شو کیس میں سجے ہاتھ

August 9, 2018
دیدبان شمارہ ۸،مزاحمتی ادبشاعریشاعری

دیدبان شمارہ ہشتم

شو کیس میں سجے ہاتھ ۔ ۔ ۔ آفتاب حُسین

- - -

شو کیس میں سجے ہوئے ہیں

طرح طرح کے ہاتھ

دیکھیے!

دیکھنے میں کیا ہے!!

-

ارے صاحب ، دو ہاتوں سے کیا ہوتا ہے!

ہاتھ جتنے زیادہ ہوں

اُتنا اچّھا ہے

-

کئی قسم کے ہاتھ ہیں اِس جگہ

مخروطی انگلیوں والے ، خُوبصورت ہاتھ ،

دِلوں پر دستک دینے والے مہندی سے رنگے ہاتھ ،

پتھر کُوٹنے والی عورتوں کے ہاتھ

جو پتھر کُوٹتے کُوٹتے اپنی نسوانیت بھی کُوٹ چکے ہیں ،

صاف ، شفّاف اور اُجلے ہاتھ

جیسے ابھی ، تازہ تازہ

آرڈر پر بنوائے گئے ہوں

اور جانوروں کے پنجوں سے سے زیادہ خونخوار ہاتھ

-

یہ ننھا ہاتھ

کسی بچّے کا ہے

بچّہ ہندو تھا یا مسلمان

یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا

-

دائیں طرف دھرا یہ ہاتھ ،

یہ بظاہر شفقت سے بھرا ہاتھ

بڑا خرانٹ ہے۔

بڑا خرانٹ ہے یہ بوڑھا ہاتھ

ہر وقت ٹوہ میں رہتا ہے

کسی ذہین سر کی

اور ایسے سروں پر پِھر کر

بدل دیتا ہے انھیں

شاہ دولے کے چوہوں میں

نظر نہ آنے والی ٹوپیاں ہیں اِس ہاتھ میں

جو یہ پہنا دیتا ہے اپنے بنائے ہوئے چوہوں کو

وہ چوہے

جو سر دُھنتے رہتے پیں

صرف اس کے آگے

-

اُلٹا پڑا ہوا یہ ہاتھ

اپنے مالک کے منہ پر پڑا رہا

تمام عمر

بولنا چاہتا تھا اِس کا مالک

بلکہ تُھوکنا چاہتا تھا بہت سارے چہروں پر

لیکن پڑا رہا یہ ہاتھ

اس کے منہ پر

کہ اگر اُٹھ جاتا یہ ہاتھ

اُس کے منہ سے

تو کھیچ لی جاتی اُس کی زبان

گُدی سے

-

اور وہ والا ناکارہ ہاتھ

کسی آرا مشین میں آ کر ضائع نہیں ہوا

ایک ساتھی کے ہاتھ میں گیا تھا

اور جب واپس آیا

تو اُنگلیاں غائب تھیں

-

یہ لال لال ہاتھ

مُحبّت کی گرمی سے سُرخ نہیں ،

سیاسی جلسوں میں تالیاں پیٹتے رہے ہیں

ان میں کچھ ہاتھ ایسے بھی ہیں

جو لگے ہوئے تھے

اسمبلیوں میں ڈیسک بجانے پر

بنا سوچے سمجھے

اپنے جیسے دوسرے کئی ہاتھوں کے ساتھ

اچانک کھڑے ہو جاتے تھے یہ ہاتھ

میکانکی انداز میں

-

اُس بڑے ڈھیر پر پڑے

وہ ان گنت ھاتھ

بلند رہے آسمان کی طرف

عمر بھر

لیکن ان میں کچھ نہیں پڑا

سوائے کوؤں کی چند بِیٹھوں کے

-

یہ ہلتا ہوا ہاتھ

ایک ایسی لڑکی کا ہاتھ ہے

جس کا وداع ہونے والا دوست

واپسی کا ٹکٹ لینا بھول گیا ہے

-

آپ شاید نہ دیکھ پائیں

وہ سامنے

کچھ بے نام سے ہاتھ بھی رکھے ہیں

ہواؤں جیسے یہ ہاتھ

دکھائی نہیں دیتے

لیکن روز شہر میں

کئی چراغ بُجھا جاتے ہیں

کئی درخت گرا جاتے ھیں

کئی مکان ڈھا جاتے ھیں

ان ہاتھوں کے پیچھے بھی

کئی ہاتھ ہیں

جو برابر انھیں مضبوط کرتے رہتے ہیں

-

معاف کیجیے!

اِس دُکان میں ایسا کوئی ہاتھ نہیں

جو سورج کی طرح روشن ہو

یا جسے چُھوا کر

کوڑھیوں کا علاج کیا جا سکے

-

ہاں!

اسٹاک میں

گنتی کے کچھ ایسے ہاتھ رکھے ہیں

جنھیں چُھونے سے

آپ کی روح تک سرشاری سے بھر سکتی ہے

لیکن ایسے ہاتھ حاصل کرنے سے پہلے

سوچ لیجیے

آپ خود کتنے زندہ ہیں!

-

ہچکچایئے نہیں ،

ہاتھ بڑھا کر

اُٹھا لیجیئے

اپنی پسند کا کوئی ہاتھ!

- - -

Aftab Husain

Pakistani poet Aftab Husain worked as a  journalist and professor of literature before he went to exile in 2000. On the invitation of PEN International he reached Germany and lived there as fellow of Heinrich Böll Foundation. In 2003 he was invited to Vienna as ‘’writer-in-residence,’’ a collaboration of the Austrian Cultural Ministry and the city of Vienna. Presently, he teaches at Vienna University. He has three books of poetry to his credit – in Urdu, Hindi and German. Widely published in various anthologies, his poems have been rendered into English, Italian, Persian, Bengali and other languages. He has translated German poet Paul Celan, among others, into Urdu for which he was felicitated by association of literary translators in Austria.   He is the editor of the bilingual magazine Words and Worlds.

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form