاوہ ازیں ۔۔اکادمی ادبیات نے ان کا نام معتبر اقبال شناس ڈاکٹر ایوب صابر پہ ایک تحقیقی تصنیف بعنوان ڈاکٹرایوب صابر شخصیت و فن۔۔۔منتخب کیا تھا جس پر تحقیقی کام جاری ہے لکھ رہے ہیں۔

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form