سیاست ، اجارہ داری اور تعلیمی ادارے

November 20, 2020
دیدبان شمارہ 12 مابعد کرونا نمبرتبصرہ تبصرہ

دیدبان شمارہ ۱۲

سیاست ، اجارہ داری اور تعلیمی ادارے

(ناول ’لفٹ‘کے حوالے سے)

ڈاکٹر زبیر عالم

سماجی مفکروں کے لئے اخلاقیات اور اس سے وابستہ مختلف سوال ہمیشہ غور و فکر کا مرکز رہے ہیں ۔ان مفکروں کی توجہ عام طور پر اس پہلو پر ہوتی ہے کہ سماجی انحطاط کے سبب معاشرے میں نمایاں ہو رہی تبدیلیوں کے مثبت اور منفی اثرات کی نشاندہی کی جا سکے ۔ اس باب میں کچھ متفقہ اصول ہیں جن کی پاسداری ایک طرح سے لازم ہے ۔ انہیں اصولوں کی بنیاد پر کھرے اورکھوٹے کے مابین تمیز کی جاتی ہے۔آج کے معاشرے کی سمت و رفتار کے تعین میں بھی ان اصولوں کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ اس تناظر میں موجودہ معاشرے کے جائزے کی بنیاد پر یہ کہنا بے جا نہیں ہو گا کہ سماجی انحطاط نے جو منظر نامہ مرتب کیا ہے اس میں ایک حساس انسان لاچارسا ہے۔آج کے معاشرے میں حصول منصب کے لئے جوڑ توڑ کرنے والے لوگ بہ نسبت با صلاحیت افراد سے زیادہ کامیاب ہیں۔منصب کو حاصل کر لینے والے افراد میں اگرچہ درکار خوبیوں کا فقدان ہوتا ہے لیکن نا جائز طریقے سے ان کی مراد پوری ہو جاتی ہے۔نا اہلوں کی سربراہی میں کوئی شعبہ کس طرح کی کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے یہ اہل نظر سے مخفی نہیں ہے۔

اس تمہیدی گفتگو کا تعلق ناول نگار نسترن احسن فتیحی کے ناول ”لفٹ“ سے ہے۔نسترن احسن فتیحی اردو فکشن کی دنیا میں اپنے ناول”لفٹ“کے ذریعہ متعارف ہوئیں۔ یہ ناول ایجوکیشنل بک ہاوئس علی گڈھ سے۳۰۰۲ءمیں شائع ہواہے۔ اس ناول کا موضوع حق اور باطل کے درمیان ہونے والی کشمکش ہے ۔ یہ ناول حساس اور با صلاحیت لوگوں کی بے بسی کا نوحہ بھی ہے۔ہمارا سماج اور نظام ایسے لوگوں کے ساتھ کس طرح پیش آتا ہے ”لفٹ “میں اس کی تفصیل درج ہے۔ ناول کا ابتدائیہ ملاحظہ ہو:

”بہت پہلے بچپن میں میں نے Swift کی”Goliver,s Travel“کی کہانیاں پڑھی تھیں۔۔۔جس میں گلیور ایک بار بالشتیوں کی دنیا میں پہنچ جاتا ہے۔آج آزادی کے پچاس سال بعد اپنے ارد گرد کا جائزہ لیتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ میں بھی ان ہی بالشتیوں کی دنیا میں ہوں ،جہاں بونوں کا راج ہے۔آزادی کے بعد کی نئی نسل بالشتیوں کی جا نشیں ہے اور اپنا قد پانے کے لیے جائز و ناجائز سے گریز نہیں کرتی ۔معلوم نہیں لفٹ کا کون سا بٹن اسے بلندیوں تک پہنچا دے۔۔۔لیکن ان جا نشینوں کویہ نہیں معلو م کہ لفٹ کی پہنچ کی ایک حد مقرر ہے“۔(۱)

اس ناول کا پلاٹ کچھ یوں ہے۔اجے ورما ناول میں مرکزی کردار کی حیثیت سے موجود ہےں۔وہ یونیورسٹی میں طالب علم کی حیثیت سے آئے تھے اور اب استاد کی حیثیت سے یونیورسٹی میں ملازمت کرتے ہیں۔ناول کی ابتدا فلیش بیک میں ہوتی ہے ۔اس کے توسط سے ناول نگارنے اجے ورما کے طالب علمی کے زمانے کے مختلف مراحل کو بیان کیا ہے۔اجے ورما اس یونیورسٹی میں تیرہ سال قبل طالب علم کی حیثیت سے آئے تھے۔تعلیم کے اختتام کے بعد جب تک نئی راہ نہیں کھلتی ہر ایک کے ساتھ ایک گو مگو کی کیفیت ہوتی ہے۔ اجے ورما بھی اس کیفیت کے شکار ہیں۔یہیں پر ایک کردار آسی کا تعارف بھی کرایا گیا ہے اور خاص طور پر صیغہ ماضی میں۔بعد کے واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کردار اجے ورما سے کافی قریب تھا۔لیکن الگ الگ مذہب سے تعلق رکھنے کے سبب دونوں آگے راہ نکالنے میں موجود خدشات سے خائف ہو کر اپنی اپنی راہ جدا کرلیتے ہیں۔

اجے ورما گذشتہ پندرہ سالوں سے بہ حیثیت استاد یو نیورسٹی سے وابستہ ہیں۔صبح کی سیر کرتے ہوئے وہ ہاسٹل کی طرف نکل آئے اوران کے ذہن میں پرانے دنوں کی یاد تازہ ہو گئی۔ اس طرح وہ اپنے طالب علمی کے زمانے کی ایک ایک بات کو یاد کرنے لگتے ہیں۔اس دوران حال سے ماضی اورماضی سے حال میں واپس آنے کا عمل برابر جاری رہتا ہے۔خصوصاًاجے ورما آج کے ماحول اور اپنے طالب علمی کے زمانے کے ماحول کا موازنہ کرتے ہیں تو خود کلامی کا انداز جا بجا نمایاں ہوتا ہے۔آر کے پاٹھک نام کے اس کردار کے مزاج کی ابتدائی جھلک ملاحظہ ہو:

”وہ جو شیلا نوجوان جو کچھ بھی غلط برداشت نہیں کر پاتا۔۔۔جو اسٹوڈنٹ یونین کے لیڈرسے زیادہ فعال ہے۔۔۔جو سب کی فلاح کے لئے ہر وقت تیارکھڑا رہتا ہے۔جس کی بات لڑکے بھی مانتے ہےں اور مینجمنٹ بھی اسے اہمیت دیتی ہے اور ایسے ہی لوگ امید کی وہ کرن ہیں جو بگڑے ہوئے حالات کو سنبھالنے میں پوری مدد کر سکتے ہیں“۔(۲)

ناول کے اس حصے میں اس کے علاوہ چنداور کرداروں اوران کے پس منظر سے واقف کرایا گیا ہے۔ دوسرے حصے میں اجے ورما کا اپنے دوست پروفیسر متھیلیش کے اصرار پر نیشنل یو نیورسٹی میں بہ حیثیت رجسٹرار عہدہ سنبھالنے کا احوال درج ہے۔بہ حیثیت رجسٹرار اجے ورما یونیورسٹی میں پھےلی ہوئی بد عنوانیوں سے واقف ہوتے ہیں۔ ناول کا ایک اہم کردارنیک رام اس باب میں ظاہرہوتا ہے۔دراصل یہ وہ کردار ہے جس کا سیدھا مقابلہ اجے ورما سے ہے۔نیک رام حصول مقاصد کے لئے جائز و نا جا ئز کے درمیان فرق نہیں کرتا ہے جب کہ اجے ورما کسی بھی کام کو خلاف اصول آگے نہیں بڑھاتے۔ناول نگار نے ان دونوں کرداروں کو ایک دوسرے کے ساتھ رکھ کر ان کے درمیان کے تضادات کو نمایاں کیا ہے۔

ناول کا تیسرا حصہ زیادہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ تقریباًتمام کرداروں کے اندر رونما ہونے والی تبدیلیاں اس باب میں درج ہیں۔راجیش کے توسط سے اس کے اہل خانہ اور خاص طور سے اس کے گھر کی معاشی صورت حال، راجیش کے ملازمت پانے کی امید میں اس کی بوڑھی ماں اور بہن کی آنکھوں میں نہاں تمناﺅں کا بیان درج ہے۔میتا بوس کا ملازمت سے ہٹنا اورکمپیوٹر سینٹر جوائن کرنے کا حال درج ہے۔اجے ورما کا تعلیمی میدان میں جاری بدعنوانیوں کے خلاف عملی جہاد کاآغاز بھی اسی باب سے ہوتا ہے۔راجیش غلط طریقے سے ملازمت حاصل کرتا ہے۔آر کے پاٹھک جیسا کردار نئے رنگ و روغن کے ساتھ نمایاں ہوتا ہے۔اجے ورما تقرری کمیٹی کے صدر کی حیثیت سے نیک رام کو مستقل ملازمت پر بحال کرتے ہیں۔

اس کے بعد کہانی اپنے عروج کی طرف بڑھتی ہے۔نیک رام بہ حیثیت کلرک کام کرتے ہوئے دن بہ دن ترقی کی طرف گامزن رہتا ہے۔یونیورسٹی میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے پس پشت ہو رہی سیاست بھی نمایاں ہوتی ہے۔اجے ورما اپنی پرانی یونیورسٹی میں واپس آتے ہیں اور وائس چانسلر کے عہدے کے لیے پرانے استاد ہونے کی بنا پر گورنر ہاﺅس بلائے جاتے ہیں۔گورنرسے ملاقات کے بعد مسلسل مضطرب رہنے کی وجہ اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب نیک رام بہ حیثیت وائس چانسلر یو نیورسٹی میں وارد ہوتا ہے۔نئے وائس چانسلر کے بلانے پر ملنے نہ جانا دراصل ان کے اس احساس کو نمایاں کر تاہے کہ انھوں نے ایک چھوٹی سی غلطی نہیں کی ہوتی ۔لیکن کچھ دنوں کے بعدصبح کی سیر کے دوران نیک رام کامل جانا اور انھیں ”ہیلو پروفیسر“سے مخاطب کرنے پر ناول کا اختتا م ہوتا ہے۔

اجے ورما کا تعارف کراتے ہوئے محترمہ لکھتی ہیں:

”ان کی با اصول زندگی نے انھیں ایک متناسب جسم اور قدوقامت عطا کیا تھا۔۔۔بال بھی صرف کنپٹیوں پر سفید ہوئے تھے اور سامنے ایک موٹی سی سفید لٹ ان کے وقار میں اضافہ کرتی تھی اور ان سب کے باوجود ان کا نرم و ملائم چہرہ جو ان کے مزاج کی غمازی کرتا تھا،انھیں ان کی عمر سے پانچ چھ سال کم کا ہی لگنے میں مدد کرتا تھا۔مگر وہ ان ساری باتوں سے ہمیشہ بے پرواہ تھے اور ان کی سنجیدگی و متانت سے سامنے والے پر ایک خاص قسم کا رعب پڑتا تھا“۔(۳)

ناول نگار کا مختصر لفظوں میں بڑی بات کہہ دینے کا انداز ناول میں جا بجا موجود ہے۔داخلی خودکلامی کا انداز بھی ناول میں جا بجا موجود ہے۔اجے ورما ایک استاد کی حیثیت سے بچوں کو ملک کا مستقبل سمجھتے ہیں ۔ ان کی تعلیم و تربیت سے ملک کا مستقبل وابستہ ہے ۔آزاد ہندوستان کے پچاس سال مکمل ہونے کے بعد کا منظرنامہ بیان کرتے ہیں تو وہ حالات سے ناخوش اورغمگین نظر آتے ہیں ۔آزادی کی پچاسویں سال گرہ کے جشن کو منعقد ہوئے ابھی چند دن گزرے ہیں۔وہ خود کلامی کے انداز میں سوچتے ہیں:

”اجے ورما حیران تھے کہ یہ اسی ہندوستانی ترقی یافتہ سماج کا حصہ ہے جس نے بڑے جوش وخروش سے آزادی کی پچاسویں سال گرہ منائی تھی ۔اور نئی صدی کا بھی اسی جوش و خروش کے ساتھ خیر مقد م کیا ۔۔۔یہ اسی ہندوستانی سماج کا حصہ ہے جس نے نیو کلیئر بم بنا نے میں ترقی یافتہ ملکوں سے کندھے سے کندھا ملا لیاہے۔جہاں ملک کے رہنماﺅں کے گھر کی سجاوٹ (Interior Decoration)کے لئے غیر ملکی ایکسپرٹ آتے ہیں۔مگر قوم کے رہنماﺅں کو یہ کیوں نہیں نظر آتا کہ ملک کے یہ سات آٹھ کروڑبچے جو آج بھی تعلیم سے محروم ہیں ۔۔۔کیا اس نئی صدی سے ان کا کوئی مطالبہ نہیں ۔۔۔یا اس ملک کو ان کی ضرورت نہیں ۔۔۔ان کی فکر کسی کو تو کرنی چاہیے۔۔۔کسی کو تو کرنی ہوگی“۔(۴)

یہ اقتباس آج کے ہندوستان کی حقیقی تصویرپیش نہیں کرتا۔۔ مختلف قسم کے قوانین کے نفاذ کے بعد بھی صورت حال بہتر نہیں ہے۔اجے ورما کے مطابق ملک کے رہنمااس فکر سے آزاد ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنا سرمایہ جنگی سازوسامان پر صرف کر رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اےٹم بم بنانے اور غیرملکوں سے ہتھیار کی خریدکے لئے ہمارے پاس سرمایہ ہے لیکن تعلیم ،صحت اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے سرمایہ نہیں ہے۔ترقی یافتہ ممالک کی چمک دھمک نے ہماری آنکھوں کو چکا چوندھ میں مبتلا کر دیا ہے ۔ ہم نے ان کی ترقی کا راز صرف یہ جاناہے کہ وہ دفاعی میدان مےں مضبوط ہیں اس لئے انھیں آج یہ مقام حاصل ہے۔جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

اجے ورما بہ حیثیت جوائنٹ رجسٹرارجن تجربات سے آشنا ہوتے ہیں وہ آج کے دور میں ہر اصول پرست انسان کا نصیب ہے۔ناول نگار نے اس کردار کے ذریعے یہ دکھایا ہے کہ عصر حاضر میں حق پرست انسان کو اصولی طور پر کام کرنے میں کیسی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دیگرشعبوں کے بجائے تعلیم کے شعبہ کو موضوع بنانابھی اپنے آپ میں گہری معنویت لئے ہوئے ہے۔ناول نگار نے اس شعبے کو موضوع بنا کرہمارے سماج اور سیاست دا ں دونوں طبقے پر سوال کھڑا کیاہے۔ناول سے ایک مثال ملاحظہ ہو:

”سر آپ سمجھ نہیں رہے ہےں“۔بڑا بابو جو پچھلے آدھے گھنٹے سے اجے ورما کو سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے آخر جھنجھلا کر بولے“۔

”آپ مجھے اتنی دیر سے یہی تو سمجھارہےں نا کہ میں صحیح کام کر کے بھی پھنس جاﺅں گا۔۔؟اب یہ ماننے والی بات ہے کیا“۔

”سر۔۔۔ آپ نہیں جانتے ،یہ دنیا ویسی نہیں ہے جیسا آپ سمجھتے ہیں۔آپ سوچ رہے ہوں گے ،بڑا بابو کا پرسنل انٹرسٹ ہے اس فائل کو نکلوانے میں۔۔۔مگر نہیں سر۔۔۔ہم لوگ تو وہی کرتے ہیں جو سب کی مرضی ہوتی ہے۔ہم لوگ ہوا کا بہاﺅ دےکھ کر چلتے ہیں۔۔۔بس،اور آپ اس بہاﺅ کے وپریت جانا چاہتے ہیں “۔بڑا بابو نے ایک اور ناکام کوشش اجے کو سمجھانے کی کی۔

”میں اپنا کام کرنا چاہتا ہوں۔۔۔بس آپ لوگ مجھے اپنا کام اپنے ڈھنگ سے کرنے دیں“۔

”سر آپ ہمیں اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔۔۔جب کہ ہم آپ کے شبھ چنتک ہیں۔اس لئے آپ کو ہوشیار کرنے آئے ہیں کہ اب آپ اپنا اصول کچھ دن بھول کر آنکھیں بند کر لیجئے تو نقصان سے بچ جائیں گے“۔

”کیسا نقصان؟“

”بڑا بابوپہلے ادھر ادھر دیکھا پھر اٹھ کر اجے کے کمرے کا دروازہ بند کیا اور واپس آکر کرسی پر بیٹھ گئے۔پھر بڑے رازدارانہ انداز میں اجے ورما کی طرف جھک کر کہا۔

”سراگرآپ نے جلدی سے اس فائل کو او کے نہیں کر دیا تو آپ کی بڑی بدنا می ہو جائے گی“۔

اجے نے کچھ نہیں کہا بس بڑی ناگواری سے بڑابابو کو دےکھتے رہے۔

”ارے یہ لوگ کہہ رہے ہےںکہ آپ نے جہا ں سے کرسی لی ہے نا۔۔۔اس فرنیچر والے نے آپ کو پےسے کھلائے ہےں اسی لئے آپ نے اس ٹنڈر کو پاس نہ کرکے اوبجکشن لگا رہے ہےں تا کہ آپ نے جس سے رشوت لی ہے اس کا ٹنڈرپاس ہو اور آپ نے تو اوبجکشن کے بعد یہ پرپوزل بھی دیا ہے کہ فلاںجگہ سے کرسی لی جائے۔۔۔تو بس بہت آسانی سے آپ کے خلاف کےس بن جائے گا“۔(۵)

مذکورہ اقتباس سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑا بابو بھی اس کام کے لئے مجبورہے۔ یہ نظام نیا نہیں بلکہ اس کی جڑیں گہرائی تک پیوست ہیں۔اپنے خلاف جانے والے شخص کے لئے یہ شعبہ ہرطرح کے ہتھ کنڈے محفوظ رکھتا ہے اور اصول کے مطابق کام کرنا نا ممکن بنا دیتا ہے۔

اجے ورما کا کردار اس طرح کی صورت حال میں امید کی کرن معلوم ہوتا ہے۔لیکن جہاں سارا نظام بد عنوانوں کے زیر اثر چل رہاہو ایسے میں ایک ایماندار شخص کے لئے فضا کو بدلنا مشکل ہے۔ اجے ورما کی خوبی یہ ہے کہ وہ اس طرح کے ماحول میں بھی اپنی بساط بھر کوشش کرتے ہیں۔ اجے ورما غلط طریقے سے پاس ہونے والی فائلوں کو روک دیتے ہیں۔ موقع بی موقع اپنے ماتحت لوگوں کو جانچتے پرکھتے رہتے ہیں۔ تلاش و تحقیق کے ساتھ اسی کو موضوع بنا کرایک کتاب بعنوان”Cross Purposes “شائع کراتے ہیں۔کتاب سے ایک مثال پیش خدمت ہے :

”ملکی سیاست اور ایجو کیشن کے مسائل پر لکھی گئی ایسی کتاب تھی جس میں تحقیق کے ذریعے بڑی کڑوی حقیقتوں کو سامنے لایا گیا تھا۔۔۔ملک کی اکانامی(Economy) گھناﺅنی سیاست اور تعلیم کا پچھڑا پن وقت رہتے اگر نہیں سدھارا گیا توکتنا خطرناک موڑ لے سکتا ہے۔یہ اس کتاب سے پتہ چل رہاتھا۔۔۔اس میں اگر گاﺅں اور قصبوں میں تعلیم کے نام پر خرچ کئے گئے بجٹ کی ایک تصویر تھی دوسری طرف چھوٹے چھوٹے سیاسی لیڈر کے ملکی اور غیر ملکی سفر کے اخراجات کی تفصیل بھی تھی جو ایک ایک لیڈر پر لاکھوں کے ہندسوں میں ہوئے تھے۔۔۔یہ ایک کتاب نہیں بر سر اقتدارلوگوں سے ایک ایک سوال تھاجو ان کے چمکتے چہروں پرسیاہی پوت سکتا تھا۔۔۔اور ایک با ضمیر انسان کو سوچنے پر مجبور کر سکتاتھا۔۔۔سوتے ہوئے ذہنوں کو جھنجھوڑ کر جگا سکتا تھا۔۔۔یہ کتاب موجودہ نظام کے خلاف ایک احتجاج تھا۔۔۔اس نظام کے خلاف جہاں غریب کسان کپاس کی کھیتی خراب ہو نے پر خود کشی کرلیتے ہیں تودوسری طرف ملک کے راہبروں کے گھروں سے دولت کے انبار نکلتے ہیں۔۔۔راجیش کے دل ودماغ میں اس کتاب نے ایک عجیب سی ہلچل مچا دی “۔(۶)

ہم دیکھتے ہیں کہ ناول کا مرکزی کردار اپنے مزاج کے مطابق بنا کسی کے دباﺅ میں آئے نظام کے خلاف جد وجہد کرتا ہے۔یہ اور بات ہے کہ اس طرح کے نظام میں شخص واحد کی کوششےں کہاں تک بار آور ثابت ہوتی ہیں۔ اجے ورما جیسے لوگوں کو سماج نے قبول کرنے کے بجائے حاشیے پر پہنچا دیا ہے ۔ مصنفہ اجے ورما جیسے لوگوں کی سماجی حیثیت پر کچھ اس طرح اظہار خیا ل کرتی ہےں:

”اجے میں ڈپلومیسی نہیں تھی ۔اجے کے اصولوں میں ذرا بھی لچک نہیں تھی اور آج کل اتنے کٹر اصول پرست انسان کسی پرانے فیشن کی طرح لوگوں کے دلوں سے اتر گئے ہیں“۔(۷)

ناول میں تعلیم کے شعبہ میں جاری ہر طرح کی بد عنوانیاں نظر آتی ہیں۔تعلیمی ادارے میں ہمیشہ طلبائ،اساتذہ اور انتظامیہ کا مثلث قائم ہوتا ہے۔عام طور پر طلباءیونین کے عہدے دار انتظامیہ اور اساتذہ کے ہم خیال نہیں ہوتے ہیں۔ یونین کے پلیٹ فارم سے ہونے والی سیا ست کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ یونین کے عہدے داروں نے طلباءکی فلاح و بہبودی میں کم دلچسپی لی ہے ۔دوسرے معاملات میں زیادہ منہمک نظر آئے ہیں ۔

دراصل ہوا یہ ہے کہ طلبائ،انتظامیہ اور اساتذہ کا مثلث تو پہلے کی طرح قائم ہے لےکن ان کی صفات میں فرق آگیا ہے۔ انتظامیہ اور یونین کے عہدے داروں کے درمیان نئے قسم کا معاہدہ عمل میں آ ہو چکاہے۔اب یونین کے لوگ ٹکراﺅکا راستہ اپنانے کے بجائے مفاہمت کاراستہ اپناتے ہیں نیزطلباءکے درمیان اسی باغیانہ تیور کے ساتھ موجود بھی رہتے ہیں۔مصنفہ نے اس مسئلے کو اپنے ناول میں اٹھایا ہے۔ناول کا ایک اہم کردار آر کے پاٹھک اب انتظامیہ کے ساتھ ساز باز کرتا ہوانظر آتا ہے۔ اجے ورما کبھی اسے اس طرح کے نظام میں روشنی کی کرن سمجھ رہے تھے۔پاٹھک کی تبدیلی ملاحظہ ہو:

”واپسی میں اس نے رجسٹرار آفس کے پاس کی ہلچل کو دیکھ کر سوچا اسے یہاں اپنا کام دو دن کے بعدہی کروانا چاہیے ۔اس لئے وہ وہاں اترنے کا ارادہ ترک کر کے سیما کے پاس ہی چلی گئی۔۔۔اس بھیڑ میں اس کی نظر پاٹھک پر پڑی تھی اور اسے خیال آیا تھا کہ اس کے ہی بیچ کا یہ لڑکا آج تک ایم اے فائنل کا امتحان نہیں دے سکا تھا۔۔۔وہ شروع سے ہی سماج کے فلاح اور انسانیت کی بقا کے لئے کام کرنے کا جذبہ رکھتا تھا۔اس کا یہی جوش اور جذبہ طالب علموں اور ضرورت مندوں کی مدد سے شروع ہوا اور اسے ترقی پسند انسان کے طور پر پہچانا جانے لگا۔اس کی پہچان سے جہاں اسے بے شمار فائدے ہوئے ایک نقصان یہ ہوا کہ وہ اپنی تعلیمی سرگرمیوں سے بھٹک گیا۔پھر دھیرے دھیرے نظام  اسکی سائیکی میں سرایت کر تا ہوا اس کی سوچ پر حاوی ہوتا گیااور وہ کب ایک ترقی پسند انسان سے رجعت پسند بن گیایہ اس کو بھی خبر نہیں ہوئی ۔آج بھی وہ ہر بھیڑ میں سب سے آگے نظر آتا ہے ۔سب کے لئے کام کرنے کا جذبہ لے کر لیکن لوگ کہتے ہیں کہ اس کا مقصد بدل گیا ہے۔اس لئے اب اس کے پاس نئے ماڈل کی کار نظر آتی ہے۔تن پر قیمتی کپڑے ۔وہ آج بھی بے روزگاروں کا درد سمجھنے کا دعویٰ کرتا ہے مگر اس درد کو سمجھنے کے لئے وہ اپنی کار سے آتاہے“۔(۸)

مذکورہ اقتباس میں ناول نگار نے پاٹھک کے کردار کے ذریعے عصر حاضر کی طلباءسیاست کی حقیقی تصویر پیش کی ہے۔ Establishment کے خلاف رہنے والے طلبہ جب یونین کے عہدے دار بنتے ہیں تو ان کی ترجیحات کس طرح بدل جاتی ہیں۔ ان لیڈروں کو ہو رہی تبدیلی کا اندازہ نہیں ہوتا لیکن رفتہ رفتہ نظام کی سائیکی ان پر غلبہ حاصل کر لیتی ہے۔اس عمل سے گزرنے کے بعدانھیں عام طلباءکے مسائل پہلے کی طرح ہی عزیز ہوتے ہیں لیکن اب ان کے مسائل کا حل نکالنے کے بجائے فائدہ اٹھا یا جاتاہے۔انتظامیہ سے ساز باز کے بعد لیڈروں کا مقصد حاصل ہوجاتا ہے لیکن طلباءکامسئلہ حل نہیں ہوتا۔

پاٹھک کے اندر ہونے والی تبدیلی کے ساتھ ناول کے اہم کردار نیک رام کا حال بھی دیکھتے چلیں ۔اجے ورما ایک بااصول اور حق پرست انسان کی صورت میں ہر جگہ جلوہ گر ہیں۔ ان کے مقابلے میں نیک رام اول درجے کا موقع شناش ہے ۔پاٹھک کے یہاں تبدیلی کا عمل بعد میں ظاہر ہوتا ہے لیکن نیک رام تو ابتداہی سے اپنے مزاج کے تعلق سے اشارہ فراہم کرتا رہتا ہے:

”سر۔۔۔ اد ھرسے آئیے“۔

”کیوں بھائی۔۔۔؟میں تو سیڑھیاں ہی استعمال کرتا ہوں“۔

”ارے نہیں سر ۔۔۔ادھر سے آئیے“۔نیک رام نے اصرار کیا۔اور اس کے اصرار پر اجے ورمالفٹ کی طرف بڑھ گئے۔

”سر لفٹ کی سہولت ہوتے ہوئے آپ سیڑھیوں سے کیوں جاتے ہیں؟“

باتیں کرتے ہوئے دونوں لفٹ میں داخل ہوجاتے ہیں اور نیک رام پہلی منزل کے لئے لفٹ کے بٹن پر انگلی رکھ کرہنستا ہے۔

”کیا بات ہے نیک رام؟“

”کیا مزے کی چیز ہے سر۔۔۔انگلی کے ایک اشارے سے آپ اپنی من چاہی منزل پا سکتے ہیں تواتنے ہاتھ پیر کیوں ہلائے جائیں؟“

”ہاں جب بٹن دبانے کا فن آتا ہو تو انسان اپنی منزل کا تعین کر کے اس پر منٹوں میں پہنچ جاتا ہے۔مگر اپنی اپنی سوچ ہے،تمہیں آسانیاں پسند ہیں اور مجھے محنت۔۔۔“

لفٹ سے نکل کر آفس کی طرف بڑھتے ہوئے انہوں نے کہا۔اور اپنے کمرے میں داخل ہو گئے۔نیک رام بھی اپنے ٹیبل کی طرف بڑھ گیا“۔(۹)

ناول کے واقعات بتاتے ہیں کہ نیک رام نے واقعی لفٹ کے ذریعے اپنی من چاہی منزل حاصل کی۔پہلے پہل خدمت گزاری اور خو شامدکی بنیاد پر اجے ورما کے ہاتھوں مستقل ملازم ہوا ۔ اس کے بعد ترقی کا سلسلہ چلتا رہا۔اجے ورما کو نیشنل یونیورسٹی سے واپس آنے کے تقریباً آٹھ سال کے بعد ملنے والے پوسٹ کارڈسے اندازاہ ہوتا ہے کہ ان کا خاص ملازم”لفٹ“ کی افادیت سے خوب آشنا ہو چکا ہے۔نیک رام نے اس کی ایک جھلک اجے ورما کے نیشنل یونیورسٹی میں قیام کے دوران ہی مستقل ملازم ہوتے ہی دکھا دی تھی۔پوسٹ کارڈ پڑھنے کے دوران اجے ورما کی ذہنی حالت ملاحظہ ہو:

”نئے سال کا کارڈتھا وہ بھی نیک رام کی طرف سے اور بہت واضح اور نمایاں طور پر بھیجنے والے دستخط کے اوپر چمک رہا تھا۔۔۔”رجسٹرار“ انھوں نے سوچا۔۔۔ انھیں راج نگر سے واپس آئے ہوئے تقریباً آٹھ سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ان آٹھ سالوں میں بہت سے ریڈر ابھی اپنے پروفےسر ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔مگر یہ نیک رام ایل ڈی سی کی پوسٹ سے آج رجسٹرار کے اہم عہدے پرپہنچ چکا ہے۔یہ ہے ہمارے ترقی یافتہ نظام کی قابل ستائش پالیسی۔۔۔اور عیارانہ کارگزاریوں کا صلہ ہے“۔(۰۱)

اتنا سب کچھ حاصل کر لےنے کے بعد نیک رام کا اعتراف ملاحظہ ہو:

”سب اوپر والے کی کر پا ہے صاحب۔۔۔آپ نے ٹکٹ لینے والوں کی بھیڑ کو ونڈو اسکرین پر کبھی دیکھا ہے ۔کتنی لمبی لائن ہوتی ہے مگر اسی لائن میں ادھر ادھر سے گھس کر کچھ لوگ پہلے ٹکٹ لے جاتے ہیں اور لائن میں کھڑے لو گ اپنی باری کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔۔۔نیک رام نے بڑے فخر سے کہا“۔(۱۱)

مذکورہ اقتباس میں ہر اس شخص کی بے بسی پنہاں ہے جو عصر حاضر کے نظام میں دن بہ دن بڑھتی ہوئی بدعنوانیوں سے نالاں ہے۔بد عنوان اور بے ضمیر لوگوںکے حق میں جاتے ہر فیصلے نے حساس لوگوں کو بے بس کردیا ہے ۔ نظام کا بےشتر حصہ بدعنوان لوگوں اور ان کے ہم نوا ﺅں سے پر ہے۔یہی وجہ ہے کہ گورنر ہاﺅس میں وائس چانسلر کے عہدے کے لئے اجے ورما جیسے لیاقت مندکے ساتھ جوڑ توڑ کا ماہر نیک رام بھی مدعوہے ۔گورنر کے ہاتھوں نیک رام کا بہ حیثیت وائس چانسلرتقرر بھی ہوتا ہے۔گویانیکی پر بدی کو غلبہ حاصل ہوچکا ہے:

”اجے ورما نے سوچا ہماری تہذیب اور روایت کے ساتھ اور بھی دھیرے دھیرے غیر محسوس طریقے سے بہت کچھ بدل رہا ہے۔ڈکشنری میں لفظوں کے مفہوم بدل رہے ہیں۔نصاب کی کتابوں میں تاریخیں بدل رہی ہیں اور اپنے اپنے مفاد کے حساب سے سنوید ھان میں نئے نئے بل پاس ہوکر قانون بدل رہے ہیں اور اس بدلاﺅ کو قبول کرتے رہنا سب کی مجبوری ہے“۔(۲۱)

بہ حیثیت مجموعی نسترن احسن فتیحی کی کامیابی یہ ہے کہ انھوں نے اپنے ناول میں اٹھائے گئے موضوع سے مکمل آگاہی کا ثبوت دیتے ہوئے موضوع کے تقریباًہر پہلو پر روشنی ڈالی ہے۔حق وباطل کے مابین کشمکش کو نمایا ں کرنے والے واقعات جزئیات کے ساتھ موجود ہیں۔مرکزی کردار اجے ورما کی بے بسی کا المیہ نا ول کے دیگر کرداروں کو بھی اپنے سائے میں لے لیتا ہے۔ ایک دوسرے کے طالب راجیش اور میتا بھی جدا ہوتے ہیں۔اس طرح ناول کی مجموعی فضا المناک ہے۔

حوالہ جات:۔

۱۔ لفٹ،نسترن احسن فتیحی،ایجوکیشنل بک ہاﺅس،علی گڑھ،۳۰۰۲ئ،ص۰۱

۲۔ایضاً،ص۴۱

۳۔ایضاً،ص۶۱تا۷۱

۴۔ایضاً،ص۵۵تا۶۵

۵۔ایضاً،ص۰۷تا۱۷

۶۔ایضاً،ص۴۵

۷۔ایضاً،ص۰۹تا۱۹

۸۔ایضاً،ص۰۵تا۱۵

۹۔ ایضاً،ص۵۴۱

۰۱۔ایضاً،ص۵۹

۱۱۔ایضاً،ص۸۷۱

۱۲۔ایضاً،ص۱۲تا۲۲

ڈاکٹر زبیر عالم

ڈاکٹر زبیر عالم

جے این یو ،نئی دہلی

موبائل نمبر۔9968712850

zubair2amu@gmail.com

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form