سپنوں کی لاشیں

( قیصر نذیر خاورؔ )

'' میں اپنے ناول سے ان کرداروں کو نکال باہر نہیں کر سکتا جنہیں آپ میرے ناول میں دیکھنا نہیں چاہتے۔۔۔ یہ میری روح کا حصہ ہیں اور میں انہیں گلنے سڑنے کے لئے کوڑا دان میں نہیں پھینک سکتا۔“

یہ بات امریکی ناول نگار جان کینیڈی ٹول نے اُس مدیر کو لکھی جو اس کے ناول کی تدوین کررہا تھا۔

جان کینیڈی ٹول (17 دسمبر 1937ء ۔ 26 مارچ 1969ء) کا تعلق درمیانے طبقے کے ایک گھرانے سے تھا۔ اس نے اپنا پہلا ناول ” The Neon Bible '' سولہ برس کی عمر میں لکھا ۔ کولمبیا یونیورسٹی سے انگریزی زبان کی تعلیم مکمل کرکے اس نے کئی تعلیمی اداروں میں تدریس کے فرائض سرانجام دئیے۔ امریکی افواج میں خدمات سرانجام دینے کے دوران اس نے اپنا ناول ”A Confederacy of Dunces “ لکھنا شروع کیا اور اسے فوجی خدمات سے فارغ ہونے کے بعد 1964 ء میں مکمل کیا جس کے بعد اس نے اسے ’سائمن اینڈ سچسٹر‘ نامی پبلشر کو اشاعت کے لئے ارسال کر دیا ۔ اس ناشر نے اس کا ناول نامور مُدیر رابرٹ گوٹلب کو پڑھنے ، تدوین اور اشاعت واسطے منظوری کے لئے بھیج دیا ۔ رابرٹ گوٹلب نے جان کینیڈی ٹول کا ناول کئی سال تک لٹکائے رکھا اور اس دوران اسے ادیب جوزف ہیلر (ناول ' Catch - 22 ' کا مصنف) اور ادبی و صحافتی شخصیت ’ہوڈنگ کارٹر جونئیر‘ کو بھی رائے کے لئے بھیجا ۔ خود وہ ’ٹول‘ کو خط و کتابت کے ذریعے ناول میں مختلف ترامیم کرنے کا مشورہ دیتا رہا ۔’ ٹول‘ نے اس کے کہنے پر ناول میں کئی ترامیم بھی کیں لیکن بالآخر اس نے اپنے آخری خط میں ان کرداروں کو ناول سے ہذف کرنے سے انکار کر دیا جس کا مشورہ مدیر ’ رابرٹ گوٹلب‘ نے دیا تھا ۔ اس خط سے اقتباس آپ اوپر پڑھ چکے ہیں ۔ ’ رابرٹ گوٹلب ‘ نے ادیب ’جوزف ہیلر‘ خصوصاً ’ ہوڈنگ کارٹر جونئیر‘ کے کہنے پر’ ٹول‘ کے ناول کو نا قابل اشاعت قرار دے دیا اور اپنے اس فیصلے سے ناشر’سائمن اینڈ سچسٹر ‘ کو آگاہ کر دیا ۔ ’ ٹول‘ کے لئے یہ فیصلہ انتہائی ڈیپریشن کا موجب بنا ۔ 1969 ء کے آغازمیں وہ سب چھوڑ چھاڑ کرآوارہ گردی کے لئے نکل پڑا ۔ راستے میں وہ مسیسیپی کے ایک مضافاتی علاقے ’ بلوکسی‘ میں رکا ، اپنی کار کے سائلینسر میں پائپ لگایا ، اسے کار کے کیبن میں رکھ کر گاڑی کا انجن سٹارٹ کیا اور شیشے چڑھا کر خود اندر بیٹھ گیا ۔ کار کے کیبن میں آکسیجن کم ہوتی گئی اور کاربن ڈائی و مونو آکسائڈ گیسوں کی مقدار بڑھتی گئی ۔ ’ٹول‘ کا دم گھٹتا گیا اور بالآخر وہ اس زندگی سے آزاد ہو گیا جس نے اسے اپنے ادبی کیرئیر کے آغاز ہی میں دغا دے دیا تھا ۔ وہ اس وقت 31 برس کا تھا ۔

اس کی موت کے کچھ سالوں کے بعد اس کی ماں ناول کا مسودہ ادیب ’ والکر پرسی ‘ (ناول ’مووی گورز‘ کا مصنف ) کے پاس لے کر گئی۔ اس نے ناول کی قدر پہچانی اور اسے شائع کروانے کے لئے تگ و دو کرنے لگا ۔ آخر کار ’ ٹول‘ کا ناول 1980ء میں’ لوزیانا سٹیٹ یونیورسٹی پریس ' نے شائع کیا ۔ اس کی پذیرائی ہاتھوں ہاتھ ہوئی اور وہ 1981ء کے ’ پلز‘ (Pulitzer) انعام برائے فکشن کے لئے نہ صرف منتخب ہوا بلکہ اس سال کے لئے اس انعام کا حقدار بھی ٹہرا ۔ اس مزاحیہ غنائیہ ناول کی اب تک پندرہ لاکھ کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں اور اس کا ترجمہ اٹھارہ زبانوں میں کیا جا چکا ہے ۔

قیصر نذیر خاور

 قیصر نذیر خاورؔ یکم اگست ۱۹۵۳ ء کو لاہور، پاکستان میں پیدا ہوئے ۔ سرکار کی نوکری سے بطور ڈی جی ایجوکیشن ، او پی ایف ، وزارت ِ ہیومن ریسورس ، پاکستان ، ریٹائر ہوئے ۔ افسانہ نگار ، انشاء پرداز اور مترجم ہیں ۔ اب تک آٹھ نصابی کتب ( کمپیوٹر سائنس ) لکھ چکے ہیں ۔ سیاست پر ایک کتاب ' انگولا سے زائر تک ' بھی لکھی ۔ مورا کامی کے افسانوں کے ان کے ترجموں کا انتخاب ' یک سِنگھے ' ( بارہ افسانے ) کے نام سے شائع ہو چکا ہے ۔ تخلیق مُکرر کی ایک اور کتاب ' حکایات ِ عالم ' ( ۱۰۱ حکایات کا انتخاب ) کے نام سے بھی سامنے آ چکی ہے ۔ نوبل انعام یافتہ ادیبہ ایلس منرو کے دس افسانوں کا ترجمہ " جولیٹ اور دیگر کہانیاں " حال ہی میں سامنے آیا ہے ۔ ' عالمی ادب سے ایک انتخاب ' نامی ترجموں کا مجموعہ اور ' عالمی ادب اور افسانچہ ' زیر اشاعت ہیں ۔

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form