پھیلتی سیاہی

April 3, 2020
دیدبان شمارہ 11StoryStory

دیدبان شمارہ 11

پھیلتی سیاہی

تحریر : عاطف ملک

وہ کالے رنگ کا ایک قطرہ تھا۔ ایک قطرہ جو گرا اور اُس نے کوئی خیال نہ کیا۔ چند دن بعد وہ قطرہ بڑھ گیا۔ پھر وقت کے ساتھ وہ قطرہ پھیلتا چلا گیا۔ ایک گول سیاہ ابھرا ہوا پھیلتا قطرہ، چاروں طرف پھیلتا جاتا۔  سیاہ قطرے کا دائرہ بڑا ہوتا جاتا تھا۔ ایک چھوٹے دائرے کی گولائی سے آگے بڑھ کر پیالے، پلیٹ کی گولائی سے بڑھ کر روٹی کی گولائی کی شکل لیتا۔  پھر وہ پھیل کر ایک سٹیڈیم کی گولائی تھی، سیاہ رنگ قطرہ بڑھتا ہی چلا جارہا تھا مگر اس کی کوئی بو نہ تھی۔ بڑھتے بڑھتے اس سیاہی نے مکان، محلہ، شہر سب سیاہ کردیے۔ وہ سیاہ قطرہ تھا کہ بڑھتا ہی چلا جارہا تھا۔

دن بدل گیا، رات اندھیری ہوگئی، گھپ اندھیری، ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دے مگر اس اندھیری رات میں بھی اُسے پھیلتا قطرہ پوری طرح دکھائی دے رہا تھا ۔ اچانک اس قطرے کا ایک حصہ ابھرا، اپنی سطح سے اُٹھا اور ایک شکل اختیار کرنے لگا۔ پہلے اس کی چونچ بنی، پھرآنکھیں، سر، گردن، اب یہ قطرہ سمٹ اور پھیل رہا تھا۔ گردن کے بعد پرندے کا جسم بننے لگا، پھر جسم سے جڑی دم بن گَئ، مگر اس پرندے کے پیر نہ بنے تھے۔ وہ معذور پڑا ایک جسم تھا۔ اس نے دیکھا کہ سیاہ قطرے کی حد پر ابھی بھی ایک سفید نقطہ موجود تھا۔ جیسے ہی اس سفید نقطے کو سیاہی نے ڈھانپا، پرندے کے جسم میں جھرجھری ہوئی، وہ ہلنے لگا۔ ایسا محسوس ہوا کہ روح اس میں داخل ہوگئی ہے۔ اُسی وقت پرندے کے پاوں مکمل ہوگئے،  وہ اٹھا، اپنے پیروں پر کھڑا ہوگیا۔ اب پرندہ بے چینی سے دائیں بائیں دیکھ رہا تھا، وہ بے تاب تھا۔

سخت اندھیری رات ہو گئی تھی، مگر اُسے سب نظر آرہا تھا۔ پرندہ اُڑا اور وہ اس کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا۔ چل رہا تھا یا اُڑ رہا تھا، کچھ کہنا مشکل ہے۔ رات اندھیری ہو تو کچھ بھی کہنا مشکل ہوتا ہے۔ مگر وہ دونوں ساتھ تھے، ساتھ بالکل ایک ساتھ ۔ وہ دونوں ایک کمرے میں داخل ہوئے۔ بستر پر ایک لڑکی تھی، صاف جلد والی، خواب دیکھتی آنکھوں والی، زندگی اس کے لیے ابھی صاف اور اجلی تھی۔ محبت اس کے لیے مقدس تھی، مکر، ریا، جھوٹ سب اس کے  لیےاجنبی تھے، وہ ناسمجھ تھی۔

لڑکی اُس کو دیکھ کر مسکرائی۔ یقیناً لڑکی کو روشندان پر بیٹھا سیاہ پرندہ نظر نہیں آرہا تھا، سیاہ پرندہ جس نے روشندان سے آتی تازہ ہوا بند کردی تھی۔ اُس سیاہی کی چونچ کُھلی تھی، زندگی میں پہلی دفعہ اُس نے کسی پرندے کی رال ٹپکتی دیکھی۔ وہ اس لڑکی سے لپٹ گیا۔ لڑکی کی گردن میں اس نے دانت گاڑ دیے۔ جب وہ اٹھا تو لڑکی مر چکی تھی، یا شاید زندہ تھی، مگر اگر وہ زندہ تھی تو بھی وہ مر چکی تھی۔

وہ وہاں سے نکل گئے، چادر چاردیواری اُن کے لیے کوئی روک نہ تھی ۔ اُسے اندازہ ہوا کہ اُن کے لیے کوئی رکاوٹ نہ تھی۔ دنیا میں کچھ بھی ان کے لیے روک نہ تھی کیونکہ سیاہی نے احساس کو نگل لیا تھا۔

وہ نکل پڑے، بغیر کسی احساس کے نکل پڑے، وہ چل رہے تھے۔ چل رہے تھے یا اُڑ رہے تھے، جو بھی تھا ان کے لیے کوئی رکاوٹ نہ تھی۔ اس کے ساتھ کون تھا؟ پھیلی سیاہی، پرند، جسم، کیا تھا؟ اور وہ خود کیا تھا؟

وہ کچھ نہیں تھے، وہ سب کچھ تھے۔

وہ چل پڑے۔ وہ ایک غریب کا گھر تھا۔ بھوک نے اس کے گھر میں ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ وہ دونوں اُس گھر میں داخل ہوگئے۔ گھر کا سامان مکین کی حالت کا اظہارکر رہا تھا۔ ٹوٹے دروازے، سلین زدہ دیواریں، پھٹا ہوا کپڑا جو پردے کا کام دے رہا تھا، لاغر بچے اور ان سے بھی لاغر ماں ایک چارپائی پر پڑے تھے۔ کونے میں چند برتن ، کچا چولہا اور کچھ کھانے کا سامان پڑا تھا۔ وہ بڑھے اور رکھا ہوا کھانا کھانے لگے، کھانے لگے یا اجاڑنے لگے۔ اُن کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ ان کا مقصد تمام سامان تباہ کرنا تھا۔ پرندے کی چونچ پر مسکراہٹ تھی۔

کیا مکین بچیں گے یا نہیں ؟ کیا زندہ رہیں گے یا زندہ رہ کر مرتے رہیں گے؟ ان کی زندگی زندگی ہو گی یا ایک عذاب ہوگا۔ ان کے لیے یہ کوئی سوال نہ تھا۔ انہیں کوئی احساس نہ تھا۔

وہ شہر سے نکل گئے۔ ہر طرف برف تھی، گھٹنوں گھٹنوں برف، درخت برف سے سفید تھے، راہ پر کوئی نہ چل سکتا تھا، مگر وہ چل رہے تھے۔ چل رہے تھے یا اُڑ رہے تھے، جو بھی تھا ان کے لیے کوئی رکاوٹ نہ تھی۔ اس کے ساتھ کون تھا، وہ پرند، وہ جسم، وہ کیا تھا؟ اور وہ خود کیا تھا؟ وہ دونوں کچھ نہیں تھے، وہ سب کچھ تھے۔

وہ شہر سے باہر نکل گئے۔ وہ ایک کسان کا گھر تھا۔ برفباری میں اکیلا کھڑا گھر، لکڑی کی کھڑکیاں بند، ایسے بند کہ ہوا بھی نہ داخل ہو۔ مگر وہ دونوں کھڑکیوں میں سے گذر گئے، بغیر کسی مزاحمت اور دشواری کے اندر داخل ہوگئے۔

کسان کا گھر دو منزلہ تھا، چھوٹا سے، ایک بڑا کمرہ جس کے گرد دو تین چھوٹے کمرے تھے اور اوپر کی منزل اس سے بھی چھوٹی، جس کی تکونی چھت برف کو نیچے گرانے کے لیے ڈھلوانی تھی۔ اس سردی میں کسان اور اس کا خاندان بڑے کمرے میں تھے۔ خشک گھاس کی گھانٹیں ایک طرف پڑی تھیں۔ سردیوں میں کسان کا خاندان اور جانور سب اکٹھے اس بڑے کمرے میں رہتے۔ جانوروں کے حرارتیں اور انسانی حرارتیں مل کر سردی کا مقابلہ کرتیں۔ کمرے میں انسانوں، دو بکریوں اور ایک گائے کی آپس میں ملی ہوئی گرمائش اور بو تھی ۔ یہ گرمائش اور بو اِس خاندان کا بچاو تھی، سردی اور بھوک سے بچاو۔ سیاہی اب رینگ رہی تھی، وہ سیاہ ناگ تھا۔ ناگ بے آواز رینگ رہا تھا، مگر یہ ناگ کون تھا، وہ خود یا سیاہ پرندہ، مگر یقیناً ان دونوں میں سے کوئی ضرور تھا۔ ناگ نے آگے بڑھ کر گائے کی پشت پر ڈس لیا۔ گائے اس سخت سردی میں ٹھنڈی ہوگئی۔ یہ ٹھنڈ اب پھیلے گی۔ کسان اور اس کا خاندان زندہ تھے یا مردہ، یا وہ زندہ ہو کے بھی مردہ ہونگے؟ احساس کہیں نہیں تھا، پرندے کی چونچ پر مسکراہٹ تھی۔ اس کی آنکھیں مطمن تھیں۔

یہ اس کے ساتھ کون تھا، وہ پھیلی سیاہ بوند، وہ پرند، وہ جسم، وہ ناگ، وہ کیا تھا؟ اور وہ خود کیا تھا؟ وہ کچھ نہیں تھے، وہ سب کچھ تھے۔

اچانک بجلی کڑکی۔

اس نے دیکھا کہ وہ ایک ہی تھے۔

عاطف ملک

عاطف ملک نے ایروناٹیکل انجینرنگ {اویانیکس} میں بیچلرز کرنے کے بعد کمپیوٹر انجینرنگ میں ماسڑز اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کی۔ یونیورسٹی آف ویسڑن آسڑیلیا میں سکول آف کمپیوٹر سائنس اور سوفٹ وئیر انجینرنگ میں پڑھاتے ہیں ۔ پڑھانے، ادب، کھیل اور موسیقی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ 

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form