دیدبان شمارہ 9

 

قربان گاہ میں نیند

--- تبسم فاطمہ

میں تب جاگی تھے جب نیند میں سانپوں کی سرسراہٹ

بوسہ بننے کی تکمیل میں تھی

ہاتھ میں گرم ہوا کے جھونکے کی فصیل تھی

نہیں ، ایک شہر آباد تھا /جلتا سلگتا

کیا یہ ممکن ہے کہ جب ہاتھ کی فصیلیں زخمی ہوں

اور روم کے آخری شہنشاہ نیرو کی بانسری کی آوازسن کر

ہونٹوں پر شب مقدس کا بوسہ طلو ع ہو رہا ہو ؟

جب نیند میں شہر کے شہر غرقاب تھے

میں سانپوں کی سرسراہٹ کے درمیان عشق کا نغمہ گا رہی تھی

اٹھتے ہوئے شعلوں کے درمیان ایک ہجوم رقص شرر کی کیفیت میں تھا

( اور تم جان لو / کہ بے نیازی کے صرف دھڑ ہوتے ہیں  

جب تم چمکتے پانیوں سے غسل کرتے ہو / کچھ لوگ نیزے پر

اچھالے جا رہے ہوتے ہیں / جب تمھارے جسم آسودہ مگر بے حس ہوں

سیاہ چمگادڑوں کا تحفہ تمھارے شہر کو بھیجا جاتا ہے /مگر تمھاری سماعت

روح سے خالی ہوتی ہے ..)

جب منحوس چمگادڑوں کی ٹولی فضا میں رقص کر رہی تھی

تب میں دریا میں کودی تھی

بے چین سانسوں کو جسم دینے کے لئے

پس منظر میں بارود کی آوازیں

جب موسیقی میں ڈھل رہی تھیں

میں نیند کی سیاہی سے پانی پر

رزق اور زندگی کا کولاز بنا رہی تھی

( جب سرد راتیں کشمیر ، اور گرم دن گودھرا گجرات ہوں گے / اس وقت بھی تم

پرانی لحاف میں بوسے لکھ رہے ہوگے / جب نیند قربان گاہ پر ہوگی /

تم اپنی اپنی جنتوں میں قتل ہو رہے ہوگے )

نیند کے کورے کینواس پر

میرے جسم کی سرخی پھیلی تھی

حسین بوسے لپلپاتی زبانوں پر اٹھاے

سانپوں کا ہجوم شاہراہ پر اکٹھا ہو رہا تھا

تبسّم فاطمہ

نام : تبسّم فاطمہ پیدائش : تین جولائی وطن : آرہ ،بہار تعلیم : علم نفسیات   میں ایم .اے ،صحافت میں ڈپلوما ، انعام وا عزاز :دلی اردو اکادمی اور بہار اردو اکادمی کے انعامات .ہیومن  رائٹس دلی کی طرف سے خصوصی انعام تبسّم فاطمہ کی پیدائش بہار میں ہوئی .تعلیم بہار میں حاصل کی .شادی کے بعد دلی میں سکونت  اختیار کر لی .اب تک اردو اور ہندی میں انکی کئی  کتابیں منظر عام  پر آ چکی ہیں .لیکن جزیرہ نہیں ،سیاہ لباس ،تاروں کی آخری منزل افسانوی مجموعے ہیں .ذرا دور چلنے کی حسرت رہی ہے ، میں پناہ تلاش کرتی ہوں شعری  مجموعے شایع  ہو کر مقبول ہو چکے ہیں ،جرم ( ہندی افسانوی  مجموعہ .اردو سے ہندی ، اور ہندی سے اردو میں اب تک وہ بیس سے زاید  کتابوں کا ترجمہ کر چکی ہیں .الیکٹرانک میڈیا کے لئے انہوں نے پچاس سے زیادہ ڈوکیو منٹری فلمیں بنایی ہیں .پچیس سے زیادہ سیریل بنا چکی ہیں .ادب سے وابستہ ہستیوں پر بھی انہوں نے ٥٢ سے زیادہ مختصر فلمیں بنائی  ہیں . .وہ مختلف رسائل میں کالم بھی لکھتی رہتی ہیں .پاکستان کے روزانہ جناح اور دینک بھاسکر میں انکے کالم کو پسند کیا  گیا .پچھلے چار برسوں سے وہ روزنامہ انقلاب میں بھی کالم لکھ رہی ہیں .تبسم کے یہاں  ’نہیں‘ ان کے فکری نظام کا کلیدی لفظ ہے۔ شعور کے ایک مرحلے میں ہر نہیں، ہاں سے بڑی ہوتی ہے۔ تبسم فاطمہ کی تخلیقات  شعور کے اسی مرحلے کی تخلیق ہیں۔ انہوں نے اپنے ارد گرد کی بے کس مظلوم استحصال زدہ اور نفسیاتی طور پر کچلی ہوئی عورتوں کو اپنی تحریروں  میں کسی نہ کسی طرح باغی بننے کی ترغیب دی ہے۔ ان کی آئیڈیل عورت ٹپیکل سچویشن میں رہتے ہوئے بھی بالآخر زمانے کی ستم رانیوں سے ٹکراتی ہے اور اپنا حساب خود ہی بے باق کرتی ہے۔ 

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form