تخلص ۔ سیدہ فرحت

نام۔ کرامت فاطمہ

پیدائش ۔ بھوپال

سکونت ۔ علی گڑھ

1926- 2003

غزل

یہ حرص و ہوس کے سودائی آدابِ محبت کیا جانیں

یہ عشق کے معنی کیا سمجھیں یہ حسن کی قیمت کیا جانیں

ہم چومتے رہتے ہیں ہر دم فطرت کی حسیں پیشانی کو

آزاد منش ہم اہلِ نظر قانون و شریعت کیا جانیں

ہو خوفِ جہنم جس میںنہاںجنت کی ہوس ہو جس مےں عیاں

اللہ کے سادہ دل بندے ہم ایسی عبادت کیا جانیں

ہوں پھولوں کی سیجیں جن کے لئے کانٹوں کی چبھن کیا سمجھیں گے

جن کے نہ لگی ہو چوٹ کبھی وہ درد کی لذت کیا جانیں

جو سیم و زر میں تولتے ہیں کونین کی ہراک جنسںِ گراں

انسان کے دل کی قیمت کو وہ صاحبِ دولت کیا جانیں

انسان جہاں بھی پاتے ہیں ہم دل سے اسے اپناتے ہیں

یہ مذہب و ملت کے جھگڑے ہم اہلِ محبت کیا جانیں

۔۔۔۔۔۔

غزل

نہ فرشِ خاک پہ ٹہریں گے نقشِ پا کی طرح

رواں دواں ہیں فضاو¿ں میںہم ہوا کی طرح

پکار وقت کی نزدیک تھی مگر ہم نے

سنا ہے دور سے آتی ہوئی صدا کی طرح

سزائیں دیتی ہے مکر و فریب کی دنیا

صداقتوں کا ہے اظہار اک خطا کر طرح

خدا کرے تجھے احساسِ درد و غم نہ رہے

دعائے خیر وہ دیتے ہیں بد دعا کی طرح

نہ ہو سخن میں جو شانِ پیمبری ممکن

خموش رہ کہ بھی دیکھیں ذرا خدا کی طرح

جھلک دکھائے کہیں تو امید کا سورج

ہجومِ یاس ہے امڈی ہوئی گھٹا کی طرح

۔۔۔۔۔۔۔

غزل

نہ قصیدہ نہ غزل اورنہ رباعی لکھئے

دورِ موجودہ مےں کچھ دل کی تباہی لکھئے

زخم خوردہ غمِ دور اں سے ہےں جذباتِ لطیف

حسن اور عشق کی کےا مدح سرائی لکھئے

بجھ گئے دل مےں امےدوں کے چراغِ روشن

ےاس و حرماں کے اندھےروں کی سےاہی لکھئے

اب تو دنےا مےں ہےں ےوسف کے برادر لاکھوں

دشمنِ جاں کسے لکھئے کسے بھائی لکھئے

تخت فرعون پہ بےٹھے ہےں جو انساں دشمن

ہم سے کہتے ہےں انھےں ظل الہی لکھئے

کس عدالت مےں کرےں پےش مقدمہ دل کا

اب کہےں کس سے کہ اشکوں کی گواہی لکھئے

۔۔۔۔۔

غزل

شور اتنا بڑھا ہر صدا گُم ہوئی

بھےڑ مےں مےری آوازِ پا گُم ہوئی

اب خدائی کا دعوا ہر اےک بت کو ہے

تےری پہچان بھی اے خدا گُمُُ ہوئی

آدمی اب مشےنوں کی دنےا مےں ہے

جذبہ¿ دل کی ہراک نوا گُم ہوئی

ےہ جنوں خود پرستی کا اتنا بڑھا

خود شناسی کی عقلِ رسا گُم ہوئی

شعلے نفرت کے دل مےں بھڑکنے لگے

وہ محبت کی ٹھنڈی ہوا گُم ہوئی

اب تسلط خزاںکا بہاروں مےں ہے

یہ خبر دے کے بادِ صبا گُم ہوئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

غزل

سوزِ دل پاسِ وفا دردِ جگر ہے کہ نہیں

جو تھا مسجودِ ملائک وہ بشر ہے کہ نہیں

فرشںِ گیتی سے سرِعرش پہنچنے والے

کوچہ ¿دل سے تری راہ گذر ہے کہ نہیں

گرم بازار ہے ہر سمت ہوس خیزی کا

جذبہ¿ عشق کا بھی دل پہ اثر ہے کہ نہیں

جس میں ہوجلوہ فگن کون ومکاں کی وسعت

اہلِ دانش میںوہ اندازِ نظر ہے کہ نہیں

جس میں تسکینِ دل و جاں کے بہم ساماں تھے آج انسان کی وہ شام و سحر ہے کہ نہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔

نظم

میں

حیات کے بحرِ بیکراں میں مثالِ قطرہ ہوں اور کیا ہوں

مگر شعور خودی ہے مجھ کو میں اپنی ہستی سے آشنا ہوں

یہ میرے سازِ انا کی لے ہے جو بزمِ عالم میں گونجتی ہے

وہ جس میں ہستی کا زیر وبم ہے میں جذبہ¿ دل کی وہ صدا ہوں

فنا کی تیزاور تند آندھی میں ضو فشاں جو رہی ہمیشہ

حیات کا نور مجھ میں پنہاں جہاں میں اک مشعلِ بقا ہوں

مرے ہی ذوقِ نظر سے قائم ہے رنگ گلزارِ زندگی کا

بہار زیرِ قدم ہے جس کے میں وہ نسیمِ لطیف پا ہوں

مری نظر کی تجلیوں میں یہ ماہ و انجم کی روشنی ہے

اجالا کون و مکاں میں جس سے میں وہ شعاعِ تجلّی زا ہوں

۔۔۔۔۔۔۔۔

مادر فطرت

اپنی آغوش میں لے مادرِ فطرت مجھ کو

ہے ترے سایہ داماں کی ضرورت مجھ کو

میرے جذبات ہیں مجروح مرا دل ہے فگار

غمِ دوراں کی تپش پھونک رہی ہے دل ِزار

میری ماں! آج تو سینے سے لگا لے مجھ کو

اپنے آنچل میں ذرا دیر چھپا لے مجھ کو

زندگی کیا مجھے دے بے سروساماں خود ہے

چارہ گر کیا ہو مری لائقِ درماں خود ہے

اس نے جو کچھ بھی دیا اس کا بڑا احساں ہے

دل مگر تو نے جو بخشا ہے بڑا نادا ں ہے

دل کو کیوں شیشے کی مانند بنایا تو نے

کیوں نہ پھر سنگِ حوادث سے بچایا تو نے

ذوقِ پرواز تو بخشا نہ پر و بال دئیے

شعر کے سانچے میں کیوں قلب و نظر ڈھال دئیے

سوزِ غم کچھ تو کرے کم یہ ہوا سے کہہ دے

آج تو کھُل کے برس جائے ہوا سے کہہ دے

گیت گا کر مجھے بہلائیں یہ مرغانِ چمن

پھول ہنس ہنس کے کریں دُور یہ کانٹوں کی چبھن

کہہ نسیمِ سحری سے مری ہمراز بنے

مری مونس مری ہمدم مری دم ساز بنے

کہہ دے شبنم سے مری روح کو سیراب کرے

روشِ گُل سے یہ کہہ دل مرا شاداب کرے

حرم و دیر کا حائل نہ یہ پردہ دیکھوں

تیرے آئینے میں معبود کا جلوہ دیکھوں

۔۔۔۔۔۔۔

سیدہ فرحت

تخلص ۔ سیدہ فرحت
نام۔ کرامت فاطمہ
پیدائش ۔ بھوپال
سکونت ۔ علی گڑھ
1926- 2003

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form