دیدبان شمارہ ١٢

طویل افسانہ : تفریح کی ایک دو پہر

مصنف :  پروفیسر خالد جاوید

’’دکھ نے میرے چہرے پر ایک نقاب ڈال دی ہے۔‘‘

’’دنیا سے ایک جیوکم ہوجاتا ہے۔‘‘

’’آسمان میں ایک فرشتہ بڑھ جاتا ہے۔‘‘

(فرنانڈو پیسوا)

(۱)

یہ مئی کی دوپہر ہے۔ دو بج رہے ہیں اور لو بھی چلنا شروع ہوگئی ہے۔ میرا خیال ہے کہ میری کہانی سننے کے لیے یہی وقت بہترین ہے۔ میں جو کہانی سنانے جارہا ہوں اس کے مخصوص ترین قاری وہ لوگ ہیں جو دوپہر کے کھانے کے بعد قیلولہ کریں گے، پھر اٹھ کر شام کے شو میں سنیما دیکھنے چلے جائیں گے۔ جو لو گ شام کو تفریح یا کچھ خرید نے کی غرض سے بازار جانے کا ارادہ رکھتے ہیں وہ اس کہانی کو نہ سن پائیں گے، نہ پڑھ پائیں گے کیوں کہ میں اس بات پر مکمل دسترس رکھتا ہوں کہ ان پر اپنی کہانی کا دروازہ کھولوں یا نہ کھولوں۔ دراصل اب اس بات کو زیادہ دیر پوشیدہ رکھنے کا کیا فائدہ کہ میں ایک بھوت ہوں۔ اس کہانی سے آپ کو پہلی بار بھوت کے بارے میں سچا اور مستند علم حاصل ہوگا۔ یہ میراو عدہ ہے۔ مگر اس سے پہلے مجھے چند باتیں گوش گزار کرنا ہیں۔ ان چند باتوں کو آپ ایک بھوت کا پیش لفظ یا ’’عرض مصنف‘‘ وغیرہ سمجھ سکتے ہیں۔

تو پہلی بات تو یہ کہ میں لفظ کی تاریخی حیثیت سے قطعی متاثر نہیں ہوں۔ میں اسے صرف ایک آواز مانتا ہوں اس لیے میں معنی کی نہیں، لے کی تلاش میں ہوں۔ میں زبان کو اپنے ’’جاننے‘‘ کی نہیں بلکہ ’’اپنے ہونے‘‘ کی زبان بنارہا ہوں۔ مجھے اس شکل سے نفرت ہے جس کی زبان، سانپ کی طرح ہمیشہ کچھ نہ کچھ جاننے کے لیے باہر لپکتی رہتی ہے۔ اس لیے ممکن ہے کہ میں لفظوں اور آوازوں، دونوں ہی کے انہدام پر آمادہ ہو جاؤں۔

جیسا کہ میں کہہ رہا تھا ’لے‘ یا ’سر‘ ہی وہ شے ہے جو میرے دل میں ایک ناقابل بیان اور غیر صفاتی معنی کی گونج پیدا کرسکتی ہے۔ اب مجھے آہستہ آہستہ اپنا ’سر‘ لگانا ہے۔ اپنی ’لے‘ بنانا ہے۔ اس کے لیے یقینا مجھے اپنے ایک سفر پر نکلنا ہے۔ اپنی موسیقی کے آلات تلاش کرنے کے لیے یہ ایک خطرناک مہم ہوگی۔ راستہ تاریک ہے اور بھیانک، جانوروں کی آوازوں اور خطرناک ترین جغرافیے سے بھرا ہوا ہے۔ لیکن میں مجبور ہوں۔ مجھے جس ’’سر‘‘ کی تلاش ہے اس کے واسطے آلاتِ موسیقی تو وہیں دبے رہ گیے ہیں، یعنی اس دلدل میں جہاں آپ کی دنیا کی تہذیب، تاریخ تمدن اور اخلاقیات کا کوئی گزر نہیں ہے۔

تو آپ مجھے اجازت دیں کہ میں اپے اُن آلاتِ موسیقی کو تلاش کرنے کے لیےنکلوں جو صدیوں پہلے اس اندھیری دنیا میں کہیں پڑے رہ گیے تھے۔ کیا آپ کومعلوم ہے کہ ’’بھوت‘‘ دراصل ہوتا کیا ہے؟ نہیں وہ ضروری تجہیز و تکفین وغیرہ کی بات الگ رکھیں اور توجہ سے سنیں۔ بھوت دراصل وہ ’ذہن‘ ہے جو دورانِ موت پاگل ہوگیا ہو۔ موت کی تکلیف کو ہر ذہن برداشت نہیں کرسکتا۔ دراصل تھوڑی بہت تفریح کے بغیر ذہن کسی بھی تکلیف کو برداشت نہیں کرسکتا۔ موت تفریح سے ایک دم خالی ہے۔ یہ ایک قسم کی لامتناہی حیرت ہے اور اس وقت کا کیا کہنا جب موت کی صورتِ حال اور اس کے اسباب بھی شدت سے ذہن کو حیرت میں ڈال دینے والے ہوں۔

میرے ساتھ ایسا ہی ہوا تھا۔ میں اس حیرت اور تکلیف کو برداشت نہیں کرسکا۔ ویسے بھی میرا ذہن بہت کمزور تھا اور سوائے تفریح کے، وہ کسی جذبے کو بہت زیادہ برداشت کرنے کے قابل تو کبھی نہیں رہا۔ اس طرح کے ذہن موت کے دوران ہی پاگل ہوجاتے ہیں۔ اُن کے جسم سے مرنے کے بعد ایک پاگل روح مائل بہ پرواز ہوتی ہے۔ اس پاگل روح کا مقدر میرا مقدر ہے۔ یعنی ایک بھوت کا جس کے بس میں اب اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ زندوں کو پریشان کرتا یا پھر اور ان پاک وصاف روحوں کو رشک و حسد کے ساتھ دیکھتا رہے جو دورانِ موت اپنا ذہنی توازن برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں۔

دیکھیے جب بھوت کہانی بیان کرے گا تو اس میں بے چینی، جھلاہٹ، کرب اور بے ربطی کے عناصر ناگزیر ہوجائیں گے۔ کیوں کہ بھوت کا ضمیر ہی ان چیزوں سے تشکیل پاتا ہے۔ اس لیے اس جرم کا احساس مجھے ہے کہ میں لاکھ شعوری کوشش کرنے پر بھی زندہ اور صحت مند لوگوں کی طرح نہیں لکھ پارہا ہوں۔ پھر یہ بھی ہے کہ آپ کے لیے ایک بھوت کے تجربے اس کے شعور اور اس کی منطق کو پوری طر ح سمجھ پانا بھی محال ہے۔ اس لیے اس کہانی کی بے ربطی صرف آپ کے لیے ہی بے ربطی ہے کیوں کہ آپ کو کائنات کے بارے میں علم ہی کتنا ہے یا آپ اپنی ٹھوس اور احمقانہ دنیا سے ماورا جانتے ہی کیا ہیں؟ مجھے کبھی کبھی آپ پر رشک آتا ہے کہ آپ کتنے اعتماد کے ساتھ منطقی جواز، علت و معلول اور لفظ و معنی وغیرہ کے باہمی رشتوں پر مبنی اپنے سماجی، سیاسی اور مذہبی اخلاق پر فیصلے اور حکم صادر کرتے رہتے ہیں۔

سچ بتاؤں مجھے سب سے زیادہ چڑچڑاہٹ توآپ کی ان ہی حرکتوں پر ہوتی ہے جس کے باعث میں کبھی تو راستہ چلتے ہوئے آپ کو سڑک پر پٹخنی دے دیتا ہوں اور کبھی آپ کابچہ غائب کرکے آپ ہی کے گھر کی کسی کوٹھری میں رکھے صندوق میں اسے بند کردیتا ہوں اور آپ تمام دنیا میں اپنا بچہ تلاش کرتے پھرتے ہیں اور کچھ نہیں تو جھنجھلا کر اندھیری رات میں طرح طرح کی بے تکی او ربھیانک آوازیں نکالا کرتاہوں (میں یہ ابھی بھی کرکے دکھا سکتا ہوں کیوں کہ دراصل میں لکھ یا سنا نہیں رہا ہوں، بلکہ نوح تھیٹر کے ایک کردار کی طرح کرکے دکھا رہا ہوں۔ ایک ماسک لگاکر جو میرے چہرے کی خالی جگہ پر بھدے پن سے جھول رہا ہے۔ مگر ٹھہریے! یہ بھیانک، بھی آپ کی دنیا کا لفظ ہے میری دنیا میں یہ سب فطری اور عام ہے۔جس طرح آپ شطرنج کھیلتے ہیں، صبح کے ناشتے میں انڈا او توس لیتے ہیں، کسرت کرتے ہیں یا اپنی محبوبہ کو پیار کرتے ہیں، اسی طرح میری یہ حرکات و سکنات بھی بے حد عام اور قطعی طور پر نظرانداز کردینے کے لائق ہیں۔

خیر آپ کی دنیا کے الفاظ تو میں نے اپنا لیے ہیں مگر ان سے نکلنے والی آوازوں کو میں کچھ کا کچھ بناسکنے پر قادر ہوں اور معنی تو، میرے لیے کوئی معنی ہی نہیں رکھتے۔ اب جہاں تک کرداروں کا سوال ہے تو ایک بھوت کی کردار نگاری کی پہلی شرط تو اس کے ذریعے تشکیل کیے کرداروں کے سروں کاغائب ہونا ہے۔ یعنی میں صرف سرکٹے کرداروں کے بارے میں ہی بات کرسکتا ہوں۔ اس لیے ان کرداروں میں کسی جھول کا ہونا آپ کے اپنے اصولوں پر مبنی ہے۔ میں اس سے مبرّا ہوں۔

دوسرے یہ کہ یہ ایک سنکی سی کہانی بھی ہوسکتی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ سنک اور منطقی شعور میں بس بال برابر کا فرق ہے، مگر آپ کو یہ فرق سمجھتے سمجھتے زمانہ گزر گیا۔ ویسے میں ایمانداری سے کہہ رہا ہوں کہ کہانی کی وحدتِ تاثر کو جان بوجھ کر صدمہ نہیں پہنچاؤں گا مگر کہیں میری فطری بھوتا نہ جھلاہٹ عود کرآئے تو یہ ممکن بھی ہے۔

حضرات آپ کو یہ سوال کرنے کا پورا حق ہے کہ آخر آپ ایک بھوت کے ذریعے لکھی گئی کہانی پڑھنے پر مجبور کیوں کیے جائیں؟ تو کان کھول کر سن لیں کہ میرا تو کام ہی آپ کو الٹی سیدھی باتوں پر مجبور کرنا ہے۔ میرے اوپر آپ کی دنیا کی اخلاقیات کاجادو نہیں چل سکتا۔ مثلاً اگر میں نے آپ کو خوف زدہ کرنے یا زچ کرنے کی ٹھان لی ہےتو آپ کی کیا مجال کہ مجھے روک سکیں۔

میں یہ بھی یاد دلاتا چلوں کہ میں شیطان نہیں ہوں۔ شیطان کا مقام مجھ سے بہت بلند ہے۔ وہ تو کائنات کی دوسری بڑی طاقت ہے۔ شیطان کی اخلاقیات، بھوتوں کی اخلاقیات سے اعلیٰ ہے۔ شروع شروع میں شیطان پر لاحول پڑھ کرآپ اس کو خوفزدہ کرسکتے ہیں مگر بھوت نہ شیطانی اخلاقیات کے پابند ہیں اور نہ الوہی اخلاقیات کے۔ ارے ہم بھوت توایک قسم کے مابعد الطبیعاتی بچے ہیں، ضدی اور بگڑے بچے جن کے لیے کوئی یتیم خانہ، آشرم، ادارہ اور گھر نہیں۔ ہمیں لاحول پڑھ کر نہیں بلکہ تعویذ، گنڈے اور پاک آیات سے ہی دور بھگایا جاسکتا ہے۔ ان چیزوں سے واقعی ہم کسی قدر ڈرتے ہیں لیکن یہ ڈرنا بھی بس کچھ اس طرح کا ہے جیسے ڈھیٹ او ربےحیا بچوں کو دور سے بینت دکھایا جائے۔

یا پھر آپ کو خود اپنا ہی دل دہلا دینے والے کچھ سفلی عمل کرنا ہوں گے۔ مثال کے طور پر شمشان گھاٹ جاکر کسی چتا کی تازہ راکھ پر ایک پیر سے پوری رات کھڑے رہنا، اُلوّ کو قتل کرکے اس کا وظیفہ یاد کرنا یا کالے مرغ کے خون سے بھری تانبے کی بدقلعی بالٹی میں اپنے بائیں ہاتھ کے ناخن ڈبونا پھر اس خون میں اپنا عکس دیکھنا۔ خیر چھوڑیے۔ ان ترکیبوں کی تو ایک بہت لمبی فہرست ہے۔

مگر ہاں یاد آیا۔ معاف کیجیے گا ایک اور معنی میں شیطان کو مجھ سے خاصی برتری حاصل ہے۔ کبھی کبھی وہ آپ کو لاحول پڑھنے کا موقع ہی نہیں فراہم کرتا۔ وہ آپ کی روح کو اپنے قبضے میں لے لیتا ہے اور آپ شیطان کی طرح ہی ہوجاتے ہیں۔ مگر بھوت۔۔۔ وہ بے چارہ تو صرف آپ کے جسم پر وقتی اچھل کود کرسکتا ہے۔ وہ آپ کو بھوت میں نہیں بدل سکتا اور یہیں سے میری کہانی آپ کے لیے ایک اجنبی دنیا کی شے بن جاتی ہے۔ سن لیں کہ شیطان کی دست رس میں یہ بھی ہے کہ وہ خود کو کائنات کے ریشے ریشے میں سما سکتا ہے مگر بھوت اسی بھری پری کائنات میں لاوارثوں کی طرح صرف بھٹک سکتا ہے۔ وہ خدا اور شیطان دونوں کی سرپرستی اور شفقت سے یکسر محروم ہے۔

اور کیا آپ جانتے ہیں کہ بھوت کو ختم کردینا دراصل اس کا بھٹکنا بند کردینا ہے۔ اور جب کوئی بھوت ماردیا جاتا ہے تو وہ بھٹکنا بند کرکے، اپنے حافظے کے صدر دروازے پر تالا لگا کر دوبارہ ایک انسان بن جاتا ہے، تب وہ عزت کی موت مرتا ہے۔ اس کی تجہیز و تکفین مذہبی اصولوں کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ وہ موت کی تکلیف سے پاگل نہیں ہوتا ہے اور چیل کوے اس کا گوشت نہیں کھاتے۔ میرا گوشت چیل کوؤں نے کھایا تھا اور کسی کو پتہ بھی نہ چلا۔ عرصے تک لوگ یہی سمجھتے رہے کہ ادھر جھاڑیوں میں کوئی جانور سڑ رہا ہے۔ مرتے وقت میں پاک صاف نہیں تھا۔ مرنے سے تھوڑی دیر پہلے میں اپنی بیوی سے ہم بستر ہوا تھا اور طہارت نہیں ہوسکی تھی۔ میں موت کی تکلیف کو برداشت نہیں کرسکا۔ اصل میں وہ موت کی تکلیف کے ساتھ ساتھ حیرت اور غصے کی زیادتی کی تکلیف بھی تھی۔ تکلیف اور جھنجھلاہٹ اور شاید کچھ سمجھ نہ پانے کے باعث میرا معمولی سا تفریح زدہ ذہن موت کا ساتھ نہ دے سکا۔ ذہن پاگل ہوگیا۔

مگر یہ تو میری کہانی ہے۔ میرے ذریعے لکھی جانے والی کہانی دوسری ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ آپ میری موت کو میری سوانح حیات کاایک حصہ بلکہ ایک اختتام اور باقی جو کچھ میں لکھ رہا ہوں اسے افسانہ سمجھنے پر حق بہ جانب ہوں گے۔

مگر ایک گڑبڑ ہوگئی ہے اور میں اسے آپ سے پوشیدہ نہیں رکھنا چاہتا۔ آپ کی دنیا کا ایک بدنام قصہ نویس اس بھیانک تاریک سفر میں میرا تعاقب کر رہا ہے۔ اب مجھےاپنا سُر اور لے تلاش کرنے میں اور مشکل ہوجائےگی۔ یہ کہانی خالص میری نہیں رہے گی۔ یہ جو میرا قصہ نویس ہے، کہا جاتا ہے کہ کم بخت کہانی میں فلسفیانہ لاف و گزاف سے بہت کام لیتا ہے۔ اس لیے آگاہ کردوں کہ جہاں آپ کو اس قسم کی باتیں ملیں تو سمجھ لیجیے گا کہ یہ اسی مردود قصہ نویس کا کام ہے، میرا نہیں۔ مجھے دراصل اس پر بے وجہ رحم آگیا ہے ورنہ میں صرف ایک مہیب پھنکار نکالوں گا اور یہ بھاگ کھڑا ہوگا۔ ویسے میں تو باقاعدہ کسی عمدہ قصہ نویس کو کرائے پر لے لیتا جو نہ صرف میری کہانی کو دلچسپ ترین بنادیتا بلکہ زندگی کے انتہائی روشن پہلو بھی نمایاں کردیتا۔ یہ بدمذاق قصہ نویس تو اچھی خاصی شگفتہ اور روشن کہانی میں بھی اداسی، مایوسی اور تاریکی وغیرہ کو اس طرح چسپاں کردیتا ہے جس طرح آج کل گھٹیا قسم کے موسیقار پرانی فلموں کے گیتو کو ’ری مکس‘ کرکے انھیں ’پوپ‘ بنادیتے ہیں۔ افسوس میری قسمت میں یہی غبی قصہ نویس لکھا ہوا تھا۔

میں جو بھی کہہ رہا ہوں آپ لوگوں کے ذخیرۂ الفاظ سے کام لے کر ہی کہہ رہاہوں۔ ویسے یہ ذخیرۂ الفاظ کبھی تو میرا بھی تھا اب نہیں ہے۔ اب صرف اشارے ہیں مگر خدارا اس کہانی کو ’’اشاروں والی کہانی‘‘ نہ سمجھ لیجیے گا۔ مجھے علامت سے بہت ڈر لگتا ہے۔ آخر تنتر منتر میں علامتوں کے سوا اور کیا ہوتا ہے؟ اب تک آپ نے کم از کم بیس بار سوچا ہوگا کہ اس بھوت کی لفاظی ہی ختم نہیں ہوتی، آخر ’’کہانی‘‘ کہاں ہے؟ تو سنیے کہ لفظوں کی اس بمباری سے میں جو کچھ تباہ کر رہا ہوں، اور جو پتھر توڑ رہا ہوں اس کے ملبے کو صاف کر دینے کے بعد ہی صاف و شفاف کہانی کو آپ اپنے سامنے ٹھنڈی میٹھی جھیل کی طرح ٹھاٹھیں مارتے دیکھیں گے۔

میں بھوت بننے کے بعد تفریح کا اور بھی زیادہ شائق ہوگیا ہوں۔ اب کوئی فکر ہی نہیں رہی۔ قبرستان یا کسی مقبرے سے یا کھنڈر سے چمگادڑ بن کر سیدھا اڑتا ہوں اور کسی پرانے سنیما گھر کی چھت پر بیٹھ جاتا ہوں۔ میں بہرحال اس مشہورِ زمانہ بھوت کی خوش نصیبی کی معراج تک تو نہیں پہنچ سکتا جس پر بنائی گئیں خوفناک فلموں کا سلسلہ ابھی تک نہیں رکا ہے اور جب اس پر بنائی گئی ایک فلم شہر کے ایک سنسان سے سنیما ہال میں دکھائی جا رہی تھی تو وہ خود بھی ہال کے اندھیرے میں ایک خالی کرسی پربیٹھ جایا کرتا تھا اور اداس آنکھوں سے اپنی پرچھائیں تکتا رہتا تھا۔ آپ کو یاد ہے کہ لوگوں نے جب ایک ہڈیوں کے ڈھانچے کو کرسی پر بیٹھے فلم دیکھتے پایا تو شہر میں کیسا کہرام مچ گیا تھا؟

میری عمر چودہ یا پندرہ سال رہی ہوگی۔ سنیما ہال کے اندھیرے میں اچانک پروین نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ دوپہر کا شو چل رہا تھا۔ ہال کے روشن دان سے چھن چھن کر دھوپ کی ایک کرن بھی اندھیرے میں چلی آئی تھی اور پروین کے ہاتھ پر آکر ٹھہر گئی تھی۔میں نے گھبراکر ادھر ادھر دیکھا۔

’’میں تمہارے برابر پڑھوں گی۔‘‘ وہ آہستہ سے بولی۔

’’میں پڑھی ہوئی نہیں ہوں نا، اس لیے تم میرے طرف نہیں دیکھتے۔‘‘ اس نے میرا ہاتھ دبایا۔ مجھے پسینہ آرہا تھا۔ ہال کی تاریکی میں Exit اور NoSmoking کے لال حروف روشن تھے۔ اچانک انٹرول ہوگیا۔ اپیا اور بجو نے اپنے اپنے برقع کی نقابیں چہرے پر ڈال لیں۔ لوگ پاگلوں کی طرح سموسے لینے بھاگے۔ پروین نے دوپٹے کی گرہ کھول کر پانچ کا ایک سکہ نکالا۔

’’لو سموسے لے آؤ۔‘‘

پروین کے سانولے ہاتھ باجرے کے آٹے میں گندھے ہوئے محسوس ہوئے۔ ان میں اودی چوڑیاں کھنک رہی تھیں۔ اس کا چہرہ بالکل گول تھا۔ میں نے کسی لڑکی کا اتنا گول چہرہ آج تک نہیں دیکھا۔وہ ایک غریب لڑکی تھی۔ ساریوں پر زری کاکام کرکے اپنا اور اپنی بیمار ماں کاخرچ پورا کیا کرتی تھی۔ وہ پہلی لڑکی تھی جس نے مجھے چھوا تھا۔ اس کے ہاتھوں میں ہڈیاں کہاں تھیں، اس کا اندازہ کرنا مشکل تھا۔ وہاں صرف گوشت پوست والی گول اور بھری بھری کلائیاں تھیں۔ آخری بار جب میں نےاسے دیکھا اسے دمہ ہوچکا تھا۔ دمہ اس کو وراثت میں ملا تھا۔ اس کی ماں بھی ہمیشہ اپنے خستہ حال گھر کی چوکھٹ پر بیٹھ کر کھانستی اور تھوکتی رہتی تھی۔

دس سا بعد اپنے شہر واپس آنے پر اس پرانی گلی سے گزرتے وقت میں نے پروین کو کھانستے ہوئے سنا۔ مئی کی تپتی ہوئی دوپہر تھی۔ وہ نہ جانے کس کی چوکھٹ پر بیٹھی کھانس رہی تھی۔ اس کی سانس دھونکنی کی طرح چل رہی تھی۔ اس کا گول چہرہ اس کی کمزور گردن پر کاغذ کے مکھوٹے کی طرح ہل رہا تھا۔ سامنے پڑے گھورے پر ایک کتے کی لاش سڑ رہی تھی۔ میں نے منھ پر رومال رکھا۔اس نے مجھے اجنبی نظروں سے دیکھا پھر دوسری طرف منھ کرکے زور زور سے کھانسنے لگی۔ اس کی کھانسی بہت دور تک میرے جوتوں کے تلے میں چپک کر ساتھ ساتھ چلتی گئی۔ تب میں نے جوتوں کو کولتار کی جلتی ہوئی سڑک پر زور سے رگڑ دیا۔

کسی زمانے کے اس عظیم الشان سنیما گھر پر جب کدال چلائی جانے لگی تو اس کے اندر پچاس سال سے جذب ہوتی آئیں آوازیں آہستہ آہستہ ہوا میں اڑنے لگیں۔ اس کی دیواروں میں ڈوبی ہوئی پرچھائیاں اتر کر اینٹوں، گارے اور مٹی کے ملبے میں کھونے لگیں۔۔۔ اس کالمبا چوڑا سفید پردہ دھول خاک میں لپٹا زمین پر گرا پڑا تھا۔ کرسیاں جن کے گدوں میں سوراخ تھے، نیلام ہونے والی تھیں اور ا ن میں دبکے ہوئے کھٹمل خاموشی سے ہنس رہے تھے۔ وہ سفید پردہ اچانک بھیانک مگر لاچار نظر آیا۔ اسی جگہ اندھیرے میں پروین نےمیرا ہاتھ پکڑ کر کہا تھا، ’’میں تمہارے برابر پڑھوں گی۔ سموسے کھاؤگے۔ آج میری نفری ملی ہے۔ میرے پاس پانچ روپے ہیں۔‘‘

اسی جگہ گھٹیا اور بے تکی فلمیں دیکھ کر میں کتنا رویا تھا۔ پھر خوش ہوا تھا۔ یہاں کیسی کیسی آوازیں دفن ہیں۔ اداکاروں کے نقلی اور دیکھنے والوں کے اصلی آنسو بھی یہیں دبے پڑے ہیں۔میری شخصیت کی تشکیل میں سنیما سےحاصل ہونے والی تفریح (اور بصیرت؟) کا بہت دخل رہا تھا۔ اسکول سے بھاگ کر میں یوں ہی سنیما ہال کے سامنے کھڑے ہوکر وہاں دکھائی جانے والی فلم کے پوسٹر دیکھ کرتا تھا۔ پوسٹروں سے مجھے عشق تھا۔ ایک بار جب تیز بارش ہو رہی تھی! سنیما ہال کی دیوار پر لگا ایک پوسٹر ہوا اور پانی کے زور سے پھڑپھڑانے لگا۔ میں نے سب کی نظروں سے بچاکر اسے الگ کرلیا اور بستے میں رکھ لیا۔ یہ پوسٹر اس ہیرو کا تھا جو اپنے زمانے میں ٹریجڈی کا بادشاہ کہا جاتا تھا۔شام کو جب گھر پر میرے اسکول کے بستے سے وہ بھیگا ہوا پوسٹر برآمد ہوا تو بڑے ابا نے اپنی جوتا مجھ پر نکال لیا۔پوسٹر پر لگی ہوئی تازہ آٹے کی لیہی کی بو میرے چاروں طرف گردش کرنے لگی۔ مجھے یاد نہیں کہ میں کب تک مجرم سا بنا ہوا جوتوں کی اس بارش میں بھیگتا رہا۔

پورا بچپن اسی طرح گزرا۔ سنیما میرا دوست تھا۔ اسکول سے بھاگ کر نہ جانے کتنی فلمیں میں نے واپسی کا ٹکٹ لے کر دیکھی تھیں۔ اس زمانے میں واپسی کا ٹکٹ بہت عام تھا۔ اس کے لیے کرنا صرف یہ ہوتا تھا کہ کوئی بھی شخص جس کی جیب میں فلم دیکھے کے لیے پورے پیسے نہیں ہوتے تھے، وہ فلم کے انٹرول کے وقت سنیما ہال کے سامنے جاکر کھڑا ہوجاتا تھا۔ ایک بھکاری کی طرح۔ اگر کوئی شخص جسے وہ فلم پسند نہیں آتی تھی، تو وہ ’’واپسی‘‘ پکارتا ہوا باہر آتا تھا اور اپنی ٹکٹ آدھی قیمت میں فروخت کردیا کرتا تھا۔

ماسٹر کا ببو ’’واپسی‘‘ بیچنے میں بہت مشہور تھا۔ وہ اپنی سلائی کی دوکان سے بھاگ کر ہمیشہ دوپہر کے شو کا ٹکٹ خریدتا تھا۔ آدھی فلم دیکھ کر فلم کے وقفے میں وہ اسے بیچ دیا کرتا تھا۔جس رات ماسٹر کے ببو نے خود پر مٹی کا تیل ڈال کر خودکشی کی تھی، اس دن دوپہر میں اس نے ایک بہت ہی کامیاب اور شہرہ آفاق فلم کا واپسی کا ٹکٹ مجھے مفت دے دیا تھا اورپھر اپنی سانپ جیسی چمکیلی آنکھوں سے مجھے گھورتا ہوا بھیڑ میں گم ہوگیا تھا۔ بالکل دوستو وفسکی کے اس کردار کی طرح جو وقار اور خودداری کے ساتھ خدا کو اس کی تماشا گاہ کا ٹکٹ واپس کرنے کی جرأت رکھتا تھا۔ لیکن کچھ سنیما گھر ایسے بھی تھے جہاں بالکل آگے والی قطار کے لیے کوئی ٹکٹ نہ تھا۔ کھڑکی پر بیٹھا آدمی بڑی بے رحمی کے ساتھ تماشائیوں کی ہتھیلیوں پر ایک ناقابل فہم ’’مہر‘‘ لگادیا کرتا تھا۔ اور بس۔ جب کوئی مسلم سوشل فلم شہر میں نمائش کے لیے پیش کی جاتی تو سنیما گھر پر برقع پوش لڑکیوں اور عورتوں کا جمِ غفیر امنڈ پڑتا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے اس سنیما ہال کی جالیوں میں لوہوک رہی تھی۔ اپیا اور بجو اس مقبول فلم کے المیہ انجام پر نقاب کے اندر ہی اندر سسک رہی تھیں۔ گول چکردارزینے کی سیڑھیاں اترنے کے بعد، باہر ٹھیلے پر فلم کے گانوں کی کتابیں مل رہی تھیں۔ اپیا نے مجھے چونی دی۔

’’جاؤ۔ جاکر کتاب لے آؤ۔‘‘

اس فلم کے گانے بے حد رومانی اور درد بھرے تھے۔ لوگ، جو شو دیکھ کر نکل رہے تھے وہ اب یہاں رک گیے تھے اور گانوں کی کتاب پر ٹوٹے پڑ رہے تھے۔ میں بڑی مشکل سے ایک کتاب حاصل کرپایا۔ مگر اس کا آخری ورق اس دھینگا مشتی میں پھٹ کر کہیں گر گیا۔ اس آخری ورق پر ہی سب سے اہم گیت تھا۔اس شام بڑے ابا نے اپیا اور بجو کو بھی مارا۔

’’کیا کر رہے ہو۔ شرم نہیں آتی جوان بہنوں پر ہاتھ اٹھاتے ہوئے۔‘‘ اماں بھاگی آئیں۔ ان کے ہاتھ آٹے میں سنے ہوئے تھے۔

’’کھود کے گاڑدوں گا۔ جب دیکھو دروازے پر ٹنگی رہتی ہیں۔‘‘بڑے ابا گرجے۔ ان دنوں ڈھول تاشے کے ساتھ فلمی پوسٹروں کی بارات بھی نکلا کرتی تھی۔ جب بھی کوئی ایسی بارات گلی سے ہوکر گزرتی، اپیا اور بجو بھاگ کر دروازے میں کھڑی ہوجاتیں اور کواڑوں کی اوٹ سے پوسٹروں کو بڑے شوق اور لگن کے ساتھ دیکھا کرتیں۔

مگر اپیا اور بجو کی بارات کبھی نہ آسکی۔ اپیا تو عین جوانی میں ہی ایک پراسرار بخار کی زد میں آکر مرگئیں اور بجو نے اس کے بعد تمام عمر عبادت میں گزاردی۔ میں جب تک زندہ رہا،میں نے انھیں صرف نماز، تلاوتِ قرآن اور قسم قسم کی نیاز و فاتحہ میں ہی مصروف دیکھا۔ اس وقت تک ان کے سر کے تمام بال سفید ہوچکے تھے اور چہرے پر بےشمار جھائیاں نمودار ہوگئی تھیں۔

جہاں تک میرا سوال ہے تو میں صرف تفریح کی غرض سے ہی سنیما کا شائق تھا۔ تفریح کی اپنی ایک پراسرار آزادی ہوتی ہے۔ یہ اپنا بھاری لبادہ اتار کر سڑک پر پھینکتے ہوئے، ہاتھ پیر چلاتے ہوئے آوارہ گردی کرنےجیسا ہے۔ کبھی کبھی سڑک پر دائیں طرف چلنے کی قدرے مجرمانہ سی مسرت کی طرح خوشی اور اطمینان قلب ایک بہت ہی پیچیدہ سی کیفیت کا نام ہے اور اسی طرح دل کا بھرآنا بھی۔ یہ ایک پراسرار بھول بھلیاں ہے۔

اور میرا کیا ہے۔ میں تو بے حد گھٹیا اور سستی جذباتی فلموں کے سطحی مکالموں پر یا مناظر پر بھی اکثر رویا ہوں۔ انسان کو گھٹیا اور حقیر چیزوں سے خوش ہو جانے یا دکھی ہوجانے سے بھلا کون روک سکا ہے؟ مگر گھٹیا پن اور سستے جذبات کی اپنی ایک ناپائیدار سی پاکیزگی بھی ہوتی ہے۔ٹھیلے پر بکتے ہوئے سستے کنگھے، معمولی سی لپ اسٹک، بسوں اور ریل کے تھرڈ کلاس کمپارٹمنٹ میں پالش کیے ہوئے، ٹین کے ہار اور بندے فروخت کرتا ہوا میلے لباس والا آدمی اور خراب تیل کے سموسے بیچتا ہوا خوانچے والا۔ یہ سب یقیناً گھٹیا ہیں مگر سستے۔ اور گھٹیاپن سے اگتے ہوئے خواب سستے نہیں ہوتے۔ وہ اپنے ماخذ سے ماورا جاتے ہیں۔ پاؤں زمین سے تھوڑا اوپر اٹھتے ہیں۔ یہ ایک نشے کی سی حالت ہے۔

تفریح اپنی ماہیت میں قطعی خالص ہے اور اب بھوت بن جانے کے بعد تو میرا ایمان صرف اسی میں قائم رہ گیا ہے۔ تفریح میں سکھ اور دکھ دونوں ہی شامل رہے ہیں۔ روکر، غمزدہ ہوکر بھی ہم تفریح کرتے ہیں۔ یہ دکھی ہونے کا سکھ ہے۔ یہ کسی جنازے کے پیچھے چلتے جانے کااطمینان ہے، ایسا اطمینان جو قبر پر مٹی ڈال کر اور خاص طور پر وہ آیتیں پڑھ کر، جن سے مردے کے بھوت بن کر بھٹکنے کے امکانات تقریباً ناممکن ہوجاتے ہیں، حاصل ہوتا ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ میرا مردہ کسی انسان کو اس قسم کا کوئی سکھ یا دکھ بہم نہ پہنچا سکا۔ وہ تو ادھر جھاڑیوں میں سڑ رہا تھا اور ایک عرصے بعد جب وہ ملا تو پوسٹ مارٹم کے بعد اسے لاوارث سمجھ کر ضائع کردیا گیا۔

اب میں سوچتا ہوں کہ گھٹیاپن کے ذریعے ہی خوش ہوجانے میں بھلا کون سی برائی تھی؟ کسی کو گالی دے کر گندا فحش لطیفہ سناکر، آنکھ دباکر ہاتھ سے کوئی فحش اشارہ کرنے سے بھی تو خوشی ہی ملتی ہے اور کون سی دولت مل جاتی ہے؟نہیں صاحب کوئی فرق نہیں ہے۔ خوشی کی مقدار بھلے ہی آپ ناپ لیں مگر اس کی قدروقیمت ایک ڈھکوسلا ہے۔ خوشی کے موقع پرہمارے غدود گھٹیاپن یا شائستگی کے احکام کے محتاج یا پابند نہیں ہوتے۔ وہ سنیما گھرآہستہ آہستہ ڈھے رہا ہے۔ سنیما گھر کے برابر میں وہ پیپل کا درخت ہے، میں اس کی شاخوں میں چھپ کر بیٹھا ہوں۔ دوپہر ہے۔ لو کے جھکڑوں میں ملبے کی خاک اور مٹی بگولہ بن کر اڑ رہی ہے۔ کدال چلانے والے مزدور کھانا کھاکر درخت کے سائے میں بیڑی سلگانے بیٹھ گیے ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو آسمان میں چیل انڈا چھوڑ رہی ہے۔ میں نے سوچا ہے کہ میں خود کو اب ایک چیل کے روپ میں ہی تبدیل کر لوں لیکن اس سے پہلے میں آپ کو اپنے بارے میں ایک راز کی بات بتانا چاہتا ہوں۔

دراصل بھوت کا کوئی بھی سراپا نہیں ہوتا۔ یہ سب انسانوں کے ذریعے پھیلائی گئی افواہیں ہیں اور ان کی قوت کلام یا بدیعات وغیرہ، جن کی وجہ سے بھوت کے نکیلے دانت اور ہڈیوں کے ڈھانچے وغیرہ کا تصور کرلیا جاتا ہے۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ ہم بھوت لوگ اس سے فائدہ ضرور اٹھالیتے ہیں مگر یہ ہمارا اصل حلیہ نہیں ہے۔ وقتِ ضرورت ہم کیسی بھی شکل میں بھٹکنے کے لیے نکل سکتے ہیں۔ خود ہماری اپنی کوئی بھی شکل نہیں ہے۔ اب انسان اگر خوفزدہ ہوتا ہے تو اس میں میرا بہرحال کوئی قصور نہیں۔ انسان کو اپنے غدود کی کارکردگی کا مطالعہ کرنا چاہیے۔

بھوت کے ساتھ تو ’جناب اعلیٰ‘ معاملہ یہ ہے کہ ہر شکل، ہر ساخت اس کے لیے اپنا راستہ کھول دیتی ہے۔نہیں۔۔۔ اپنی وسعت القلبی کا ثبوت دینے کے لیے نہیں بلکہ دراصل وہ نوٹس ہی نہیں لیتی اور اپنی ہیئت کو ایک بدروح کی مار کے لیے مکمل طور پر سپرد کردیتی ہے۔ مجھے سب سے زیادہ مزہ تو تب آیا تھا، جب میں ایک سبز رنگ کے ٹڈے کی شکل میں بدل کر سنیما کے سفید پردے پر اچھل رہا تھا۔ ہاں ایک بارمیں خود کو ہڈیوں کے ڈھانچے میں منتقل کرکے ایک سنسان سے سنیما گھر میں رات کا شو دیکھنے گیا تھا مگر یقین کیجیے کہ میری شعوری کوشش کبھی نہیں رہی کہ میں کسی کو ہراساں یا پریشان کروں۔

فی الحال تو میں چیل بنا ہوا اس سنیما گھر کو دیکھ رہا ہوں جس پر کدالیں چلائی جارہی ہیں حالاں کہ میرا دیکھنا بھی کیا۔ اب جو آنکھیں میرے پاس ہیں وہ آنکھوں کی نفی ہیں۔ اب تو میں دیکھنےسے زیادہ جانتا ہوں اور جاننے سے زیادہ تفریح کرتا ہوں۔ اب میرے آلۂ حواس غیرانسانی ہیں۔ یہ ایک بھوت کے آلۂ حواس ہیں جو ایک دھوئیں کی طرح مجھ سے باہر نکل کر ہر جگہ چہل قدمی کرسکتے ہیں۔ یہ مجھ سے آزاد ہیں۔ ان کی صحیح تعداد کاعلم خود مجھے بھی نہیں ورنہ آپ کو ضرور بتا دیتا۔ اسی سنیما گھر میں گھٹیا تفریح فلمیں دیکھ کر کتنا رنجیدہ اور کتنا سرشار ہوا تھا۔ ٹوٹتے ہوئے اس سنیما گھر کی بنیادوں میں ایک کمرشیل پلازہ رینگ رہا ہے۔ ایک بازار ابھر کر آنے کے لیے تیار ہے۔ اپنی سنجیدگی کے ساتھ تفریح کو قتل کرنے کے لیے۔

بازار ایک عجیب شے ہے۔ وہاں تفریح نہیں۔ تفریح کا التباس ہے۔ وہ ان بے تکی فلموں سے زیادہ گھٹیا ہے، وہ سنیما ہال کے گاڑھے اندھیرے سے زیادہ غیرانسانی ہے۔ اس گاڑھے اندھیرے میں تو سسکیاں ابھرتی تھیں، قہقہے گونجتے تھے۔ مگر بازار میں کسی دوکان پر کوئی شخص رومال سے اپنے آنسو پونچھتا نظر نہیں آتا۔ نہ کوئی اس طرح ہنستا ہے کہ پیٹ پھول جائے۔ یہاں ہوشیاری کے علاوہ اور کوئی منظر نہیں۔ یہ اصلی مصنوعی پن ہے اور ہڈیوں تک اترجانے والی بے رحمی ہے۔ یہاں خرید و فروخت کے واسطے مریضانہ انا اور غرور کے ساتھ نپے تلے انداز کے ساتھ چڑھتے اترتے قدم ہیں، ہر انسانی امکان اور جذبے سے یکسر خالی، ہڈیوں کے پنجر کی طرح خوفناک، ادھر سے اُدھر کڑکڑاتے ہوئے بجتے ہوئے۔ ہم بھوتوں کو بھی ان سے شرم آتی ہے۔

کس نے کہا تھا؟ ’’خدا ہم سے کٹھ پتلیوں کی طرح کھیلتا ہے۔ یہ سب اسٹیج ہے۔‘‘ تب تک کم از کم ’’دوستو و فسکی‘‘ کاکردار اپنا ٹکٹ واپس کردینے کی جرأت تو رکھتا تھا۔ اور وہ لوگ کون تھے جو دنیا کو رنگ منچ ،مایا اور تماشا کہتے تھے۔ بہرحال یہ سب تمثیلات تھیں، مگر کتنی انسانی اور فطری تمثیلات! اسی لیے تو میں کہتا ہوں کہ اس تمثیل کا بھی خاتمہ ہوا۔ تماشا اور ’کھیل‘ کا جب انہدام ہوتا ہے تو اس کے کھنڈر نما ملبے سے بازار کا جنم ہوتا ہے۔ بازار جس کی بنیادیں اگرچہ تماشا اور کھیل ہی ہوتی ہیں مگر اس کا وجود تماشے کے انسانی پہلو کو ہلاک کرتا ہے اور اس کی سرحدیں۔۔۔!

وہاں جو محافظ کھڑے ہیں انھیں کوئی اپنا ٹکٹ واپس کرنے نہیں آتا۔ یہاں ٹکٹ واپس کرنا بھی بازار کے ایک خوبصورت شوکیس میں سجی ہوئی ممی کی طرح بدل جانے جیسا ہے۔ جینا اور مرنا دونوں قابل صرف شے ہے۔ خودکشی کوئی فعل نہیں صرف ایک قابل صرف شے ہے۔تو یہ ہے بازار کی تفریح جس سے عمدہ تفریح تو ہم بھوت لوگ اندھیری رات میں آپسی اچھل کود کرکے اور طرح طرح کی آوازیں نکال کر کرلیتے ہیں۔

(ٹھہریے۔ میرا قصہ نویس سگریٹ پی رہا ہے کم بخت نے مندرجہ بالا سطریں کسی گھٹیا فلم کے سین کی طرح لکھ دی ہیں)۔

مگر وہ بازار بھی ایسا ہی تھا۔ اس بے ہنگم اور خوفناک فلائی اوور والے مہانگر کے بیچ میں اگ آئے ایک بے تکے جنگل کے ٹکڑے کی طرح یکسر نقلی اور مصنوعی۔ وہ دوسرے بازاروں کی طرح ہی تھا مگر ان سے بھی زیادہ بہروپیا۔ وہاں اینٹوں کے کھرنجے کافرش تھا، کھپریل اور ٹائلوں کی چھتیں تھیں۔ لوک کلا،دیہی کلا وغیرہ کی نمائش ہو رہی تھی جو ایک بناوٹی مسکراہٹ کی طرح تھی جس کا پہلا وار خود اس کے ہونٹوں اور جبڑوں پر ہی ہوتا ہے۔ وہ تکلیف دہ حد تک پھیل جاتے ہیں خود پر دانت نکالتے ہوئے۔ ’’دلّی ہاٹ‘‘ کے یہ دانت بازار کے نظام کو زیادہ سفاکی کے ساتھ نمایاں کر رہے تھے۔

میں نے خود کو ایک بھورے چوہے کی شکل میں تبدیل کیا اور ایک طرف دبک کر شارٹس پہنی اور تندرست لڑکیوں کو دیکھنے لگا جو اپنے مرد ساتھیوں کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے اپنےکلچرڈ جمالیاتی ذوق کا دکھاوا کرتی ہوئی ’’پی ژا‘‘ کھا رہی تھیں۔

میں آپ کو بتاؤں کہ جب میری موت واقع نہیں ہوئی تھی تو اکثر اس شہر میں ایک جنگل میرے پیچھے پڑجاتا تھا۔ وہ میرا تعاقب کرتا تھا۔ راستہ بدل بدل کر گھوم کر چکر لگا کر آتا تھا۔ کسی تیندوے یا گلدار کی طرح بہ ظاہر لاتعلق سامگر اچانک ہی وہ میرے سامنے ہوتاتھا۔ کناٹ پیلس کی سفید گول عمارتوں میں، قرول باغ کے جوتوں کے جھالوں میں، فلمستان سنیما کو جانے والی سڑک پر قطار سے لٹکتے ہوئے کالے ٹائروں میں، سروجنی نگر میں بانس کے ڈنڈوں پر جھولتی بے رحم سخت چمڑے کی جیکٹوں میں، کملانگر میں سڑک پر بکھرے پھولوں کے گلدستوں میں اور لاجپت نگر میں آئس کریم یا چاٹ کھاتی ہوئی بدنیت، سرخ ہونٹوں والی گداز اور فحش جسم والی عورتوں میں۔

اب ایسا نہیں ہوتا۔ اب میں خود ایک جنگل میں بدل چکا ہوں مگر دلی ہاٹ میں ’’لوک کلا کا تشدد‘‘ میں نےاپنے چوہے بنےجسم پر کچھ اس طرح محسوس کیا جسے کوئی بھوت صرف اس وقت ہی محسوس کرتا ہے جب اسے بھگانے کے لیے تنتر منتر کا سہارا لیا جا رہا ہو۔ ’لوک کلا‘ کی مار کتنی معنی خیز ہوتی ہے۔ یہ آپ کو میری کہانی میں آگے چل کر پتہ چلے گا۔

اب سنیماہال کا وہ حصہ توڑا جارہا ہے جہاں قطار سے پانی کی ٹونٹیاں ہوا کرتی تھیں۔ فلم کے وقفے میں تیل سے بنے سوندھے سوندھے سموسے کھاکر تماشائی ان ٹونٹیوں میں منھ لگا دیتے۔ فرش پر پڑے مونگ پھلیوں اور کیلوں کے چھلکوں پر ان کے پیر پھسل پھسل جاتے۔ پانی پیتے پیتے اکثر انٹرویل ختم ہوجاتا تب تماشائی حواس باختہ ہوکر ہال کے اندھیرے کی طرف دوڑتے اور وہ مہربان اندھیرا سب کو اپنی آغوش میں لے لیتا۔

میں چیل بنا ہوا اس بات پر ہنس رہا ہوں کہ سنیما ہال ٹوٹنے کے بعد جو ’واستوکار‘ اس بازار کا نقشہ بنائے گا وہ سب سے زیادہ اس بات کاخیال رکھے گا کہ اس کی بنیادوں میں کوئی سانپ یا اس کا بل نہ ہو۔ واستو کے علم کی باریکیاں اور نزاکتیں اب مجھ سے زیادہ کون جان سکتا ہے۔ میں اس احمق کو بتا سکتا ہوں کہ اس ہال کو توڑ کر جو کمرشیل پلازہ بنایا جائے گا وہ صرف جسم فروشی کے اڈے کے طور پر ہی کامیاب ہو سکتا ہے اور دل تو میرا یہ بھی چاہتا ہے کہ میں خود ہی سانپ بن کر اس کی بنیادوں میں رینگنے لگوں۔ ایک بدشگونی کی مانند۔

ابھی یہاں وہ کھڑکیاں سلامت ہیں جہاں سےٹکٹ خریدا جاتا تھا۔ شادی کے بعد میں اپنی بیوی کو پہلی بار اس سنیما ہال میں فلم دکھانے لایا تھا۔ میری بیوی فلم کی شوقین نہیں تھی۔ اسے گھرداری کے سامان کے لیے شاپنگ کرنے کاشوق تھا۔ میرا خیال ہے کہ وہ میرا دل رکھنے کے لیے ہی فلم دیکھنے آتی تھی۔ اسی دن ٹکٹ کی کھڑکی پر زبردست بھیڑ دیکھ کر میں گھبراگیا۔ میں مایوس ہوکر واپس ہی جانے والا تھا کہ میرے بچپن کا ایک دوست نظر آگیا۔ وہ سائیکلوں کی مرمت اور ان کے پنکچر جوڑنے کا کام کرتا تھا۔ اس کے کپڑے ہمیشہ کالی چکنائی سے چیکٹ رہتے تھے۔ آج بھی وہ ایسے ہی کپڑے پہنے تھا۔

’’فکر مت کرو یار۔ میں ہو نا۔ بھابی دیکھو میرا کمال۔‘‘ اس نےمیری بیوی کی طرف دیکھ کر فخریہ کہا۔ میں تو اس کے کمال سے اچھی طرح واقف تھا مگر میری بیوی کی آنکھیں حیرت سے پھٹی رہ گئیں۔ میرے دوست نے تیسرے درجے کی قطار کے بالکل پیچھے جاکر اچانک ایک جست لگائی اور ٹکٹ لینے کے لیے کھڑے ہوئے لوگوں کے سروں کے اوپر کسی چھپکلی کی طرح پیٹ کے بل لیٹ گیا۔ اب اس کا ہاتھ کھڑکی کے اندر تھا اور بڑی آسانی کے ساتھ پہلا ٹکٹ خریدنے والا وہ ہی تھی۔ اپنا خطرناک کرتب دکھانے کی خوشی میں اسے لوگوں سے ملنے والی گالیوں کا ذرہ برابر بھی ہوش نہ تھا۔اسی طرح ایک بار اور اس نے میری مدد کرنے یا مجھے چونکانے کی حتی الامکان کوشش کی تھی اور بری طرح ناکام رہا تھا لیکن یہ بہت بعد کی بات ہے۔

اس ملاقات کے کچھ ہی دنوں بعد مجھے علم ہوا کہ اس نے ایک دن اپنی غربت، بیوی کی بدچلنی اور قرضے سے تنگ آکر اپنی بیوی کو قتل کردیا اور پھر خود بھی ریل کے سامنے جاکر کٹ کر مرگیااب کبھی کبھی اس کے بھوت سے ملاقات ہوتی ہے مگر دراصل خودکشی کرکے بھوت بننےوالے ہم جیسوں سے الگ تھلک ہی رہتے ہیں۔ ان کے بھٹکنے کے اوقات اور مقامات بھی دوسرے ہیں۔ مجھے یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک قسم کے احساس برتری کے شکار ہیں کیونکہ انہوں نے خود ہی زندگی کے منہ پر تھوک دیا تھا۔ان خودکشی کرنے والوں نے تو موت کو اپنی عادت بنالیا ہے اور اس طرح موت کی تمام چمک دمک اور توقیر کو گویا ختم ہی کردیا ہے۔

مجھے کہنے دیجیے کہ اگر آپ خودکشی کو تھوڑا نیا رنگ دے سکیں یعنی اگر آپ ان لوگوں میں شامل ہوجائیں جو محض نئے پن یا فینٹیسی کی خاطر خود کو آدم خوروں کی جدید تنظیم کے سپرد کردیتے ہیں اور اپنے جسم کے آہستہ آہستہ قتلے کرواتے ہوئے مرجاتے ہیں تو یہ خودکشی ایک نئی اور توانا خودکشی، ہوگی ورنہ لوگ تو بس عادتاً مر رہے ہیں کچھ اس طرح جیسے صبح کی چائے پینے کو نہ ملے تو جھلا رہے ہیں۔۔۔ ایسی موت کی کیا اوقات جناب!

وہ دوپہر کا شو تھا۔ میں نے زیادہ فلمیں دوپہر ہی میں دیکھیں۔ اگرچہ سنیما ہال کا گیٹ کیپر دوپہر کے شو میں آنے والے تماشائیوں کو بہت احترام سے نہیں دیکھتا تھا۔ وہ برسات کے دن تھے۔ بارش ہونے لگی۔ پھر اتنی تیز ہوگئی کہ ہال کی ٹین کی چھت ٹپکنے لگی۔ میں اور میری بیوی نےوہ فلم تقریباً بھیگتے ہوئے دیکھی تھی مگر اس بات کا مجھے آج تک افسوس ہے کہ ہم دونوں جب ہال کے اندر داخل ہوئے تھے تو ’’نمبر پھینکے‘‘ جاچکے تھے۔ ’’نمبر پھینکنے‘‘ کا مطلب فلم کی شروعات میں اس کی کاسٹ دکھائے جانے سے تھا۔ عوام میں نمبروں کی بہت اہمیت تھی۔ وہ لکھے ہوئے ناموں کو ’’نمبر‘‘ کہتے تھے۔

شاید ہندسوں لو الفاظ سمجھنا اتنی احمقانہ بات بھی نہیں کہ اسے عوام کی جہالت پر محمول سمجھ کر حقارت سے ہنس دیاجائے۔ مجھے تو یہ لفظ کو زیادہ شفاف اور ایماندار بنانا ہی لگتا ہے جس کے لیے ہمیں ان جاہل لوگوں کی نیت کا احترام کرنا چاہیے۔ بہرحال بھیگ کر دیکھی گئی اس فلم کا ایک سین مجھے یاد رہ گیا ہے۔

اندھیری رات میں ایک کھڑکی کسی مکان کی اوپری منزل پر روشن ہوئی۔نیچے ایک کتے کی پرچھائیں گلی کے موڑ پر غائب ہوتی نظر آئی۔یہ کتا اب کہاں ہوگا؟ میں سوچتا ہوں کہ چالیس سال پہلے جس کتے کو اس کیمرے نے شوٹ کیا تھا آج اس کا پنجر کون سی ہواؤں میں جھول رہا ہوگا؟ رک جائیے۔ میں اپنے آلات موسیقی تلاش کرنےکے سفر میں تھوڑا سا بھٹک رہا ہوں۔ مجھے کچھ وقت لگے گا۔ میرا قصہ گو بھی میرے پیچھے ساکت و جامد کھڑا ہے۔ لیکن میں اپنے سامنے جو بھیانک دلدل دیکھ رہا ہوں شاید یہی میری منزل ثابت ہو۔ اس لیے میں ہمت کرکے اس کالی دلدل کی طرف اپنا قدم بڑھاتا ہوں۔ مگر میں یہ بھی خوب جانتا ہوں کہ یہ میرے ہی پیر کے پرانے نشان پر نئے اور دوسرے نشان کی طرح ہے۔ ابھی وہ پرانا نشان بھی گیلا ہے۔

میں اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا تھا۔ اسے امورخانہ داری میں بہت دلچسپی تھی۔ اس نےتکیوں کے غلاف اتنے خوبصورت کاڑھ رکھے تھے کہ مجھے اپنے اوپر فخر ہوتا تھا۔

وہ ایک طویل قامت مگر دبلی پتلی عورت تھی۔ اس کے پیٹ پر ضرور ایک خاص مقام پر کافی چربی اکٹھا ہوگئی تھی۔ چربی کا یہ گول ابھرا ہوا ڈھیر اس کے دبلے پتلے جسم پر بہت عجیب سامحسوس ہوتا تھا۔ اس کاچہرہ لمبوترا تھا اورجب وہ کسی کام میں پورے انہماک کے ساتھ مشغول ہوتی، خاص طور پر وہ جب کشیدہ کاری کر رہی ہوتی تو اس کا جھکا ہوا چہرہ گھوڑے کے منہ سے مشابہہ نظر آتا تھا۔ مجھے اس گھوڑے جیسے چہرے پر بہت پیار آتا تھا اور میں اس کے گالوں پر بے تحاشا بوسے ثبت کردیا کرتا تھا۔ اس نےکبھی میری قلیل آمدنی کا کوئی شکوہ نہیں کیا تھا بلکہ بڑے سلیقے اور کفایت شعاری کا مظاہرہ کرکے گھر کو حتی الامکان اچھے طریقے سے سجا سنوار رکھا تھا۔ ہمارے کوئی اولاد نہیں تھی مگر اس محرومی سے بھی میں نے اسے کبھی رنجیدہ خاطر نہیں دیکھا۔ میں اس سے بہت ضد کرتاتھا کہ دل بہلانےکے لیے وہ ہر ہفتے میرے ساتھ فلم دیکھنے چلا کرے مگر اس کے بجائے اس نےخود کو گھر کے کاموں میں ہی مصروف رکھنا بہتر سمجھا۔

جہاں تک میرا معاملہ ہے، میں نے تو اپنی زندگی کا برے سے برا وقت بھی فلمیں دیکھ دیکھ کر کاٹ دیا تھا۔ یہ اس زمانے میں ممکن تھا۔ اب ممکن نہیں ہے۔ اگرچہ فلمیں تو اب بھی بنتی ہیں ا ور سنیما گھروں میں نمائش کے لیے پیش بھی کی جاتی ہیں مگر ایک تو وہ کچھ پھوہڑ، بے شرم اور جلدبازی ہوگئی ہیں، دوسرے جن سنیماگھروں میں چلتی ہیں وہ اپنے آپ میں خود ایک ایرکنڈیشنڈ پلازہ یا ملٹی پلیکس میں تبدیل ہوگیے ہیں۔ ان نام نہاد سنیما گھروں میں چلتی ہوئی یہ فلمیں اس دنیا کو پیش کرتی ہیں جو دنیا سنیما ہال کے باہر ٹہلتی نظرآتی ہے۔ جو لڑکیاں باہر فیشن ایبل لباس پہنے اور خاص طور سے اپنی ناف کی نمائش کرتی ہوئی، خوب صورت اور نئی کاروں سے اترتی نظرآتی ہیں، بس پردے پر بھی ایسی ہی لڑکیاں نظر آتی ہیں۔ ان سنیما ہالوں کا اندھیرا ابھی بس برائے نام ہے۔ یہ مدھم چاندنی والی راتوں کی طرح ہے۔

اس لیے فلمیں اب تفریح کے گہرے، وسیع اور انسانی مفہوم کا احاطہ نہیں کرپاتیں۔ اب یہ ایک ہی بور دنیا ہے۔سنیما گھر کے اندر بھی اور اس سے باہر بھی۔ بلکہ وہ تو آپ کے بیڈروم میں چلی آئی ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ سودا بیچنے والوں کی صدائیں بھی آپ کے گھر میں آگئی ہیں۔اب یہاں پورا بازار لگ گیا ہے۔ کیا آپ اسے تفریح سمجھتے ہیں؟ ذرافیشن ٹی وی پر دکھائی جانے والی تقریباً عریاں لڑکیوں کے چہرے تو دیکھیے۔ ان سے زیادہ خوش مزاج اور شگفتہ چہرے تو ہم بھوتوں کے ہوتے ہیں۔ کاش آپ کے حواس و اعصاب انھیں دیکھنے پر قادر ہوتے!

مجھے یقین ہے کہ اب میری بک بک آپ کے لیے قطعی طور پر ناقابل برداشت ہوچکی ہوگی بالکل اسی طرح ایک بھوت کا وجود بھی آپ لوگ کبھی برداشت نہ کرسکے۔ لیکن اطمینان رکھیے۔ میرا قصہ گو ’’واقعہ‘‘ کو اس رطب ویابس سے کھینچ کر آپ کے سامنے گھسیٹتا ہوا لے آئے گا۔ ’’واقعے‘‘ کا ننگاپن دیکھنے کے لیے ہی تو آپ لوگ کہانی پڑھ رہے ہیں (یا سن رہے ہیں؟) بس تھوڑا صبر کیجیے۔ پھر ’’واقعہ‘‘ پر دل بھر کر ہنس لیجیے گا۔ تو میں عرض کر رہا تھا کہ فلمیں اب زیادہ پھوہڑ اور بے شرم ہوگئی ہیں، مگر اس کے باوجود میرا خیال ہے کہ ہرفن میں بہرحال ایک قسم کی بے شرمی تو ہوتی ہی ہے اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے، اپنی حفاظت کے لیے یہ بے شرمی ضروری ہے۔کبھی کبھی ایسا دور بھی آتا ہے جب لگتا ہے کہ فن ختم ہوگیا (اس کہانی کو پڑھتے وقت بھی آپ کو یہی احساس ہو رہا ہوگا) مگر دراصل ایسا ہوتانہیں ہے۔ یہ خود کو بچانےکی کوشش ہے۔اس گاڑھے سیاہ مادے سے جو چلا آرہا ہے سب کچھ ڈھک لینے کے لیے۔

یہی وجہ ہے کہ مجھے سنیما گھر کے دروازے کی طرف بڑھتی ہوئی بھیڑ ہمیشہ معنی خیز نظر آتی ہے۔ ایک مشترکہ مقصد ہونے کے ناتے یہ ایک بااخلاق بھیڑ ہے۔ اگرچہ اس میں بہت سی آوازیں فحش لطیفوں، گالی گلوج اور ہاؤ بھڑاؤ کی بھی شامل ہیں مگر پھر بھی یہ سب مل کر اس اندھیرے کی طرف جارہے ہیں۔ جلدی جلدی اپنی کرسیاں محفوظ کرلینے کے لیے۔ یہ بھیڑ پلیٹ فارم بھیڑ سے کتنی مختلف ہے جہاں ہرکا اپنا اپنا اسٹیشن ہوتا ہے۔ یہ میلے کی بھیڑ سے بھی الگ ہے۔ میلے میں ہر ایک کی دلچسپی کا الگ الگ سامان ہوتا ہے جیسے مجھے میلے یا نمائش میں صرف ’’موت کے کنویں‘‘ نے ہی اپنی طرف کھینچا ہے۔

اور پرلطف بات تو یہ ہے کہ جیب کترتا ہوا شخص بھی دوسرے جیب کتروں کے مقابلے میں زیادہ حساس ہوتا ہے۔ وہ ہمیشہ تب جیب کاٹتا ہے جب پردے پر کوئی بےحد رومانی پھڑکتا ہوا یا پھر المناک گیت چل رہا ہو۔

دیکھیے میرا قصہ نویس مجھے بے وجہ دھمکی دے رہا ہے۔ اس کے ادبی کیرئیر کا سوال ہے۔ اس کاخیال ہے کہ یہ اس کی ناکام ترین کہانی ثابت ہوگی کیوں کہ اس میں ’’کہانی پن‘‘ ندارد ہے۔ مگر یہ تو مجھے پہلے ہی سے پتہ تھا۔ بھوت پر چودہ طبق روشن ہیں اور صاف بات تو یہ ہے کہ یہ میری کہانی ہے اور اسے صرف میرے نکیلے ناخن خلا میں لکھ رہے ہیں۔ ہواؤں میں لکھی جانے والی یہ کہانی میرے قصہ نویس کی نہیں، میری ہے اور میں زبردستی آپ کو سنارہا ہوں۔ کیا مجھے یہ علم نہیں کہ آپ ہرگز نہیں سن رہے!

اور آپ میری ان آوازوں کو بھی نہیں سن رہے ہیں جو بھوت بننے کے بعد اکثر میرے منہ سے نکلا کرتی ہیں اور لوگ بے وجہ خوفزدہ ہوجاتے ہیں۔ جس طرح مزدور محنت کرتے وقت ’’ہو ہو، ہوہو‘‘ کی آواز سے اپنی جفاکشی کی موسیقی تشکیل کرتاہے، اسی طرح ہم بھوت بھی کچھ آوازیں نکالتے ہیں۔ یہ بڑی ایماندار آوازیں ہیں، جن سے ہمارے وجود کو کوئی نہ کوئی معنی ضرور فراہم ہو جاتا ہے۔ اب مجھے احساس ہوتا ہے کہ اپنی بیوی سے جسمانی قربت کے لمحات میں میرے منہ سے جو آوازیں باہر آتی تھیں وہ ان آوازوں سے بہت مختلف نہ تھیں۔ ایسا اس لیے ہرگز نہ تھا کہ میں شہوانیت میں شرابور ہوجاتا تھا بلکہ اس لیے تھا کہ میں ایک نقلی شہوانیت کو خود پر مسلط کرکے اداکاری کر رہاہوتا تھا۔ یہ آوازیں کچھ اس لیے بھی منہ سے نکلتیں کہ اندھیرے میں اگر میں اس کی چھاتیوں پر جھکتا تو وہ کہیں اور ہوتیں۔ پہلے ایک خالی پن، گردن کی پتلی ہڈی یا پھر کمزور کندھا ہی ملتا۔

اگر ہونٹ چومنےجھکتا تو میرے منھ میں اس کے تیل سے چپڑے ایک دوبال چلے آتے اور اگر میں شہوانیت میں بھرے ہوئے ہونےکی اداکاری نہ کر رہا ہوتا تو ایسے وقت اپنی ابکائی کو ضبط کرنامیرے لیے ممکن نہ تھا۔ میں ہمیشہ غلط طریقے سے غلط جگہ ہی چوما کرتا۔ اندازے کی ایسی بےشمار غلطیوں کے باوجود میری بیوی نے ہمیشہ میرے کامیاب ترین مرد ہونے کی تصدیق کی۔ خود میں نے سیکس کو کسی گہرے اور سنجیدہ مفہوم کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کبھی نہیں کی۔سیکس بھی تفریح ہی ہے۔ جمالیاتی تشدد سے بھری ایک تفریح۔ مگر اس تفریح میں صرف ایک قباحت ہے۔ یہاں بھی اکتاجانے پر اپنی ’’واپسی ٹکٹ‘‘ کسی کو تھمادینا آسان کام نہیں ہے۔

ان دنوں میرے معاشی حالات پہلے سے بھی زیادہ خراب ہوگیےتھے اور میں اپنا زیادہ تر وقت سنیما گھروں کے تیسرے درجے میں گزارنےلگا۔ میری بیوی کو ہر وقت نزلہ گھیرے رہتا تھا۔ اصل میں وہ روزانہ پورا گھر اور خاص طور سے فرش ضرور دھویا کرتی تھی۔ جاڑا، گرمی اور برسات ہر موسم میں زیادہ تر ٹھنڈے پانی سے قربت رہنے کی وجہ سے وہ دائمی طور پر نزلہ کا شکار ہوگئی تھی اور اس کی ناک سے ہمیشہ ’’شوں۔شوں‘‘ کی آوازیں نکلا کرتی تھیں۔

یہی زمانہ تھا جب میری بیوی کارشتے کاایک بھائی ہمارے گھر آکر ٹھہرگیا۔ وہ عمر میں میری بیوی سے بہت چھوٹا تھا۔ چار سال تک سعودی عرب میں رہنے کے بعد اس نے کافی دولت کمالی تھی۔ وہاں وہ راج گیری کا کام کیا کرتا تھا۔ اب یہاں کوئی کاروبار قائم کرنا چاہتا تھا۔ اسے بھی فلموں سے قطعی دلچسپی نہیں تھی اور وہ اپنا زیادہ تر وقت شرعی احکامات اور بزرگان اسلام کے تذکروں میں گزاراکرتا۔ خاص طور پر اسلام میں کاروبار کرنے کی جو فضیلت بیان کی گئی ہے اس پر تو وہ بے تکان بولاکرتا تھا۔ کیوں کہ میری بیوی کا بھی ان ہی چیزوں کی طرف رجحان تھا اس لیے اس نے یہ باتیں بہت توجہ اور دھیان کے ساتھ سننا شروع کردی تھیں۔

بھائی کے چہرے پر سن بلوغ تک پہنچنےکے باوجود داڑھی اور مونچھوں کے بال نہیں نمودار ہوسکے تھے۔ اس کی کھال کی رنگت نےہمیشہ مجھے کچھ فکر میں ڈالا تھا۔ وہ تقریباً زرد تھی۔ یرقان کے مریض کی طرح۔ مگر میری بیوی کا کہنا تھا کہ ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔ وہ بچپن ہی سے ایسا ہے اور یہ تو دراصل سنہرا رنگ ہے جو بہت کم دیکھنے میں آتا ہے۔ یہ رنگ تو پرہیزگار، نفس کش اور کھانا کم کھانے والے انسانوں کی پہچان ہے۔ وہ اتنا دبلا پتلا اور چھوٹا سا تھا کہ کبھی کبھی میں اسے یوں ہی تفریحاً ایک ہاتھ سے اٹھاکر بچوں کی طرح چک پھیری کرا دیتا۔ وہ تو خاموش رہتا مگر یہ منظر دیکھ کر میری بیوی خوشی سے تالیاں بجایا کرتی اور اس کے دبلے پتلے پیٹ پر ابھر آیا وہ چربی کاگولہ بری طرح پھولنے اور پچکنے لگتا۔ ویسے بھی ان دنوں وہ کچھ زیادہ خوش مزاج رہنےلگی تھی اور اس نے مجھ سے گھر کے خرچ کے لیے پیسے مانگنا بند کردیے تھے بلکہ وہ تو الٹا مجھ ہی کو فلم دیکھ آنے کے لیے اپنی پس انداز کی ہوئی رقم میں سے پیسے نکال کر دے دیتی تھی۔

میں اپنی بیوی کی خوش مزاجی کا ہمیشہ سے قائل رہاہوں۔ ورنہ جو حالات میرے تھے، ان میں کسی عورت کا میرے ساتھ نباہ کر پانا قطعی ناممکن تھا۔ وہ بے چاری تو کبھی کبھی مجھے خوش کرنے کے لیے مسخرہ پن کرنے سے بھی نہیں چوکتی تھی۔جس رات میرا قتل ہوا ہے اس دن دوپہر کے کھانے میں اس نے میرے لیے لمبے والےبھنے ہوئے سالم بیگن بنائے تھے۔میں فرش پر پالتی مار کر بیٹھا ہوا کھانا کھا رہا تھا اور میرا چہرہ شاید اس لیے کچھ اداس نظر آتا ہوگا کہ ابھی ابھی میں ایک المیہ فلم دیکھ کر آیا تھا تب ہی میری بیوی اس نیلے رنگ کی جھاڑن کو لے آئی جس سے وہ گھر کی دھول صاف کیا کرتی تھی۔وہ اس جھاڑن کو میرے منہ اور آنکھوں پر نچانےلگی۔ نہ جانےکیوں اسے یہ نظر نہیں آیا کہ جھاڑن سے دھول بھرے ذرات میرے سر اور کھانے پر گر رہے تھے۔ میں بھی اس کی اس بچکانہ حرکت کو خوش دلی سے برداشت کرتا رہا۔ وہ تو کہیے اس وقت ظہر کی اذان ہوگئی اور وہ نماز پڑھنے کے لیے حواس باختہ ہوکر بھاگی۔ اذان ہوجانے پر وہ ہمیشہ اسی طرح بھاگتی تھی مگر یہ بہت تعریف کی بات تھی کہ اس طرح بھاگنے یا دوڑنے میں دوسری عورتوں کی طرح اس کے پستان ہلتے ہوئے نظر نہیں آتے تھے۔ یہ اس کے بھاگنے کا سلیقہ تھا۔

اب یہاں صرف خالی زمین کاایک ٹکڑا رہ گیا ہے۔ شام ہونے والی ہے۔ وہ سنیما گھر اب مکمل طور سے منہدم ہوچکا ہے جسے میں چیل بنا ہوادیکھ رہاتھا۔ آسمان پر کوے اور کچھ پتنگیں اڑ رہی ہیں۔ سڑک کے کنارے ٹوٹی ہوئی کرسیوں کاڈھیر پڑا ہے۔ حیرت ہے کہ ساری کرسیاں تقریباً ایک ہی جگہ سے پھٹی ہوئی ہیں۔ میں نےاب بلی کاروپ دھارن کرلیا ہے۔ دراصل بلی کی شکل میں میں اس دیوار پر چڑھنا چاہتا ہوں جواب یہاں نہیں ہے، وہ دیوار جس کے دائرہ نما شگاف سے تصویر کو روشنی کی شعاع میں بدل کر پردے پر ڈالا جاتا تھا۔میں اکثر مڑ کر اس روشنی کی شعاع کو دیکھ رہاتھا۔ اب میں خود بھی ان ذرّات بھری روشنی جیسا ہوگیا ہوں یا اندھیرے جیسا!

مگر بلی بنابنامیں اچانک ٹھٹھک گیا ہوں۔ سنیما گھر ٹوٹنےسے اس کے عقب کا قبرستان صاف نظر آنے لگا ہے۔ جہاں ابھی ابھی ایک ساتھ چار جنازے داخل ہوئے ہیں۔ ان میں سے تین نے ایک ساتھ خودکشی کی ہے اور چوتھے کو سر راہ قتل کر دیا گیا ہے۔

کیا آپ یہ بات سنجیدگی سے نہیں سوچتے کہ وہ معاشرہ جس میں اتنی چھوٹی اور حقیر باتوں کے لیے انسان خودکشی کرلیتا ہے یا قتل کردیا جاتا ہے اس معاشرےمیں تفریح کتنی بڑی ضرورت ہوگی؟ آپ تفریح کو اتنی کمزور اور چھوٹی چیز کیوں سمجھتے ہیں۔میں دیکھ رہا ہوں کہ خودکشی کرنےوالوں یا قتل ہونےوالوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ سرحد پر لڑتی فوجوں کے بارے میں پتہ نہیں آپ کا کیا خیال ہے؟ مگریہ تو آپ کو بھی ماننا پڑے گا کہ میری دنیا میں بھوتوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔

نہیں، بازار سے آپ کیا خریدیں گے! یقیناً چند اشیا مگر۔نفرت، تشدد، جنگ اور بدکرداری کی چمک دمک میں صرف ایسی اشیا رہ جائیں گی جو بہت ہی حقیر تھیں۔ انسانوں کی تفریح سے بہت حقیر مگر انھیں بہت بڑا مسئلہ بنادیا گیا۔ نفرت، جھلاہٹ اور جنگ کامقابلہ صرف تفریح سے کیاجاسکتا ہے۔ تفریح کاایثار معمولی تو نہیں۔ اب مجھے ہی دیکھ لیجیے کہ میں اپنے قتل ہونے سےآدھ گھنٹے پہلے تک تفریح میں مست رہاتھا۔ بس سوائے اس کے کہ میرے جسم کے نچلے حصے میں کچھ جلن سی ہو رہی تھی جس کی وجہ سے مجھے قدرے جھلاہٹ محسوس ہونے لگی مگر پھر بار بار وہاں مضحکہ خیز انداز میں کھجا کر اپنی بیوی کو ہنسنے پر مجبور کر کے میں نے اس جھلاہٹ پر قابو پالیا تھا۔

اس رات میرے گھر کے روشن دان میں نہ جانے کون ساپرندہ بے وقت چہکنے لگا۔ مجھے آدھی رات میں باقاعدہ چہکنے والے اس پرندے سے خوف سا محسوس ہوا اور میری بیوی نے اسے ’’ہش۔ ہش‘‘ کرکے اڑا دیا۔ اس وقت تو مجھے نہیں پتہ تھا مگر اب میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ وہ کون تھا۔ وہ اس سائیکل والے دوست کا بھوت تھا۔

(۴)

مجھے اعتراف ہے کہ اس رات بڑی گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ حالاں کہ خاموشی کبھی مطلق نہیں ہوتی۔ آواز ضرور ہوتی ہے ہمارے آس پاس خاموشی کامکھوٹا لگاے۔میں نےرات کا کھانا نہیں کھایا تھا۔ دن میں کھائے ہوئے، بھنے ہوئے بینگنوں کی ڈکاریں چلی آرہی تھیں۔ایک بات اور ہے جو مجھے یاد آتی ہے اور وہ یہ کہ اس رات بیوی سے ہم بستر ہونے کے بعد نہ جانے کیوں پل بھر کے لیے مجھے یہ احساس ہوا تھا کہ جیسے میں نے کسی گندے گلاس میں دودھ پیا تھا اور اس کے بعد ہی مجھے اپنے جسم کے نچلے حصے میں جلن کاسا شائبہ ہونےلگا تھا۔

’’تم نے کھانا نہیں کھایا ہے۔ کمزوری لگ رہی ہوگی۔ تھوڑا دودھ پی لو۔‘‘ بیوی ہنستے ہوئے بولی۔

’’لے آؤ۔‘‘ میں نے کہا، ساتھ ہی مجھے بیگن کی ایک لمبی ڈکار آئی۔ بیوی جب دودھ کا گلاس لے کر آئی تو اس کے ہاتھ میں پنکھابھی تھا۔ اس وقت اُمس بے تحاشا بڑھ گئی تھی۔ ہاتھ کاپنکھا ہمیشہ سے عورت اورمرد کےمحبت بھرے تعلقات کی علامت رہاہے۔ مرد کے سفر سے واپس آنے پر، پرانےزمانے کی عورت ایک ہاتھ میں دودھ کا کٹورہ اور دوسرے میں پنکھا لے کراس کااستقبال کرتی تھی۔میری بیوی کے ہاتھ میں جو پنکھا تھا، اس میں ایک خوشبودار گھاس بھری ہوئی تھی یا شاید گیہوں کے ڈنٹھل تھے۔ اس پر جو غلاف چڑھا تھا وہ ریشمی اور رنگین تھا۔ یہ پنکھا ’’لوک کلا‘‘ کابہترین نمونہ تھا۔

دودھ کاگلاس ہاتھ میں لے کر جیسے ہی میں نے اسے ہونٹوں سے لگانا چاہا، اچانک میری نظر بغل والے دروازے پر پڑی۔ وہ وہاں ہاتھ میں بڑا سا چھرا لیے خاموش کھڑا تھا۔ اس کی کھال کازرد رنگ اس وقت تانبے کی طرح سرخ ہو رہا تھا اور آنکھیں پہلےسے زیادہ اندر دھنس گئیں تھیں مگر گالوں کی نکیلی ہڈیاں باہر ابھر آئی تھیں۔ وہ بجلی کی سی تیزی کے ساتھ مجھ پر جھپٹا اور اپنےبونے پن کی پوری قوت کے ساتھ میری پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا۔

جب چھرے سے وار کیا گیا تھاتو بیوی نے جھپٹ کر پنکھے کی ڈنڈی میرے منہ میں گھسیڑ دی۔۔۔ حلق تک میں نے اس ڈنڈی کو محسوس کیا۔ میرے اندر سے خون کی قے باہر آئی جو شاید پنکھے کے خوش رنگوں والی کشیدہ کاری پر جم کر رہ گئی ہوگی۔ اس کا چہرہ مجھے ایک وحشی گھوڑے کاسا نظر آیا جس کی تھوتھنی سے سفید جھاگ نکل رہے تھے۔

چھرے کے وار سے پہلے تو سارے جسم میں صرف چیونٹیاں سی رینگی تھیں۔ مگر پھر فوراً ہی تکلیف کے مارے میرا سر پھٹنے لگا۔ عجیب بات یہ تھی کہ جہاں جہاں چھرے کا وار کیا جاتا تھا وہاں تکلیف کا کوئی احساس نہیں تھا۔ تکلیف بس سر میں ہو رہی تھی جس میں شاید انتہا تک پہنچی میری حیرت زدگی بھی شامل تھی۔

تھوڑی دیر پہلے کا صاف ستھرا فرش اب پوری طرح خون سے تر تھا اور اس میں میرے ہاتھ سےگر گیے دودھ کی سفیدی بھی آہستہ آہستہ شامل ہوتی جارہی تھی۔ میراخیال ہے کہ چھرے کے ان بھیانک واروں سے میں قدرے سکون کے ساتھ مرجاتا مگر ہاتھ کا پنکھا میرے لیے مہلک حیرت زدگی کاباعث بن گیا اور دوران موت ہی کسی منحوس لمحے میں میرا ذہن پاگل ہوگیا۔ پنکھا میری بیوی اپنے ساتھ جہیز میں لائی تھی اور اس کی سرخ گوٹ بڑے چاؤ کے ساتھ اس نے اپنے ہاتھوں سے لگائی تھی۔

کہئے۔۔۔ اب دیکھا آپ نے لوک کلا کاتشدد؟ یہ زیادہ خطرناک ہوتا ہے کیونکہ اسے بس ایک غلط زاویے سے موڑ دینے پر ہی وہ تباہ کن بن جاتا ہے۔ مشین بے چاری اس طرح الٹے سیدھے طریقے سے تو چل ہی نہیں سکتی اور پستول، تلوار یا چھری سے آپ کسی کو پنکھا بھی نہیں جھل سکتے۔دیکھیے میری ذہنی روبہک رہی ہے۔ مجھے بے اختیار افسوس ہو رہا ہے کہ میں نے شادی کیوں کی؟ ایک بندر کیوں نہ پال لیا جو سیکھ جانے کے بعد مجھے پنکھا بھی جھل سکتا تھا۔

مرتے وقت مجھے اتنا بھی یاد ہے کہ بعد میں، بیوی نے گھبرا کر نیم کے خلالوں کے گچھے کو طاق سے اتار کر اسے میری آنکھوں میں دیوانہ وار چبھایا تھا مگر میری آنکھیں ساکت و جامد تھیں۔ ہوسکتا ہے کہ میری جان میرے حواس سے پہلے ہی نکل گئی ہو کیوں کہ بہت دیر تک میری آنکھوں میں سامنے کھونٹی پر لٹکتا ہوا چابیوں کا گچھا اور برابر میں میرے سیاہ موزے ہی ہلتے ہوئے نظر آتے رہے تھے یا شاید آخری منظر وہ تھاجب وہ الگنی پر کپڑے ٹانگنے والی لوہے کی چمٹیوں میں میری ناک کے بانسے کو پھانس رہی تھی۔ دراصل وہ بھی اعصاب زدہ اور حواس باختہ ہوگئی تھی۔ کتیا۔ چھنال!

اس کے بعد جو بھی دیکھا ہے وہ انسانی آنکھوں سے نہیں دیکھا ہے۔ مثلاً جب میری روح بھوت بن کر خلا میں اوپر اٹھ رہی تھی، اس وقت ایک نوزائیدہ معصوم بچے کی روح بھی اس خلاء میں تقریباً مجھے چھوتی ہوئی گزر گئی۔ شاید اس بچے کی موت کا وقت بھی وہی تھا جو میری موت کا تھا۔میری لاش کے پوسٹ مارٹم میں سب سے اہم مگر نہ سمجھ میں آنے والی بات یہ تھی کہ میرے جسم اور چہرے کا اچھا خاصاگوشت چیل کوؤں کے کھانے کے باوجود اور سڑجانے کے بعد بھی میرے گالوں کی کھال اور گردن پر آنسوؤں کے گہرے کھاری نشان جمے ہوئے پائے گیے۔ یہ آنسو کب نکلے تھے اور کیسے اب تک وہاں موجود رہے، یہ میرے لیے بھی ناقابل فہم واقعہ ہے۔

بھوت بن کر آپ کی دنیا کو زیادہ قریب سے دیکھنے کا موقع ملاہے۔ آپ کی دنیا کا آخری خوب صورت منظر وہ تھا، جب کچھ دن پہلے میں نے کوڑھیوں کو رات میں بارش میں نہاتے دیکھا۔ وہ اپنی خارش کو کم کرنےکے لیے نہا رہے تھے اور خوش ہوکر کوئی گیت بھی گا رہے تھے۔ بس یہی منظر تھا جسے دیکھ کر مجھے زندگی پر رشک آیا اور پھر میں اداس ہوگیا۔

آپ برا نہ مانیں تو میں کہوں کہ آپ کی دنیا میری صورت سے بھی زیادہ کریہہ ہے۔ یہ ایک خالی سنیما گھر کی طرح ہے جہاں کوئی فلم کا پردہ نہیں ہے۔ پھر بھی ایک فلم چلتی ہے خدا کے ذریعے یا پھر یقیناً شیطان کے ذریعے۔ اس تنہا اندھیرے میں تیسرے درجہ کے لوگ اپنی اپنی مجبور ہتھیلیوں پر ایک ناقابل فہم مہر لگا کر دھکے کھاتے ہوئے داخل ہوتےجاتے ہیں۔ نہیں میں نے ان دونوں سے کوئی انتقام نہیں لیا۔ میں مرنےکے بعد پھر اس گھر کی طرف کبھی بھٹکا بھی نہیں جو کبھی میرا ہی تھا اور جہاں اب وہ دونوں بہت آرام سے رہ رہے ہیں۔

ان سے بدلہ لینے کے بجائے میں نے تفریح کرنا ہی بہتر سمجھا۔ آپ کی کائنات میں انتقام، انصاف، سزا وغیرہ بڑے الفاظ ہیں مگر ہم بھوت انہیں کھلنڈرے انداز میں قبول کرتے ہیں۔ انتقام لینا سوائے وقت کی بربادی کے اور کچھ نہ تھا اور پھر ہماری دنیا کی اپنی شرائط ہیں، مجبوریاں ہیں جو آپ کی سمجھ میں ہرگز نہیں آسکتیں۔ بس اتنا ضرور سوچ کر دیکھیں کہ یہ جو لوگ تنگ آکر موت کی دعا مانگتے ہیں یا موت کو جو عظیم اور ابدی چھٹکارا کہا گیا ہے، یہ ایک غلط فہمی بھی ہوسکتی ہے۔ ممکن ہے کہ اصل پریشانی مرنے کے بعد ہی شروع ہوتی ہو۔

اب میں آپ کو یہ کہنے سے نہیں روک سکتا کہ یہ ’کہانی‘ نہ ہو کر صرف ایک لطیفہ ہے لیکن اتنا یاد رکھیے کہ ہر لطیفے کی اپنی ایک نجی دہشت ہوتی ہے۔ دیکھنا صرف یہ ہے کہ یہ دہشت لطیفے سےرینگ رینگ کر کب باہر آتی ہے اور کس بدنصیب روح کو اپنے لیے منتخب کرتی ہے۔

بلی بن کر بہت بھٹک چکا۔اب میں واپس اپنے کھنڈر کی طرف آرہا ہوں۔ وہ سنیما ہال اب نہیں ہے۔ اس کی کرسیاں بھی نیلام ہوچکی ہیں۔ کب کی بات ہے جب میں بازار میں فلم دیکھنے گیا تھا جسے سنیما گھر بھی کہتے ہیں؟ مگر وہاں کوئی تصویر نہیں تھی۔ بس تنے ہوئے کفن کی طرح ایک سفید پردہ تھا۔ میں اس ویرانی سے اکتاکر بازار سےاپنے لیے ایک جوڑا جراب خرید لایا جو میرے غیرمرئی پیروں میں آہی نہیں رہاہے اور ان سے الگ لٹک رہاہے جیسےہوا کی کھونٹی پر ٹانک دیا گیا ہو۔

آپ کی دوپہر اب ڈھل چکی ہے۔ لو کے جھکڑ بھی کم ہوگیے ہیں۔ میں آپ کو اس فلم کی واپسی کا ٹکٹ مفت دیتا ہوں اور آپ سے رخصت چاہتا ہوں۔

پس نوشت، (قصہ نویس کا ایک مختصر سا نوٹ)

’’اب وہ پوری طرح میری نظروں سےاوجھل ہو چکا ہے۔ وہ ایک بھیانک سیاہ دلدل میں اترچکا ہے۔ اسے اپنے ’’سُر‘‘ اور اپنی ’’لے‘‘ کے لیے ایک آلۂ موسیقی مل گیا ہےاور اس نےوہ پراسرار دھن بجانا شروع کردی ہے جو اس کے وجود ہی کی طرح تجریدی ہے۔ اس کے چاروں طرف خطرناک جانوروں کی دہاڑیں اور زہریلے حشرات الارض کی سرگوشیاں ہیں۔ میں اس دلدل سے باہر کھڑا ہوں۔ کچھ دیر تک میں اس کی اس دھن کوسنوں گا اور پھر اسے ہمیشہ کے لیے اس دلدل میں دھنسا ہوا چھوڑ کر واپس لوٹ آؤں گا۔‘‘

-----------------

پروفیسر خالد جاوید

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form